0
Friday 22 Dec 2017 15:12
ہمارے لئے فاٹا کی عوام کے حقوق زیادہ اہم ہیں

آئندہ الیکشن میں خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی نہیں بلکہ ایم ایم اے اپنی حکومت بنائیگی، مولانا لطف الرحمٰن

مسلم امہ اگر آج قبلہ اول کی حفاظت میں ناکام رہی تو ہوسکتا ہے کہ آنیوالے وقتوں میں خانہ کعبہ میں فتنہ پیدا ہو
آئندہ الیکشن میں خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی نہیں بلکہ ایم ایم اے اپنی حکومت بنائیگی، مولانا لطف الرحمٰن
مولانا لطف الرحمٰن کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے۔ انکے والد مولانا مفتی محمود جو کہ جمیعت علماء اسلام کے بانی تھے، مولانا موجودہ جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے چھوٹے بھائی ہیں۔ انہوں نے ڈی آئی خان کے حلقہ PK-66 سے الیکشن لڑا اور رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس کیساتھ ہی وہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں۔ انکا گھرانہ ایک سیاسی گھرانہ ہے اور ملکی سیاست میں انکا بہت اثر و رسوخ ہے۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نے ان سے خصوصی گفتگو کی، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: متحدہ مجلس عمل کی بحال کی دوبارہ ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔؟
مولانا لطف الرحمٰن:
دیکھیں جی اس وقت الیکشن قریب ہے، ہر سیاسی جماعت اپنا لائحہ عمل تیار کر رہی ہے، ہر کسی کی کوشش ہے کہ اس بار وہ انتخابات میں بہتر تنائج لے سکے۔ متحدہ مجلس عمل کی بحالی ضروری اس لئے تھی کہ ہم پاکستان کے اندر شریعت کے مطابق قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں، اس وقت پاکستان کو سیکولر جماعتوں نے ہائی جیک کر لیا ہے۔ پاکستان کے اندر مذہبی جماعتیں ایک اچھا خاصہ کردار ادا کرتی ہیں، تمام مذہبی جماعتوں کا بہت بڑا ووٹ بنک ہے۔ ہم سب کا مشن یہی ہے کہ ہم نفاذ شریعت کیلئے کام کریں، اسلامی قوانین کے مطابق ملکی مسائل حل کریں، اگر ہر مذہبی جماعت اپنا اپنا رخ کئے رکھے تو پھر یہ خواب صرف خواب ہی رہ سکتا ہے، اس کو عمل میں نہیں لایا جا سکتا۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی خدا عمر دراز کرے، انہوں نے پہلے بھی متحدہ مجلس عمل قائم کی، اب بھی انہوں نے ایک بہت ہی اچھا اور جسے کہتے ہیں نہ کہ وقت کے مطابق اور بہتریں فیصلہ کیا۔ پہلے کی اگر آپ بات کریں کہ پچھلے سالوں میں ایسا اقدام کیوں نہیں کیا تو اس میں بہت سی باتیں تھیں، مثلاََ بعض جماعتیں اختلاف رائے رکھتی تھیں، تقریباََ جماعتوں کا مخالف موقف تھا، اپنے اپنے مفادات سب کو عزیر تھے۔ اب چونکہ مذہبی جماعتوں نے الگ رہ کر دیکھ لیا کہ ان کی حیثیت کوئی خاص نمایاں نہیں ہے، تو جمیعت کے قائد نے چاہا کہ ایک بار پھر سے کوشش کی جائے کہ سب کو اکٹھا کیا جاسکے اور پاکستان کے اندر شریعت کا قانون لایا جاسکے۔

اسلام ٹائمز: ماہرین کی نظر ہے کہ اس بار ایم ایم اے کا تجربہ کامیاب نہیں ہوسکے گا، کیونکہ 2002ء کی نسبت حالات بدل چکے ہیں، اس بارے میں آپکی رائے کیا ہے۔؟
مولانا لطف الرحمٰن:
دیکھیں جی، آپ کی بات درست ہے کہ حالات پہلے جیسے نہیں رہے، حالات بہت حد تک تبدیل ہوچکے ہیں، لوگوں میں شعور بڑھ چکا ہے، لیکن یہ کہہ دینا کہ ایم ایم اے کامیاب نہیں ہوگی تو یہ ان کی خام خیالی ہے، خیبر پختونخوا میں جمیعت کا اپنا ووٹ بنک ہے، اس کے ساتھ ہی اگر ہمیں باقی مذہبی جماعتیں سپورٹ کرتی ہیں تو اس سے ہم واضح اکثریت سے اپنی حکومت بنا سکتے ہیں، ہمیں کامیابی نظر آرہی ہے تو ہم نے یہ فیصلہ لیا ہے۔ باقی آپ میڈیا والے بھی جانتے ہیں کہ ہر حکومت کے بنے میں اسٹیبلشمنٹ کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے، آپ اگر پچھلے کچھ سالوں میں دیکھیں تو پی ٹی آئی کا کہیں نام و نشان بھی نہیں تھا اور اب وہ کہاں سے کہاں کھڑی ہے، لیکن خیبر پختونخوا کی بات کی جائے تو یہ واحد صوبہ ہے، جہاں کسی بھی پارٹی کی حکومت ریپیٹ نہیں ہوئی، جس طرح پنجاب میں مسلم لیگ (ن) جیتتی آئی ہے۔ آئندہ الیکشن میں پی ٹی آئی نہیں بلکہ ایم ایم اے خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت بنائے گی۔

اسلام ٹائمز: جمیعت علماء اسلام (س) نے تحریک انصاف سے اتحاد کیا ہے، آخر کیا وجہ ہے کہ ایک دینی جماعت نے تحریک انصاف جو کہ آپکی پارٹی کے بقول ایک سیکولر جماعت ہے کا ساتھ دیا۔؟
مولانا لطف الرحمٰن:
مولانا سمیع الحق صاحب ایک پرانی اور سمجھدار شخصیت ہیں، صوبائی حکومت نے انہی سالوں میں ان کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھائے، ان کو مختلف مراعات میں فنڈز دیئے گئے، بلکہ یوں کہہ لیں کہ انہوں نے مولانا صاحب کی ہر بات میں ساتھ دیا، تحریک انصاف نے انکو مدرسے کیلئے سکول منظور کرا دیا۔ اب تحریک انصاف نے بھی تو کسی کو اپنے ساتھ ملانا تھا۔ سمیع الحق صاحب کی ہم سے علیحدگی کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ فاٹا انضمام کے حامی ہیں اور ہم انضمام کے مخالف، ہوسکتا ہے کہ مولانا صاحب کو ہمارا ساتھ دینے کے بجائے ان کا ساتھ دینے میں بہتری لگ رہی ہو۔ یہ سیاست ہے، آج اگر ایک شخص آپ کے ساتھ کھڑا ہے تو کل کو وہ کسی اور کے ساتھ ہوگا۔ ہمیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ مولانا صاحب کس کے ساتھ ہیں یا نہیں، خدا نخواستہ ایسا کچھ نہیں جس سے ہم مولانا سمیع الحق صاحب کو کچھ کہہ سکیں۔ ایم ایم اے میں پہلے مولانا صاحب شامل تھے، تب بھی ایم ایم اے تھی، آج اگر وہ نہیں ہیں تو اب بھی ایم ایم اے ہوگی۔

اسلام ٹائمز: جماعت اسلامی ایم ایم اے کا حصہ بنی ہے، جے یو آئی (ف) جماعت اسلامی سے کیا امید کرتی ہے کہ آگے بھی انکا ساتھ رہے گا؟ کیونکہ جماعت اسلامی کے کارکنوں کو اس اتحاد پر قائل کرنا مشکل نظر آرہا ہے۔؟
مولانا لطف الرحمٰن:
ہم سب نے اپنے اپنے مفادات کو پسِ پشت ڈال کر اسلامی نظام کیلئے کام کرنا ہے، اگر ہم اپنے اپنے مفادات کو عزیز رکھا اور اس پر اڑے رہے تو پھر ایم ایم اے کا چلنا مشکل ہو جائے گا۔ ہمارے بیچ کچھ باتوں پر اختلاف ضرور ہے مگر اتنا بھی نہیں ہم ایک ساتھ چل نہ سکیں، ہم نے اپنی طرف سے کوشش کی ہے، فی الحال سب کچھ ٹھیک جا رہا ہے۔ جب جماعت اسلامی کی قیادت ہمارے ساتھ چلنے کیلئے تیار ہے تو کارکنان کا مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی قیادت کی بات پہ لبیک کہنا ہے، کارکنان تو اپنے قائد کے اشارے کے منتظر ہوتے ہیں، جو فیصلہ کرتی ہے قیادت کرتی ہے، کارکنان نے تو اس پر عمل کرنا ہوتا ہے۔

اسلام ٹائمز: بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے پر اسلامی ملکوں اور بالخصوص پاکستان کیجانب سے مذمت کر دینا کافی ہے؟ یا اس سے زیادہ بھی کچھ کیا جا سکتا ہے۔؟
مولانا لطف الرحمٰن:
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم صرف اور صرف مذمت اور مذمتی قرارداد تک محدود رہ گئے ہیں، بیت المقدس مسلمانوں کا ہے، فلسطین کی عوام کا حق ہے اس سرزمین پر۔ اگر شروع میں ہی فلسطین کے حق میں موثر آواز اٹھائی جاتی تو شاید یہ نوبت نہ آتی کہ آج ایک اکیلا امریکہ اسرائیل کو خوش کرنے کیلئے یروشلم کو ان کا دارالحکومت قرار دیتا۔ ہمیں مذمت والے کام سے آگے بڑھنا ہوگا، ہمیں امریکہ کے ساتھ اپنی سفارتی پالیسی سخت کرنی چاہیئے، جیسے ترکی اور ایران نے کیا ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت اگر کسی نے جرات سے بھرا پیغام امریکہ اور اسرائیل کو دیا ہے تو وہ ترکی کا صدر طیب اردوگان ہے۔ اسی طرح سعودی عرب، پاکستان اور سب مسلم ملکوں کو چاہیئے کہ وہ امریکہ اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے ساتھ ان کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں، ان کے ساتھ تجارتی ہی نہیں بلکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ سفارتی سرگرمیاں بھی معطل کریں، جب ہماری طرف سے کوئی سخت ردعمل ان کو ملے گا تو پھر ہی کچھ ہوسکتا ہے۔ ایسے تو ان کی مرضی ہے کہ وہ کچھ بھی کرتے پھریں، کبھی وہ پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور بے گناہ لوگوں پر ڈرون حملے کرتے ہیں، ان کو کوئی روکنے والا نہیں۔ مسلم امہ اگر آج قبلہ اول کی حفاظت میں ناکام رہی تو ہوسکتا ہے آنے والے وقتوں میں خانہ کعبہ میں فتنہ پیدا ہو۔

اسلام ٹائمز: فاٹا انضمام پر تقریباََ تمام جماعتیں متفق ہیں سوائے جے یو آئی (ف) کے، جبکہ فاٹا کے لوگ بھی بار ہا یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم انضمام چاہتے ہیں، آخر جے یو آئی کو کیا خدشات ہیں۔؟
مولانا لطف الرحمٰن:
ہاں دیکھیں، جمیعت علماء اسلام عوام کی پارٹی ہے، فاٹا کی عوام پاکستان کی عوام ہے، پچھلے 70 سالوں سے ان کو ان کے حق سے محروم رکھا گیا ہے، لیکن یہ قبائلی عوام کی بہت بڑی بات ہے کہ انہوں نے پاکستان کو نہیں چھوڑا، نہ یہ افغانستان کے ساتھ ملے، نہ انڈیا کے ساتھ اور نہ چین کے ساتھ، وہاں کی عوام نے پاکستان کیلئے انتظار کیا کہ کب پاکستان ان کو اپنا بنائے اور ان کو ان کے حقوق دے۔ اب ان کا حق بنتا ہے کہ ان کو اپنا الگ صوبہ دیا جائے، تاکہ فنڈ کے لحاظ سے یا مفادات کے لحاظ سے ان کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔ فاٹا کو اگر صوبے میں ضم کریں تو اس سے فاٹا کی عوام کو ان کا حق نہیں ملے گا۔ آپ ابھی تک اگر دیکھیں تو خیبر پختونخوا کے اندر بھی کئی ایسے علاقے ہیں، جہاں بجلی نہیں ہے، پینے کا پانی نہیں ہے، سکول نہیں ہیں۔ جب خیبر پختونخوا اپنے آپ کو مکمل سہولیات فراہم نہیں کر پا رہا تو پھر فاٹا کی عوام تک ان سہولیات کی فراہمی کو کیسے ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ ہمارا خدا نخواستہ کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے کہ ہمیں کوئی ذاتی طور پر کوئی فائدہ ہوگا۔ بعض جماعتیں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرنا چاہ رہی ہیں فاٹا کے مسئلے پر۔ ہمیں ان کی پرواہ نہیں ہے، ہمارے لئے فاٹا کی عوام کے حقوق زیادہ اہم ہیں۔ فاٹا کی عوام نے قربانیاں دیں ہیں، انہوں نے پاکستان کے ساتھ اپنی وفاداری نبھائی ہے، ان کا حق بنتا ہے کہ ان کو مستقل صوبہ دیا جائے۔ مولانا فضل الرحمٰن اسی پر محنت کر رہے ہیں، ورنہ اور کوئی بات نہیں ہے۔
خبر کا کوڈ : 691710
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب