0
Saturday 9 Dec 2017 13:46
نواز حکومت اپنے نابالغ مشیروں کیوجہ سے ہمیشہ زیر عتاب رہی ہے، نون لیگ میں اسوقت ابن الوقت موجود ہیں

امریکہ نے بیت المقدس کے حوالے سے متنازع اقدام اُٹھا کر اپنے پائوں پر کلہاڑی ماری ہے، سینیٹر حافظ حمداللہ

تمام مسلمان ممالک امریکی سفیروں کو بلا کر احتجاج ریکارڈ کرائیں اور امریکی حکومت پر دبائو ڈالیں کہ فوری اس اقدام کو واپس لیا جائے
امریکہ نے بیت المقدس کے حوالے سے متنازع اقدام اُٹھا کر اپنے پائوں پر کلہاڑی ماری ہے، سینیٹر حافظ حمداللہ
حافظ حمداللہ 1968ء میں بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم قلعہ عبداللہ سے حاصل کی جبکہ گریجوایشن بلوچستان یونیورسٹی سے کی، سیاسی طور جمعیت علمائے اسلام (ف) کیساتھ وابستہ ہیں، 2002ء کے عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر بلوچستان اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور 2002ء سے 2005ء تک صوبائی وزیر صحت کا قلمدان سنبھالا، مارچ 2012ء میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی مخصوص نشستوں پر سینیٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔ اسوقت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین ہیں۔ گذشتہ روز تین روزہ دورے پر جنوبی پنجاب تشریف لائے، جہاں "اسلام ٹائمز" نے انکا انٹرویو کیا، جو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: ملی یکجہتی کونسل اور جمعیت علمائے پاکستان کے بعد اب جمعیت علمائے اسلام (س) کیجانب سے ایم ایم اے سے علیحدگی کے بعد اسکی کتنی اہمیت باقی ہے۔؟
سینیٹر حافظ حمداللہ:
بسم اللہ الرحمن الرحیم، بہت شکریہ آپ کا اور آپ کے ادارے کا، متحدہ مجلس عمل پاکستان کی مذہبی جماعتوں کا ایک طاقتور ہتھیار ہے، جسے دشمن توڑنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے، ایم ایم اے کی سرحد میں کامیابی کے بعد دشمن گذشتہ الیکشن میں خائف تھا، بہرحال دشمن اپنی سازشوں میں کامیاب ہوا اور گذشتہ الیکشن میں ایم ایم اے کو ناکام کرنے کے لئے سرتوڑ کوششیں کی گئیں، اب ایک بار پھر جب الیکشن سے پہلے پاکستان کی مذہبی جماعتیں ایم ایم اے کی بحالی کے حوالے سے کوششیں کر رہی ہیں، اسلام اور ملک دشمن عناصر اس اتحاد کو دیکھتے ہوئے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، اس حوالے سے بہت زیادہ سازشیں اس وقت بھی جاری ہیں، مولانا سمیع الحق ہمارے محترم ہیں اور قبل از وقت اُن کے بارے میں یا اُن کی جماعت کے بارے میں کچھ کہنا صحیح نہیں ہوگا، کیونکہ الیکشن سے پہلے جوڑ توڑ جاری رہتا ہے، مولانا سمیع الحق کی جانب سے عمران خان کے ساتھ کی جانے والی ملاقات کا کچھ لوگ یہ مقصد لے رہے ہیں کہ شاید خیبر پختونخوا میں اُنہوں نے عمران خان کی حمایت کر دی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس الیکشن میں ایم ایم اے دوبارہ بحال ہوگی اور ایک بار پھر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے گی۔ جمعیت علمائے پاکستان پہلے ہی اس اتحاد میں نام نہاد شامل تھی اور دوسرا ان کے پاس ووٹ بینک بھی کوئی خاصا نہیں ہے، آپ دیکھیں اس وقت جمعیت علمائے پاکستان گروہ در گروہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے، اس وقت تقریباً دس کے قریب گروپس اور لیڈرز بن چکے ہیں، جو خود متحد نہیں ہوسکتے وہ دوسروں کو کیا نقصان پہنچائیں گے۔

اسلام ٹائمز: قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کئے گئے ختم نبوت بل میں آپ پیش پیش تھے، اسکی حقیقت کیا ہے؟ ایک عام تاثر ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اس معاملے میں حکومت کی حمایتی تھی۔؟
سینیٹر حافظ حمداللہ:
ختم نبوت پر ایمان ہمارے ایمان کا حصہ ہے، مجھ سے اس حوالے سے اب تک سینکڑوں صحافیوں نے سوالات کئے ہیں، عام لوگوں کے ذہن میں ایک بات ڈالی گئی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) ختم نبوت بل کے سلسلے میں حکومت کی بی ٹیم ہے اور اس بل میں برابر کی شریک ہے، یہ سراسر غلط ہے، جمعیت علمائے اسلام ہمیشہ اسلام کی خدمت گزار رہی ہے، جب بھی اسلام پر کوئی بُرا وقت آیا ہے، ہم نے اپنی جانیں پیش کیں، جب سینیٹ میں اس بل کو پیش کیا گیا تو میں نے اس پر آواز اُٹھائی، میری حمایت میں مسلم لیگ نون اور اس کے اتحادیوں نے آواز بلند کی، لیکن میرے اس اقدام میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں نے میری مخالفت کی، لیکن میڈیا پر ہمارے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا گیا کہ جمعیت علمائے اسلام اس معاملے میں حکومت کی بی ٹیم ہے، بھائی ہم نے ہی تو اس معاملے کو اُٹھایا ہے، کل جو سینیٹ میں اس بل کی مخالفت کر رہے تھے، آج وہ اسلام کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں۔ میں نے کل بھی اس بل کی مخالفت کی، حکومت کو اس بل کو واپس لینے پر مجبور کیا اور آج بھی اس موقف پر قائم ہوں کہ جس نے اس میں غلطی کی، اُسے سزا ملنی چاہیے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس معاملے پر بھی سیاست کی گئی اور لوگوں نے اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لئے اس معاملے کو استعمال کیا، یہ لوگ پارلیمنٹ میں کچھ کہتے ہیں اور میڈیا کے سامنے کچھ کہتے ہیں، ہمارا موقف کل بھی واضح تھا، آج بھی واضح ہے، تحفظ ناموس رسالت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ نے دورہ جنوبی پنجاب کے دوران حالیہ اور گذشتہ دھرنوں کو اداروں کیخلاف سازش قرار دیا ہے؟ یہ کس قسم کی سازش تھی۔؟
سینیٹر حافظ حمداللہ:
آپ کو بھی اور عوام کو بھی معلوم ہے کہ کن اداروں کے خلاف سازش تھی اور کن اداروں کو آپس میں لڑانے کی کوشش کی گئی، میں نے کہا ہے کہ حالیہ دھرنے اور گذشتہ دھرنا کسی خاص ایجنڈے کے تحت تھے، لیکن میں سمجھتا ہوں چونکہ یہ دھرنے اپنے اپنے مفادات کے حصول کے لئے تھے، اسی لئے ناکام ہوگئے، نہ صرف ناکام ہوئے بلکہ بے نقاب بھی ہوئے، افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ان لوگوں نے خود ہی اپنے کچے چٹھے کھول دیئے، یہ دھرنے کسی اشارے کے تحت دیئے گئے تھے اور اس حوالے سے معزز عدالت کے جج کے جملے اس بات کی گواہی ہیں کہ اگر یہ دھرنے کسی اور جگہ دیئے گئے ہوتے تو ایک دن ختم ہو جاتے لیکن یہاں پر ختم نہیں کرائے گئے، آپ نے ایک بار نہیں کئی بار مذاکرات کئے لیکن بلانتیجہ رہے، لیکن ایک فون کال نے سارا کام کر دیا، ان دھرنوں کے جہاں ذاتی مفادات تھے، وہیں سیاسی مفادات بھی تھے، حالانکہ لوگ کہتے ہیں کہ ان کا سیاست سے کیا واسطہ؟ یہ دھرنے گذشتہ دھرنوں کا تسلسل تھے اور اب پھر کچھ لوگ کنٹینر اور دھرنے کے لئے پَر تول رہے ہیں، پاکستان کے حالات کو خراب اور غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، کل تک جو ایک دوسرے کو فاسق اور یزید کے نام سے پُکارتے تھے، آج وہ ایک ساتھ ہیں، جس سے ان کے سیاسی مقاصد سامنے آتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: دھرنے کے دوران اور فیض آباد میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے بعد جسطرح میڈیا کو بند کیا گیا اور جسطرح کی حکمت عملی سے ان دھرنے والوں سے نمٹا گیا، کیا آپ حکومت کے ان اقدامات سے اتفاق کرتے ہیں۔؟
سینیٹر حافظ حمداللہ:
میں حکومت کے ان اقدامات کو بچگانہ تصور کرتا ہوں، جس طرح اس معاملے سے نمٹنا چاہیے تھا، حکومت اس معاملے میں ناکام نظر آئی ہے، حکومت نے سب سے پہلے ان دھرنا والوں کو خود طاقتور کیا اور ان کو لائو لشکر کے ساتھ دارالحکومت میں آنے دیا، اتنے دن اسلام آباد میں کھانے پینے کی چیزیں آنے دیں، ساری سہولیات دیں، لیکن جب پانی سر سے گزرنے لگا تو ہاتھ پائوں مارنے لگے، دھرنا مظاہرین کے خلاف کئے گئے آپریشن کی ناقص منصوبہ بندی کی گئی، جس کے سبب حکومتی حکمت عملی ناکام نظر آئی، دھرنا کے شرکاء سے زیادہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار تھے، لیکن اس کے باوجود دھرنا شرکاء پولیس والوں پر حاوی رہے، جبکہ دوسری طرف نابالغ سیاسی مشیروں کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے حکومت نے ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر قدغن لگا دی، حکومت نے اپنی جمہوریت کو آمریت کہلوایا، حکومت اس معاملے میں یکسر ناکام ہوئی، اگر اس معاملے کو طریقے کے ساتھ سلجھایا جاتا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، نواز حکومت اپنے نابالغ مشیروں کی وجہ سے ہمیشہ زیر عتاب رہی ہے، نواز لیگ میں اس وقت ابن الوقت موجود ہیں، نواز حکومت کو سانحہ ماڈل ٹائون لے ڈوبے گا، اُس وقت بھی موجودہ حکومت نے حالات کو کنٹرول کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا اور ان مظاہرین کے ساتھ بھی وہی عمل دہرایا گیا، یہی وجہ ہے کہ اس وقت حکومت میں نون لیگ بنیادی اراکین سرگرم نظر نہیں آتے۔

اسلام ٹائمز: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیجانب سے امریکی سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کیخلاف پاکستان اور عالم اسلام کا ردعمل کافی ہے۔؟
سینیٹر حافظ حمداللہ:
امریکی صدر نے اپنی موت کو دعوت دی ہے، امریکی صدر جس طرح جاہل ہے، وہ اُس کے مشیر بھی نابالغ ہیں، ٹرمپ اس وقت تک پچاس سے زائد افراد کو حکومت سے نکال چکے ہیں۔ پاکستانی حکومت اور دنیا بھر سے امریکہ کے خلاف جو ردعمل سامنے آیا ہے، اس کی ضرورت ہے، آپ نے دیکھا یا سنا ہوگا کہ بیت المقدس کے معاملے میں امریکی شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جمعۃ المبارک کو پاکستان سمیت پوری دنیا امریکہ کے خلاف نکلی ہے، پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، ترکی، ایران، انڈونیشیا، اُردن، مصر اور یورپین ممالک میں احتجاج کئے گئے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ نے بیت المقدس کے حوالے سے متنازع اقدام اُٹھا کر اپنے پائوں پر کلہاڑی ماری ہے، اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اُمت مسلمہ بغیر تفریق کے باہم متحد ہو جائے اور امریکی اقدام کے خلاف میدان میں نکل آئیں، تمام مسلمان ممالک کو چاہیے کہ وہ فی الفور امریکی سفیروں کو بلا کر احتجاج ریکارڈ کرائیں اور امریکی حکومت پر دبائو ڈالیں کہ فوری اس اقدام کو واپس لیا جائے، بصورت دیگر تمام مسلم ممالک اپنے اپنے ممالک سے امریکی سفراء کو بے دخل کر دیں، اس موقع پر ہمیں کسی قسم کی مصلحتوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
خبر کا کوڈ : 688772
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے