0
Friday 10 Feb 2017 05:34
اسرائیل کو تحفظ دینے کیلئے علاقے میں بدامنی پھیلائی گئی اور الزام ایران پر دھر دیا گیا

ایران کا اسلامی انقلاب، انقلاب امام مہدی (ع) کا زمینہ ساز ہے، علامہ مبارک موسوی

سعودی عرب نے مظلوم فلسطینی مسلمانوں کو فراموش کرکے اسرائیل سے دوستی کرلی
ایران کا اسلامی انقلاب، انقلاب امام مہدی (ع) کا زمینہ ساز ہے، علامہ مبارک موسوی
علامہ مبارک علی موسوی مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل ہیں، علامہ موسوی بلتستان کے معروف علمی گھرانے میں پیدا ہوئے، آپ ممتاز عالم دین علامہ علی الموسوی کے فرزند ہیں، ابتدائی تعلیم سکردو سے حاصل کی، اسکے بعد لاہور آگئے، جہاں جامعۃ المنتظر میں زیر تعلیم رہے، پھر ایران چلے گئے اور حوزہ علمیہ قم میں داخلہ لے لیا، وہاں 14 سال تک زیر تعلیم رہے۔ قم میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد فیصل آباد آگئے، جہاں تحریک جعفریہ کے ضلعی صدر کی ذمہ داری نبھائی۔ پھر لاہور منتقل ہوگئے اور یہاں مجلس وحدت مسلمین کے قیام کیلئے جدوجہد کی۔ مجلس وحدت مسلمین کا نام بھی انہی کی تجویز پر رکھا گیا، انہیں ابتداء میں شعبہ امور شہداء کا مسئول بنایا گیا، آج کل ایم ڈبلیو ایم پنجاب کی ذمہ داری انکے کاندھوں پر ہے۔ انقلاب اسلامی ایران کی سالگرہ کی مناسبت سے "اسلام ٹائمز" نے ان کیساتھ لاہور میں ایک نشست کی، جسکا احوال پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: انقلاب اسلامی ایران کو آج 38 برس بعد کہاں دیکھ رہے ہیں۔؟
علامہ مبارک موسوی:
انقلاب اسلامی ایران 38 برسوں میں رہبرِ معظم کی بصیرت، انقلابی عوام، بسیج اور درد دل رکھنے والے انقلابی عناصر کی وجہ سے انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ امام خمینی (رہ) نے فرمایا تھا کہ ایران کا یہ اسلامی انقلاب، انقلاب مہدی (ع) کا زمینہ ساز ہے اور یہ قافلہ، قافلہ امام مہدی (ع) سے جا ملے گا۔ اس انقلاب کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی میدان میں انقلاب مہدی (ع) کے زمینہ ساز ہونے کے آثار واضح دکھائی دے رہے ہیں۔ عراق کے شیعہ اور سنی اس وقت ایران کو اپنا سہارا سمجھتے ہیں۔ ایسی صورتحال پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ جس عراق پر استعمار نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی، جس عراق کو مسلسل 8 سال ایران کیساتھ لڑایا گیا، فاصلے بڑھائے گئے، نفرتیں پیدا کی گئیں، شیعہ اور سنی کو لڑانے کی کوشش کی گئی، لیکن بابصیرت قیادت کی دانشمندی سے وہ تمام سازشیں ناکام ہوگئیں، وہی عراق استعمار اور تکفیری قوتوں کا قبرستان بن گیا۔ ایرانی عوام انقلاب کی بنیاد شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے اس شعر کو سمجھتے ہیں کہ
تہراں ہو اگر عالم مشرق کا جنیوا
شائد کہ کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے
انقلاب اسلامی ایران سے قبل اس شعر کو سمجھنے میں دقت پیش آ رہی تھی، لیکن انقلاب برپا ہونے کے بعد پتہ چلا کہ علامہ محمد اقبال نے یہ پیش گوئی کس لئے کی تھی، علامہ اقبال ایرانی قوم میں وہ جذبہ اور روح دیکھ چکے تھے، انہیں یقین تھا کہ امت مسلمہ کی قیادت کا اگر کسی کے پاس ملکہ ہے تو وہ صرف ایران ہے اور آج بھی اگر دیکھا جائے تو واضح نظر آئے گا کہ ایران ہی ملت اسلامیہ کی صیح معنوں میں ترجمانی کر رہا ہے۔ تہران صحیح معنوں میں عالم مشرق کا جنیوا بن رہا ہے اور ان شاء اللہ دنیا دیکھے گی، ایران ہی امت مسلمہ کو مسائل اور بحرانوں سے نجات دلائے گا اور یہ انقلاب امام زمانہ (ع) کے انقلاب سے جا ملے گا۔

اسلام ٹائمز: انقلاب کے مخالفین کہتے ہیں، ایران کے انقلابِ اسلامی نے عرب ملکوں کے امن کو خراب کیا ہے، آپ کیا کہتے ہیں۔؟
علامہ مبارک موسوی:
یورپ اور اس کے حامی ممالک دنیا بھر میں پروپیگنڈے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، وہ دن کو رات اور رات کو دن کہہ دیں تو کچھ لوگوں کو ایسا ہی لگے گا۔ لیکن جن کا ضمیر جاگ رہا ہے اور جنہیں صاف دکھائی دیتا ہے، وہ اصلیت سے آگاہ ہیں۔ باضمیر لوگ اب بھی جانتے ہیں کہ مشرق وسطٰی کے امن کو کس نے تہہ و بالا کیا۔ داعش کو کس نے بنایا، القاعدہ اور طالبان کی بنیاد کس نے ڈالی، کس نے ان دہشتگردوں کیلئے وسائل فراہم کئے، کس نے انہیں افرادی قوت فراہم کی، کون انہیں مالی سپورٹ دے رہا ہے، کس کی سرپرستی میں داعش اور دیگر دہشتگرد گروپ آگے بڑھے، اب تو کھل کر اعتراف کیا جا چکا ہے کہ داعش کو کس نے اور کیوں بنایا۔ اب تو داعش کی حمایت کرنیوالے دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکے ہیں۔ وہ اس بات کا اب کھلے بندوں اعتراف کرتے ہیں۔ دراصل خطے میں فساد کی جڑ اسرائیل ہے۔ اسرائیل کو تحفظ دینے کیلئے مغربی ممالک بالخصوص امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب سمیت گرد و نواح کے ممالک یکجا ہوئے اور خطے میں بدامنی کو فروغ دیا۔ اس بدامنی کا مقصد صرف یہ تھا کہ مسلمان آپس میں لڑتے رہیں، اسرائیل کی طرف ان کی توجہ نہ جائے اور اس مقصد میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے، اس عارضی کامیابی کی وجہ سعودی عرب کا کردار ہے، مسلم اُمہ حرمین شریفین کی وجہ سے سعودی عرب کا احترام اور اس پر اعتماد کرتی ہے، لیکن افسوس کہ سعودی عرب نے کبھی مسلم امہ کا احساس نہیں کیا، ہمیشہ سعودی پالیسیوں سے اُمت کو نقصان پہنچا ہے۔ اب سعودی عرب مظلوم فلسطینیوں کو بھول کر اسرائیل کیساتھ دوستی کر چکا ہے، کیا سعودی عرب کو فلسطینی مسلمان شہداء دکھائی نہیں دیتے، عورتوں کی عصمت دری نظر نہیں آتی، چھوٹے چھوٹے معصوم بچے غلیلوں کیساتھ اسرائیلی ٹینکوں کا مقابلہ کرتے نظر نہیں آتے، یہ سب کچھ واضح ہے۔

لیکن سعودی عرب نے اپنے فلسطینی مسلمانوں کے احساس کی بجائے، یہود و نصاریٰ سے دوستی کرلی، جس سے ہمیں قرآن مجید نے منع فرمایا ہے، وہ سعودی عرب تو قرآن کی تضحیک کر رہا ہے اور امت ان کے "خادمین" ہونے کی وجہ سے دھوکہ کھا رہی ہے۔ اسرائیل آئے روز فلسیطینوں پر حملے کرتا ہے، اگر کوئی ملک اسرائیل کے مدِمقابل سینہ سپر دکھائی دیتا ہے تو وہ صرف ایران ہے۔ ایران کو اُمت مسلمہ کی حمایت سے باز رکھنے کیلئے الزام تراشیاں کی جاتی ہیں، اسے بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، آج عراق میں، شام میں یا دوسرے عرب ممالک میں جیسے مصر ہے، شیعہ سنی عوام ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں، وہ ایک دوسرے کے دست و بازو بن چکے ہیں۔ جن کا ضمیر زندہ ہے، وہ اپنی آنکھوں سے یہ مناظر دیکھ رہے ہیں کہ حقائق کیا ہیں، علاقے میں بدامنی کون پھیلا رہا ہے، انقلاب کے اثرات روکنے کیلئے یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ ایران عرب ملکوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، انقلاب سے نسلوں سے اقتدار میں قابض حکمرانوں کو ڈرایا گیا کہ ایران کے اسلامی انقلاب سے ان کے خاندانی اقتدار کا خاتمہ ہو جائے گا، ان افواہوں کی بنیاد پر عرب حکمرانوں میں خوف پیدا کیا گیا اور خود ہی دہشتگرد گروہ بنا کر وہاں بدامنی پھیلائی گئی اور اس کا الزام ایران پر دھر دیا گیا، حالانکہ ایران امت مسلمہ کا خیر خواہ ہے، اس کیلئے بدامنی اور انتشار کو پسند نہیں کرتا بلکہ ایران اُمت کو ایک لڑی میں پرونے، متحد ہونے کا پیغام دیتا ہے۔ رہبر کے خطابات دیکھیں، انہوں نے کبھی ملت ایران کی بات نہیں کی بلکہ وہ ہمیشہ اُمت مسلمہ کیلئے بات کرتے ہیں اور دشمن کو ہمیشہ انہوں نے للکارا ہے۔

اسلام ٹائمز: سعودی عرب کی قیادت میں 39 ملکی اتحاد بظاہر تو دہشتگردی کیخلاف ہے، لیکن اسکا سارا زور ایران کیخلاف ہے، کیا یہ اتحاد کامیاب ہوسکے گا۔؟
علامہ مبارک موسوی:
دہشتگردوں کو پالنے والے، خطے میں دہشتگردی پھیلانے والے، پہلی بار خود ہی دہشتگردی کیخلاف جنگ کے نام پر متحد ہوئے ہیں، لیکن یہ دہشتگردی ختم نہیں کرسکیں گے، کیونکہ اپنے پالے ہوؤں کو مارنا آسان نہیں ہوتا۔ دوسرا اس اتحاد کے خدوخال واضح نہیں، جو ممالک اس اتحاد کا حصہ ہیں، وہ ریالوں کی چمک دمک کے باعث ہی اس میں شامل ہیں، جس روز ریالوں کی سپلائی معطل ہوگئی، وہ بھی الگ ہو جائیں گے۔ کسی بھی اتحاد کیلئے اس کے خدوخال کا واضح ہونا ضروری ہوتا ہے، مقصد اور ہدف واضح نہ ہو تو اس اتحاد میں کوئی طاقت نہیں ہوتی اور پھر یہ دنیا کا واحد اتحاد ہے، جو ٹیلی فون پر بنا ہے، اس اتحاد کی اہمیت کا اندازہ اسی بات سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔ یمن کا خطرہ سعودی عرب کی شہ رگ کی قریب پہنچا، اب تو بیلسٹک میزائل سے ریاض کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، عرب اتحاد ایک ہلہ شیری کے علاوہ کچھ نہیں، اس کی کامیابی کے ایک فیصد بھی چانسز نہیں، یہ کاغذی اتحاد ہے اور اس کے کوئی فوائد حاصل نہیں ہوں گے، دوسرا سعودی عرب کی اسرائیل اور امریکہ کیساتھ دوستی سے امت مسلمہ میں اس کی اہمیت کم ہو رہی ہے، اب میڈیا کا دور ہے، حقائق کسی نہ کسی طرح نکل ہی آتے ہیں اور اب جنگیں میڈیا کے پلیٹ فارم سے لڑی جا رہی ہیں، تو سعودی عرب کی غیر اسلامی حرکتیں اب پوشیدہ نہیں رہیں، امت ان کی اصلیت جان چکی ہے۔

اسلام ٹائمز: انقلاب اسلامی ایران نے جہاں ایران کے اندر تبدیلی پیدا کی اور شاہ کے ایران اور موجودہ ایران میں زمین آسمان کا فرق ہے، کیا اس انقلاب سے پاکستان میں بھی کوئی تبدیلی رونما ہوئی۔؟
علامہ مبارک موسوی:
انقلاب اسلامی ایران سے پاکستان میں شیعہ قوم کو بیداری ملی، پاکستان میں شیعہ بطور قوم بکھرے ہوئے تھے، لیکن انقلاب کے بعد شیعہ قوم کو بھی پتہ چلا کہ ہماری بھی قوت ہے، اس قوت سے اتحاد کو فروغ دیا گیا، فکر امام خمینی (رہ) سے درس لیتے ہوئے اتحاد بین المسلمین کا نعرہ لگاتے ہوئے شیعہ سنی اتحاد کی فضا قائم ہوئی، جسے دیکھ کر دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا۔ ایک منظم سازش کے تحت پاکستان میں "شیعہ کافر" کے نعرے کو فروغ دیا گیا، ایک تنظیم قائم کی گئی، جس کا ماٹو صرف "شیعہ کافر" کے نعرے لگانا تھا، وہ تنظیم سعودی ریالوں اور امریکی ڈالروں سے پورے ملک میں پھیلائی گئی اور پورے ملک میں اہل تشیع کیخلاف ایک محاذ کھول دیا گیا، اہم شیعہ شخصیات کو قتل کیا گیا، ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلا، ماہرین تعلیم، بیوروکریٹس حتیٰ کہ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع کی قتل و غارت اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ اس تکفیری گروہ اور اہل تشیع کی اس لڑائی میں اہلسنت پیچھے ہوگئے اور انقلاب کے بعد جو اتحاد بین المسلمین کی فضا بنی تھی، وہ متاثر ہوئی۔

تکفیری گروہ اور اہل تشیع کے اس تصادم کو شیعہ سنی لڑائی کا نام دیا گیا اور ملک میں بدامنی پھیلائی گئی، اس لڑائی میں شیعہ فریق نہیں تھے، بلکہ شیعہ مثاترین میں سے تھے اور ان پر مظالم ڈھائے جا رہے تھے، جن کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے، نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ضرب عضب کے باوجود شیعہ قتل ہو رہے ہیں۔ ان دہشتگردوں نے شیعوں کے بعد سنیوں کیطرف رخ کر لیا، داتا دربار سمیت اہم درگاہوں اور مزارت کو نشانہ بنانے لگے، تب اہلسنت بھائیوں کو بھی پتہ چلا کہ یہ جو سنی بن کر شیعوں سے لڑ رہے ہیں، یہ سنی نہیں اور اسی ماحول میں تکفیری گروہ بے نقاب ہوگیا، شیعہ سنی ایک پھر ایک دوسرے کے قریب آئے اور پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کا جو نعرہ امام خمینی (رہ) نے لگایا تھا، اس کی عملی تفسیر دیکھنے کو ملی۔ یہاں آج بھی سنی اتحاد کونسل جس میں 200 سے زائد اہلسنت جماعتیں شامل ہیں، وہ مجلس وحدت مسلمین کی اتحادی ہیں، تو اب اہلسنت نے واضح کہہ دیا ہے کہ اس تکفیری گروہ کا اہلسنت سے کوئی تعلق نہیں، یہ گروہ سنی نہیں بلکہ استعمار کا ایجنٹ ہے، شیعہ سنی اتحاد سے یہ تکفیری گروہ تنہائی کا شکار ہوچکا ہے، اب یہ بے نقاب ہوگئے ہیں، تو یہ سب انقلاب اسلامی کے اثرات ہیں اور ان شاء اللہ پاکستان کے شیعہ اور سنی باہمی اتحاد سے امام خمینی کی فکر کو مزید فروغ دیں گے اور اسلام کی دست و بازو بنیں گے۔

اسلام ٹائمز: ڈونلڈ ٹرمپ جب سے صدر بنا ہے مسلسل دھمکیاں دے رہا ہے، ایران سمیت 7 ممالک پر امریکہ میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے، امریکہ کا مستقبل کیا دیکھ رہے ہیں۔؟
علامہ مبارک موسوی:
امریکہ کی دھمکیاں ایران کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، ایرانی لوگ، ایک قوم ہیں، ملت ہیں۔ وہ بطور قوم متحد ہیں اور یہی اتفاق کی طاقت انہیں کسی سے خوفزدہ نہیں ہونے دیتی۔ البتہ ٹرمپ کی دھمکیوں سے امریکہ کا اصلی چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔ امریکہ میں آج بھی امتیاز پایا جاتا ہے، وہاں کالوں پر گوروں کو آج بھی فضلیت دی جاتی ہے، امریکہ میں مساوات نام کی کوئی چیز نہیں، اس کے برعکس ایران میں پوری قوم کیلئے مساوی قوانین ہیں، وہاں شیعہ اور سنی کیساتھ ایک جیسا ہی سلوک رکھا جاتا ہے، ایران میں اقلیتوں کو بھی تحفظ حاصل ہے، یہاں تک کہ مسیحی اور یہودی بھی خود کو ایران میں محفوظ سمجھتے ہیں، ایران میں مقیم یہودی خود کو اسرائیل یا امریکہ کی بجائے ایران میں محفوظ سمجھتے ہیں، جبکہ امریکہ میں ایسا نہیں، وہاں کا معاشرہ تضادات کا گڑھ ہے، اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ سپرپاور نہیں رہا، امریکہ ان دھمکیوں سے اپنی تضحیک کا سامان کر رہا ہے، عنقریب امریکی صدر دنیا میں مذاق بن جائے گا۔ تحمل، برداشت اور صبر ایک لیڈر کی خصوصیات ہوتی ہیں، جو ٹرمپ میں نظر نہیں آ رہیں، ٹرمپ کا صدر بن جانا امریکیوں کی سوچ کی واضح تصویر ہے، جبکہ ایرانی انقلابی عوام امریکی دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے کی بجائے بہادری سے لڑیں گے، جس مکتب میں شہادت ہو، وہ استعمار کیساتھ جنگ کو انقلاب مہدی (ع) کیلئے زمینہ سازی سمجھتے ہوں، جو قوم امریکہ کو دجال سمجھتی ہو، ایسی قوم کو شکست نہیں دی جا سکتی۔

اسلام ٹائمز: اگر امریکہ ایران جنگ ہوتی ہے تو پاکستان کو کس بلاک میں دیکھتے ہیں۔؟
علامہ مبارک موسوی:
پہلے تو ایسا ممکن نہیں، کیونکہ امریکہ ایران کی قوت سے اچھی طرح آگاہ ہے، وہ کبھی بھی یہ حماقت نہیں کرے گا، کیونکہ ایرانی قوم بیدار ہے، دفاعی لحاظ سے بہت زیادہ مضبوط ہے، آپ نے دیکھا کہ جب ٹرمپ نے ایران پر پابندی لگائی تو رہبرِ معظم نے کیا جواب دیا؟ انہوں نے فرمایا کہ اے ٹرمپ تیری اس حرکت کا جواب ایرانی قوم 10 فروری کو انقلاب اسلامی کی سالگرہ کے موقع پر دے گی۔ انقلاب کی سالگرہ کی تقریبات پورے ایران میں جوش و خروش سے منائی جاتی ہیں، ان تقریبات میں استعمار پر جو لعن طعن ہوتی ہے وہ دیدنی ہے، یہ وہ جذبہ ہے، جس کی ضرورت ہے، تو ایرانی قوم اکیلی ہی امریکہ اور اس کے حواریوں کیلئے کافی ہے، جہاں تک بلاک کی بات ہے تو پاکستان نے ہمیشہ ایران کا ساتھ دیا ہے، پاکستان جانتا ہے کہ امریکہ مخلص دوست نہیں بلکہ مفاد پرست ہے، وہ ضرورت کے تحت تعلق بناتا ہے، جبکہ ایران کیساتھ ہمارا ثقافتی، مذہبی تعلق ہے، جو لازوال ہے۔ پاکستان ایران کیساتھ بلاک میں ہوگا اور پاکستانی قوم ایران کی حمایت کرے گی۔
خبر کا کوڈ : 608061
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب