1
0
Thursday 31 Aug 2017 23:25
امریکی صدر کے پاکستان مخالف بیان پر قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد کی منظوری خوش آئند ہے

موجودہ حالات میں پاکستانی حکمرانوں کا دورہ ایران انتہائی ضروری ہے، علامہ سید ناظر عباس تقوی

کراچی میں آئی ایس او کی مردہ باد امریکہ ریلی پر پولیس حملے کیخلاف تحقیقاتی کمیشن بنا کر حقائق سامنے لائے جائیں
موجودہ حالات میں پاکستانی حکمرانوں کا دورہ ایران انتہائی ضروری ہے، علامہ سید ناظر عباس تقوی
علامہ ناظر عباس تقوی کا تعلق صوبہ سندھ کے شہر کراچی سے ہے۔ اپنے زمانہ طالب علمی میں انکا تعلق امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان سے رہا تھا، شروع سے ملی معاملات میں کافی فعال کردار ادا کرتے تھے۔ انہوں نے جب سے روحانی لباس زیب تن کیا، تب سے ہی اپنے کندھوں پر زیادہ ذمہ داری محسوس کرنے لگے۔ یہی وجہ تھی کہ شیعہ علماء کونسل میں شمولیت کے بعد کچھ ہی عرصے میں بزرگ علمائے کرام کے ہوتے ہوئے پہلے کراچی کے صدر منتخب ہوئے، اسکے بعد انکو صوبہ سندھ کے جنرل سیکرٹری کی ذمہ داری دیدی گئی، آج کل وہ صوبائی صدر کی حیثیت سے ملی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، اسکے ساتھ ساتھ وہ ملی یکجہتی کونسل سندھ کے سینیئر نائب صدر بھی ہیں۔ ریلی ہو یا دھرنا یا ملت کو درپیش کوئی اور مشکل، منفرد اور بااثر لب و لہجہ رکھنے والے مولانا ناظر عباس تقوی جتنی دیر بولتے ہیں، انکے جملوں میں خلوص ہی خلوص نظر آتا ہے، جسکی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو للکارنا ہو یا شیعہ و مسلمان دشمن جماعتوں کو، اس معاملے میں علامہ صاحب اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ”اسلام ٹائمز“ نے علامہ سید ناظر عباس تقوی کیساتھ انکی رہائشگاہ پر امریکی صدر کے پاکستان مخالف بیان، کراچی میں آئی ایس او کی مردہ باد امریکہ ریلی پر پولیس حملہ، ایام عزا کی آمد آمد اور کراچی سمیت سندھ بھر میں امن و امان کی صورتحال سمیت دیگر موضوعات کے حوالے سے ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر ان کیساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ پاکستان مخالف بیان کے حوالے سے آپکا مؤقف جاننا چاہیں گے۔؟
علامہ سید ناظر عباس تقوی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔۔۔۔۔
امریکی صدر کے پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز بیان کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، امریکی صدر کا بیان پاکستان کے معاملات میں مداخلت ہے، پاکستان ایک خود مختار اور آزاد ریاست ہے، امریکی صدر ٹرمپ کو اپنے پاکستان مخالف بیان پر معذرت کرنا چاہیئے، جس میں انہوں نے پاکستان اور اسکی عوام کی توہین و اہانت کی ہے، میں پاکستانی حکمرانوں کو یہ پیغام بھی دینا چاہتا ہوں کہ یہ بہترین موقع ہے کہ پاکستان امریکہ سے اپنی جان چھڑا لے، کیونکہ پاکستان کو امریکہ سے بجائے فائدے کے ہمیشہ نقصان ہی اٹھانا پڑا، اگر امریکہ پاکستان کے حوالے سے کسی خام خیالی میں ہے تو ہم اسے واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک طاقتور ایٹمی ملک ہے، پاکستانی افواج اور عوام اپنے ملک کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگر امریکہ سمیت کسی نے بھی پاکستانی ایٹمی اثاثوں کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھی تو پاکستان انکے تمام ناپاک عزائم خاک میں ملانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

اسلام ٹائمز: امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات کیخلاف قومی اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کر لی، حکومت اور اپوزیشن اس معاملے میں ایک پیج پر ہیں، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
علامہ سید ناظر عباس تقوی:
جو بھی محب وطن پاکستانی ہے، اس کا امریکی صدر کے پاکستان مخالف بیان پر ردعمل آنا چاہیئے، امریکی صدر کے پاکستان مخالف بیان پر قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد کی منظوری خوش آئند ہے، ہر پاکستانی اس بیان پر مشتعل ہے، متفقہ قرارداد ایک ذمہ دارانہ اقدام ہے، حکومت اور اپوزیشن نے ملکی سلامتی کے اس معاملے پر احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، اس لئے یہ پاکستان کیلئے خوش آئند ہے۔

اسلام ٹائمز: قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ایران ہمارا دوست ہے، جسے ہمیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے اس بیان سے متفق ہونیکا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیں ایران کیساتھ تعلقات بہتر بنانے چاہیئں، ایران کا دورہ کرنا چاہیئے، اس حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
علامہ سید ناظر عباس تقوی:
میں دونوں رہنماؤں کے بیانات سے متفق ہوں، بالکل ایسا ہی ہے، جمہوری اسلامی ایران اور پاکستان کے بہترین سفارتی تعلقات رہے ہیں، دونوں اہم اسلامی برادر ممالک ہے، کچھ عرصے سے پاکستان اور ایران کے دمیان کچھ کشیدگی پیدا ہوئی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ مذاکرات کے ذریعے، گفتگو کے ذریعے پاکستان کو اپنا مؤقف واضح انداز میں پیش کرنا چاہیئے، تاکہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان مزید بہتر تعلقات کو فروغ دیا جا سکے اور باہمی اتحاد و محبت و بھائی چارے کے پیغام کو آگے بڑھانا چاہیئے، کیونکہ ایران ہمارا پڑوسی ہونے کے ساتھ ساتھ برادر اسلامی دوست ملک بھی ہے، ماضی میں جب ہندوستان کے ساتھ مسائل میں دنیا ایک طرف تھی تو ایران نے پاکستان کا ساتھ دیا تھا، لہٰذا موجودہ حالات میں تو پاکستانی حکمرانوں کا دورہ ایران انتہائی ضروری ہے، دونوں ممالک کا ایک دوسرے کے نزدیک آنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ جو عناصر پاکستان اور ایران کے دور ہونے سے سوء استفادہ کر رہے ہیں، ان کا خاتمہ کیا جا سکے۔

اسلام ٹائمز: پیپلز پارٹی نے امریکی صدر کے بیان پر تو تنقید کی، لیکن اسکی سندھ حکومت کے ماتحت پولیس کیجانب سے گذشتہ دنوں کراچی میں نکالی گئی امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی مردہ باد امریکہ ریلی پر وحشیانہ حملے کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ سید ناظر عباس تقوی:
آئی ایس او اور اس کے جوانوں نے اپنے حب الوطنی کے جذبے کے تحت، اپنے محب وطن ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کراچی میں پاکستان کی حمایت اور امریکہ کی مخالفت میں ایک ریلی نکالی تھی، آئی ایس او کی مردہ باد امریکہ ریلی صرف آئی ایس او کے ہی نہیں بلکہ پاکستانی عوام کے جذبات کی ترجمان تھی، جس کا اظہار آئی ایس او نے کیا، امریکہ مخالف ریلی کے خلاف سندھ پولیس کا جو پرتشدد ردعمل آیا، وہ ریاست کا بہت ہی زیادہ پرتشدد ردعمل تھا، ریاستی اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا اور امریکہ مخالف نہتے پاکستانی محب وطن شہریوں پر لاٹھی چارج کیا گیا، شدید شیلنگ اور فائرنگ کی گئی، یہ ایک انتہائی غیر جمہوری عمل تھا، سندھ پولیس نے غیر جمہوری اقدار پر عمل کرتے ہوئے ریلی پر وحشیانہ حملہ کیا۔ ریلی پر پولیس حملہ مقبوضہ کشمیر کا منظر پیش کر رہا تھا کہ جیسے بھارتی پولیس نہتے مظلوم کشمیری عوام پر مظالم ڈھاتی ہے۔

اسلام ٹائمز: کراچی میں آئی ایس او کی مردہ باد امریکہ ریلی پر سندھ پولیس کے حملے کے تناظر میں کوئی مطالبہ کرنا چاہیں گے۔؟
علامہ سید ناظر عباس تقوی:
سندھ حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی میں آئی ایس او کی مردہ باد امریکہ ریلی پر پولیس حملے کے حوالے سے انکوائری بٹھائے، ان افسران کیخلاف جنہوں نے پُرامن محب وطن شہریوں پر لاٹھی چارج، شیلنگ، فائرنگ کا حکم دیا، پولیس حملے کے نتیجے میں پاکستانی قومی پرچم کی جو توہین ہوئی ہے، پولیس کے پیروں تلے پاکستانی پرچم روندے گئے، محب وطن شہریوں خصوصاً علمائے کرام کی جو توہین کی گئی، وہ کسی صورت بھی قابل برداشت نہیں ہے، پاکستان ایک آزاد ملک ہے، ہر شہری کو اظہار رائے کا آئینی حق حاصل ہے، میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ مخالف ریلی پر سندھ پولیس کے حملے کے خلاف ایک تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے، تاکہ وہ حقائق منظر عام پر آسکیں کہ کس کے کہنے پر امریکہ مردہ باد ریلی پر پولیس کیجانب سے حملہ کیا گیا۔

اسلام ٹائمز: ایام عزا کی آمد آمد ہے، کراچی سمیت سندھ بھر میں سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
علامہ سید ناظر عباس تقوی:
گذشتہ کئی سالوں سے ایام عزا تشیع کیلئے ایک آزمائش اور امتحان بن کر آیا ہے، اسی طرح یہ محرم بھی ایک آزمائش اور امتحان ہے، یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر بہتر ہوچکی ہے، لیکن پہلے سے بہتر ہوئے ہیں، ابھی بھی دہشتگردی کے بادل پورے ملک میں منڈلا رہے ہیں، ملک میں دہشتگردی کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، پاکستان میں دہشتگرد عناصر کا نیٹ ورک تو موجود ہے، لہٰذا ہمیں ہر قسم کی آزمائش کیلئے آمادہ رہنا چاہیئے، عزاداری ہماری شہ رگ حیات ہے، نہ تو یہ پہلے رکی تھی اور نہ ہی آئندہ کبھی رکے گی، ہم اپنے خون کے آخری قطرے تک عزاداری کو جاری و ساری رکھیں گے اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری و ساری رہے گا۔

اسلام ٹائمز: کراچی سمیت سندھ بھر میں ایام عزا کے دوران سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے حکومت سے رابطے کی کیا صورتحال ہے، کیا مطالبات اور تجاویز پیش کی گئی ہیں۔؟
علامہ سید ناظر عباس تقوی:
عزاداری ہمارا آئینی و قانونی حق ہے، لہٰذا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عزاداری و عزاداروں کو تحفظ فراہم کرے، اس حوالے سے مثبت فول پروف پالیسیاں بنائے، ایسے سکیورٹی اقدامات کئے جائیں، جن سے عزاداروں اور عزاداری کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے، مراسم عزاداری میں مشکلات پیدا نہ ہوں، حکومتی افراد سے ہمارے رابطے جاری ہیں، انہیں ہم نے تحریری طور پر تجاویز بھی دے دی ہیں، انہوں نے ہم سے کہا ہے کہ اس حوالے سے مزید ملاقات کرینگے، مزید تجاویز لیں گے، لہٰذا ہم مزید تجاویز لے کر ان سے دوبارہ ملاقات کرینگے، ہماری کوشش ہے کہ انتظامیہ سے باہمی مشاورت کرکے عزاداری کی راہ میں رکاوٹوں کو کم کیا جائے اور اس راہ میں کسی قسم کی اگر کوئی کمزوری ہے تو ہم اسے دور کرنے کیلئے تیار ہیں، لیکن اصولوں پر کوئی سودے بازی نہیں کی جا سکتی، عزاداری ہر صورت میں ہوگی، لاؤڈ اسپیکر بھی چلے گا، سبیل بھی لگیں گی، علم بھی لگیں گے، جلوس بھی نکلیں گے، حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کی رکاوٹ یا مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم نے پورے سندھ سے رپورٹیں منگوالی ہیں، ہم ان اضلاع کی نشاندہی کریں گے کہ جہاں جہاں دہشتگردی کے خدشات ہیں، جہاں جہاں دہشتگرد موجود ہیں، ہمارے پاس ساری معلومات ہیں، ہم حکومت اور انتظامیہ سے شیئر کرینگے، امید ہے کہ ہمارے جو مشکلات و مسائل ہیں، جن کی طرف ہم حکومت کی بار بار متوجہ کر رہے ہیں، حکومت ان مشکلات و مسائل کے حل کیلئے ہم سے تعاون کریگی، تاکہ محرم الحرام سمیت ایام عزا میں مکمل امن و امان کی فضا قائم رہے۔

اسلام ٹائمز: عزاداری اور عزاداروں کے تحفظ کے حوالے سے ملی تنظیموں پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔؟
علامہ سید ناظر عباس تقوی:
عزاداری سیدالشہداء علیہ السلام کسی کی ذاتی میراث نہیں، یہ تمام انسانیت کی میراث ہے، جس کی حفاظت کیلئے تشیع پر اس حوالے سے خاص طور پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے، تشیع کو عمومی اور ملی تنظیموں کو خصوصی طور پر عزاداری کو منظم اور بامقصد برپا کرنے کی ضرورت ہے، ایام عزا میں تمام ملی تنظیموں، اداروں، شخصیات کے ایک دوسرے سے مستحکم رابطے، تعاون و احترام انتہائی ضروری ہیں، بروقت صحیح معلوم کا تبادلہ بھی انتہائی ضروری ہے، جس کے بغیر معاملات احسن انداز میں آگے بڑھانا ممکن نہیں، خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہوتا ہے، افراتفری پھیلتی ہے، قوم پریشانی کا شکار ہوتی ہے، بات چلتی ہے تو کہیں سے کہیں پہنچتی ہے، لہٰذا بروقت صحیح معلومات کا تبادلہ عزاداری کو احسن انداز میں برپا کرنے کیلئے انتہائی ضروری ہے، پھر یہ کہ ہم سب کے ایک دوسرے سے باہمی رابطے ہر حال میں مضبوط ہونے چاہیئے، تاکہ کسی بھی مشکل وقت میں ایک دوسرے سے مشاورت اور رابطے کے ذریعے قوم کو اس مشکل سے نکالا جا سکے اور عزاداری کو ہر قیمت پر منظم رکھا جا سکے۔ مشترکہ حوالے سے ہم لوگوں کے ایک دوسرے سے روابط ہیں، ہم جب اجلاسوں میں جاتے ہیں تو ہمارا مؤقف مشترکہ ہوتا ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ ہمارے مؤقف میں کوئی تناؤ یا تضاد ہوتا ہو، جب میں کوئی بات کر رہا ہوتا ہوں تو دوسرے میری بات کی تائید کرتے ہیں اور جب دوسرا کوئی قومیات کا شخص بات کرتا ہے تو ہم اس کی بات کی تائید کرتے ہیں، بات منطقی اور ہمارے مشترکہ حقوق کے تحفظ کی ہونی چاہیئے، سب اس کا ساتھ دیتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالے سے ہماری پوزیشن بہت اچھی ہے۔ یہاں پر ایک بات حکومت اور انتظامیہ پر واضح کرنا چاہوں کہ گذشتہ چند سالوں سے سندھ کے چند اضلاع کے اندر لوکل سطح پر ایس ایس پی اور ڈی ایس پیز معاہدے کرتے ہیں اور پابند کرتے ہیں کہ نئی مجلس نہیں ہوگی، نیا جلوس نہیں نکلے گا، نیا مائیک نہیں لگے گا، ذوالجناح نہیں نکلے گا وغیرہ وغیرہ، ہم ایسے کسی بھی معاہدے کو نہیں مانتے، ایسے تمام معاہدوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہیں، ایسا کوئی بھی معاہدہ جو ہمارے بنیادی و آئینی حقوق کی راہ میں رکاوٹ بنے، ہم اسے کسی صورت بھی تسلیم نہیں کرتے، معاہدہ امن و امان کی حوالے سے ہوسکتا ہے، عزاداری کے بہتر اور منظم بنانے کے حوالے سے ہوسکتا ہے، بات ہوسکتی ہے لیکن اصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
خبر کا کوڈ : 665839
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

سبزواری
Australia
ماشاء اللہ
آئی ایس او کے ساتھ یکجہتی، ملی تنظیموں کے مابین روابط کی اہمیت و ضرورت پر مبنی گفتگو بہترین ہے۔ خداوند عالم تمام ملی تنظیموں کو آپس میں مربوط ہو کر مشترکات کے حوالے سے جدوجہد کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے۔ آمین
منتخب