0
Friday 15 Feb 2019 21:05
سال 2019ء کو ہم ’’بین المذاہب ہم آہنگی کے سال‘‘ کے عنوان سے منا رہے ہیں

سعودی عرب نے جنت البقیع بحال نہ کی تو عالمی عدالت سے رجوع کرینگے، علامہ ایاز ظہیر ہاشمی

امریکہ کے افغانستان سے انخلاء سے ہی خطے میں امن قائم ہوگا
سعودی عرب نے جنت البقیع بحال نہ کی تو عالمی عدالت سے رجوع کرینگے، علامہ ایاز ظہیر ہاشمی
علامہ ایاز ظہیر ہاشمی سجادہ نشین خانقاہ معلیٰ  محمد شریف کسی تعارف کے محتاج نہیں، وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن اور شریعت کورٹ کے جج مولانا عبدالمتین فقیر اللہ ہاشمی کے صاحبزادے ہیں۔ علامہ ایاز کے والد تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن اور قائداعظم کے قریبی ساتھی تھے۔ علامہ کے والد مولانا عبدالمتین فقیر اللہ نے ہی قائداعظم کو آخری غسل دیا اور لحد میں اتارا تھا اور قرارداد مقاصد کا مسودہ تیار کرنے کا اعزاز بھی اُنہی کو حاصل ہے۔ علامہ ظہیر ایاز ہاشمی نے بین المذاہب ہم آہنگی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کے بانی بھی ہیں۔ انہوں نے 30 اگست 2005ء میں بین المذاہب ہم آہنگی کے نام سے این جی او رجسٹرڈ کروائی، اب اقوام متحدہ میں بھی انہیں اس کمیٹی کی رجسٹریشن مل گئی ہے۔ علامہ ایاز ظہیر ہاشمی بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کیلئے کوشاں ہیں۔ لاہور میں ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے ان کیساتھ ایک نشست کی، جسکا احوال قارئین کیلئے پیش کر رہے ہیں۔(ادارہ)
 
اسلام ٹائمز: قومی امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی تو دھڑے بندیوں کا شکار ہے، کچھ لوگ آپکو سربراہ مانتے ہی نہیں، اصل کمیٹی کون سی ہے؟ آپکی یا مخالف دھڑے کی۔؟؟
علامہ ایاز ظہیر ہاشمی:
سب سے پہلے تو آپ کا شکریہ کہ آپ نے اہم موضوعات پر گفتگو کا موقع دیا ہے۔ جہاں تک آپ کے سوال کی بات ہے تو کمیٹی صرف ایک ہی ہے اور وہ وہی ہے، جس کا چیئرمین میں خود ہوں۔ یہ ایسی کمیٹی ہے، جسے قائم بھی میں نے ہی کیا تھا۔ اس کو حکومت کی حمایت حاصل ہے اور یہ کمیٹی غیر سیاسی ہے، یہ بات واضح کرنا ضروری ہے۔ چونکہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے ہے تو یہ ہے تو سرکاری، ریاست کی کمیٹی ہے، کسی سیاسی جماعت کی نہیں، اقتدار میں کوئی بھی سیاسی جماعت ہو، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی، کمیٹی ملک کیلئے ہے، تو ہم ہر دور میں فعال ہوتے ہیں۔ میاں نواز شریف تھے تو بھی ہم تھے، اب عمران خان کی حکومت آئی ہے تو بھی ہم ہیں۔ ہم حکومت سے مراعات نہیں لیتے، بلکہ ہم خدمت دین اور خدمت ملک کی خاطر میدان عمل میں ہیں۔ ہاں جو لوگ دھڑے بندی کرتے ہیں یا جعلی نوٹیفکیشنز کے ذریعے جعلی تقرریاں کرتے ہیں، ان کے پاوں نہیں ہوتے، وہ جلد ہی بے نقاب ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ہم نے کبھی ان کی فکر نہیں کی۔

اسلام ٹائمز: لیکن کچھ لوگ قومی امن کمیٹی کے لیٹر پیڈ کا غلط استعمال کرتے ہیں، جرائم پیشہ عناصر کی سفارشیں بھی اسی پلیٹ فارم سے ہوتی ہیں۔ براہ راست پولیس کے معاملات میں بھی دخل اندازی کی جاتی ہے۔؟؟
علامہ ایاز ظہیر ہاشمی:
نہیں، اب ایسا نہیں ہوگا، میں نے اپنی کابینہ کو واضح ہدایات دیدی ہیں۔ میں نے کہا ہے کہ کوئی رکن اپنے گاڑی پر گرین نمبر پلیٹ نہیں لگائے گا۔ کوئی عہدیدار اپنی گاڑی پر نیلی بتی اور سائرن کا استعمال بھی نہیں کرے گا۔ اگر کوئی ایسا کرتا پایا گیا تو اس کیخلاف سخت کارروائی ہوگی۔ ہم نے آئی جی پنجاب کو قومی امن کمیٹی پنجاب کے چیئرمین خلیل کامران کے ذریعے لیٹر لکھوا دیا ہے۔ واضح طور پر پولیس سے کہا ہے کہ ایسا کوئی بندہ نظر آئے تو اس کیخلاف قانونی کارروائی کریں۔ ہم کسی کی حمایت نہیں کریں گے۔ ہم خود غلط کام کریں گے نہ کسی کو کرنے دیں گے اور اب یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی نے جعلی نوٹیفکیشن جاری کیا یا جعلی تقرر نامہ کیا تو اس کیخلاف مقدمات درج کروائیں گے۔ ہم نے ایف آئی اے سے بھی رابطے کا فیصلہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہمارے خلاف جو مہم چلائی جا رہی ہے، اسے روکیں اور ذمہ داروں کیخلاف قانونی کارروائی کریں۔ اس حوالے سے ہم کسی کے ساتھ رعایت نہیں کریں گے۔

اسلام ٹائمز: تو کیسے پتہ چلے گا کہ یہ عہدیدار اصلی ہے اور وہ نقلی۔؟؟
علامہ ایاز ظہیر ہاشمی:
اس حوالے سے ہم نے اپنے تمام عہدیداروں کے کوائف طلب کئے ہیں۔ انہیں تصاویر کیساتھ سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر رہے ہیں، اس سے دو نمبر عہدیداروں کو خاتمہ ہوگا۔ ہم متعلقہ اداروں کو بتا دیں گے کہ صرف یہ ہمارے عہدیدار ہیں۔ ان کے سوا کسی کو تسلیم نہ کیا جائے۔ حکومت سے بھی اس حوالے سے بات کی ہے، وہ بھی تدارک کر رہی  ہے۔ اب جعلساز زیادہ دیر فعال نہیں رہ سکیں گے۔ ہم روزِاول سے ہی کرپٹ اور بدعنوان لوگوں کیخلاف ہیں اور قومی امن کمیٹی میں ایسے افراد کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔

اسلام ٹائمز: قومی امن کمیٹی نے قیام امن کیلئے اب تک کیا کیا ہے اور آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔؟؟
علامہ ایاز ظہیر ہاشمی:
ہم نے ماضی میں مسیحی مسلم رہنماوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا ہے، تمام مسالک کے رہنماؤں کو وحدت اور بھائی چارے کی لڑی میں پرویا ہے۔ ہماری کوششوں سے ہی ملک میں امن قائم ہوا ہے۔ اب ہم نے ’’فرقہ واریت مٹاؤ ملک بچاؤ‘‘ مہم چلانے کا اعلان کیا ہے جبکہ سال 2019ء کو ہم ’’بین المذاہب ہم آہنگی کے سال‘‘ کے عنوان سے منا رہے ہیں۔ اس حوالے سے مختلف کانفرنسز اور تقاریب ہوں گی، جن میں تمام مسالک اور مذاہب کے عمائدین کو شرکت کی دعوت دی جائے گی اور ان کانفرنسز کے ذریعے ہم عوام تک امن کا پیغام پہنچائیں گے۔ ہم ملک سے دہشتگردی، فرقہ واریت، انتہا پسندی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ اب ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ تھانے کی سطح پر بنائی جانیوالی مصالحتی کمیٹیوں میں شامل ہو کر عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی میں بھی کردار ادا کریں۔ اس کے علاوہ 23 مارچ کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں ’’قومی امن کانفرنس‘‘ کروا رہے ہیں۔ جس کی صدارت صدر مملکت عارف علوی کریں گے۔ کانفرنس میں تمام مسالک کے علمائے کرام، مشائخ عظام اور تمام مذاہب کے زعماء شریک ہوں گے۔ اس قومی امن کانفرنس میں ’’چارٹرڈ آف انٹر فیتھ ہارمنی‘‘ کی منظوری بھی لی جائے گی۔

اسلام ٹائمز:اچھا، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آپکا تعلق پاکستان تحریک انصاف علماء ونگ سے بھی ہے۔؟؟
علامہ ایاز ظہیر ہاشمی:
جی بالکل نہیں، میرا پی ٹی آئی کے علماء ونگ سے کوئی تعلق نہیں، نہ میں ان کا عہدیدار ہوں۔ ہم تو امن کے قیام کیلئے کوشاں ہیں اور میرے پاس قومی امن کمیٹی کی چیئرمین شپ بہت بڑا اعزاز ہے۔ اس لئے مجھے مزید عہدوں کی ضرورت نہیں۔ جب ہم اپنا مقصد اس پلیٹ فارم سے حاصل کر رہے ہیں تو ہمیں کہیں اور جانے کی کیا ضرورت ہے۔

اسلام ٹائمز: توہین رسالت ایکٹ 295 سی کے حوالے سے بہت شور مچایا جاتا ہے، سنا ہے آپ نے بھی ترمیم کی کوئی تجویز دی ہے، وہ کیا ہے۔؟؟
علامہ ایاز ظہیر ہاشمی:
دیکھیں جی، توہین رسالت ایکٹ ہماری جان ہے۔ اس کیخلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، جس نے اسے ختم کرنے کی کوشش کی، ان کا جینا حرام کر دیں گے۔ ہاں ہم نے جس طرف اشارہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ اس کے غلط استعمال کو روکا جانا چاہیئے۔ ہم نے اپنے مسیحی رہنماؤں سے بھی کہا کہ آپ توہین رسالت ایکٹ کیخلاف نہ بولیں، یہ آپ کے بھی فائدے میں ہے، آپ اس کے غلط استعمال کیخلاف بولیں۔ ہم نے یہی تجویز دی ہے کہ جو توہین رسالت کرے، اسے پھانسی پر لٹکا دو اور جو کسی پر جھوٹا الزام لگا کر اس قانون کے تحت اسے شکار کرے، اسے بھی پھانسی پر لٹکا دو۔ یعنی قانون موجود رہے، لیکن اس کا غلط استعمال روکنے کیلئے قانون سازی کی جائے، تاکہ جو بیگناہ لوگ اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں، وہ بچ سکیں، دشمنی ذاتی ہوتی ہے، لیکن بعض لوگ مخالفین پر توہین رسالت کا الزام لگا کر اسے پھانسی دلوا دیتے ہیں، یہ بات غلط ہے۔ اس کا خاتمہ ہونا چاہیئے، اس سے مسیحی رہنماؤں نے ہمارے موقف کی تائید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس تجویز پر ہمارے ہم آواز ہیں۔

اسلام ٹائمز: سعودی شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان آ رہے ہیں، سعودی ولی عہد کے اس دورے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ ایاز ظہیر ہاشمی:
سعودی عرب حرمین شریفین کی وجہ سے ہمارے لئے قابل احترام ملک ہے، شہزادہ محمد بن سلمان کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکتھے ہیں اور امید ہے کہ ان کا دورہ پاکستان ہمارے ملک کیلئے مفید ثابت ہوگا۔ لیکن اس موقع پر ہم ان سے ایک مطالبہ کرتے ہیں، ہم حکومتِ پاکستان سے کہتے ہیں کہ ہمارا یہ مطالبہ محمد بن سلمان تک لازمی پہنچائے کہ وہ جنت البقیع کو بحال کریں۔ ہم نے سنا ہے کہ موجودہ سعودی حکومت نے حضرت عائشہ ؓ کے مزار کی تعمیر کی اجازت دیدی ہے۔ تو ہمارا مطالبہ ہے کہ حضرت فاطمہ (س) کے مزار کی تعمیر کی بھی اجازت دی جائے۔ اگر سعودی حکومت مزار کی تعمیر پر سرمایہ نہیں لگا سکتی تو ہمیں حکم دے، ہم خود کراچی سے خیبر تک پورے ملک سے حضرت بی بی فاطمہ زہراء (س) کے مزار کیلئے چندہ جمع کریں گے اور سونے کا مزار بنائیں گے، آپ سلام اللہ علیہا ہمارے نبی کی بیٹی ہیں، ہماری والدہ محترمہ ہیں۔ ہم لازمی مزار تعمیر کریں گے، یہ قبور شرک نہیں ہیں، بلکہ یہ شعائر اسلام ہیں۔ جو ان کی توہین کرتا ہے یا مسمار کرتا ہے، وہ توہین رسالت کرتا ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ کے فرمان کو جھٹلاتا ہے۔ اس لئے حکومت محمد بن سلمان تک ہماری آواز پہنچائے۔ ہم جنت البقیع کو آباد دیکھنا چاہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: آپ سعودی شہزادے کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں جبکہ انکے ہاتھ یمنیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، پاکستان میں مظاہرے ہو رہے ہیں، لوگ انکے دورے کی مذمت کر رہے ہیں۔؟؟
علامہ ایاز ظہیر ہاشمی:
جی بالکل یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے، شام میں جو کچھ ہو رہا ہے، بحرین میں جو کچھ ہو رہا ہے، فلسطین میں اور کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، یہ عالمی استعماری سازش ہے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان اس ایشو پر بات کرے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی صوفی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں، وہ واضح کہہ چکے ہیں کہ پاکستان یمن کے معاملے پر فریق نہیں بنے گا بلکہ پاکستان غیر جانبدار رہے گا۔ ممکن ہے اس دورے میں عمران خان محمد بن سلمان کو یمن کے حوالے سے بھی اپنے عوام کے تحفظات سے آگاہ کریں گے اور یقیناً کرنا بھی چاہیئے۔ یہ بہت حساس معاملہ ہے۔ پاکستان کے عوام پوری امت مسلمہ کا درد رکھتے ہیں اور ہماری تو خارجہ پالیسی ہی یہی ہے کہ دو مسلمان ملکوں کی لڑائی میں پاکستان غیر جانبدار رہے گا۔ سعودی عرب سے اس ایشو کیساتھ دیگر ایشوز بھی اٹھائیں گے، ہم نے جنت البقیع کا بھی جیسا کہ بتایا ہے وہ ایشو بھی اٹھایا جائے گا۔

اسلام ٹائمز: اگر سعودی حکومت جنت البقیع کی بحالی کی اجازت نہیں دیتی تو کیا کرینگے۔؟
علامہ ایاز ظہیر ہاشمی:
اس حوالے سے اگر سعودی عرب نے مثبت جواب نہ دیا تو ہم عالمی عدالت سے رجوع کریں گے۔ اس حوالے سے ہم نے اپنے ماہرین قانون سے مشاورت بھی شروع کر دی ہوئی ہے۔ ہم پہلے حکومتِ پاکستان کے ذریعے سعودی عرب کے سامنے اپنا مطالبہ رکھیں گے، سعودی عرب نے ہمارا مطالبہ تسلیم نہ کیا تو عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ اور ان شاء اللہ پاکستانی قوم ہی بی بی کا مزار تعمیر کرے گی۔

اسلام ٹائمز:ہمارے حکمران بات تو اسلام کی کرتے ہیں، مگر عملی طور پر کچھ نہیں ہوتا، اب عمران خان نے ’’ریاست مدینہ‘‘ کی بات کی ہے، اسکو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔؟؟
علامہ ایاز ظہیر ہاشمی:
آپ نے درست کہا کہ حکمران اسلام کا نام لیکر آتے ہیں، اسلام کا نام استعمال کرتے ہیں، مگر عملی طور پر کچھ نہیں ہوتا، ضیاء الحق کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہ اقتدار میں آیا تو اس نے بھی اسلام کا نعرہ لگایا، نمازوں کی پابندی کروائی، جمعہ کی چھٹی منظور کی، وغیرہ وغیرہ مگر گیا تو کیا دے کر گیا۔؟؟ اسلام کی بجائے ہمیں دہشتگردی دے کر گیا، یہ بڑی تشویشناک بات ہے، دیگر حکمران بھی امیر المومنین بننے کا خواب سجا کر اقتدار میں آئے، مگر کامیاب نہ ہوئے۔ لیکن عمران خان کی بات اور ہے۔ یہ مضبوط ارادے کا مالک ہے۔ یہ جو کہتا ہے، وہ کرتا ہے۔ مجھے خود خاتون اول بشریٰ بی بی نے بتایا ہے کہ عمران خان رات کو جب گھر آتے ہیں تو شکرانے کی 2 نفل پڑھتے ہیں۔ اپنی کوتاہیوں کی اللہ سے معافی مانگتے ہیں، اللہ سے استقامت کی دعا کرتے ہیں اور ملک کو ریاست مدینہ کی طرز پر ڈھالنے کیلئے اللہ سے رہنمائی مانگتے ہیں، یہ بہت بڑی بات ہے کہ کوئی حکمران اس طرح کا طرز عمل اپنائے۔ یہ ملک صوفیا کی محنتوں کا ثمر ہے، اب ایسا حکمران آیا ہے جو اب صوفی ازم کی طرف مائل ہے اور اس پر صوفیا کی خصوصی نظر کرم بھی ہے اور اب توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اسلام ٹائمز: ریاست مدینہ میں تکفیریوں کیلئے کیا لائحہ عمل ہوگا، ماضی میں ایک گروہ نے انتہا پسندی کو فروغ دیا، وہ آج بھی نئے پاکستان میں بھی فعال ہیں، تو تبدیلی کہاں ہے۔؟؟
علامہ ایاز ظہیر ہاشمی:
تبدیلی کا جواب تو حکومت ہی دے سکتی ہے، جہاں تک تکفیریت اور انتہا پسندی کی بات ہے تو ہم نے اس کیخلاف بہت زیادہ کام کیا ہے، ماضی میں انتہا پسندوں نے تکفیری نعروں سے ہی دہشتگردی کو فروغ دیا، مزاروں اور درباروں، مساجد اور امامبارگاہوں کو نشانہ بنایا گیا، مگر ہم نے تمام مسالک کو جمع کیا اور اللہ کے فضل سے انتہا پسندی اور دہشتگردی کا خاتمہ ہوا ہے اور اس میں ہماری مسلح افواج کا کردار لائق تحسین ہے، آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد سے ملک میں امن بحال ہوا، وہ وزیرستان جو طالبان کا گڑھ تھا، پاک فوج نے دہشتگردوں کو چھڑوا لیا۔ فوج نے اپنا کردار ادا کیا ہم نے اپنا، اس حوالے سے فوج نے بڑی قربانیاں دی ہیں، جو لوگ فوج کے خلاف باتیں کرتے ہیں، وہ ملک کے خیر خواہ نہیں بلکہ وہ طالبان اور دہشتگردوں کے خیر خواہ ہیں۔ میں جنرل باجوہ کو سلام پیش کرتا ہوں، انہوں نے انتہا پسندوں کے خاتمے نمایاں کردار ادا کیا اور یہ کریڈٹ ہماری پوری فوج کو جاتا ہے۔ فوج کیخلاف بولنے والے ذرا کریں گولی کا سامنا پتہ چل جائے گا۔ بات کرنی آسان ہوتی ہے، عملی طور پر میدان میں اُترنا اور بات ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ نے بھی تو دہشتگردوں سے رابطے کئے تھے، سنا ہے صوفی محمد کو بھی آپ نے ہی قائل کیا تھا۔؟؟
علامہ ایاز ظہیر ہاشمی:
جی بالکل، جب صوفی محمد نے ریاست کیخلاف نام نہاد جہاد کا اعلان کیا تو حکومت کی جانب سے مجھے یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ میں جاوں اور صوفی محمد سے مذاکرات کروں، میرے گھر والوں نے بڑی مخالفت کی کہ میں اگر صوفی محمد سے ملنے چلا گیا تو وہ مجھے یرغمال بنا لیں گے۔ مجھے دوستوں نے بھی روکا، مگر میں نے ملک کیلئے آمادگی ظاہر کر دی اور صوفی محمد سے مذاکرات کیلئے وزیرستان گیا اور اللہ کا شکر ہے کہ وہ میری بات مان گئے اور ہتھیار ڈال دیئے تو اب بھی میں سمجھتا ہوں کہ بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کیا جا سکتا ہے۔ طالبان کے مذاکرات بھی امریکہ کیساتھ ہو رہے ہیں اور امید ہے کہ جلد ہی امریکہ افغانستان سے نکل جائے گا اور اس حوالے سے بھی امریکہ کو پاک فوج کی مدد کی ضرورت پڑی ہے اور پاک فوج کے تعاون سے ہی مذاکراتی عمل ہو رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: امریکہ اسکے باوجود پاکستان کا احسان نہیں مانتا، پہلے بھی کہتا رہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے کچھ نہیں کیا۔؟؟
علامہ ایاز ظہیر ہاشمی:
امریکہ جو مرضی کہتا رہے، پاکستان کی خطے میں اپنی اہمیت ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ دہشتگردی کیخلاف سینہ تان کر مقابلہ کیا ہے۔ ہم نے 71 ہزار قربانیاں دی ہیں اور آج پھر امریکہ کو ہماری ضرورت پیش آرہی ہے، اگر ہم نے کچھ نہیں کیا تھا تو پھر امریکہ کیوں ہمارے ترلے کر رہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مدد کرو۔ یہ پاکستان ہی ہے، جس نے اپنے موثر کردار سے افغانستان میں امن کا قیام یقینی بنایا ہے اور ان شاء اللہ امریکہ کے انخلاء کے بعد خطے میں بہتری آئے گی۔
خبر کا کوڈ : 778189
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب