0
Sunday 27 Jan 2019 13:13

سپریم کورٹ کا فیصلہ گلگت بلتستان کے عوام کی امنگوں کیساتھ کھلواڑ ہے، آمنہ انصاری

سپریم کورٹ کا فیصلہ گلگت بلتستان کے عوام کی امنگوں کیساتھ کھلواڑ ہے، آمنہ انصاری
پی ٹی آئی رہنما آمنہ انصاری گلگت بلتستان کے سیاسی حلقوں میں ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں، بنیادی تعلق اسکردو سے ہے، 2015ء کے الیکشن میں دو حلقوں سے الیکشن لڑ چکی ہیں۔ سیاچن کے قریب کھپلو ان کا آبائی حلقہ ہے، تعلیمی میدان میں پوسٹ گریجوایٹ ہیں۔ اسکے علاوہ قانون کی بھی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ اسلام ٹائمز نے آمنہ انصاری سے گلگت بلتستان کے اسٹیٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے، اسکے خطے پر اثرات اور پی ٹی آئی حکومت کے اقدامات پر ایک انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: آپکی جماعت اقتدار میں ہے، کیا وجہ ہے کہ جی بی کے اسٹیٹس کے حوالے سے کوئی رول ادا نہیں کر رہی۔؟
آمنہ انصاری:
دیکھیں ایک چیز واضح کر دوں کہ پاکستان تحریک انصاف میں کوئی بدنیتی نہیں ہے، کیونکہ آپکو پتہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک بیان دیا تھا کہ گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنائیں گے، اسکے بعد کشمیری قائدیں کی جانب سے پریس ریلیز آئی، جس کی وجہ سے یہ تاخیر ہوئی، اس معاملے کو منسوخ نہیں کیا گیا، گلگت بلتسان کو عبوری صوبے بنانے کیلئے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ میں خود وزیراعظم اور اپنی قیادت سے ملوں گی اور اس معاملے پر بات کروں گی۔ عوام کے ووٹ کو حقیقی عزت دیں گے، ہم گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کی امنگوں کو جانتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: عوام سے وعدہ کرکے خاموشی اختیار کر لینا کوئی اچھا پیغام نہیں، بلآخر کچھ عرصہ بعد پی ٹی آئی نے عوام کے پاس جانا ہے، جی بی کے الیکشن ہونے ہیں، کیا جواب دینگے۔؟
آمنہ انصاری:
دیکھیں میں پھر یہی کہوں گی کہ یہ معاملہ رکا ہے، اس کے پیچھے وجوہات ہیں، اس پر ہمارے قائدین کی میٹنگ نہیں ہوسکی، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت تھا اور ہر کوئی اس فیصلے کا انتظار کر رہا تھا۔ اب اس کا فیصلہ آیا ہے، ہم یقین دلاتے ہیں کہ اس معاملے کو لیکر آگے چلیں گے، اس کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ اس کیس کو سپریم کورٹ کے پاس نہیں جانا چاہیئے تھا، اس معاملے کو سیاسی انداز میں حل ہونا چاہیئے تھا، اب ہم کوششیں کریں گے کہ یہ معاملہ سیاسی انداز میں حل ہو۔ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے اعلامیہ کو اپنی قیادت کے سامنے رکھوں گی۔

اسلام ٹائمز: سپریم کورٹ نے یہ ایکشن خود لیا تھا یا کوئی یہ معاملہ لیکر گیا تھا۔؟
آمنہ انصاری:
جی بالکل گلگت بلتستان کے ہی لوگ یہ معاملہ عدالت عظمیٰ لیکر گئے تھے۔ یقیناً انہوں نے اچھا ہی سوچا تھا کہ شائد ان کے حق میں فیصلہ آجائے مگر الٹ ہوگیا۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار گلگت بلتستان کے وزٹ پر آئے تھے، عام لوگوں سے ملاقات کی تھی، لوگوں کو انہوں نے اعتماد دیا تھا اور بہت ساروں نے ان سے امیدیں وابستہ کرلی تھیں، لیکن فیصلہ برعکس آیا۔ یہ فیصلہ دراصل گلگت بلتستان کے عوام کی امنگوں کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ ان کو اندھیرے میں رکھا گیا، ثاقب نثار نے اپنی پسند کا جج لگوانا تھا، وہ لگوا لیا۔ باقی کھیل ختم کر دیا۔

اسلام ٹائمز: بطور سیاسی ورکر آپ چیف جسٹس کیجانب س گلگت بلتستان کے اسٹیٹس کے حوالے سے فیصلے کو کس نگاہ سے دیکھتی ہیں۔؟
آمنہ انصاری:
گلگت بلتستان کی بیٹی ہونے کے ناطے اور اس زمین سے تعلق ہونے کی بنا پر کہوں گی کہ ثاقب نثار نے ایک متنازعہ فیصلہ دیا ہے، اس لیے ہم اس کو آگے نہیں لے جاسکتے۔ یہ فیصلہ کسی صورت درست نہیں ہے، ان کو یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ متنازعہ علاقہ کا فیصلہ کریں۔ اگر وہ ہمارے علاقے کو متنازعہ سمجھتے تھے۔ میرا سوال ہے کہ اگر گلگت بلتستان متنازعہ علاقہ ہے تو وہ فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں؟، کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ انہوں نے ایسا فیصلہ کیوں دیا۔؟ گلگت بلتستان کی آزادی ہمارے بزرگوں نے لی، اسکے بعد اپنی خواہشات کے مطابق پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں، ہم کوئی پاکستان سے الگ ہونے کی تحریک نہیں چلا رہے۔ اگر ہم واقعی متنازعہ ہیں تو پھر متنازعہ ہونے کی حیثیت سے حقوق دو۔

اسلام ٹائمز: اب اس مسئہ کا راہ حل کیا ہے۔؟
آمنہ انصاری:
اگر کہتے ہیں کہ کشمیر پاکستان کی شاہ رگ ہے تو میں یہ کہوں گی کہ گلگت بلتستان پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے، پاکستان کا سر ہے، کیونکہ بھارت میں علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے، جبکہ یہاں پر علیحدگی کی تحریک نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ الحاق کی تحریک چل رہی ہے۔ ہم مین اسٹریم میں آنا چاہتے ہیں۔ ہمیں سیاسی حقوق چاہئیں، ہمیں معاشی حقوق چاہیئں۔ اب آپ دیکھیں کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے لئے متنازعہ نہیں ہے، ڈیم متنازعہ نہیں ہے، اسی طرح سی پیک متنازعہ نہیں ہے، اس کا روٹ متنازعہ نہیں ہے، زمین منتازعہ نہیں ہے، لیکن ہم انسان متنازعہ بن جاتے ہیں۔ آخر کیوں۔؟ ہم قربانیاں دے رہے ہیں، ہمیں اس کا صلہ ملنا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جب گلگت بلتستان کی بات آتی ہے تو کشمیری قیادت متنازعہ بیانات دینا شروع کر دیتی ہے، اس سے آپکی کاز متاثر نہیں ہوتی۔؟
آمنہ انصاری:
ہم مشترکہ لائحہ عمل چاہتے ہیں، ہم کشمیری قیادت کے ساتھ مل بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم ان کی وجہ سے 71 سال سے رگڑے جا رہے ہیں، وہ کیا چاہتے ہیں، یہ باتیں سامنے آنی چاہیئں۔ آج تک ہمارے حقوق کی راہ میں رکاوٹ کشمیری قیادت ہی رہی ہے۔ میں نے خود حریت کانفرنس میں شرکت کی، کشمیری قائدین نے تسلیم کیا کہ جی بی کو محروم رکھا گیا ہے اور ہم ساتھ دیں گے۔

اسلام ٹائمز: پی ٹی آئی کی آئندہ الیکشن کے حوالے سے کیا حکمت عملی ہے۔؟
آمنہ انصاری:
جی گلگت بلتستان کے الیکشن کے حوالے سے ہم حکومت سازی کی طرف جا رہے ہیں، میں خود بھی امیدوار ہوں، 2015ء میں بھی دو حلقوں سے الیکشن لڑا تھا، ہماری حکمت عملی یہی ہے کہ ہم حکومت سازی کی طرف جائیں۔ عنقریب قیادت جی بی کا دورہ بھی کرے گی۔
خبر کا کوڈ : 774523
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب