0
Wednesday 19 Apr 2017 14:12

اگر داعش کو شکست دینی ہے تو اہل تشیع اور اہل تسنن کو متحد ہونا پڑیگا، آیت اللہ زین العابدین

اگر داعش کو شکست دینی ہے تو اہل تشیع اور اہل تسنن کو متحد ہونا پڑیگا، آیت اللہ زین العابدین
آیت اللہ شیخ عادل ابو زین العابدین کربلائی حرم حضرت غازی عباس علیہ السلام کے متولی ہیں، وہ نسیم کربلاء کی تقریبات میں شرکت کیلئے پاکستان کے درالحکومت اسلام آباد میں تشریف لائے اور جامعۃ الکوثر میں نسیم کربلاء کی اختتامی تقریب سے خطاب کیا۔ وہ حضرت آیت اللہ سیستانی حسینی کا خصوصی پیغام بھی اپنے ساتھ لائے، پاکستانیوں کو داعش جیسے قبیح گروہ کی کارستانیوں سے آگاہ کیا اور شیعہ سنی باہمی اتحاد کو قائم رکھنے کی تلقین کی۔ آیت اللہ زین العابدین سے عراق کی موجودہ صورتحال پر اسلام ٹائمز نے خصوصی گفتگو کی ہے، جسکا احوال پیش خدمت ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: موصل کا محاذ کہاں تک پہنچا ہے اور اسکی کیا تفصیلات ہیں۔؟
آیت اللہ زین العابدین:
بہت شکریہ، موصل میں کامیابی کے قریب ہیں، تاہم اس کیلئے بہت قربانیاں دینا پڑ رہی ہیں، داعش سے سب قوتیں تعاون کر رہی ہیں، اس لڑائی میں ان شاء اللہ فتح ہماری ہوگی، اس جنگ میں ہمارے اہل سنت بھائیوں کو بھی بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ آیت اللہ سیستانی مسلسل کہہ رہے ہیں کہ الحشد الشعبی کی جتنی ہوسکے مدد کریں، یہی وجہ ہے کہ حرم امام حسین علیہ اسلام اور حرم حضرت غازی عباس علیہ السلام میں اس حوالے سے خصوصی فنڈ کا اہتمام کیا گیا اور اپنے بھائیوں کی مسلسل مدد جاری ہے، جو اس وقت میدان کارساز میں داعش کے مقابلے میں لڑ رہے ہیں۔ ہر جمعے پر اس فورس کی مدد کیلئے تاکید کی جا رہی ہیں۔ کربلا، نجف اور سامرہ کے مختلف علاقوں سے لوگ بھی مدد کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: موصل لڑائی کا تازہ اسٹیٹس کیا ہے۔؟
آیت اللہ زین العابدین:
دیکھیں وہاں بہت زیادہ شدید جنگ ہے، مختلف رضاکار لڑ رہے ہیں اور جنگ میں موجود ہیں، سرکای فوج کے شانہ بشانہ جنگ لڑی جاری ہے، یہ بتاتا چلوں کہ یہ جنگ پورے نینوا میں لڑی جا رہی ہے، موصل تو ایک خاص علاقہ ہے، موصل کا ایک حصہ آزاد ہوگیا ہے اور اس وقت جنگ موصل کے وسط میں لڑی جا رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: موصل کی فتح میں تاخیر کی کیا وجہ ہے۔؟
آیت اللہ زین العابدین:
ہم عوام سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ وہاں سے نکلیں، آپریشن کی رفتار سست ضرور رکھی ہوئی ہے، لیکن چاہتے ہیں کہ عام لوگ اس جنگ کا ایندھن نہ بنیں اور بچ جائیں، داعش لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استمال کر رہی ہے، ہر گھر میں داعش کے لوگوں نے قبضہ کیا ہوا ہے، لوگوں کا موصل سے باہر نکلنا آسان نہیں ہے۔ اس لئے ہماری خواہش ہے کہ عام شہری موصل سے نکل جائیں اور پھر داعش کے ساتھ براہ راست لڑا جائے۔

اسلام ٹائمز: کیا داعش کو عام لوگوں میں مقبولیت حاصل ہے۔؟
آیت اللہ زین العابدین:
نہیں ایسا نہیں ہے، عام لوگ داعش سے نفرت کرتے ہیں، ممکن ہے چھوٹی سطح پر ایسا ہو، جب سے ان کے جرائم سامنے آئے ہیں، لوگوں میں ان کی مقبولیت نہیں رہی۔ داعش میں شائد کچھ عراقی بھی ہوں، لیکن زیادہ لوگ غیر ملکی ہیں، کوئی چیچنیا سے ہے، کوئی تاجکستان ہے۔ تین چار دن پہلے مجھے ایک واقعہ سنایا گیا کہ جہاں ابوبکر البغدادی نے خلافت کا اعلان کیا، اس علاقے سے ایک شخص جو داعش کے چنگل سے نکل کر حکومتی فورسز کی طرف پہنچا چاہتا تھا، وہ بہت رو رہا تھا، اس سے جب پوچھا گیا کہ تم کیوں رو رہے ہو تو وہ بولا کہ جنگ مسئلہ نہیں ہے، لیکن وہاں لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جب حکومتی فورسز آگے بڑھتی ہیں تو عام لوگوں کو آگے کر دیا جاتا ہے، جب وہ ہٹتے ہیں، یہ لوگ آگے آجاتے ہیں کہ لوگ بھاگ نہ جائیں، میں بھی رات کی تاریکی میں اپنے دو بچوں کو اٹھا کر بھاگ نکلا تھا، لیکن راستے میں ایک سنیپر نے میرے ایک بیٹے کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ میں نے اس بچے کو دفن کرنے کیلئے قبر کھودی اور دفنا کر کچھ فاصلے پر پہنچا ہی تھا کہ مجھے احساس ہوا کہ شہید بچے کو اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا ہے، لیکن جو بچہ میرے کندھے پر سو رہا تھا وہ دفنا دیا ہے، میں پاگل ہونے کے قریب ہوگیا تھا، سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کروں، بھاگ کر دوبارہ قبر سے مٹی ہٹائی کہ شائد میرا سونے والا بچہ بچ گیا ہو، لیکن وہ بھی شہید ہوگیا۔ اب میں (آیت اللہ زین العابدین) آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اس کا ذمہ دار کون ہے، جس نے اس بندے سے اس کے حواس تک چھین لئے اور وہ اپنے بیٹے کی سانس تک محسوس نہ کرسکا۔ ظاہر ہے داعش والے ہی ہیں، جنہوں نے اس سے دونوں بچے چھین لئے۔ یہ تو ایک واقعہ ہے۔

اسلام ٹائمز: امریکی حکام دعویٰ کرتے ہیں کہ داعش کے خاتمے کیلئے ہم عراقی حکومت سے مکمل تعاون کر رہے ہیں، کیا حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے۔؟
آیت اللہ زین العابدین:
پہلی بات تو یہ ہے کہ میں حکومتی نمائندہ نہیں ہوں، اس سوال کا بہتر جواب کوئی حکومتی نمائندہ ہی دے سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ کچھ ایسے واقعات ہوتے ہیں، جن کی وجوہات کا پتہ ہی نہیں چلتا، لیکن وہ واقعات ہمارے لئے سوالیہ نشان ضرور ہوتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: بغداد میں آئے روز کار بم دھماکوں کی اطلاع ملتی ہے۔ کیا وجوہات ہیں کہ دارالحکومت تک محفوظ نہیں۔؟
آیت اللہ زین العابدین:
اب تو ان دھماکوں میں بہت حد تک کمی ہوگئی ہے، چند سال پہلے تو یہ (داعش) کربلا کے قریب تک پہنچ گئے تھے۔ ان واقعات میں بہت حد تک کمی ہوئی ہے۔ باقی ظاہر ہے کہ ان کے سہولتکار ہر جگہ ہوتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستانی قوم کیلئے کوئی پیغام دینا چاہیں۔؟
آیت اللہ زین العابدین:
ہمارا اور آقای سیستانی کا پیغام کیا ہے۔؟ ہمارا پیغام یہی ہے کہ اپنے اتحاد کو قائم رکھو، اسے کسی صورت نہ توڑو، دشمن کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاو، آقائے سیستانی نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ اگر اہل سنت بھائی شہر میں داخل ہوکر مجھے میرے بیٹوں سمیت قتل بھی کر دیں تو آپ پر واجب ہے کہ آپ انہیں کچھ نہیں کہیں گے۔ شائد اس طریقے سے ہم اپنے اہل سنت بھائیوں کو قریب لاسکیں۔ آپ لوگ پاکستان میں بھی اہل سنت بھائیوں سے قریبی تعلقات قائم کریں، اگر چاہتے ہیں کہ داعش پاکستان میں کچھ نہ کرسکے تو پھر اہل سنت اور اہل تشیع کو قریب ہونا پڑے گا۔

اسلام ٹائمز: کیا عراق میں بھی مرکزی لیڈر شپ اس معاملے پر ایک ہے۔؟
آیت اللہ زین العادین:
جی بالکل، اس معاملے پر ہم سب ایک پلیٹ فارم پر ہیں، ہمارے درمیان کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔ مقتدیٰ الصدر ہو یا دیگر سب اس معاملے پر ایک ہیں۔
خبر کا کوڈ : 628733
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے