0
Monday 28 Aug 2017 23:55
ہمیں امریکی دھمکیوں اور الزام تراشیوں کے مقابلے میں جرأت مندانہ پالیسی اختیار کرنی چاہیئے

کراچی میں آئی ایس او کی ریلی پر پولیس کا حملہ شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننا اور امریکہ کے سامنے اپنے نمبر بڑھانا ہے، ممتاز سہتو

پاکستان کو امریکی بلاک میں رہنے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا، امریکہ کو دوست کہنا درحقیقت اپنے آپکو دھوکا دینا ہے
کراچی میں آئی ایس او کی ریلی پر پولیس کا حملہ شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بننا اور امریکہ کے سامنے اپنے نمبر بڑھانا ہے، ممتاز سہتو
ممتاز حسین سہتو اسوقت جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں، وہ جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ کے رکن بھی ہیں، زمانہ طالب علمی کے دوران 1982ء سے 1988ء تک وہ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ رہے، اس دوران وہ جمعیت کی مرکزی شوریٰ کے رکن اور سکھر کے ناظم بھی رہے، بعد ازاں وہ جماعت اسلامی میں فعال ہوئے، خیرپور کے امیر، شباب ملی سندھ کے صدر، حزب المجاہدین سندھ کے آرگنائزر رہ چکے ہیں، وہ جماعت اسلامی سندھ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور نائب امیر کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے مسجد قبا گلبرگ کراچی میں قائم جماعت اسلامی سندھ کے دفتر میں ممتاز حسین سہتو کیساتھ کراچی میں آئی ایس او کی مردہ باد امریکہ ریلی پر پولیس تشدد، پاکستان کیخلاف امریکی دھمکی آمیز بیانات و دیگر موضوعات کے حوالے سے ایک مختصر نشست کی۔ اس موقع پر ان کیساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: سب سے پہلے تو آپکا مؤقف جاننا چاہیں گے کہ گذشتہ روز کراچی میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی مردہ باد امریکہ ریلی پر جو پولیس کیجانب سے شدید لاٹھی چارج، تشدد، شیلنگ، ہوائی فائرنگ اور گرفتاریاں ہوئیں، اس حوالے سے۔؟
ممتاز حسین سہتو:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔
آئی ایس او کی مردہ باد امریکہ ریلی پر لاٹھی چارج، شیلنگ، پولیس تشدد کی سخت مذمت کرتے ہیں، امریکہ مخالف ریلی پر پولیس کا تشدد انتہائی بزدلانہ رویہ ہے، یہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، یہ امریکہ کے سامنے اپنے نمبر بڑھانا ہے، اپنے جذبات کے اظہار کیلئے پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، مگر پولیس نے پُرامن مظاہرین پر تشدد کرکے ریاستی دہشتگردی کا مظاہرہ کیا ہے، جس کا نوٹس لینا چاہیئے، کیونکہ اس طرح کی نامناسب روش سے حالات خراب ہونگے، جو شہری پُرامن طور پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں، ان کو آئینی حق سے محروم نہیں کرنا چاہیئے، جو کوئی بھی کسی سفارت خانے یا قونصلیٹ جا کر پُرامن طور پر احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتا ہے، کوئی احتجاجی قرارداد یا دستاویزات پیش کرنا چاہتا ہے، تو اس بات سے خوفزدہ ہونے کے بجائے، ڈرنے کے بجائے احتجاج ریکارڈ کرانے دینا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کیساتھ حالیہ امریکی رویئے کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
ممتاز حسین سہتو:
امریکہ نے مسلمانوں کے حوالے سے ہمیشہ دوہرا معیار رکھا ہے، جب معاملہ مسلمانوں سے متعلق ہوتا ہے تو اس کا معاملہ کچھ اور ہوتا ہے اور غیر مسلم کے حوالے سے معاملہ کچھ اور ہوتا ہے، مثال کے طور آزادی کی کوئی تحریک کسی عیسائی، کسی یہودی یا کسی غیر مسلم کی ہے تو امریکہ اس کی حمایت کرتا ہے، لیکن مسلمانوں کی آزادی کی تحریکوں کی امریکہ ہمیشہ دہشتگرد کہہ کر مخالفت کرتا ہے، پاکستان پر عدم تعاون کا حالیہ امریکی الزام بھی اس کے دہرے معیار کی ایک کڑی ہے، حالانکہ پاکستان نے تو امریکی خواہش پر بہت زیادہ فعالیت دکھائی ہے، جب بھی امریکہ نے ڈو مور (Do More) کی رٹ لگائی، ہم نے ہمیشہ کہا کہ امریکہ کبھی بھی ہم سے راضی نہیں ہوگا، پاکستان جتنا بھی اس کی خواہش کے مطابق کام کرے، کچھ حاصل نہیں ہوگا، آج جب امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان مخالف بیان دیا تو اس سے ہمارا مؤقف سچ ثابت ہوا۔

اسلام ٹائمز: امریکی امداد کے پاکستان کو ملنے یا نہ ملنے کے ملک و عوام پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔؟
ممتاز حسین سہتو:
امریکی امداد پاکستانی عوام کیلئے نہیں ہوتی بلکہ وہ امریکہ کے ایجنٹوں کیلئے ہوتی ہے، امریکہ کے آلہ کار لوگوں کیلئے ہوتی ہے، وہی امداد کھاتے پیتے ہیں، وہی عیاشی کرتے ہیں، وہی مغربی بینکوں میں جمع کرتے ہیں، تو عوام کو تو امریکی امداد سے کسی قسم کا کوئی ریلیف نہیں ملتا ہے، اسی لئے پاکستانی عوام کو امریکہ کی امداد کی ضرورت بھی نہیں ہے، یہ حقیقت سب پر واضح ہونی چاہیئے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے، جسے اللہ نے تمام نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے، کون سے ایسے وسائل ہیں جو پاکستان میں نہیں ہیں، گیس، پیٹرول، معدنیات، پہاڑ، سمندر، دریا، زراعت وغیرہ وغیرہ ہر چیز پاکستان میں موجود ہے، پھر امریکہ نے ہمیشہ امداد کے ذریعے پاکستان کو جھکایا ہے، اس لئے ہمارا مؤقف ہے کہ امریکی امداد پاکستان کیلئے ذلت و رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: امریکہ کی دوستی کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
ممتاز حسین سہتو:
دیکھیں پاکستان کو امریکی بلاک میں رہنے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے، پاکستان دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا، امریکہ نے کیا کیا، ہمیں جب جہاں خطرہ ہو اور امریکہ ہماری مدد سے گریز کرے، تو ایسی دوستی اور ایسے تعلقات کا کیا فائدہ ہے، امریکی سے دوستی تو درحقیقت دشمنی کے مترادف ہے، نہ تو پاکستان کو ماضی میں کبھی امریکہ کے ساتھ دوستی کسی کام آئی ہے، نہ آج امریکی دوستی کسی کام آ رہی ہے اور نہ ہی کل امریکہ کے ساتھ دوستی پاکستان کے کسی کام آئے گی، لہٰذا امریکہ جیسے ملک کو دوست کہنا درحقیقت اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔

اسلام ٹائمز: امریکہ کے اچانک پاکستان پر بھڑکنے اور دھمکیاں دینے کے پیچھے کیا عوام نظر آتے ہیں۔؟
ممتاز حسین سہتو:
میرا خیال ہے کہ امریکی دھمکیاں اچانک سے نہیں دی جا رہی ہیں، پاکستان مخالف امریکی اقدامات ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہیں، اس وقت جو امریکہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف بیانات آرہے ہیں، پاکستان پر جو امریکی الزامات کا سلسلہ جاری ہے، یہ ہمارے لئے کوئی غیر متوقع نہیں ہیں، ہمیں تو امریکہ سے کہیں زیادہ خطرناک اقدامات کی توقع ہے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے آپکی کیا نگاہ ہے۔؟
ممتاز حسین سہتو:
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہے، پاکستان میں کبھی کبھار کوئی وزیر خارجہ نظر آجاتا ہے، جبکہ یہ ایک مسلسل کام ہے، جو ہونا چاہیئے، اسی مجرمانہ کوتاہی کے باعث دنیا بھر میں پاکستان کا مؤقف ہر ایشو پر کمزور ہوتا ہے، کوئی مضبوط لابنگ نہیں ہے، کوئی مضبوط لابسٹ نہیں ہے، پاکستان کے مؤقف کو پوری دنیا میں پیش کرنے والے باصلاحیت افراد نہیں ہیں، وہی چند لوگ ہیں، جو اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ کر رہے ہوتے ہیں، لیکن ملکی سلامتی، بقاء، استحکام، ترقی اور وقار و سربلندی کیلئے ان کی بہرحال کوئی پالیسی نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: پاکستانی آرمی چیف کے امریکہ کو دیئے گئے بیان کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
ممتاز حسین سہتو:
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ نے بالکل صحیح جواب دیا ہے کہ ہم جرأت و سرفرازی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں، امداد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم کسی کے نوکر یا غلام ہیں۔ ہمیں امریکی دھمکیوں اور الزام تراشیوں کے مقابلے میں جرأت مندانہ پالیسی اختیار کرنی چاہیئے، ہمیں گیدڑ کی سو سالہ زندگی کے بجائے شیر کی ایک دن کی زندگی کی طرح جینا ہوگا۔

اسلام ٹائمز۔ ملکی معاشی و اقتصادی حالات کی بہتری کیلئے فوری طور پر کن اقدامات کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔؟
ممتاز حسین سہتو:
پاکستان کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو سنجیدگی کے ساتھ ملک کے بہتر مستقبل کیلئے سوچنا چاہیئے، ملکی معیشت و اقتصاد کو بہتر کرنے کیلئے مؤثر اقدامات اٹھانے چاہیئے، غیر ممالک میں مقیم پاکستانوں کا اعتماد بحال کیا جائے، ان کیلئے اچھی اور پُرامن فضاء پیدا کی جائے، ان کیلئے مواقع پیدا کئے جائیں، تاکہ وہ اپنا پیسہ پاکستان میں لائیں اور سرمایہ کاری کریں، اس طرح اگر پاکستانیوں کا پیسہ ملک کے اندر استعمال ہونے لگے، تو معاشی و اقتصادی لحاظ سے ہم بہت ترقی کرسکتے ہیں، پھر پاکستان کو بیرونی امداد کیلئے امریکہ یا کسی دوسرے ملک کی طرف دیکھے کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ پاکستان خود امداد دینے والا ملک بن جائیگا۔

اسلام ٹائمز: امریکہ سے بگڑتے تعلقات کی تناظر میں پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر کیا قدم اٹھانا چاہیئے۔؟
ممتاز حسین سہتو:
پاکستان کو چاہیئے کہ جو اسلامی ممالک ہیں، جو پڑوسی ممالک ہیں، ان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنا چاہیئے، ان کی طرف مزید دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہیئے، یہ نہ صرف موجودہ حالات بلکہ آئندہ بھی مفید ثابت ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 665044
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب