0
Wednesday 1 Mar 2017 00:00
فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا مخالف ہوں

آپریشن ردالفساد سے بہتر نتائج سامنے آئیں گے، داور خان کنڈی

انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرایا گیا تو پی ٹی آئی کے اندر مزید تقسیم کا خدشہ ہے
آپریشن ردالفساد سے بہتر نتائج سامنے آئیں گے، داور خان کنڈی
داور خان کنڈی نیشنل اسمبلی کے ممبر ہیں۔ انکا تعلق ٹانک کے علاقے رنوال سے ہے۔ وہ انعام اللہ خان کنڈی کے صاحبزادے ہیں۔ وہ ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انکے ایک بھائی بھی اسوقت ضلع ناظم ہیں۔ وہ کافی عرصے سے الیکشن میں حصہ لیتے آئے ہیں، 2013ء میں پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر مولانا فضل الرحمٰن کے مقابلے پہ الیکشن لڑا اور انکو شکست دے کر قومی اسمبلی کی سیٹ این اے 25 سے ایم این اے منتخب ہوئے۔ اسلام ٹائمز نے داور خان کنڈی سے مختلف موضوعات پر ایک انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: آپ کافی عرصے سے الیکشن میں حصہ لیتے آئے ہیں اور اس بار آپ جیت گئے، کیا آپ اپنی جیت کیوجہ پی ٹی آئی کو سمجھتے ہیں۔؟
داور خان کنڈی:
اس کے اندر بہت سے عوامل تھے، ایک تو یہ کہ ضمنی الیکشن تھا 2013ء کا جس میں میں جیتا تھا، اس میں صوبائی حکومت کا بھی تعاون تھا۔ اس سیٹ پر میں کافی عرصے سے الیکشن لڑتا آیا ہوں، یہ میرا چھٹا الیکشن تھا قومی اسمبلی کا، ایک طرح سے لوگوں کی ہمدردیاں بھی تھیں، کیونکہ میں کافی بار الیکشن میں حصہ لے چکا تھا تو لوگ بھی چاہتے تھے کہ میں الیکشن جیتوں، کیونکہ جو میرے دعوے ہیں، لوگ انکو بھی پرکھنا چاہتے تھے، پی ٹی آئی کا بھی اس میں بھرپور قسم کا عمل دخل ہے۔

اسلام ٹائمز: خیبر پختونخوا میں حکومت تو پی ٹی آئی کی ہے لیکن بڑے منصوبوں پر کام مولانا فضل الرحمٰن کر رہے ہیں، جیسے کہ گیس پائپ لائن وغیرہ ایسا کیوں ہے۔؟
داور خان کنڈی:
مولانا صاحب کی ایک عادت ہے، اچھی سمجھ لیں یا بری کہ جو بھی پارٹی اقتدار میں ہو، اس کے ساتھ جا ملتے ہیں۔ ان کا ایک اپنا چھوٹا سا گروپ ہے، جو کہ بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا پر مشتمل ہے۔ جس میں انکے پاس سینیٹرز، ایم پی ایز، ایم این ایز کچھ تعداد میں موجود ہوتے ہیں، اس وجہ سے وفاقی حکومت انکو ویلیو دیتی ہے اور ساتھ ملانے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی۔ نواز شریف کی حکومت سے مل جانا ان کے لئے کارآمد ثابت ہوا اور انہوں نے کافی مقدار میں انکو سوئی گیس وغیرہ کے کام کیلئے فنڈز دیئے۔

اسلام ٹائمز: دہشتگردی سے متاثرہ عوام کیلئے پی ٹی آئی حکومت نے کیا کیا؟ کیا متاثرین کو صرف 3 سے 5 لاکھ روپے دے دینے سے انکی ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے۔؟
داور خان کنڈی:
صوبائی حکومت کی ذمہ داری بالکل بنتی ہے، لاء اینڈ آرڈر کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کی ہوتی ہے، فیڈرل گورنمنٹ کی ذمہ داری زیادہ تر اسلام آباد تک ہوتی ہے، اس کے علاوہ بھی این جی اوز مل کے کام کر رہی ہیں، پاکستان کے اندر خصوصاََ خیبر پی کے اور فاٹا میں۔ پی ٹی آئی کے دور میں زیادہ تر لوگ پولیس کے شہید ہوئے اور پولیس کی بھرتیاں چونکہ میرٹ پر ہوئی ہیں، تو انکو پوری پینشن اور ساٹھ سالہ تنخوا بھی دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ عام شہریوں کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے بہتر اقدامات کئے جائیں گے۔

اسلام ٹائمز: پی ٹی آئی کے اندر خاندانی سیاست چل رہی ہے، خصوصاً ڈیرہ اسماعیل خان کے اندر جبکہ پی ٹی آئی تو اسکی مخالف تھی۔؟
داور خان کنڈی:
خاندانی سیاست کا پہلا نمونہ میں خود آپ کے سامنے موجود ہوں، اس بارے میں مزید اور کیا کہہ سکتا ہوں، کیونکہ میرا بھائی ڈسٹرکٹ ناظم ہے اور میں ایم این اے ہوں۔ جس کو آپ خاندانی سیاست کہتے ہیں، اسکا عملی نمونہ میں خود ہوں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ کہ ہم روائتی سیاست کرتے آئے ہیں اور کی ہے۔ اس بات کو میں مانتا ہوں کہ خاندانی سیاست پی ٹی آئی میں موجود ہے۔ امریکہ کے اندر اگر دیکھیں تو وہاں بھی خاندانی سیاست ملتی ہے، بُش آیا پھر اس نے اپنے بیٹے کو پروموٹ کیا، اس کے علاوہ کلنٹن نے اپنی بیوی کو پروموٹ کیا، جو کہ بدقسمتی سے صدر نہ بن سکی۔ خاندانی سیاست کو پاکستان کے اندر ختم کرنا ذرا مشکل کام ہے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ پی ایس ایل لاہور میں نہیں ہونا چاہیئے، کیونکہ حالات خراب ہیں، اگر کوئی واقعہ پیش آگیا تو دنیا کے سامنے نیگیٹیو امپیکٹ جائیگا، اسوقت کے پی کے، کے اندر جو دہشتگردی ہو رہی ہے، آیا انکی نظر میں اس سے پاکستان کی ساکھ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔؟
داور خان کنڈی:
عمران خان کو پی ایس ایل کی سپورٹ کرنی چاہیئے تھی نہ کہ مخالفت، پاکستان کے حالات کے بارے میں کس کو نہیں پتہ، سب جانتے ہیں دہشتگردی کے بارے میں پوری دنیا کو پتہ ہے، جو ہوا اور جو ہو رہا ہے، پاکستانی فوج، پاکستانی عوام، پاکستانی پولیس نے بہت سی قربانیاں دی ہیں پاکستان کا امن بحال کرنے میں۔ مجھے یقین ہے پاکستان کے اندر امن قائم ہوگا خصوصاََ خیبر پختونخوا میں۔ ضرب عضب اور خاص طور پر ردالفساد آپریشن سے بہتر نتائج دیکھنے کو مل رہے ہیں اور مزید دیکھنے کو ملیں گے۔ اس امن کو بحال رکھنے کیلئے صرف سکیورٹی ادارے ہی نہیں، ہم سب کو مل کر پاکستان کو پرامن بنانا ہوگا۔ پی ایس ایل اگر سکیورٹی کے اندر ہو تو اس سے پاکستان کا بہت اچھا تاثر پڑے گا نہ کہ برا۔ پی ایس ایل کے علاوہ اور بھی پروگرام ہونے چاہیئں۔ ہمیں دہشتگردی کا مقابلہ کرنا چاہیئے نہ کہ ان کے ڈر سے ہم گھروں میں بیٹھ جائیں یا اپنے بڑے پروگرامز پاکستان میں کرانا چھوڑ دیں۔

اسلام ٹائمز: پی ٹی آئی کے اندر بھی شدید اختلافات ہیں اور گروپ بندیاں بھی ہوگئی ہیں، ایسا کیوں ہے، اس پر کچھ روشنی ڈالیں گے۔؟
داور خان کنڈی:
گروپ بندیاں ہر جماعت میں ہوتی ہیں۔ کوئی سی بھی جماعت ہو چاہے سیاسی یا مذہبی ان میں اوپر سے لے کر نیچے تک گروپ بندی اور لابنگ ضرور ہوتی ہے۔ یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ اس مسئلے پر قابو پانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن کروائے جائیں۔ اگر خان صاحب نے انٹرا پارٹی الیکشن کرا دیئے تو میں سمجھتا ہوں کہ گروپ بندیاں ختم ہو جائیں گی، اگر انٹرا پارٹی الیکشن نہ کرایا گیا تو پی ٹی آئی کے اندر مزید تقسیم کا خدشہ ہے۔

اسلام ٹائمز: ٹانک جو آپکا بنیادی حلقہ ہے، وہاں کے لوگوں کے بے تحاشا مسائل ہیں، جیسے کہ پانی کی قلت ابھی تک پوری نہیں کی گئی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ وغیرہ پر قابو نہیں پایا جا سکا، آخر کب تک ایسا رہے گا۔؟
داور خان کنڈی:
میرا حلقہ زیادہ تر ڈیرہ اسماعیل خان کا ہے، ٹانک چونکہ میرا آبائی علاقہ ہے، اس وجہ سے لوگوں کی امیدیں مجھ سے وابستہ ہیں۔ ہمیں پی ٹی آئی سے بہت زیادہ امیدیں تھی اور مولانا فضل الرحمٰن کو شکست دی تو مجھے خود بھی پی ٹی آئی سے امید تھی کہ ہر طرح سپورٹ کرے گی، لیکن بدقسمتی سے مجھے وہ فنڈز نہیں ملے، جس سے میں اپنے حلقوں میں تبدیلی لا سکتا۔ کچھ این جی اوز کی جانب سے ٹانک اور پہاڑ پور سائڈ پر کام کیا گیا، لیکن وہ تسلی بخش نہیں تھا، اب بھی میرے حلقے میں 25 دیہات ایسے ہیں کہ جن میں ابھی تک بجلی بھی میسر نہیں، جس میں یونین کونسل بکھی، چودھوان وغیرہ شامل ہیں، تین سو کے قریب میرے دیہات ہیں، جن میں ابھی تک پینے کا پانی نہیں ہے، لوگ دور دور سے جا کہ بارش کا پانی اور نہروں سے پانی لے آتے ہیں۔ یہ سب مسائل میں نے صوبائی حکومت اور عمران خان صاحب کو گوش گزار کئے ہیں، لیکن ابھی تک اس کام کیلئے مجھے کسی قسم کے فنڈز نہیں مل سکے۔

اسلام ٹائمز: آخر کیا وجہ ہے ان علاقوں کے بنیادی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا اور دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ تبدیلی کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔؟
داور خان کنڈی:
صوبائی حکومت کے پاس فنڈز نہیں ہیں، لوگ ڈیویلپمنٹ مانگتے ہیں، لوگوں کو روڈ چاہیئے، پختہ گلیاں، بجلی، پانی کی سہولیات چاہیئے، ہماری بھی کوشش ہے کہ ان مسائل کو جلد سے جلد حل کریں، فنڈز کے بارے میں واضح کر دوں کہ ہمارے پاس فنڈز کی کمی کیوں ہے، وہ اس لئے کہ پی ٹی آئی گورنمنٹ کی وفاقی حکومت سے انڈرسٹینڈنگ نہیں ہے، جس کیوجہ سے ہمیں فنڈز کی قلت ہے۔ اگر ہم ان کے ساتھ شامل ہو جائیں تو ہمیں بھی بہت کچھ مل سکتا تھا۔

اسلام ٹائمز: ایجنسیز پاکستان کے اندر حکومتیں بنانے میں کتنا کردار ادا کرتی ہیں۔؟
داور خان کنڈی:
اس میں صرف سنا ہی ہے، اپنی آنکھوں سے ایسا کچھ نہیں دیکھا، کسی بھی ملک کی اسٹیبلشمنٹ سیاست سے دور نہیں رہ سکتی، کیونکہ جمہوریت میں کوالٹی کو نہیں بلکہ کوانٹٹی کو دیکھا جاتا ہے، جس نے بھی زیادہ ووٹ لے لیا وہ جیت گیا، تو یہاں پر اسٹیبلشمنٹ ضرور دیکھتی ہے کہ کون سی پارٹی یا کون سا بندہ بہتر ہے۔ یہ انکی ذمہ داری ہے اور انکو یہ سب دیکھنا چاہیئے اور وہ برے آدمی کو روکیں گے جو پاکستان کی ساکھ کیلئے نقصان دہ ہوگا۔ بعض لوگ پیسے کی بنیاد پر، کچھ مذہب کی بنیاد پر انتشار پھیلانے کا باعث بنتے ہیں، اس کو جمہوریت تو موقع دیتی ہے، لیکن یہاں پر اسٹیبلشمنٹ کا کردار بنتا ہے کہ ان کو آگے آنے سے روکا جائے۔

اسلام ٹائمز: مولانا فضل الرحمٰن فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنیکی مخالفت کر رہے ہیں، آخر کیا وجہ ہے۔؟
داور خان کنڈی:
مولانا صاحب کی مخالفت اپنی جگہ، میں خود بھی فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا مخالف ہوں، کیونکہ فاٹا کے بڑے بزرگوں سے پوچھا گیا کہ خیبر پختونخوا میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا نہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کے لوگوں کی بھی رائے لینی چاہیئے تھی، ان کو کیونکہ ہم یہاں کہ رہنے والے لوگ ہیں، ہم سے پوچھا جائے، ریفرنڈم کرایا جائے، اگر نہیں کراتے تو ہم مخالفت کرتے ہیں اور کریں گے۔ میرے علم کے مطابق اس وقت بارڈر کی بندش اس لئے کی گئی کہ اس میں مینجمنٹ کی جائے، پاکستان اور افغانستان کی بہت بڑی سرحد آپس میں ملتی ہے، جو کہ تقریباََ 5200 کلومیٹر بنتی ہے۔ ہمارے ملک میں سارے مسائل افغانستان کیوجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔ جب تک پاک افغان سرحدوں پر صحیح سے نظر نہیں رکھی جائے گی، تب تک پاکستان کے اندر امن پیدا کرنا بہت بڑا مسئلہ ہے۔

اسلام ٹائمز: خیبر پختونخوا حکومت کیجانب سے قطری شہزادوں کو شکار کا لائسنس نہیں دیا گیا، جبکہ کچھ ہی دنوں بعد پی ٹی آئی کے اپنے عہدے داران شکار کرتے ہوئے نظر آئے۔ اس پر ایکشن کیوں نہیں لیا گیا۔؟
داور خان کنڈی:
یہ بات پارٹی کے مسائل میں سے ہیں، لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ ڈبلنگ نہیں ہونی چاہیئے، قانون سب کیلئے ایک ہونا چاہیئے، اگر انہوں نے غلط کیا ہے تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے تھی، اس شکار والی بات پر خیبر پختونخوا کا غلط تاثر لوگوں پر ظاہر ہوا۔
خبر کا کوڈ : 613826
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب