0
Friday 15 Feb 2019 23:53
محمد بن سلمان جیسے متنازعہ شخص کو اسطرح کا پروٹوکول ملنا افسوسناک ہے

سعودی ولی عہد کا دورہ، حکومت کو ایسے حالات پیدا نہیں کرنے چاہئیں جس سے افراتفری بڑھے، مولانا ارشاد علی

حکومت کو ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا اور ملک و قوم کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریز کرنا چاہیئے
سعودی ولی عہد کا دورہ، حکومت کو ایسے حالات پیدا نہیں کرنے چاہئیں جس سے افراتفری بڑھے، مولانا ارشاد علی
مولانا ارشاد علی کا تعلق ضلع ہنگو سے ہے، آپ مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں، اس سے قبل ایم ڈبلیو ایم ضلع ہنگو کے سیکرٹری جنرل کے طور پر بھی ذمہ داری ادا کرچکے ہیں، آپ جامعۃ العسکریہ ہنگو میں درس و تدریس کے عمل سے وابستہ رہے ہیں، مولانا ارشاد علی ضلع ہنگو کی فعال شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے علامہ ارشاد علی کیساتھ ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)
 
اسلام ٹائمز: ضلع ہنگو کا شمار خیبر پختونخوا کے ان علاقوں میں ہوتا ہے، جو دہشتگردی کا بری طرح شکار رہے ہیں، اب یہاں امن و امان کی صورتحال کیسی ہے۔؟
مولانا ارشاد علی: ۔ ہنگو میں اب حالات ماضی کے مقابلہ میں بہتر ہیں، یہاں ہمارے لوگوں نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور حملوں میں اب تک ہمارے کئی لوگ شہید ہوچکے ہیں۔ یہاں مسئلہ شیعہ سنی کا نہیں بلکہ اہل تشیع کیخلاف دہشتگردوں کی دہشتگردی کا رہا ہے۔ جیسا کہ آپ بھی جانتے ہیں کہ ملک بھر میں دہشتگردی کا سب سے زیادہ شکار شیعہ رہے ہیں، اسی طرح ہنگو میں بھی اہل تشیع کو ہی منظم طریقہ سے نشانہ بنایا گیا، تاہم ماضی کے مقابلہ میں اب صورتحال کافی بہتر ہے۔
 
اسلام ٹائمز: صوبہ کی مجموعی صورتحال کو کیسے دیکھتے ہیں۔؟
مولانا ارشاد علی: سانحہ کلائیہ اورکزئی نے ایک بار پھر تشویش میں مبتلا کیا ہے، تاہم مجموعی طور پر امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ ڈی آئی خان میں کچھ مسائل دیکھنے میں آرہے ہیں، سپریم کورٹ نے بھی اس مسئلہ پر ازخود نوٹس لے رکھا ہے، امید ہے کہ وہاں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی۔ بہرحال امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے، کوٹلی امام حسین علیہ السلام کا مسئلہ ہمارا اہم اور دیرینہ مسئلہ ہے، اسے ترجیحی بنیادوں پر حل ہونا چاہیئے، اس کے علاوہ پاراچنار میں بالش خیل کا مسئلہ حل ہونا چاہیئے، وہاں بھی ہمارے لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔ ان مسائل کو حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
 
اسلام ٹائمز: ضلع ہنگو کے علاقہ شاہو خیل میں اب تک آبادکاری ممکن نہیں ہوسکی، اس حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
مولانا ارشاد علی: جی بالکل، یہ مسئلہ جوں کا توں ہے، اسے بھی فوری طور پر حل ہونا چاہیئے، دہشتگردوں کے حملے کیوجہ سے یہ علاقہ ہمارے لوگ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے، تاہم اب تک ان کی آبادکاری ممکن نہیں ہوسکی، میرے خیال میں اگر حکومت کی نیت ہو تو یہ مسئلہ بڑی آسانی سے حل ہوسکتا ہے۔
 
اسلام ٹائمز: سعودی ولی عہد کل پاکستان آرہے ہیں، جس پر ان کیخلاف آواز بلند کرنیکی پاداش میں شیعہ تنظیموں کیخلاف کریک ڈاون شروع کر دیا گیا ہے، کیا اس سے مسائل پیدا نہیں ہونگے۔؟
مولانا ارشاد علی: یہ واقعاً باعث تشویش ہے، حکومت کو ایسی حرکتوں سے گریز کرنا چاہیئے، اظہار رائے کی آزادی کو سلب نہیں ہونا چاہیئے۔ اگر کوئی سعودی ولی عہد کو ویلکم کرتا ہے تو اسے بھی اظہار رائے کا حق ہونا چاہیئے اور اگر کوئی ان کو ویلکم نہیں کرتا تو اس کو بھی اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہونا چاہیئے۔ عمران خان صاحب نے ایسی ہی زیادتیوں کیخلاف اپنی طویل سیاسی جدوجہد کی ہے، اب اگر ان کے دور حکومت میں بھی ایسا ہو تو یہ بہت افسوس کا مقام ہوگا۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو اس حوالے سے احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیئے اور ایسے حالات پیدا نہیں کرنے چاہیئں، جس سے ملک میں افراتفری بڑھے۔
 
اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عالمی سطح پر مانے گئے متنازعہ شخص کو پاکستان اس شان و شوکت کیساتھ آنا چاہیئے۔؟
مولانا ارشاد علی: یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ملک کی پوزیشن کئی مرتبہ کمزور رہی ہے، اس بار بھی ایسا ہی ہے۔ سعودی ولی عہد واقعی اس وقت دنیا میں متنازعہ حیثیت رکھتے ہیں، ایک متنازعہ شخص کو اس طرح کا پروٹوکول ملنا افسوسناک ہے۔ ہم کسی بھی ملک کیساتھ پاکستان کے تعلقات اور تجارت کیخلاف نہیں ہیں، تاہم پاکستان کو ہر لحاظ سے اپنے مفادات کا خیال کرنا چاہیئے۔
 
اسلام ٹائمز: سعودی ولی عہد کے دورہ کے منفی اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔؟
مولانا ارشاد علی: یہ اب حکومت کے اختیار میں ہے، اگر حکومت نے گذشتہ حکومتوں کی طرح حرکتیں کیں تو منفی اثرات بھی ہوسکتے ہیں، یہ پکڑ دھکڑ اور ایف آئی آر وغیرہ ٹھیک چیزیں نہیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہو، ہمارے ہر ملک کیساتھ اچھے تجارتی اور سفارتی تعلقات ہوں، لیکن یہ سب کچھ ملکی مفادات کی بنیاد پر ہونا چاہیئے، اس تجارتی پیکج کے بدلے میں ہمیں کسی داخلی مشکل میں نہیں پھنس جانا چاہیئے۔
 
اسلام ٹائمز: آپ سے آخری سوال کہ کیا سعودی ولی عہد کے اس دورے سے پاکستان کے یمن مسئلہ میں فریق بننے کے امکانات موجود ہیں۔؟
مولانا ارشاد علی: اس بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا، البتہ پاکستان کو اس حوالے سے اب مزید محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ میں پھر کہوں گا کہ ہمیں اپنے مفادات کو مدنظر رکھنا ہوگا، ہم پرائی جنگوں میں فریق بننے کا نتیجہ دیکھ چکے ہیں۔ افغانستان کی جنگ میں شامل ہوکر ہم نے نتائج بھگتے، وہ انتہائی خطرناک تھے۔ لہذا حکومت کو ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا چاہیئے اور ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیئے، جس سے پاکستان اور قوم کا نقصان ہو۔
خبر کا کوڈ : 778220
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش