0
Thursday 15 Mar 2018 21:48

عجب نہیں کہ سعودی عرب چند دنوں میں اسرائیل کیساتھ اپنے تعلقات کا اعلان کر دے، صاحبزادہ ابو الخیر زبیر

عجب نہیں کہ سعودی عرب چند دنوں میں اسرائیل کیساتھ اپنے تعلقات کا اعلان کر دے، صاحبزادہ ابو الخیر زبیر
ملی یکجہتی کونسل اور جمعیت علمائے پاکستان (نورانی) کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کا شمار ملک کے اہم مذہبی و سیاسی رہنماﺅں میں ہوتا ہے، ملک میں نظام مصطفٰی (ص) کا نفاذ انکی جماعت کا مشن ہے، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر نے دوسری مرتبہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی صدارت سنبھالی ہے۔ ”اسلام ٹائمز“ نے صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کیساتھ ملکی اور عالمی حالات پر ایک انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: اہل سنت جماعتوں نے سیاسی اتحاد بنایا تھا، لیکن دیکھا گیا ہے کہ پھر اچانک خاموشی ہوگئی ہے، اسکی کیا وجہ ہے۔؟
صاحبزادہ ابوالخیر زبیر:
جی بالکل اس اتحاد میں شریک جماعتوں کے کچھ اجلاس ہوئے تھے، تمام اہل سنت جماعتوں نے ملکر ایک اتحاد بنایا تھا، جس کا نام ’’نظام مصطفٰی متحدہ محاذ‘‘ رکھا گیا تھا، اصل میں اس کے اندر کچھ ایسے لوگ آگئے تھے، جو نواز شریف اور رانا ثناء اللہ کے حامی تھے، نواز شریف اور رانا ثناء اللہ نے ختم نبوت کے حوالے سے گھناونا کردار ادا کیا تھا، اب اِن کے حامی اس اتحاد میں شامل ہوگئے تھے، ان کی وجہ سے یہ تعطل پیدا ہوا ہے، ان کی وجہ سے مختلف جماعتیں بہت برہم تھیں اور ناراض تھیں کہ انہوں نے ہمیں بھی بدنام کر دیا ہے، یہ لوگ بیٹھ کر رانا ثناء اللہ اور نواز شریف کی صفائیاں دیتے تھے، اس وجہ سے یہ تعطل پیدا ہوا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ان سے جان چھڑوائی جائے، ان میں سے ایک سے تو جان چھوٹ گئی ہے، تاہم ایک سے رہتی ہے۔ جس سے جان چھوٹی ہے وہ جماعت اہل سنت کے ناظم اعلٰی ریاض حسین شاہ صاحب ہیں، جن کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے، اسی طرح ایک اور صاحب ہیں، ان کو بھی ہٹا دیا جائے گا، جس کے بعد اجلاس ہوں گے۔ یہ نواز شریف کے لوگ تھے، جن کی وجہ سے وقتی طور پر مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

اسلام ٹائمز: تو یہ معطلی وقتی ہوئی نہ کہ مستقل، ویسے آگے کیا لائحہ عمل اپنانے جا رہے ہیں؟
صاحبزادہ ابو الخیر زبیر:
میں کہتا ہوں کہ آپ اسے معطلی بھی نہیں کہہ سکتے، اسے حکمت عملی کہہ سکتے ہیں، وقتی طور پر ہم کچھ چیزیں ترتیب دے رہے ہیں، یکسو ہوکر دوبارہ فعالیت کریں گے، جو آپ کو نظر آئے گی، ہم سمجھتے ہیں کہ جو متحدہ مجلس عمل کے ساتھ جانا چاہتے ہیں، وہ ان کے ساتھ چلے جائیں اور اسی طرح جو نواز شریف کے ساتھ جانا چاہتے ہیں، وہ ان کے ساتھ چلے جائیں۔ ہم اسی انتظار میں ہیں کہ چیزیں اور واضح ہو جائیں، اس کے بعد ہم ایک بھرپور اجلاس بلائیں گے اور اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

اسلام ٹائمز: کئی اہل سنت شخصیات نے شہباز شریف کا موقف قبول کر لیا ہے، جبکہ وہ شخصیات پہلے رانا ثناء اللہ کے استعفے تک کسی صورت بات نہ کرنیکا اعلان کر رہی تھیں، اس پر کیا کہتے ہیں۔؟
صاحبزادہ ابو الخیر زبیر:
دیکھیں ہمیں اس پر بہت زیادہ افسوس ہے، ان کے الفاظ تھے کہ جب تک رانا ثناء اللہ اپنی غلطی تسلیم نہ کر لے، جب تک اسے عہدے سے ہٹا نہ دیا جائے، ہم علماء اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اب اگر کوئی عالم حکومتی موقف سے مطئمن دکھائی دے رہا ہے تو اس پر سوائے افسوس کے کیا کرسکتے ہیں۔؟

اسلام ٹائمز: نواز شریف کی سیاست کس طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے۔؟
صاحبزادہ ابو الخیر زبیر:
دیکھیں اس شخص نے ممتاز قادری کو پھانسی پر لٹکایا تھا، اب یہ بچیں گے نہیں، نواز شریف اور ان کے ساتھی نہیں بچیں گے، مسلم لیگ آئے یا نہ آئے، اب یہ وقت بتائے گا، اس کی قیادت کون سنبھالتا ہے، اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کے خلاف اقدام کیا ہے، وہ لوگ نہیں بخشے جائیں گے اور سیاست میں نہیں آسکیں گے، ان شاء اللہ، ان پر اللہ کی مار ہے، اللہ کی پکڑ میں آچکے ہیں۔

اسلام ٹائمز: سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کی بات جا رہی ہے، کیا آپ بھی سمجھتے ہیں کہ سینیٹ میں عوامی نمائندے نہیں بلکہ کاروباری لوگ آتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ایسے نمائندے عوام کی کیا نمائندگی کرینگے۔؟
صاحبزادہ ابو الخیر زبیر:
اس میں کیا شک ہے؟، ان کو عوام کا کوئی خیال نہیں ہے، انہیں اپنے پیٹ کا خیال ہے، کروڑوں روپے دیکر ایوان میں پہنچے ہیں اور اربوں روپے لوٹ کر لے جائیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انتخابی اصلاحات ہونی چاہیں، تاکہ ہارس ٹریڈنگ کو روکا جاسکے، اس سے نجات حاصل کی جائے، اگر سینیٹ میں ڈاکو رہنماء پہنچیں گے تو پھر یہی ہوگا کہ یہ لوگ ختم نبوت قانون میں ترمیم ہی کریں گے۔ اس سازش کے پیچھے باہر کی قوتیں شامل تھیں، جنہوں نے قائمہ کمیٹی میں اس قانون میں ترمیم کی تجویز پیش کی تھی اور انہوں نے اس پر عمل درآمد کیا۔ یہ سب باہر کے پیسوں سے ہوا ہے۔

اسلام ٹائمز: مسلم لیگ نون نے امریکہ کیلئے اپنا سفیر ایک کاروباری شخص کو لگایا ہے، جسکا سفارتکاری سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ اسکی کیا وجہ نظر آتی ہے۔؟
صاحبزادہ ابو الخیر زبیر:
ان کا کام ہی کاروبار ہے، مسلم لیگ نون نے سیاست کو کاروبار ہی تو بنایا ہوا ہے، انہوں نے کاروبار کی بنیاد پر سیاست چلائی ہے، ایسے شخص کو لگانے کا مقصد اپنا الو ٹھیک کرنا ہوسکتا ہے۔ ملکی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد کو دیکھ کر یہ اعلان کیا گیا ہے۔

اسلام ٹائمز: سعودی عرب فوج بھیجنے پر کیا کہتے ہیں۔؟ جبکہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں ہی نہیں لیا گیا۔؟
صاحبزادہ ابو الخیر زبیر:
اس ملک میں تو حکومت ہے ہی نہیں، یہ لوگ بیرونی اشاروں پر اپنی پالیسیاں بنا رہے ہیں، یہ جو ایوانوں میں بیٹھے ہیں، یہ جاتے جاتے ایسا اقدام کرنا چاہتے ہیں کہ اُن کو راضی کرسکیں، اگر نکالے گئے یا سزا ہوگئی تو آخری ٹھکانہ سعودی عرب ہوگا۔ ان کو راضی کرنے کیلئے اس قسم کے اقدامات کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: سعودی عرب نے ترکی اور ایران کو بھی بدی سے تعبیر کیا ہے۔ اس پر کیا کہتے ہیں۔؟
صاحبزادہ ابو الخیر زبیر:
ظاہر ہے کہ یہ دو وہ ممالک ہیں، جو اسرائیل کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں، یہ دو قوتیں ایسی ہیں، جو مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر سامنے آتی ہیں، اسرائیل کے ایجنٹوں کو یہ چیزیں ناگوار گزریں گی، میں اخبار میں پڑھ رہا تھا کہ ہندوستان نے کہا ہے کہ اب انہیں سعودی عرب سے اسرائیل کیلئے براہ راست پروازیں مل جایا کریں گے، کوئی عجب نہیں کہ سعودی عرب چند دنوں میں اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کا اعلان کر دے، ایسے لوگوں سے کیا توقع ہے؟، ایسے لوگ اسرائیل کے مخالف ممالک کیخلاف بیانات ہی دے سکتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 711756
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب