1
0
Friday 23 Jun 2017 05:05
امریکی غلامی میں پڑے رہنے، اسکی ڈکٹیشن پر چلتے رہنے کیصورت میں مسلم امہ کا اتحاد ممکن نہیں

عالمی یوم القدس مظلوم فلسطینیوں کی حمایت اور ظالم اسرائیل سے اظہار برات کا دن ہے، مولانا قاضی احمد نورانی

امام خمینی کے اعلان کردہ جمعة الوداع عالمی یوم القدس نے مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنے اور اسے عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں انتہائی کلیدی کردار اد
عالمی یوم القدس مظلوم فلسطینیوں کی حمایت اور ظالم اسرائیل سے اظہار برات کا دن ہے، مولانا قاضی احمد نورانی
معروف اہلسنت عالم دین مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی کا تعلق بنیادی طور پر پاکستان میں اہلسنت مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی مذہبی جماعت جمعیت علمائے پاکستان سے ہے اور اسوقت وہ جے یو پی کراچی کے صدر ہونے کیساتھ ساتھ مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بھی ہیں۔ اسکے ساتھ وہ مرکزی جماعت اہلسنت پاکستان اور اسکی بعض ذیلی تنظیموں سے بھی وابستہ ہیں اور رابطے کے حوالے سے ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ آوہ ملی یکجہتی کونسل کراچی کے بھی صدر ہیں۔ مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی پاکستان میں مسئلہ فلسطین کیلئے آواز بلند کرنیوالے ادارے فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان (PLF Pakistan) کے مرکزی ادارے "سرپرست کونسل" کے رکن بھی ہیں۔ وہ ہمیشہ اتحاد امت و وحدت اسلامی اور مظلوم فلسطینیوں کیلئے آواز بلند کرتے رہتے ہیں اور ان حوالوں سے پاکستان بھر میں اور ایران، شام، لبنان سمیت دنیا کے کئی ممالک کے دورے بھی کرچکے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی کیساتھ عالمی یوم القدس اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے انکی رہائش گاہ پر ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر ان کیساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ ادارہ

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے امام خمینی کے فرمان پر جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس منایا جاتا ہے، امام خمینی کے اس فرمان اور اسکے عالمی سطح پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔۔۔۔۔ مسئلہ فلسطین اور القدس کی آزادی کی تحریک دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کی آواز ہے، بدقسمتی سے اس تحریک کو صیہونیوں اور ان کے ایجنٹوں نے آہستہ آہستہ خاموش کر دیا تھا اور یہ صرف مراکش کے ہوٹل تک کی تحریک رہ گئی تھی یا چند جوشیلے مسلمان بعض علاقوں میں کچھ پروگرام کر لیا کرتے تھے، لیکن ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد امام خمینی نے اس کو باقاعدہ رواج دیا کہ ماہ رمضان کا آخری جمعہ یعنی جمعة الوداع کو یوم القدس کے عنوان سے منایا جائے اور پھر دنیا بھر میں اس چیز کو سمجھا گیا اور سوچا گیا۔ بعدازاں القدس کی آزادی کی تحریک نے زور پکڑا اور اب دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں جمعة الوداع عالمی یوم القدس کے عنوان سے منایا جاتا ہے، پاکستان میں بھی فلسطین فاؤنڈیشن سمیت دیگر ادارے یوم القدس کے حوالے مختلف پروگرامات منعقد کرتے ہیں، یوم القدس کے موقع پر دنیا بھر کی طرح پاکستان بھر میں بھی عظیم الشان القدس ریلیاں نکالی جاتی ہیں، جس سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں عالمی رائے عامہ مظلوم فلسطینیوں کے حق میں ہموار ہوتی ہے، عالمی سطح پر مسئلہ فلسطین اچھے انداز سے اجاگر ہوتا ہے، لہٰذا امام خمینی کے اعلان کردہ جمعة الوداع عالمی یوم القدس نے مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھنے اور اسے عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں انتہائی کلیدی کردار ادا کیا۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین جو اصل میں مسلمانوں کا مشترکہ مسئلہ ہے، پہلے عربوں کا مسئلہ بنا رہا اور اب آہستہ آہستہ سازش کی جا رہی ہے کہ اسے فلسطینیوں تک ہی محدود کرکے رکھ دیا جائے، حالانکہ یہ انسانیت کے وقار کا مسئلہ ہے کہ صہیونی مظالم کو رکوایا جائے، آپکی کیا رائے ہے۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
دنیا بھر کی ملٹی نیشنل کمپنیز، دنیا بھر کے میڈیا ہاؤسز، نشر و اشاعت کے اداروں میں صہیونیوں یہودیوں کا اثر و رسوخ ہے، وہ اپنے مفادات کے خلاف کسی بھی بات کو، کسی بھی تحریک کو آگے نہیں بڑھنے دیتے، انہوں نے بڑے مکارانہ انداز میں پہلے تو فلسطین کے مسئلے کو ایک مذہبی مسئلہ بنایا، پھر اسے عربوں کا مسئلہ بنایا، پھر ایک خطے کا مسئلہ بنا کر دنیا سے اس کے رابطے منقطع کر دیئے، اس سازش کو پوری مسلم امہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ فلسطین دنیا بھر کے تمام مظلوموں کی آواز ہے، جس طرح مسلمانوں کیلئے بیت المقدس اور مسجد اقصٰی مقدس ہے، اسی طرح دنیا بھر کے مسیحیوں کیلئے یروشلم مقدس ہے، اس کے علاوہ بھی دنیا کے بڑے مذاہب اس کا احترام کرتے ہیں، سوائے صہیونیوں کے، جنہوں نے اس مقدس سرزمین کو اپنے ظلم و بربریت سے مظلوم فلسطینیوں کے خون سے رنگین کیا ہوا ہے، عالم اسلام کو پرامن دنیا کو یہ بات سمجھانی ہے کہ مسئلہ فلسطین صرف ایک گروہ کا نہیں بلکہ پوری عالم انسانیت کا مسئلہ ہے، تمام تر انسانوں کی بقاء کا مسئلہ ہے، ناصرف مسلمان بلکہ دنیا بھر کے پرامن مسلمانوں کو مسئلہ فلسطین کو دبانے کی صہیونی سازش کو ناکام بنانا ہوگا اور اسے حل کرنے کیلئے مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی، کیونکہ مسئلہ فلسطین کا حل ہی عالمی امن کا ضامن ہے۔

اسلام ٹائمز: عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی بے حسی تو ایک طرف مگر عرب ممالک اور او آئی سی کا کردار بھی انتہائی مایوس کن ہے، اس حوالے سے آپکی نگاہ کیا کہتی ہے۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
فلسطین پر صہیونیوں یہودیوں کا قبضہ ہی اعلان بلفور کے بعد ہوا اور اس میں برطانیہ کے ساتھ عرب شریک کار تھے، آج بھی عرب ممالک میں جو حکمران ہیں، وہ ان کی اولادوں کی اولاد ہیں، جنہوں نے مراعات لیکر مسلمانوں کے مفادات کا سودا کیا، تو ان سے تو ہم کوئی امید رکھ ہی نہیں سکتے، لہٰذا اس بات کو بار بار دہرانے کی ضرورت ہی نہیں ہے، ان عرب حکمرانوں کی منافقت واضح ہے۔ جہاں تک بات ہے او آئی سی کی تو جب تک عرب حکمران اس پر حاوی ہیں، وہ کسی کام کو آگے بڑھنے نہیں دیتی، اسی لئے او آئی سی عالم اسلام کے مفادات کے تحفظ کیلئے کسی بھی قسم کا کردار ادا کرنے سے عاری نظر آتی ہے۔

اسلام ٹائمز: کیا ضروری نہیں ہے کہ عرب و مسلم ممالک امریکی ایماء پر ایک مخصوص ملک کے بجائے اسرائیل کی نابودی اور سرزمین مقدس فلسطین کی آزادی کیلئے عظیم اسلامی اتحاد بنائیں۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
مسلم حکمران مسئلہ فلسطین پر آواز بلند کرنے کو تیار نہیں ہیں اور ان سے کوئی سوال کرنے والا بھی نہیں ہے، حالیہ ریاض کانفرنس میں بھی مسئلہ فلسطین کے حوالے سے کسی نے کوئی تذکرہ تک نہیں کیا، جو عالم انسانیت کا اہم ترین مسئلہ بنا ہوا ہے، دنیا نے دیکھا کہ ریاض کانفرنس کے فوری بعد امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل کے دورے پر پہنچ جاتے ہیں اور صہیونیوں سے کہتے ہیں کہ تم فلسطینیوں کا قتل عام جاری رکھو، ان کی زمینوں پر قبضے جاری رکھو، میں مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ جاری رکھتا ہوں، صورتحال تو یہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان تو صہیونیت کے خلاف کھڑے نظر آتے ہیں، لیکن ان پر مسلط خائن مسلم و عرب حکمران امریکہ کے حواری کا کردار ادا کر رہے ہیں، میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ کوئی بھی مسلم ملک اسرائیلی ظلم و بربریت کے شکار مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی مدد کیلئے آگے بڑھتا ہے، تو اسے تباہ و برباد کرنے کیلئے خانہ جنگی کا شکار کر دیا جاتا ہے، شام کی مثال ہمارے سامنے کہ جہاں حماس، اسلامی جہاد و دیگر آزادی فلسطین کی تحریکیں اپنا موثر مرکز قائم کرچکی تھیں، وہاں سے وہ مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی آواز میں آواز ملاتے تھے، تو وہاں بھی خانہ جنگی پیدا کر دی گئی، اس سے قبل لبنان بھی اسی صہیونی سازش کا شکار ہوگیا تھا، یعنی جو ملک بھی اسرائیل کے خلاف مظلوم فلطینیوں کے حق میں آواز بلند کرسکتا ہو، اسے پہلے ہی خاموش کرا دیا جاتا ہے، ان سازشوں میں امریکہ اور اس کے حواری شریک ہیں، جو ہر حال میں صہیونی جعلی ریاست اسرائیل کو تحفظ فراہم کرکے اسے باقی رکھنا چاہتے ہیں، قطر کا حالیہ بائیکاٹ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم امہ اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنے ہاتھوں میں لیکر خود کریں، مسئلہ فلسطین ہو یا مسئلہ کشمیر، تمام مسائل کے فیصلے خود کریں، امریکہ کو بیچ سے نکال باہر کریں، امریکہ سے تعلق توڑیں گے تو مسلم امہ کا اتحاد ممکن ہوگا، امریکی غلامی میں پڑے رہنے، اس کی ڈکٹیشن پر چلتے رہنے کی صورت میں مسلم امہ کا اتحاد ممکن نہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان میں پہلی بار اسلام آباد میں ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام یوم القدس کی مشترکہ ریلی نکالی جا رہی ہے، جس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی تنظیمیں شریک ہونگی، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
ملی یکجہتی کونسل نے اپنے قیام سے لیکر آج تک بڑی اہم حکمت عملی اختیار کی اور پاکستان میں بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دیکر اسلام کا صحیح چہرہ پیش کیا، میں سمجھتا ہوں کہ مشترکہ القدس ریلی نکالنے کے حوالے سے یہ ملی یکجہتی کونسل کے قائدین کا انتہائی خوشگوار اور اہم فیصلہ ہے، یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم ترین فیصلہ ہے، مشترکہ القدس ریلی کے انعقاد سے فلسطینی بھائیوں کو ایک انتہائی مثبت پیغام جائے گا کہ پاکستانی عوام کے دل ان کے ساتھ دھڑکتے ہیں، پاکستانی عوام کبھی بھی فلسطینی بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، آئندہ اسلام آباد کو مثال بنا کر مشترکہ القدس ریلیوں کا سلسلہ ملک گیر کیا جائے گا۔

اسلام ٹائمز: عالمی یوم القدس اور اسکو منانے کے حوالے سے پاکستانی حکومت سے کیا مطالبہ یا اپیل کرینگے۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
پاکستانی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ جمعة الوداع عالمی یوم القدس کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کرے، حکومتی سطح پر تقریبات منعقد کرے، یوم القدس اور مسئلہ فلسطین کو سرکاری ذرائع ابلاغ پر جگہ دے، مظلوم فلسطینیوں پر صہیونی اسرائیل کے مظالم پر احتجاج کرے، دنیا کے سامنے جس طرح مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتی ہے، اسی طرح مسئلہ فلسطین کو بھی اجاگر کرے، پارلیمنٹ میں مظلوم فلسطینیوں کے حق میں قراردادیں بھی پاس کرے اور اقوام متحدہ کی توجہ بھی مسئلہ فلسطین کی جانب مبذول کرائے، باقاعدہ وزارت خارجہ میں فلسطین ڈیسک قائم کرے، مسئلہ کشمیر کے ساتھ ساتھ مسئلہ فلسطین کو بھی اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنائے۔

اسلام ٹائمز: عالمی یوم القدس پر پاکستانی عوام کو کیا پیغام دینگے؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
عالمی یوم القدس مظلوم فلسطینیوں کی حمایت اور ظالم اسرائیل سے اظہار برات کا دن ہے، عالمی یوم القدس کے موقع پر پاکستانی عوام کو ملک بھر میں اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرنے کیلئے ریلیاں نکالنی چاہیئے، احتجاجی مظاہرے کرنے چاہیئے، جلسے جلوس کا انعقاد کرنا چاہیئے، یوم القدس کی ریلیوں میں بھرپور انداز میں شرکت کرنی چاہیئے، دنیا کو باور کرانا چاہیئے کہ پاکستان عوام القدس کی آواز پر سب سے پہلے لبیک کہتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 648229
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Pakistan
ماشاء اللہ، قاضی صاحب اللہ آپ و سلامت رکھے۔
منتخب
ہماری پیشکش