0
Saturday 19 May 2018 20:47
امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی دنیا کی بدترین سفارتی دہشتگردی ہے

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے پاکستان، ترکی و ایران مشترکہ کوششیں کریں، سعودی عرب سے قطعی کوئی امید نہیں، مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی

مذمتی قراردادوں سے مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوگا، اسکے حل کیلئے اسرائیل کیخلاف عملی اقدامات اٹھانے ہونگے
مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے پاکستان، ترکی و ایران مشترکہ کوششیں کریں، سعودی عرب سے قطعی کوئی امید نہیں، مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی
معروف اہلسنت عالم دین مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی کا تعلق بنیادی طور پر پاکستان میں اہلسنت مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی مذہبی جماعت جمعیت علمائے پاکستان سے ہے اور اسوقت جے یو پی کراچی کے صدر ہونے کیساتھ ساتھ مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بھی ہیں۔ اسکے ساتھ آپ مرکزی جماعت اہلسنت پاکستان اور اسکی بعض ذیلی تنظیموں سے بھی وابستہ ہیں اور رابطے کے حوالے سے ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ وہ ملی یکجہتی کونسل سندھ کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔ مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی پاکستان میں مسئلہ فلسطین کیلئے آواز بلند کرنیوالے ادارے فلسطین فاﺅنڈیشن پاکستان (PLF Pakistan) کے مرکزی ادارے "سرپرست کونسل" کے مرکزی رکن بھی رہ چکے ہیں۔ وہ ہمیشہ اتحاد امت و وحدت اسلامی اور مظلوم فلسطینیوں کیلئے آواز بلند کرتے رہتے ہیں اور ان حوالوں سے پاکستان بھر اور ایران، شام، لبنان سمیت دنیا کے کئی ممالک کے دورے بھی کر چکے ہیں۔ ”اسلام ٹائمز“ نے مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی کیساتھ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے انکی رہائشگاہ پر ایک مختصر نشست کی، اس موقع پر انکے ساتھ کیا گیا خصوصی انٹرویو قارئین کیلئے پیش ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی اور اسکے خلاف سراپا احتجاج ساٹھ سے زائد فلسطینیوں کی شہادتوں، ہزاروں کے زخمی ہونیکے بعد مسئلہ فلسطین ایک بار بھی عالمی منظر نامہ میں ابھر چکا ہے، کیا کہیں گے اس حوالے سے۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔
مسئلہ فلسطین دنیا کے سلگتے ہوئے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ ہے، اسرائیل دنیا کا بدترین دہشتگرد ہے، جو امریکہ کی ایما پر نہتے مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام میں ملوث ہے، امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی دنیا کی بدترین سفارتی دہشتگردی ہے، جس کیخلاف ناصرف فلسطینی بلکہ دنیا بھر کے مسلمان سراپا احتجاج بن گئے، لیکن امریکہ باز نہ آیا، اس معاملے پر غزہ میں فلسطینیوں نے بھرپور احتجاج کیا، جس پر اسرائیل نے وحشیانہ فائرنگ کرکے درجنوں نہتے فلسطینیوں کو شہید کر دیا، جبکہ ہزاروں زخمی بھی ہوئے۔ ایکبار پھر فلسطین کے غیور لوگوں نے مسئلہ فلسطین کو دنیا کے سامنے اجاگر کر دیا ہے، اب یہ دنیا بھر کے حکمرانوں، خصوصاً مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کیلئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں۔

اسلام ٹائمز: فلسطین کے معاملے پر استنبول میں او آئی سی کے ہنگامی اجلاس کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
او آئی سی کا ہنگامی اجلاس ایک بار پھر استنبول میں ہوا، لیکن حسب سابق او آئی سی نے روایتی بے حسی کا مظاہرہ کیا اور کوئی اہم فیصلہ یا اقدام کرنے کی بجائے چند مذمتی قراردادیں منظور کرکے ہمیشہ کی طرح معاملہ ختم کر دیا، صرف مذمتی قراردادوں سے مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوگا، بلکہ اس کے حل کیلئے اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات اٹھانے ہونگے۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین کے حل کے حوالے سے پاکستان کا کردار کیا ہے اور کیا ہونا چاہیئے۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
استنبول میں ہونے والے اسلامی سربراہی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کی، انہوں نے وہاں واضح طور پر اپنا مؤقف پیش بھی کیا کہ ہم کسی بھی صورت میں فلسطین کے حقوق کو غضب کرنے کا موقع کسی بھی طاقت کو نہیں دینگے، وزیراعظم نے فلسطین میں ہونے والی اسرائیلی جارحیت کی بھی مذمت کی، لیکن یہ مسئلہ پاکستان، ترکی یا ایران یا اسی طرح دو تین ممالک کے کھڑے ہونے سے حل نہیں ہوگا، جب تک دنیا کے اکثریتی ممالک، خصوصاً مسلم ممالک کھڑے نہ ہوں۔ بہرحال پاکستان نے جس طرح آواز بلند کی، اس کو مزید آواز بلند کرنی چاہیئے اور اپنے سفارتی تعلقات استعمال کرکے جس طرح مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے اپنے سفارتخانوں اور ان کے وسائل کو بروئے کار لاتا ہے، مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے بھی اسی طرح اقدامات کرنے چاہیئے، امید ہے کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے اپنی تمام تر قوت و طاقت کو استعمال کریگا۔

اسلام ٹائمز: سعودی عرب جسے عالم اسلام کے مسائل کے حل کیلئے قائدانہ کردار ادا کرنا تھا، لیکن اسکا جھکاؤ مکمل طور پر امریکہ و اسرائیل کیطرف نظر آتا ہے، کیا کہیں گے اس افسوسناک صورتحال کے حوالے سے۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
پچھلی تقریباً تین دہائیوں سے سعودی عرب میں ایسی کوئی قیادت موجود نہیں ہے، جو وہاں کے مؤقف کو ایک اسلامی مؤقف بنا کر پیش کرسکے، اب تو سعودی عرب داخلی انتشار کا شکار بھی نظر آتا ہے، وہاں کے اپنے اقتصادی، سیاسی و دیگر معاملات بگڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں، ماضی قریب میں بھی سعودی عرب نے ایسا کوئی کردار ادا نہیں کیا کہ جس کی دنیا اس سے امید رکھتی تھی، اگر سعودی عرب فلسطین کے حق میں اور اسرائیل مخالف اپنا قائدانہ کردار ادا کرے، تو یہ ایک بہت ہی اچھی خبر ہوگی، ناصرف فلسطینیوں کیلئے بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کیلئے، اگر سعودی عرب اپنے دیگر برادر اسلامی ممالک کو ساتھ ملا کر آواز بلند کرتا ہے تو یقیناً مسلمانوں کی آواز مؤثر ہوگی اور اسکا قائدانہ کردار سامنے آئے گا، لیکن ہمیں سعودی عرب سے ایسی کوئی امید قطعی طور پر نہیں ہے۔

جب کسی قوم کے رہنما پہلے سے ہی نظریاتی طور پر کسی طاقت کی غلامی تسلیم کر لیں، اس طاقت کے سامنے کھڑے ہونے کی، آواز بلند کرنے کی ہمت نہیں رکھتے، لہٰذا سعودی حکمرانوں نے امریکہ اور یورپ کی غلامی کو عملاً تسلیم کر لیا ہے، انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ کبھی بھی امریکہ کے خلاف کھڑے نہیں ہونگے اور اب ایسے حالات سعودی عرب میں پیدا ہوچکے ہیں کہ ان کے تمام تر وسائل امریکی دسترس میں ہیں، سعودی حکمران اپنے آپ کو خطرے میں محسوس کرتے ہیں اور کوئی ایسا کام نہیں کرتے کہ جس سے امریکہ ناراض ہو، جب تک سعودی عرب داخلی طور پر آزادانہ طور پر مضبوط نہیں ہوگا اور سعودی قیادت یہ فیصلہ نہیں کر لیتی کہ انہیں آزاد زندگی بسر کرنی ہے، وہ اپنی اس حیثیت کو نہیں سمجھتے جو انہیں عالم اسلام میں حاصل ہے، تو وہ کوئی قائدانہ کردار ادا نہیں کر پائیں گے۔

اسلام ٹائمز: اس صورتحال میں عالم اسلام کے کن ممالک پر مسئلہ فلسطین کے حل کے حوالے سے ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
جس طرح استنبول میں او آئی سی کانفرنس میں پاکستان اور ترکی کا ایک واضح مؤقف رہا اور ایران تو ہمیشہ سے فلسطین کاز کیلئے آواز بلند کرتا چلا آرہا ہے، اگر یہ تینوں ممالک بھی عالمی سطح پر سفارتکاری کریں اور کوششیں کریں تو ایک موثر آواز بلند ہوگی، ان کی مؤثر آواز بلند ہونے کی صورت میں پھر سعودی عرب بھی آکر اس میں شامل ہوگا، مخالفت نہیں کر پائے گا اور اگر سعودی عرب کھل کر حمایت کسی موقع پر نہیں بھی کرسکتا تو مخالفت بھی نہیں کر پائے گا، جس طرح ماضی قریب میں پاکستان، ترکی اور ایران مختلف جہتوں میں آواز بلند کرتے رہے ہیں، اب بھی اپنی آواز مشترکہ طور پر بلند کرنی چاہیئے، اپنے سفارت خانوں کو فعال کرنا چاہیئے، عالم اسلام میں فلسطین کے حق میں اور اسرائیل مخالف احتجاج کئے جائیں، اسے عالمی میڈیا تک پہنچایا جائے، سلامتی کونسل سمیت اقوام متحدہ کے تمام اداروں پر دباؤ ڈالا جائے، یہ چند ممالک بھی اگر ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں تو آگے چل غیر فعال ممالک بھی کسی حد تک ضرور شامل ہو جائیں گے اور مسئلہ فلسطین کے حل کی طرف ایک اہم قدم اٹھ جائے گا۔

اسلام ٹائمز: آزادی فلسطین کیلئے سرگرم اسلامی مزاحمتی تحریکوں کی مدد کے حوالے سے عالم اسلام کی کیا ذمہ داری بنتی ہے۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
فلسطین میں سرگرم عمل اسلامی مزاحمتی تحریکیں پوری امت مسلمہ کا کفارہ ادا کر رہی ہیں، اسلام کے تقدس کو، اسلام کے نظریہ جہاد کو بچا رہی ہیں، انکے تمام قائدین، ذمہ داران و کارکنان قابل مبارک باد ہیں، ان کے شہداء اس امت کے شہداء ہیں، لیکن اس جہاد کو ہم اس تناظر میں دنیا بھر میں نہیں پھیلا سکتے، جو فلسطین کے مرکز سے متعلق ممالک ہیں، جہاں یہ اسلامی مزاحمتی تحریکیں پنپتی ہیں، وہ یقیناً اس مسلح جدوجہد میں شریک رہے ہیں، لیکن بقیہ ممالک ان کی اخلاقی، سفارتی، مالی و دیگر ہر حوالے سے مدد کریں، کیونکہ بقیہ ممالک اس جنگ میں کودیں گے تو یہ عالمی جنگ کا رخ اختیار کر جائے گی اور بعض ممالک کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہوگا، ٹھیک ہے ہم عالمی امن کو سبوتاژ نہیں کرنا چاہتے، لیکن کم از کم ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ اسلامی مزاحمتی تحریکوں کی اخلاقی، مالی حمایت کریں اور ان تمام لوگوں کی، ان تمام عناصر کی مذمت کریں کہ جو مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈالنا چاہتے ہیں اور ان میڈیا کی مذمت کریں، جو ان اسلامی مزاحمتی تحریکوں کو مختلف فرقوں میں بانٹ کر پیش کرتی ہے۔

کیونکہ یہ واضح رہے کہ آزادی فلسطین کیلئے ہونے والی جدوجہد تمام تر فرقہ وارانہ سوچ سے بالا ہے، اس کا کسی خاص فرقے، مکتب سے نہیں بلکہ عالم اسلام سے تعلق ہے، اسلامی مزاحمتی تحریک قبلہ اول کی آزادی کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں، وہ اس خطے یعنی مقبوضہ بیت المقدس جسے یروشلم بھی کہتے ہیں، کی آزادی کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں، وہ دنیائے عیسائیت کیلئے بھی قابل احترام ہے، دنیائے یہودیت کیلئے بھی قابل احترام ہے، لہٰذا تمام الہامی مذاہب کے تقدس کو بچانے کی جنگ کی جا رہی ہے، اسلام چونکہ تمام الہامی مذاہب کے تقدس کو بچانے کیلئے عملی طور پر حصہ لے رہا ہے، اسی لئے مزاحمتی تحریکیں وہاں کھڑی ہوئی ہیں، اگر اس رائے کو عام کیا جائے ایک چھوٹی سوچ سے بلند ہو کر، تو دنیا بھر کے غیر جانبدار افراد بھی اس کی حمایت کرینگے، اس کے ساتھ ساتھ سفارتی، اخلاقی، سیاسی، مالی و دیگر حوالوں سے بھی اسلامی مزاحمتی تحریکوں کی مدد کی جائے تو ان شاء اللہ تحریک آزادی فلسطین ضرور کامیاب ہوگی۔

اسلام ٹائمز: پاکستانی عوام امریکہ مخالف جذبات رکھتی ہے، لیکن ملک میں موجود امریکی آلہ کار عناصر نے عوام کو امریکی دشمنی کے ہی نام پر ہمیشہ منفی استعمال کیا، اسکا تدارک کیسے ممکن ہے۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
پاکستان کی حقیقی مذہبی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو اس حقیقت سے آگازہ کریں کہ وہ جماعتیں، تنظیمیں یا گروہ جو بسا اوقات امریکہ کی مخالف کرتی ہیں، درحقیقت وہ خود امریکی ایجنٹ کا کردار ادا کرتی ہیں اور انکے جذبات کی آڑ میں اپنے مفادات کیلئے راہیں ہموار کرتی ہیں، ذاتی مفادات حاصل کرتی ہیں، اس حقیقت کو عوام پر آشکار کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کے کردار و افعال کو دیکھا جائے کہ کون سی تحریکیں ایسی ہیں، جو واقعاً ہی امریکہ مخالف ہیں اور کون ہیں جو صرف نعرے لگا کر اپنے ذاتی مفادات حاصل کرتے ہیں، اس بات کی آگہی فراہم کرنا بھی ان افراد کی ذمہ داری ہے، جو واقعی امریکہ کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور جو واقعی یہ سمجھتے ہیں امریکہ و اسرائیل اسلام دشمن ہیں، لہٰذا قوم کو شعور تو دینا ہوگا، تاکہ قوم کے امریکہ و اسرائیل مخالف جذبات کو صحیح و مثبت سمت میں استعمال کیا جاسکے۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین کے حل اور اسرائیل کی نابودی کے حوالے سے کیا امکانات نظر آرہے ہیں۔؟
مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی:
جس طرح مظلوم فلسطینی قوم ایک بار بھی اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی ہے، اس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہرگز ہرگز اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے، جس قوم میں قربانی دینے کا جذبہ ہو، وہ قوم شہادت کو اپنی میراث سمجھتی ہو، دنیا کی کوئی بھی طاقت اسے نہیں ڈرا سکتی، نہیں جھکا سکتی، ان کا حق آزادی نہیں چھین سکتی، ایک بار پھر تحریک آزادی فلسطین ابھر کر دنیا کے سامنے آچکی ہے، وہ وقت قریب ہے کہ جب فلسطین فلسطینیوں کا ہوگا اور اسرائیل نابود ہوگا، اسرائیل کا ناپاک وجود دنیا سے مٹ جائے گا، لیکن اس کیلئے عالم اسلام کو مشترکہ طور پر عملی جدوجہد کرنا ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 725866
متعلقہ مطالب
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے