0
Thursday 31 Mar 2016 22:11
حکومت اور ریاستی ادارے اپنی صفوں سے دہشتگردوں کی حمایتی کالی بھیڑوں کو نکال باہر کریں

خدا گواہ ہے جس دن ہمارے پاس قوت آئیگی ہم اپنے شہداء کے خون کا بدلہ لیں گے، علامہ ناظر تقوی

حکومت کو بتانا پڑیگا کہ کون کون سے سیاسی و مذہبی عناصر بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرتے ہیں
خدا گواہ ہے جس دن ہمارے پاس قوت آئیگی ہم اپنے شہداء کے خون کا بدلہ لیں گے، علامہ ناظر تقوی
علامہ سید ناظر عباس تقوی کا تعلق صوبہ سندھ کے شہر کراچی سے ہے۔ اپنے زمانہ طالب علمی میں ان کا تعلق امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان سے رہا تھا، شروع سے ملی معاملات میں کافی فعال کردار ادا کرتے تھے۔ انہوں نے جب سے روحانی لباس زیب تن کیا، تب سے ہی اپنے کندھوں پر زیادہ ذمہ داری محسوس کرنے لگے۔ یہی وجہ تھی کہ شیعہ علماء کونسل میں شمولیت کے بعد کچھ ہی عرصے میں بزرگ علمائے کرام کے ہوتے ہوئے پہلے کراچی کے صدر منتخب ہوئے، اسکے بعد ان کو صوبہ سندھ کے جنرل سیکرٹری کی ذمہ داری دے دی گئی، آج کل وہ صوبائی صدر کی حیثیت سے ملی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ریلی ہو یا دھرنا یا ملت کو درپیش کوئی اور مشکل، منفرد اور با اثر لب و لہجہ رکھنے والے مولانا ناظر عباس تقوی جتنی دیر بولتے ہیں، ان کے جملوں میں خلوص ہی خلوص ہی نظر آتا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں گھر کرلیتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو للکارنا ہو یا شیعہ و مسلمان دشمن جماعتوں کو، اس معاملے میں علامہ صاحب اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ”اسلام ٹائمز“ نے علامہ ناظر عباس تقوی کیساتھ صوبائی دفتر کراچی میں سانحہ لاہور، پنجاب میں آپریشن، نیشنل ایکشن پلان، را ایجنٹ کے انکشافات سمیت مختلف موضوعات کے حوالے سے ایک نشست کی، اس موقع پر ان کیساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: سانحہ لاہور کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔؟
علامہ سید ناظر عباس تقوی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سب سے پہلے تو ہم سانحہ لاہور گلشن اقبال پارک کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، سانحہ لاہور سمیت اس طرح کے دیگر واقعات حکومت اور ریاست کی غفلت کا نتیجہ ہیں، اس ملک میں ایجنسیوں کا وسیع تر نیٹ ورک ہونے کے باوجود اس طرح کے واقعات ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، سانحات ہونے کے بعد اس واقعے کی تحقیقات کرنا، کمیشن قائم کرنا، یہ سب عوام کو دھوکہ دینے کی باتیں ہیں، آج تک کسی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سانحات کے ہونے سے پہلے دہشت گردوں کو گرفتار کرکے مظلوم عوام کو بچایا جاتا، لیکن افسوس کہ سینکڑوں جانیں ضائع ہونے کے بعد لکیروں کو پیٹنا ہمارا شیوہ بن چکا ہے، نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ضرب عضب کے باوجود اس طرح کے واقعات کا ہونا بہت سارے سوالات پیدا کرتے ہیں، یہ بات خارج از امکان نہیں ہے کہ اس واقعے کے پیچھے بیرونی ہاتھ بھی ہو، سانحہ لاہور اس وقت ہوا کہ جب جمہوری اسلامی ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی پاکستان کے دورے سے واپس گئے، کچھ اندرونی و بیرونی قوتیں نہیں چاہتی ہیں کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات بہتر اور مستحکم ہوں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے راستے بحال ہوں۔

اسلام ٹائمز: سانحہ لاہور جیسی دہشتگرد کارروائیوں کے بعد نیشنل ایکشن پلان کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ سید ناظر عباس تقوی:
نیشنل ایکشن پلان بنیادی مقاصد طور پر دہشتگردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے بنایا گیا تھا، لیکن بنیادی ترجیحات سے اس کا رخ مختلف غیر اہم سمتوں میں موڑ دیا گیا، نیشنل ایکشن پلان میں اس تشخص کا خیال نہیں رکھا گیا کہ کون قاتل ہے اور کون مقتول ہے، کون مظلوم ہے اور کون ظالم ہے اور جب یہ فرق ہی مٹا دیا گیا، تو دہشتگردوں کے ساتھ ساتھ بے گناہ معصوم شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، سابقہ ملک میں رائج توازن (balance) کی پالیسی اپنائی گئی، کہ یہاں سے بھی پانچ اٹھاؤ اور وہاں سے بھی پانچ اٹھاؤ، اسی وجہ سے نیشنل ایکشن پلان متنازعہ ہونے لگا، ہم نے بارہا حکمرانوں اور اداروں کو اس جانب متوجہ کیا، لیکن اسے نظر انداز کیا گیا، پھر نیشنل ایکشن پلان کے تحت کچھ لوگوں کو پھانسی دی گئی، اس میں بھی مخصوص کارروائیوں میں ملوث افراد کو پھانسی دی گئی، یعنی جن افراد نے مخصوص اداروں پر حملہ کیا، ان حملوں میں ملوث افراد کو پھانسیاں دی گئیں، لیکن فرقہ واریت کے نام پر ہزاروں شہریوں کو مارا گیا، جس میں محب وطن اہل تشیع مسلمان سب سے زیادہ دہشتگردی کا نشانہ بنے، سانحہ بابوسر، چلاس کے واقعات، کوہستان کے واقعات، بسوں سے اتار کر، شناختی کارڈ دیکھ کر شیعہ مسلمانوں کو شہید کیا گیا، ہزارہ ٹاؤن کے واقعات، سانحہ عاشور، سانحہ اربعین کراچی، سانحہ شکار پور، سانحہ جیکب آباد، کن کن واقعات کا ذکر کیا جائے، یہ اتنے سنگین دہشتگردانہ واقعات ہوئے، ان کے قاتل کہاں ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق بینک ڈکیتی کے دوران، موبائل چھیننے کے دوران قتل کرنے والوں کو تو پھانسی دے دی گئی، لیکن ان بڑے بڑے سانحات میں کون ملوث تھے، کون سی طاقتیں ان کو سرمایہ، تحفظ اور سہولتیں فراہم کرتی تھیں، حکومتیں، ریاستی ادارے، ایجنسیاں، کمیٹیاں یہ سب بتانے سے قاصر ہیں، کوئی ان سوالات کا جواب دینے والا نہیں ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ محرم الحرام میں نیشنل ایکشن پلان کے رخ کو عزاداری سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے خلاف، اسلام آباد کے مرکز میں، اہم مرکزی شاہراؤں سمیت ملک بھر کے شہروں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے دھرنے احتجاج ہوئے، ڈھول باجے، ناچ گانے کے ساتھ ساتھ لاؤڈ اسپیکر کا کھلا استعمال کیا گیا، نیشنل ایکشن پلان کے لاؤڈ اسپکر ایکٹ پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا، لیکن اس سال عزاداری سیدالشہداؑ کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے رخ کو انتہائی منظم انداز میں منصوبہ بندی کے ساتھ موڑا گیا، لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کے تحت مجالس و عزاداری کے دیگر اجتماعات کو روکا گیا، لیکن دوسری جانب جن مساجد و درسگاہوں سے لاؤڈ اسپیکر پر کھلے عام کلمہ گو مسلمانوں کو کافر قرار دینے پر مبنی فتوے دیئے جاتے رہے، ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، لہٰذا نیشنل ایکشن پلان انتہائی متنازعہ ہوتا جا رہا ہے۔ مدارس کی اسکینگ کے حوالے سے بھی ظالم اور مظلوم کو ایک ہی کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیا گیا، جو مدارس دہشتگردی میں ملوث نہیں تھے، ان کے خلاف بھی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، جو نیشنل ایکشن پلان کے بنادی مقاصد کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

اسلام ٹائمز: نیشنل ایکشن پلان کو متنازعہ بنانیکی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔؟ علامہ سید ناظر عباس تقوی:
حکومت، اداروں اور ریاست سب پر اس افسوسناک صورتحال کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ان سب کو عوام نے اس نے اس امید پر مینڈیٹ دیا تھا کہ دہشتگردی، انتہا پسندی، فرقہ واریت کا خاتمہ ہوگا، لیکن خاطر خواہ تنائج سامنے نہیں آسکے۔ لہٰذا نیشنل ایکشن پلان کی سمت کو پھر دوبارہ متعین کیا جائے اور اس پر عمل درآمد کیا جائے۔

اسلام ٹائمز: ایک بڑے حلقے کی رائے یہ ہے کہ حکومتی ایوانوں اور ریاستی اداروں میں بیٹھی ضیاء باقیات اور کالی بھڑوں کیوجہ سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بننے والا نیشنل ایکشن پلان ناکامی سے دوچار ہو رہا ہے، کیا کہیں گے اس رائے کے حوالے سے۔؟
علامہ سید ناظر عباس تقوی:
میں سمجھتا ہوں کہ ہر جگہ ہر مزاج کے لوگ موجود ہیں، دہشتگردی کوئی آج کا مسئلہ تو نہیں ہے، اس ملک میں دہشتگردی کی کئی نسلیں پروان چڑھائی گئی ہیں، بہت بڑا سرمایہ دہشتگردی کے فروغ کیلئے لگایا گیا ہے، اب یہ حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی صفوں سے دہشتگردوں کے حمایتیوں، فرقہ وارانہ سوچ کی حامل کالی بھیڑوں کو نکال باہر کریں، انہیں قانون کی گرفت میں لاکر سزائیں دیں، عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے، کیونکہ یہ ملک کی بقاء اور سالمیت کا مسئلہ ہے۔

اسلام ٹائمز: سانحہ لاہور کے بعد پنجاب میں آپریشن کے اعلان کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں، آیا یہ صرف اعلان ثابت ہوگا یا مثبت تنائج سامنے آئینگے۔؟
علامہ سید ناظر عباس تقوی:
پاکستانی آرمی چیف نے جو پنجاب میں آپریشن کا اعلان کیا ہے، ہم نے تو پہلے دن ہی کہا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کے دائرہ کو وسیع کرکے ملک گیر کیا جائے، جہاں جہاں دہشتگردوں کے اڈے و مراکز و سہولت کار موجود ہیں، ان سب کے خلاف بے رحمانہ آپریشن کیا جائے، انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرکے سزائیں دو، ان پر عمل درآمد کراؤ، تاکہ عوام سکھ و چین کا سانس لے سکے۔ اسکے کتنے نتائج برآمد ہونگے، اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت کریگا، بہرحال آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی طرف سے پنجاب میں دہشتگرد عناصر کے خلاف آپریشن کا اعلان خوش آئند ہے، کیونکہ کراچی میں جب آپریشن ہوا تو اس سے فرق پڑا یا نہیں پڑا، لیکن جس طرح کراچی کے ساتھ ساتھ سندھ بھر میں اس آپریشن کا دائرہ وسیع کرنا چاہیئے، ضروری ہے کہ آپریشن ضرب عضب کو پاکستان کے مختلف شہروں میں پھیلایا جائے، اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور ٹارگٹڈ آپریشن پورے ملک میں کیا جائے، اور اس آپریشن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے، اگر آپریشن اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچا، تو عوام میں مایوسی بڑھ جائے گی، جس کے اثرات پاکستان کی داخلی صورتحال کو متاثر کرینگے۔

اسلام ٹائمز: آپکا تعلق کراچی سے ہے، یہ فرمایئے کہ کراچی سمیت سندھ بھر کئی بڑے بڑے دہشتگردی کے واقعات ہوئے، انکی تحقیقات کے حوالے سے شیعہ قوم کو کتنا اعتماد میں لیا گیا ہے، کتنا آگاہ کیا گیا ہے۔؟
علامہ سید ناظر عباس تقوی:
کراچی میں سانحہ عاشور ہوا، سانحہ چہلم ہوا، اسکے بعد سانحہ عباس ٹاؤن ہوا اور شیعہ ٹارگٹ کلنگ ہوئیں، جس پر چوہدری افتخار صاحب نے سوموٹو ایکشن لیا، ان تمام حوالوں سے میں نے خود جا کر سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی، وہاں جا کر دلائل پیش کئے، ٹارگٹ کلنگ پر سوموٹو ایکشن لیا گیا تو اس وقت بھی دو سو چون یا چونسٹھ شیعہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے بھی کیس دائر کیا اور دلائل دیئے، ہم نے یہ اقدامات کئے، لیکن کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا، عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاتی ہے، سانحہ عاشور کے حوالے سے کہا گیا کہ فلاں نے قبول کیا، لیکن کچھ عرصے بعد کہا گیا کہ فلاں دہشتگرد تنظیم کے افراد نے قبول کیا ہے اور اب ایک اور جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آئی، جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی کی فلاں سیاسی جماعت کے لوگ سانحہ عاشورا میں ملوث ہیں، اب تک چار پانچ مختلف گروہ اور جماعتیں اسے قبول کرچکی ہیں، تو یہ عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہے، لہٰذا ہم تو ان جے آئی ٹی رپورٹس پر عدم اعتماد کرتے ہیں، ہم نے تو پہلے دن سے کہا تھا کہ ان تمام سانحات کی جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیئے، ہمیں اعتماد میں لیا جائے، لیکن سوائے ایک آدھ چھوٹے واقعات کے ہمیں ان سانحات میں اعتما دمیں نہیں لیا گیا، لیکن ہم ارباب اقتدار اور دہشتگرد عناصر پر واضح کر دیں کہ ہم اپنے شہداء کو بھولے نہیں ہیں، ایک ایک شہید کا زخم ہمارے سینے پر تازہ ہے، وہ الگ بات ہے کہ ہمارے پاس ابھی قوت و طاقت نہیں ہے، خدا گواہ ہے کہ جس دن ہمارے پاس قوت و طاقت آئے گی، ہم آئین و قانون دائرے میں رہتے ہوئے اپنے شہداء کے خون کا بدلہ لیں گے۔

اسلام ٹائمز: بلوچستان سے پکڑے گئے بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کے ایجنٹ نے جو انکشافات کئے ہیں، ان میں کراچی میں کالعدم دہشتگرد تنظیموں سے روابط اور شہر میں دہشتگرد گروہ کی تشکیل کے بارے میں انکشاف کیا گیا ہے، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
علامہ سید ناظر عباس تقوی:
میں نے را ایجنٹ کے انکشافات کے حوالے سے جنرل صاحب کی پریس کانفرنس دیکھی تھی، اور اندازہ لگا لیا کہ حکومت کتنی بے بس ہے اور اس کے پاس کتنے اختیارات ہیں، بریفنگ تو حکومت کو دینی چاہیئے تھی، جو اس نے نہیں دی، بہرحال جیسا کہ جنرل صاحب نے کہا کہ ابھی تفتیش چل رہی ہے، اور بہت سارے انکشافات ہونے ہیں، لہٰذا ابھی اپنی رائے دینا مناسب نہیں ہے، لیکن جو سیاسی و مذہبی تنظیمیں اور گروہ را کیلئے کام کرتی ہیں، ان کے خلاف فی الفور موثر اقدام اٹھانے چاہیئے، کیونکہ یہ ملک و قوم کی بقاء اور سالمیت کا معاملہ ہے، اس کے ساتھ ساتھ جو بھی حقائق ہوں، اسے عوام کے سامنے بھی لایا جائے، کوئی حقائق بھی عوام سے نہیں چھپانے چاہیئے، حکومت کو بتانا پڑے گا کہ کون کون سے سیاسی و مذہبی عناصر بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرتے ہیں، تاکہ عوام کو معلوم ہوسکے کہ ملک میں دہشتگردی اور فساد کن عناصر نے پیدا کیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 530778
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب