0
Tuesday 8 Jan 2019 11:19
ڈالر کی موجودہ پوزیشن ماضی کی اکلوتی پالیسیوں کیوجہ سے ہے

بڑھتی ہوئی اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری سے ہم پُرامید ہیں، عمر ایوب خان

ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ملکی خود مختاری کو ہمیشہ سامنے رکھیں اور عوامی مسائل کا حل نکالیں
بڑھتی ہوئی اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری سے ہم پُرامید ہیں، عمر ایوب خان
عمر ایوب خان کا تعلق ہری پور کے معروف سیاسی اور فوجی خاندان سے ہے۔ ان کے دادا فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے 1958ء میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دوسرے صدر کی حیثیت سے اپنا عہدہ سمبھالا۔ عمر ایوب خان کے والد کیپٹن ریٹائرڈ گوہر ایوب خان اپنے سیاسی کیرئر میں قومی اسمبلی کے اسپیکر، وفاقی وزیر خارجہ اور پانی و بجلی کے وزیر بھی رہے ہیں۔ عمر ایوب خان نے ابتدائی تعلیم آرمی برن ہال کالج ایبٹ آباد میں حاصل کی۔ جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے انٹرنیشنل فننانس فار اکنامکس میں بی بی اے اور ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران دو سال تک سٹی بنک میں ملازم رہے۔ 2002ء میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور وزیر مملکت برائے امور خزانہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھائیں۔ 2008ء کے انتخابات میں کامیاب نہ ہوسکے تاہم 2013ء کے انتخابات کے میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لینے کے بعد 2014ء میں وہ ایک عدالتی فیصلوں میں 7 حلقوں میں ری پولنگ کے نتیجے میں ممبر قومی اسمبلی کی حیثیت سے قرار پائے۔ اس دوران چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے فننانس و ریونیو رہے۔ بعد ازاں ایک دوسرے عدالتی فیصلہ میں ان کی نشست پر دوبارہ ضمنی انتخابات کا حکم جاری ہوا جس میں انہوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر حصہ نہیں لیا۔ اپنا ایک رفاعی ادارہ ہدف کے نام سے چلا رہے ہیں۔ 2018ء کے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر این اے 17 ہری پور کی نشست پر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور 11 ستمبر 2018ء کو انہیں وزارت توانائی کا قلمدان سونپا گیا۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نے ان سے خصوصی گفتگو کی جو قارئین کی نذر ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: اس بار آپکو توانائی جیسا اہم شعبہ سونپا گیا ہے، اس ذمہ داری کو بخوبی انجام دینے کیلئے کیا اقدامات کر رہے ہیں؟
عمر ایوب خان:
توانائی کا شعبہ میرے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں، ملک کو درپیش توانائی بحران سے نکالنا بحیثیت پاکستانی میرا خواب ہے اور مشن بھی ہے۔ میرے نزدیک اس سے بڑی عوام کی کوئی اور خدمت نہیں ہوسکتی کہ ملک میں توانائی کے شعبوں میں بہتری اور خود کفالت لا کر قوم کو ترقی کی ایسی شاہراہ پر گامزن کیا جاسکے جس میں منزلیں قریب اور خوشحالی ہی خوشحالی ہے۔ میں عوامی خدمت کے خاندانی مشن کو آگے لے کر چلنے کے عزم کے ساتھ سیاسی میدان میں آیا ہوں۔ اس سے قبل ماضی میں قدرت کی مہربانی سے خزانے کے شعے جیسی اہم ذمہ داری کامیابی کے ساتھ نبھائی جس میں بہت بڑا تجربہ بھی حاصل ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے بعد جب مجھے توانائی کے شعبہ میں اپنی صلاحیتیں صرف کرنے کی نوید سنائی گئی تو اسے چیلنج سمجھ کر قبول کرتے ہوئے عوامی خدمت کے مشن پر چل پڑا۔ خدا کے فضل و کرم سے آغاز ہی سے کامیابیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور سامنے عوامی خوابوں اور امیدوں کی منزلیں دکھائی دے رہی ہیں۔

ملک میں جو معاشی بحران ہمیں ورثے میں ملا ہے اس پر قابو پا رہے ہیں۔ اس پر ہر ہفتے ہماری کابینہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کی میٹنگز ہوتی ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ملکی خود مختاری کو ہمیشہ سامنے رکھیں اور عوامی مسائل کا حل نکالیں۔ وزیراعظم عمران خان کابینہ کی ہر میٹنگ میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ محنت کشوں اور کاشتکاروں کو تحفظ دیا جائے اور ہمارے آنے والے تمام پراجیکٹس میں اس بات کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ اقتصادی معاملات میں تھوڑا سا وقت ہمارے لئے مشکل ضرور ہے مگر بڑھتی ہوئی اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری سے ہم پرامید ہیں، جس سے ملکی معیشت اور قوم کو فائدہ ہوگا۔ ہم نے قومی اور صوبائی سطح پر مل کر ملک کو چلانا ہے، ہوا سے توانائی بنانے کیلئے پہلی بار کراچی میں کانفرنس ہوئی جس میں ہمارے لوگوں نے دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس سے ہماری معیشت میں استحکام آئے گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

اسلام ٹائمز: سننے میں آیا ہے کہ سابقہ ادوار میں آپ اپنے حلقے میں ترقیاتی منصوبوں کو نظر انداز کرتے رہے اور وفاق میں زیادہ مصروف رہے۔؟
عمر ایوب خان:
دیکھیں، جب آپ کو کوئی بھی ذمہ داری ملتی ہے تو آپ کو اسے نبھانا ہوتا ہے، چاہے وہ وفاقی سطح پر ہو یا صوبائی سطح پر۔ میں وفاق میں رہتے ہوئے بھی اپنے حلقے کی عوام سے بہت اٹیچ تھا، ان کیلئے بہت سی ترقیاتی سکیمیں مکمل کیں۔ اگر اسیا ہوتا جیسے آپ نے فرمایا تو میں دوبارہ نہ جیتتا، میرے حلقے کی عوام نے مجھے بھاری مینڈیٹ دیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ میرے حلقے کی عوام مجھ سے کس قدر راضی ہے۔ ابھی اگر آپ دیکھیں تو وزارت سمنھالنے کے بعد اپنے قومی حلقہ کیلئے گیس کی مد میں 55 کروڑ روپے کے ورک آرڈر جاری کروا دیئے ہیں جن پر جلد کام شروع ہو جائے گا۔ ان میں جلو، پہائی، خالو عیسٰی، ڈیرہ دوستم، الدو، بلال ٹاؤن، میاں ڈھیری، اپرکھولیاں، طورو ڈھوک، ترناده، دارتیاں، نجف پور، چنگی بانڈی، دوڑ پار کے علاقے، ریحانہ، چھپڑا، پنڈ جمال خان، پنڈ جمال خان، پنیاں گدوالیاں، بسو میرا، کالو پڈ اور دیگر متعدد دیہات اور ان علاقوں کی ڈسٹری بیوشن لائنیں شامل ہیں۔

یہاں میں یہ بتاتا چلوں کہ کسی بھی علاقے میں محض پاپ لائنیں رکھنے سے سکیمیں مکمل نہیں ہوتیں، سکیموں کی تکمیل آئینی منظوری اور عملی اقدامات سے ہوتی ہے، ہم تختیاں نہیں لگائیں گے بلکہ عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر پہنچائیں گے، عوام خود ہمارے نام کی تختیاں لگا دے گی۔ وزارت سنبھالنے کے بعد ایک دن بھی میں نے فارغ نہیں گزارا، صبح 8 بجے سے رات گئے تک عوام کی فلاح و بہبود کے کاموں میں مصروف رہتا ہوں۔ 3 ماہ کے اندر پاور سیکٹر میں حکومتی خزانے کو 13 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا ہے۔

اسلام ٹائمز: ایک طرف آپ حکومتی خزانے کو فائدہ پہنچانے کی بات کرتے ہیں مگر دوسری طرف آپ پیسکو کی حالت دیکھیں جو مسلسل خصارے میں ہے، اس خصارے کی وجہ بھی بیان فرما دیں۔
عمر ایوب خان:
 دیکھیں پشاور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (پیسکو) کی بات کی جائے تو بدقسمتی کے ساتھ اس کا تو واقعی دیوالیہ نکل چکا ہے، اس میں جیسے مسائل ہیں ان کی وجہ سے قومی خزانے اور محمکہ کو اس سال تقریباََ 65 ارب روپے کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ یہ کمپنی موجودہ صورتحال میں 4 سے 5 ارب روپے ماہانہ کا نقصان کر رہی ہے۔ بدقسمتی یہ بھی ہے کہ صوبے میں سب سے زیادہ پشاور، ڈی آئی خان، بنوں، چارسدہ، مردان اور ان کے نواحی علاقوں میں کنڈا کلچر عروج پر ہے، جس کی وجہ سے وہاں لائن لاسز 90 سے 95 فیصد جارہے ہیں۔ بجلی کی قیمتوں میں آئے روز اضانے اور مختلف فیڈرز پر غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی بنیادی وجہ بھی بجلی چوری یا کنڈا کلچر ہے۔ اس گھناؤنے عمل میں محکمے کے اندر چھپی کالی بھیڑیں بھی ملوث ہیں کیونکہ صارف خود کبھی بجلی چوری کا خطرناک کھیل نہیں کھیلتا۔ اس کی معاونت محکمے کا کوئی فرد ہی کرتا ہے۔ ایسے لوگ جو محکمے کی عزت اور استحکام داؤ پر لگا رہے ہیں، ان کے خلاف بھی کارروائی کریں گے، جس کیلئے صدر، وزیراعظم اور گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے مجھے فری ہینڈ دیدیا گیا ہے۔

میں نے اس کنڈا کلچر کو ختم کرنا ہے اور اس میں ملوث محکمے کے افراد کو بھی کیفر کردار تک پہنچانا ہے، جس کیلئے میرے ساتھ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ادارے معاونت کرنے کو تیار ہیں۔ اس کے علاوہ اوور بلنگ کی شکایات کے خاتمے کیلئے ہر ضلع میں ڈپٹی کمشنرز کے ماتحت ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے، جس میں مقامی ڈی پی او اور پیسکو ملازمین بھی ہوں گے جو تحقیقات کے بعد اوور بلنگ کی شکایات کو رفع کریں گے جس کے بعد عوام کو اس بارے میں کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ ہماری ابتدائی کوششوں سے پہلے ایک ماہ میں مختلف فیڈرز پر لائن لاسز ڈیڑھ فیصد تک کم ہوچکے ہیں جس سے تقریباََ 2 ارب روپے محکمے اور قومی خزانے کو فائدہ ہوا ہے، جبکہ واجبات کی ریکوری میں 11 ارب روپے محکمے اور قومی خزانے کو حاصل ہوئے۔ اس عمل میں سیکرٹری پاور احسان علی اور ٹیم میں شامل دیگر ساتھیوں کا میں شکر گزار ہوں کہ انہوں نے دن رات کی کوششوں سے محکمہ کو نقصان سے بچانے کیلئے مخلصانہ طور پر عملی اقدامات کو اپنایا۔ بجلی چوری کی روک تھام کیلئے اقدامات ہماری پہلی ترجیح ہیں جس کیلئے ابتدائی طور پر پشاور اور نواحی علاقوں کیلئے 3 ہزار کلومیٹر طویل کیبل کی تنصیب کیلئے کام شروع کر رہے ہیں جس کا سب سے بڑا فائدہ کنڈا کلچر کا خاتمہ ہے جو بلی چوری کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

اسلام ٹائمز: اس میں کوئی شک نہیں گھریلو صارفین بڑے پیمانے پر بجلی چوری کرتے ہیں، مگر دوسری جانب انڈسٹریل ایریاز میں بھی بجلی چوری ہوتی ہے، اس حوالے سے کیا اقدامات کر رہے ہیں؟
عمر ایوب خان:
 جہاں تک انڈسٹریل ایریاز میں بجلی چوری کی بات ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ انڈسٹریز کی سطح پر بجلی کی چوری کا تناسب اتنا نہیں جتنا گھریلو پیمانے پر ہے۔ البتٰہ انڈسٹریل ایریاز میں گیس چوری بڑے پیمانے پر کی جاتی ہے جس کی مستقل روک تھام کیلئے بھی ہم قدم اٹھارہے ہیں۔ کنڈا کلچر کی روک تھام کیلئے جدید انرجی میٹر نصب کئے جائیں گے جو کسی بھی طرح بجلی کی چوری کی صورت میں فوری ٹرپ ہوکر سپلائی منقطع کر دیں گے۔ مذکورہ میٹر سسٹم محکمہ اور صارف کو مزید کئی فائدے دے گا۔

آپکے شعبے سے متعلق آپکی ترجیحات کیا ہیں۔؟
عمر ایوب خان:
بجلی بحران کا خاتمہ، کم وولٹیج کا ازالہ اور بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے منصوبے شروع کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ 9 ارب روپے تخمینہ کے 220 کے وی اے گرڈ سٹیشن کیلئے آنے والے بجٹ میں رقم مختص کرنے کے بعد اس پر کام شروع کر دیا جائے گا، جس سے ہری پور اور مانسہرہ سمیت ایبٹ آباد کے علاقوں کو فائدہ ہوگا اور بجلی کے مسائل اگلے 50 سال تک کیلئے حل ہوجائیں گے، جبکہ ضلع ہری پور اور نواح کیلئے خانپور، سرائے صالح، حطار اور مانسہرہ میں 132 کے وی اے کے گرڈ سٹیشنز اور دیگر متعدد فیڈرز کی منظوری بھی ہوچکی ہے جن پر بہت جلد کام شروع ہوجائے گا۔ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے تحت 300 یونٹ تک کے صارفین بجلی کی تعداد جو تقریباََ اڑھائی کروڑ ہے پر کوئی نیا بوجھ نہیں ڈالا گیا۔ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ 300 یونٹ سے زائد استعمال پر ہے۔ کمرشل سیکٹر میں بھی چھوٹے صارفین اس اضافے سے مستشنٰی ہیں، تاہم بڑے پیمانے پر بجلی استعمال کرنے والوں کیلئے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے جو محکمے کو سہارا دینے کیلئے ناگزیر تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جونہی توانائی کے شعبے میں ملک ترقی کرے گا بجلی کے نرخوں میں استحکام آ جائے گا۔ عوامی خدمت اور ملک کی تعمیرو ترقی میرا مشن ہے جو میں اپنے آباؤ اجداد سے لے کر میدان عمل میں نکلا ہوں۔ توانائی کے شعبے میں جس قدر بہتری لاسکا لاؤں گا۔ اس شعبے میں ترقی سے قومی معیشت کی بحالی اور عوامی معیار زندگی کو بلند کرنے میں مدد ملے گی۔

اسلام ٹائمز: بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے پی ٹی آئی کتنی تیار ہے اور کیا ٹکٹس کی تقسیم منصفانہ ہوسکے گی۔؟
عمر ایوب خان:
بلدیاتی الیکشن کیلئے ہماری جماعت پوری طرح سے تیار ہے، آنے والے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی پالیسیوں کے مطابق ہم لوگ ایک جگہ اکٹھے ہو کر متفقہ نمائندے میدان میں اتاریں گے جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔ جہاں تک ٹکٹس کی تقسیم کا مرحلہ ہے تو تجربات کو سامنے رکھ کر پارٹی ٹکٹ پر ایسے امیدوار سامنے لائے جائیں گے جو حقیقی عوامی نمائندگی کا فریضہ ادا کرسکیں۔ وقت آنے پر انشاء اللہ عوام کو سرپرائز دیں گے۔

اسلام ٹائمز: ڈالر کی پوزیشن کے بارے میں بتائیں، ماہرین کہتے ہیں کہ مزید بڑھے گا آپکی کیا رائے ہے۔؟
عمر ایوب خان:
 ڈالر کی موجودہ پوزیشن کی پیش گوئی میں نے عام انتخابات سے قبل کر دی تھی جو کہ ماضی کی اکلوتی پالیسیوں کی وجہ سے ہے۔ انہی غلط پالیسیوں کا خمیازہ آج عوام بھگت رہی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ڈالر 180 تک جاسکتا ہے، مجھے ایسا نظر نہیں آتا، مگر جیسا آج ہے اس کا میں نے قبل از وقت بتا دیا تھا۔ امید ہے کہ بہت جلد کی معیشت کو سنبھالا ملے گا اور ہمارے روپے کی قدر بڑھے گی۔

اسلام ٹائمز: عام آدمی کے روزگار کو بہتر بنانے کیلئے حکومت کے پاس کیا پلان ہے۔؟
عمر ایوب خان:
پی ٹی آئی کی حکومت نے بدعنوانی کا قلع قمع کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ میرٹ کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے ایسی پالیسیاں ترتیب دی جارہی ہیں جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے اور عام آدی کو فائدہ پہنچے گا۔ اس کے علاوہ روزگار کی بحالی موجودہ حکومت کا ترجیحی مشن ہے۔ عام آدمی کی معیشت کے استحکام کیلئے روزگار کی فراہمی ضروری عمل ہے۔ اس کے بغیر ملکی معیشت مستحکم نہیں ہوسکتی۔ ہمیں فخر ہے کہ ٹیلیفون انڈسٹریز آف پاکستان کے نام سے اس شعبے کا ہمارے پاس ایشیا کا سب سے بڑا صنعتی ادارہ موجود ہے، مگر بعض ناقص پالیسیوں کے باعث اسے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا۔ اس صنعت سے وابستہ ہزاروں مزدور بے روز گار ہوچکے ہیں، جس کی وجہ سے ٹیلیفون انڈسٹریز آف پاکستان کی کاکردگی بھی متاثر ہوئی ہے۔

میری اس سلسلے میں اعلٰی سطح پر بات ہوئی ہے بہت جلد عوام کو ٹیلیفون انڈسٹریز آف پاکستان کی بحالی کی خوشخبری دوں گا۔ مزید یہ کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آتے ہی قومی اور صوبائی سطح پر صنعتی زونز کے قیام کیلئے عملی اقدامات کررہی ہے، جبکہ حطار سمیت پہلے سے قائم دیگر صنعتی زونز کی بحالی کیلئے بھی لائحہ عمل مرتب کیا جارہا ہے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور عام آدی کے معاشی مسائل کا پائیدار حل برآمد ہوگا اور جب عام آدمشی خوشحال ہوگا تو وہ ملک کی تعمیر و ترقی میں بہتر خدمات سرانجام دے سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 770597
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب