0
Wednesday 26 Apr 2017 12:39

چیف جسٹس کے الفاظ کسی کا سیاسی بیان نہیں بلکہ نواز شریف کے کرپٹ چہرے سے نقاب کشائی ہے، شیخ خرم شہزاد

چیف جسٹس کے الفاظ کسی کا سیاسی بیان نہیں بلکہ نواز شریف کے کرپٹ چہرے سے نقاب کشائی ہے، شیخ خرم شہزاد
حلقہ پی پی 72 فیصل آباد سے پاکستان تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی شیخ خرم شہزاد اہم پارٹی رہنماء اور علاقائی سیاست میں فعال اور موثر کردار کی وجہ سے قومی سطح پر پہچان رکھتے ہیں۔ پانامہ لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے، جے آئی ٹی کے قیام اور عمران خان کے نقطہ نظر کے حوالے اسلام ٹائمز کیساتھ انکا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز۔ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو برطرف نہیں کیا، نہ ہی نااہل قرار دیا ہے تو استعفٰی کے مطالبے کا کیا جواز ہے۔؟
شیخ خرم شہزاد:
سارے فیصلوں کی حیثیت صرف قانونی نہیں ہوتی، ملکی قیادت کا دعویٰ کرنیوالوں کیلئے اخلاقیات کو بھی ملحوظ رکھنا ہوتا ہے۔ وزیراعظم کا مستعفی نہ ہونا ملک و قوم کی بدقسمتی ہے، استعفٰی کا مطالبہ صرف اپوزیشن یا پی ٹی آئی نہیں کر رہی بلکہ وکلا نے آئین و قانون کی بالادستی کیلئے تحریک چلائی تو بھرپور حمایت کریں گے، بلکہ ضروری ہے کہ پاناما فیصلے کے حوالے سے وزیراعظم کے عہدے کا تقدس مجروح ہونے پر وکلا برادری عوام کی رہنمائی کرے۔ پوری دنیا میں پاناما سکینڈل میں نام آنے پر حکمران گھروں کو چلے گئے، مگر وزیراعظم ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ وزیراعظم عہدے پر براجمان رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں، لیکن ڈھٹائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اگر براہ راست نہیں بھی کہا تو بادی النظر میں نواز شریف نااہل ہی قرار دیئے گئے ہیں۔ چیف جسٹس نے تو شریف فیملی کو بدنام زمانہ گاڈ فادر اور مافیا سے تشبہیہ دی ہے، بلکہ انکا اختلافی نوٹ ہی انہی الفاظ سے شروع ہوتا ہے، میرے خیال میں تو نااہل قرار دینے سے بھی زیادہ سخت ہیں یہ الفاظ، چیف جسٹس کے الفاظ کسی کا سیاسی بیان نہیں بلکہ نواز شریف کے کرپٹ چہرے سے نقاب کشائی ہے۔

پانامہ میں نام آنے پر دنیا میں نواز شریف کی شکل سامنے آئی، ہم نے پانامہ کیس میں نواز شریف سے جواب لینے میں ایک سال جدوجہد کی، نواز شریف نے ہمیں ٹی او آرز کی بتی کے پیچھے لگا دیا اور خواجہ آصف نے کہا کہ میاں صاحب فکر نہ کرو لوگ بھول جائیں گے، ان کی ساری اخلاقیات ختم ہوچکی ہے۔ پاناما کا فیصلہ آنے کے بعد وزیراعظم کی اخلاقی حیثیت ختم ہوگئی ہے، پاناما سے لوگوں کو نواز شریف کا اصل چہرہ نظر آیا اور نواز شریف شریف بنتے تھے مگر اب پھنس گئے ہیں، پاناما فیصلے کے بعد وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے، مقدمے میں نواز شریف ہار گئے، وہ مستعفی ہوجائیں۔ وزیراعظم بطور ممبر اور وزیراعظم اپنا تشخص برقرار نہیں رکھ سکتے، پانامہ فیصلے میں پانچ میں سے دو ججز نے پٹیشن کی استدعا تسلیم کرلی۔ سپریم کورٹ کے تین ججز نے وزیراعظم کو کلین چٹ نہیں دی۔ ججز نے قطری خطوں کو کسی صورت تسلیم نہیں کیا، انصاف ہونا چاہیے اور انصاف ہوتا نظر بھی آنا چاہیے، کیا وزیراعظم کے ہوتے ہوئے جے آئی ٹی آزادانہ فیصلہ کرسکتی ہے؟ جو شخص صادق و امین کی تعریف پر پورا نہیں اترتا، وہ آزادانہ تحقیقات کیسے کرنے دے گا۔ وزیراعظم جے آئی ٹی کی آزادانہ تحقیقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، اصغر خان کیس کا حشر آپ سب کے سامنے ہے۔ وزیراعظم پاکستان اپنے اثر و رسوخ کی بنیاد پر جے آئی ٹی کی تحقیقات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ شفاف تحقیقات کیلئے وزیراعظم نواز شریف اپنے عہدے سے استعفٰی دیں۔

اسلام ٹائمز: عدالت تو ہر چیز کو قانونی پیرائے میں ہی دیکھتی ہے، اسی لئے جے آئی ٹی بھی بنائی گئی ہے، مزید تحقیقات کی ضرورت محسوس نہ کی جاتی تو جے آئی ٹی کیوں بنائی جاتی۔؟
شیخ خرم شہزاد:
ایک لحاظ سے تو یہ بھی ان کے منہ پر طمانچہ ہے، جو جے آئی ٹی کریمنلز، دہشت گردوں اور جاسوسوں کیلئے بنائی جاتی ہے، وہی وزیراعظم کے منصب پہ بیٹھے ہوئے شخص کیلئے بنائی گئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر نواز شریف استعفٰی نہیں دیتا تو یہ سرکاری افسروں کو دباؤ میں بھی رکھیں گے، اس پورے معاملے کو بھی گول مول کرنیکی کوشش کرینگے، جس طرح انہوں نے پہلے کیا ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں بننے والی جے آئی ٹی کی طرح پاناما فیصلہ میں بننے والے جے آئی ٹی بھی وزیراعظم کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی، شفاف تحقیقات کیلئے ضروری ہے کہ وزیراعظم استعفٰی دے کر جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں اور اپنے اوپر لگنے والے کرپشن کے الزامات کا جواب دیں۔ نیب چیئرمین اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے، جبکہ ان کے خلاف پاناما کیس کے فیصلے میں بھی ججز نے آبزرویشن دی۔ ایسے کردار کا حامل شخص کس طرح کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے، نیب چیئرمین کو کام کرنے سے روکا جائے، ورنہ عدالتی فیصلے کی بھی تضحیک ہوگی۔ چیئرمین نیب پاکستان میں احتساب کے نظام کو نافذ کرنے کے ذمہ دار تھے لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ نیب ملک کے کرپٹ ترین اداروں میں سے ایک ادارہ بن گیا ہے۔ نیب کے چیئرمین کے خلاف پاناما کیس کا فیصلہ سنانے والے سپریم کورٹ کے بینچ نے ریمارکس دیئے، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اگر 20 کروڑ آبادی والے ملک میں اس شخص کو چیئرمین نیب بنانا ہے تو کرپشن کو جائز کر دیں۔

اسلام ٹائمز: جے آئی ٹی میں سول اداروں کے علاوہ عسکری ادارے بھی شامل ہونگے اور سپریم کورٹ میں ہر ہفتے رپورٹ بھی پیش کی جائیگی، کیا استعفٰی کا مطالبہ سپریم کورٹ اور اداروں پر عدم اعتماد کو ظاہر نہیں کرتا۔؟
شیخ خرم شہزاد:
سپریم کورٹ، ججز، عسکری ادارے سب کا احترام اور مقام اپنی جگہ پر ہے، لیکن مسلم لیگ نون کی تاریخ زیادہ اچھی نہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا۔ فوج کیخلاف ہر اقدام میں ملوث ہیں، ابھی ڈان لیکس کا کیس دیکھ لیں، پہلے انہوں نے کہا کہ تین چار دن میں ذمہ داروں کو پکڑ کر سزا دینگے، پھر کہا کہ کمیٹی بناتے ہیں، اس کے بعد چند روز میں کمیٹی کی رپورٹ سامنے لانے کا وعدہ کیا، پھر کہا کہ کمیٹی متفق نہیں کسی ایک فیصلے پر، اس کے بعد آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کو ہی جھٹلا دیا۔ یہ تو رہا عسکری اداروں کا احترام۔ اب آپ دیکھ لیں، لیگی وزراء نے کس طرح سپریم کورٹ کے ججز کو دھمکیاں دی ہیں، عابد شیر علی ہوں، رانا ثناء اللہ یا خواجہ سعد رفیق۔ جو لوگ اتنے سخت ریمارکس پر مٹھائی تقسیم کر رہے ہیں، اسکا مطلب ہے کہ یہ لوگ اتنے بد دیانت اور کرپٹ ہیں کہ جے آئی ٹی کو کسی خاطر میں نہیں لائیں گے، یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے حالات پیدا کر دیں کہ جے آئی ٹی کو چلنے نہ دیں۔ جہاں تک سول اداروں کا تعلق ہے، وہ سپریم کورٹ میں آکر نواز شریف کیخلاف تفتیش یا تحقیق سے نہ کر چکے ہیں، وہ تو انکے زرخرید غلام ہیں۔ نیب کا چیئرمین ہو یا ایف بی آر یا اسٹیٹ بینک کے افسر ہوں، وہ وزیراعظم کے سامنے پیش تو ہوسکتے ہیں، وزیراعظم کو طلب کرکے جواب نہیں مانگ سکتے۔

اسلام ٹائمز: کورکمانڈرز نے باقاعدہ اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ پاک فوج جے آئی ٹی میں اپنا قانونی کردار شفاف انداز میں ادا کرتے ہوئے، عدلیہ کے اعتماد پر پورا اترے گی، کیا اپوزیشن کیلئے یہ یقین دہانی کافی نہیں۔؟
شیخ خرم شہزاد:
اس صورتحال کے ذمہ دار نواز شریف ہیں کہ پاک فوج جو مسلسل قربانیاں دے رہی ہے، لیکن فوج کے اعلٰی ترین افسران اور کمانڈ یہ وضاحتیں دینے کی ضرورت محسوس کرتی ہے کہ فوج شفاف کردار ادا کریگی، اس سے بڑی مثال کیا ہوسکتی ہے کہ موجودہ حکومت کس طرح اقتدار کی خاطر ملک و قوم کے وقار کو داو پہ لگا رہی ہے۔ ہم نے تو فوج کے کردار پر انگلی نہیں اٹھائی، بلکہ وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ شفاف تحقیقات کیلئے استعفٰی دیں، تاکہ اس طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہی نہ ہوں۔ نہ کسی کو اعتزاز احسن کی طرح یہ بہانہ ملے کہ فوج یا حساس اداروں کے استعمال ہونے کی بات کریں۔ زرداری ہوں یا نواز شریف یہ ملک، قوم، سپریم کورٹ اور فوج کے دشمن ہیں، انہوں نے ہمیشہ انڈیا اور امریکہ کیساتھ ساز باز کرکے اپنا اقتدار بچایا ہے یا اسکو طول دیا ہے۔ اس حوالے سے سیاسی نعرے بازی اور کیچڑ اچھالنے کا کام اس شدت سے کیا جا رہا ہے کہ اب فوج کی کور کمانڈر کانفرنس کو بھی اس پر غور کرنے اور اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔ فوج کب سے اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہے، لیکن ڈان لیکس کے معاملے پر کچھ نہیں ہوگا، چھوٹے سرکاری ملازم کو قربانی کا بکرا بنایا جائے گا، جو رپورٹ آنے والی ہے، سب کو پہلے سے معلوم ہے، ڈان لیکس پر چوہدری نثار پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ کمیشن متفق نہیں ہے۔ ڈان لیکس کے معاملے پر ریاست کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا، ڈان لیکس رپورٹ میں کوئی بڑی چیز سامنے نہیں آئے گی۔

اسلام ٹائمز: کرپشن کے خاتمے اور وزیراعظم کے استعفٰی کیلئے اپوزیشن کو مشترکہ پلیٹ استعمال نہیں کرنا چاہیے، عمران خان باقی جماعتوں کیساتھ ملکر تحریک چلانے کے حق میں ہیں۔؟
شیخ خرم شہزاد:
یہ کرپٹ حکمران باہر سے قرضہ لیتے ہیں، جو غریب عوام کو دینا پڑتا ہے اور سندھ کی عوام تو خاص طور پر سنے، کیونکہ سندھ کے لوگوں کو کرپشن نے تباہ کر دیا، جہاں پینے کا صاف پانی نہیں، مگر یہ مخصوص طبقہ امیر سے امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس ملک میں جتنا پیسہ بنتا ہے، اس میں سے 70 فیصد قرض کی مد میں چلا جاتا ہے اور اس سے پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے، پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر عاصم کے اوپر 460 ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے اور شرجیل میمن اور ایان علی نے لوٹ مار کی، مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان بہت شاطر سیاستدان ہیں، نواز شریف جے آئی ٹی میں پھنس گئے، اب ہم سندھ میں آصف زرداری کے پیچھے آرہے ہیں اور ان دونوں حکمرانوں نے مل کر جو پاکستان کی بندر بانٹ کرکے ادھر تم ادھر ہم والا سسٹم بنایا ہوا ہے، وہ ختم کریں گے۔ حکمران ملک قرضوں پر چلا رہے ہیں اور ان کا اپنا کاروبار دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے، نام نہاد نعرے لگائے جا رہے ہیں کہ ملک ترقی کر رہا ہے۔
خبر کا کوڈ : 630954
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب