0
Sunday 24 Feb 2019 23:56
عمران خان "اسٹیٹس کو" حامی قوتوں کے درمیان پھنس چکے ہیں

پاکستان کو کسی عالمی کھیل کا حصہ نہیں بننا چاہیئے، شیخ وقاص اکرم

پاکستان کو کسی عالمی کھیل کا حصہ نہیں بننا چاہیئے، شیخ وقاص اکرم
جھنگ سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی شیخ وقاص اکرم 1972ء میں پیدا ہوئے، ایبٹ آباد سے ابتدائی تعلیم مکمل کی، گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجوایشن کی اور بیرون ملک سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ وفاقی وزیر رہے، دو مرتبہ رکن پارلیمنٹ رہنے کے بعد 2018ء میں قومی اسمبلی کی رکنیت حاصل نہیں کرسکے۔ بے لاگ سیاسی تجزیہ پیش کرتے ہیں، ملک کی داخلی صورتحال اور علاقائی حالات سمیت زیر بحث ایشوز پر اسلام ٹائمز کیساتھ انکا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: نیب مقدمات کو لیکر ایک حد سے آگے نہیں بڑھ پا رہا، اب چھوٹے میاں صاحب کو بھی کلین چٹ مل گئی ہے، کیا موجودہ قوانین میں کوئی سقم ہے۔؟
شیخ وقاص اکرم:
احتساب تو ہوسکتا ہے، اگر اسے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہ کیا جائے۔ نیب تو اس لیے بنائی گئی تھی کہ پارٹیاں توڑی جا سکیں، نئی پارٹیاں بنائی جا سکیں، لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک یہ ہے کہ پچھلے دس پندرہ سالوں میں سیاسی جماعتوں کے پاس اتنا وقت تھا، لیکن یہ نیب کو ہنگامی بنیادوں پر بھی ٹھیک کرنا چاہتے تو کرسکتے تھے، ان کی نیت یہ تھی کہ یہ بہتر کہ احتساب کے متعلق قوانین ایسے ہی رہیں کہ اگر کل اگر یہ پکڑے جائیں تو اداروں کی کمزوری سے فائدہ اٹھا سکیں۔ یہ دونوں پارٹیوں کیلئے ہے، پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ نون۔ لوگ عدالتوں اور مقدمات کا سامنا بھی کرینگے، لیکن نکلے گا کچھ نہیں، تاکہ یہ سیاسی لیڈر پھر کہہ سکیں کہ دیکھ لیں ہم نے اتنا عرصہ مقدمات کا سامنا کیا ہے، لیکن ان میں سے نکلا کچھ نہیں، ہمارا دامن تو صاف ہے، یہی اب ہو رہا ہے۔ یہی زرداری صاحب بھی کہتے ہیں کہ میں نے اتنا عرصہ مقدمات کا سامنا کیا ہے، کوئی کرپشن کی ہوتی تو مجھے سزا ہو جاتی۔ اس سے احتساب کا سارا عمل ہی مشکوک لگنے لگتا ہے، جو معاشرے اور ریاست کیلئے خطرناک ہے، جہاں مواخذہ ہی نہ ہوسکتا ہو، وہاں تو زندگی کبھی آسان نہیں ہوگی، انصاف کا عمل ہی رک جائے، لوگوں کا اعتماد ختم ہو جائیگا۔

اسلام ٹائمز: آپ نے باقی دونوں پارٹیوں کا ذکر کیا ہے، لیکن ابھی تو پی ٹی آئی حکومت میں ہے، کیا یہ قوانین میں ترمیم کرکے احتساب کو یقینی نہیں بنا سکتے ہیں۔؟
شیخ وقاص اکرم:
اگر قوانین کی بات کریں تو شاید انہیں ٹھیک کرنے کی ضرورت ہو، موجودہ حکومت کے پاس تو اتنی تعداد میں اراکین پارلیمنٹ نہیں ہیں کہ یہ قوانین میں کسی قسم کی تبدیلی کرسکیں۔ عددی برتری چاہیئے، جو ان کے پاس نہیں ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اگر یہ عددی برتری نہ ہونیکی وجہ سے قانون نہیں بنا سکتے، یا تبدیلی نہیں لاسکتے، البتہ تفتیش اور پراسیکیوشن کو تو بہتر بنا سکتے ہیں۔ مسئلہ ثبوت سامنے لانے کا ہے، تلاش کرنے کا ہے، یہ اچھے افسران کو تعینات تو کرسکتے ہیں، یہ سب کچھ تو حکومت کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ صرف قوانین کی بات نہیں بلکہ پراسیکیوشن اور انوسٹیگیشن بھی بہت زیادہ کمزور ہے۔ اگر اس میں بھی یہ حکومت کردار ادا نہیں کرتی تو یہ ان کی غلطی شمار ہوگی۔

اسلام ٹائمز: موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے ایک عرصہ ہوچکا ہے، اسکے باوجود ملزمان آسانی سے عدالتوں سے ضمانتیں کروا رہے ہیں، انکا دعویٰ تو کرپٹ عناصر کے خاتمے کا تھا۔؟
شیخ وقاص اکرم:
ان کیلئے ایک مشکل یہ ہے کہ یہ چاہتے تو ہیں کہ احتساب صحیح معنوں میں ہو، ان کے نعرے بھی یہی تھے، لیکن چاہنے کے باوجود بہت ساری چیزیں ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ جب یہ حکومت میں آئے ہیں تو چیف جسٹس صاحب نے بہت سارے کیس کھولے ہوئے تھے، جے آئی ٹی بنائی گئی تھی، ایک ہنگامہ خیز ماحول بنا ہوا تھا، لیکن جیسا میں نے پہلے کہا تفتیش اور پراسیکیوشن میں کافی خامیاں تھیں، جس میں بہتری کیلئے انہوں کام کرنا ہے، ہوسکتا ہے موجودہ حکومت کو ابھی تک سمجھ نہ آیا ہو کہ صرف کیس کا بن جانا اور عدالت میں لگ جانا کافی نہیں بلکہ اسے ثابت کرنے اور سزا دلوانے کیلئے ٹھوس ثبوتوں کی فراہمی اہم ہوتی ہے۔ اب نیب کو اس طریقے سے چلانا اور یہ سہولیات فراہم کرنا سول حکومت کی ذمہ داری ہے، ان کے اختیار میں ہے، یہ ان کی ناکامی ہے، اس میں یہ کامیاب نہیں ہو پا رہے۔

پھنس یہ ایسے گئے ہیں کہ جب نیب نے لوگوں کو پکڑا تو انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چھوڑیں گے، یہ اب بھی کہتے ہیں وزیراعظم، ہر جگہ کہتے ہیں، دوسرے دن کوئی نہ کوئی چھوٹ جاتا ہے۔ لوگ پھر کہتے ہیں کہ ڈیل ہوگئی ہے یا ڈھیل دی گئی ہے۔ حکومت کو پھر صفائی دینا پڑتی ہے کہ ہم نے کوئی این آر او نہیں دیا، ہمارے اختیار میں نہیں کہ این آر او دیں، یہ تو عدالتوں کا کام ہے کہ وہ فیصلے کریں۔ لیکن اگر یہ پرسیکیوشن کمزور رہے گی تو آگے بھی یہی کچھ ہوگا، جو میاں صاحب کے کیس میں ہوا ہے، یہ ہوتا رہیگا۔ اس لیے ان کیلئے بہتر یہ ہے کہ قانونی کمزوریوں کو دور کرنیکی کوشش کریں اور چن کر اچھے افسران لیکر آئیں۔ لیکن انہوں نے کیا کمزوریوں کو ٹھیک کرنا ہے، انہوں نے پنجاب میں تعلیم کا سیکرٹری ایک ایسے آدمی کو لگا دیا، جس کی اپنی آف شور کمپنیز ہیں اور اس کے خلاف ایف آئی آرز ہیں، اسے کمشنر سرگودہا لگا دیا اور بھی ایسے ہی کیسز ہیں۔

گورننس کے مسائل ہیں، جو احتساب کے عمل اور نیب کے علاوہ بھی ان کی کمزوریوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ مجھے کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ یہ نیب کے قوانین یا دوسرے امور کو کیسے بہتر کرینگے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ کر پائیں گے۔ یہ ان مقدمات کو منطقی انجام تک نہیں پہنچا پائیں گے۔ انکا نعرہ بھی احتساب کا تھا، نیت بھی لگ رہی تھی، لیکن لگتا ہے کہ انہیں سمجھ نہیں آرہی۔ پی ٹی آئی کا مسئلہ یہ ہے کہ جس چیز کو ٹھیک کرنا ہے، اس کی طرف ان کی توجہ نہیں ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ پیسہ ملک سے باہر گیا ہے، اسے واپس بھی آنا چاہیئے، لیکن لوگ ٹیکنیکل بنیادوں پہ چھوٹتے جا رہے ہیں۔ اگر اس طرح لوگ چھوٹتے گئے تو یہ پاکستان کی بدقسمتی ہوگی۔

اسلام ٹائمز: آپکے خیال میں کلی طور پر احتساب کا نظام کیسے ٹھیک ہوسکتا ہے.؟
شیخ وقاص اکرم:
یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں، جو صرف نیب تک محدود ہو، پورا نظام عدل ہی زیر سوال ہے، اگر لوگوں کی بات کریں، جو اپنی امیدیں باندھ کر حکومت لے آتے ہیں، یہ حکومت سے توقع لگاتے ہیں، عوام کا پہلے ہی نظام عدل پر اعتماد نہیں ہے، وہ ہیں بھی حق بجانب کیونکہ اس سارے نظام میں جس طرح سے مقدمات چلتے ہیں، اس سے عام آدمی کا کوئی تعلق نہیں ہے، نہ ہی انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔ اب لوگ یہ چاہتے ہیں کہ لوٹی ہوئی رقم اگر ہے تو واپس لائی جائے، جنہوں نے کرپشن کی ہے، انہیں کٹہڑے میں کھڑا کیا جائے، انہیں سزا ملے، لیکن وہ یہ بھی سوچتے ہیں کہ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو انہیں کوئی خاص فرق نہیں پڑیگا، اگر ان سیاستدانوں کو سزا ہو بھی جاتی ہے تو عام آدمی تب بھی یہی سوچ رہا ہے کہ اسے کوئی فرق نہیں پڑنا۔

عوام بچارے جس طرح پہلے پسے ہوئے ہیں، اسی طرح پسے ہوئے رہیں گے۔ عدلیہ کو بھی عام آدمی ایلیٹ ہی سمجھتا ہے، سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی ایلیٹ ہی سمجھتا ہے، لوگ یہی سمجھ رہے ہیں کہ یہ ایلیٹ آپس میں لڑ جھگڑ رہی ہے، ان کے آپس کے مفادات ہیں، ورنہ عام آدمی کیلئے تو ابھی سخت فیصلے آتے ہیں، الزام ثابت ہو جاتا ہے، لوگوں کو کوئی رعایت نہیں ملتی، نہ ہی ان کی شنوائی ہوتی ہے۔ اگر نظام عدل کی بات کریں تو دیکھیں کہ قوانین تو پہلے ہی موجود ہیں، لیکن عدالتوں، نیب جیسے اداروں اور پراسیکیوشن کے عمل کیلئے بہترین قوانین ہیں، یہ خواہش موجود نہیں۔ ایک نکتہ نظر یہ بھی ہے کہ ان قوانین کو کم کرنیکی ضرورت ہے، پہلے جو ادارے موجود تھے، وہی کافی ہیں، یہ نئے ادارے اب سمجھتے ہیں کہ یہ ایک سپر باڈی ہیں، پھر یہ اپنے حدود و قیود سے ہی نکل جاتے ہیں، بنیادی ثبوت دیکھ کر یا حاصل کئے بغیر یہ مقدمات اسی لئے بناتے ہیں کہ ہمارے بنائے ہوئے کیس کون رد کرسکتا ہے، جب اس پہ بحث ہوتی ہے تو چپ سادھے کھڑے ہوتے ہیں، عدالت پوچھتی ہے تو کہنے اور پیش کرنے کو ان کے پاس کچھ ہوتا ہی نہیں ہے۔

اس طرح جو ادارے پہلے بنائے ہی اسی کام کیلئے گئے تھے، وہ مایوسی کا شکار بھی ہوتے ہیں، اپنا کام ہی بند کر دیتے ہیں یا نیم دلی سے کرتے ہیں۔ ایف آئی اے نے تو بے نامی اکاونٹس تلاش کر لئے ہیں، پورا کیس ہی اسٹیبلیش کر لیا ہے، یہ ایک پہلے سے موجود ادارے کا کام ہے۔ پہلے سے موجود اداروں کو صحیح طرح سے کام پہ لگائیں اور عدالتی نظام کو کو بہتر کرنیکی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس کی طرح ہمارے پارلیمنٹیرینز بھی اسی طرح کا کردار ادا کرسکتے ہیں، انکی آواز سنی جاتی ہے، معاشرے میں بھی اور اداروں میں بھی۔ اب بدقسمتی یہ ہے کہ وہ بھی وہی کرینگے، جو ان کے پارٹی لیڈرز چاہیں گے۔ وہی لیڈرز اب زیر عتاب بھی ہیں، ان حقائق کو سامنے رکھیں تو مایوسی عروج کو پہنچ جاتی ہے، لیکن خیر دنیا امید پہ قائم ہے، بہتری کی امید رکھنی چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: کیا پارلیمنٹ سے امید کی جا سکتی ہے کہ وہ ایسی قانون سازی کریگی، جس سے کرپٹ عناصر کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔؟
شیخ وقاص اکرم:
میرے خیال میں مختلف پارٹیوں میں ایسے لوگ موجود ہیں، جو یہ دانش بھی رکھتے ہیں اور ان پر اعتماد بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہیں چاہیئے کہ ملک کو تباہی سے بچانے کیلئے ملکر ایسا کام کریں، جس سے قوم کا اعتماد اداروں اور نظام عدل و انصاف پر بحال ہو۔ ملک اور قوم کیلئے یہ ضروری بھی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کی بجائے، مل کر بیٹھیں اور اس مسئلے کو حل کریں۔ یہ صرف موجودہ حکومت پر بھی منحصر نہیں، کیونکہ موجودہ کابینہ میں بھی ایک بڑا حصہ ان لوگوں کا ہے، جو اگر نیب جیسے اداروں کو مزید مضبوط یا ٹھیک کرتے ہیں، تو یہ اپنے گلے میں پھندا ڈالنے کے مترداف ہے۔

اسی لئے یہ ضروی ہے کہ مختلف جماعتوں میں جو اچھے لوگ موجود ہیں، وہ اکٹھے ہو کر کام کریں۔ یہ بھی عمران خان کا المیہ ہے کہ اسٹیٹس کو کی حامی قوتیں ان کے آس پاس جمع ہوچکی ہیں، یہ بہت مشکل ہے کہ یہ قوتیں انہیں آگے بڑھنے دیں، ممکن ہے وہ جو تبدیلی چاہتے ہوں، لیکن یہ پی ٹی آئی کی بدقسمتی ہو کہ حکومت میں موجود لوگ یہ نہ ہونے دیں۔ کرپشن بھی ختم کرنا چاہتے ہوں، لیکن آگے پی ٹی آئی کی حکومت میں بندے کون ہیں، جو لوگ موجود ہیں، وہ کہاں یہ ہونے دینگے۔ اس لیے یہ ہر ایک کے بس میں نہیں کہ وہ کرپٹ عناصر کیخلاف کھڑے ہو کر لڑ سکے۔

اسلام ٹائمز: نیب کو تو حکومت نے پیشکش کی تھی کہ ہم آپکو سہولت فراہم کرتے ہیں، لیکن انہوں نے کہا کہ ہم خود کرسکتے ہیں، اس میں حکومت کا کیا قصور ہے۔؟
شیخ وقاص اکرم:
ہاں یہ بات درست ہے کہ چیئرمین نیب نے عمران خان سے کہا کہ ہم ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہیں، لیکن یہ بات پلٹ جاتی ہے چیئرمین نیب کی طرف، میرے خیال میں ادارے میں اصلاح اور بہتری کی گنجائش اگر ہے تو چیئرمین کو تعاون لینا چاہیئے، اس میں کوئی حرج نہیں، آئین نے حدود و قیود طے کی ہیں، وہ اسی عمل کو آسان بنانے کیلئے ہیں، نیب اپنے دائرہ کار میں حکومتی اثر و رسوخ نہ ہونے دے، جہاں ضرورت ہے اور ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، وہاں حکومت کو اپنا کردار ادا کرنے دے، میں تو پہلے ہی حکومت کی ذمہ داری اور کردار کی بات کرچکا ہوں۔ نیب کو زیادہ منظم اور فعال ادارہ بننا چاہیئے۔ جب نیب وسائل تو حکومت سے ہی لیتی ہے، پھر وہ ان کی صلاحیت بہتر بنانے میں کیوں کردار ادا نہ کرے۔ حکومت ہی تو انکو بجٹ فراہم کرتی ہے، حکومت کب تک پچھلی حکومتوں کا رونا روتی رہے گی، یہ درست نہیں۔

اسلام ٹائمز: افغانستان کے حوالے سے مذاکرات، پلوامہ حملے اور سعودی ولی عہد کے دوروں کی روشنی میں خطے کے بدلتے حالات میں پاکستان کو کہاں دیکھتے ہیں۔؟
شیخ وقاص اکرم:
یہ حالات خود بخود تبدیل نہیں ہو رہے، افغانستان میں افغانی ایک قوم کے طور پر ابھریں گے، امریکہ بھی اگر افغانستان سے جانے کی بات کر رہا ہے تو وہ علاقے کو چین کے حوالے کرکے نہیں جائیگا، سعودی ولی عہد اگر آئے ہیں تو وہ پاکستان کو کسی عذاب سے نجات دلانے نہیں آئے، بھارت جو دھمکیاں دے رہا ہے، وہ عالمی برداری میں صرف بدنام ہونے کیلئے ایسا نہیں کر رہا، ہمیں خوش گمانیوں میں نہیں رہنا چاہیئے، اپنی سوچ سمجھ سے کام لینا چاہیئے، پاکستان کو کسی عالمی کھیل کا حصہ نہیں بننا چاہیئے، ورنہ ہم مزید مشکلات میں پھنس جائیں گے۔ آخر کب ہمیں یہ اعتماد حاصل ہوگا کہ ہم کمزور ریاست نہیں ہیں، ایک قوم ہیں، کب تک دوسروں کیلئے بچھ جایا کرینگے، جس طرح دنیا کی دوسری اقوام کے مفادات ہیں، انہیں ہماری بھی ضرورت ہے، امریکہ، چین یا سعودی عرب جتنے بھی ممالک ہیں، سب کو ہماری بھی ضرورت ہے۔

اس لیے متوازن پالیسی بنائی بھی جاسکتی ہے، اس پر عمل بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں پریشان ہونے کی بجائے یہ ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ پورا خطہ تبدیل ہو رہا ہے، یہ آسان کام نہیں، لیکن یہ دیکھنا پڑیگا کہ بدلتی صورتحال میں ہم اپنے کارڈز کیسے پلے کریں، یہ کرنا ہوگا۔ ایک اچھی چیز جو نظر آرہی ہے کہ اس وقت کافی حد تک پالیسی ساز طبقہ اور سیاستدان جو حکمران ہیں، وہ ایک پیج پہ ہیں، اسکا فائدہ ملک کو ہوسکتا ہے، خارجہ پالیسی میں پہلے بھی صرف سیاستدانوں کا کردار نہیں رہا بلکہ ان کے علاوہ بھی خارجہ پالیسی کے ماہرین میں پاکستان نے بڑے بڑے لوگ پیدا کئے ہیں، یو این او کے اندر جب کوئی بڑی قرارداد ڈرافٹ ہوتی تھی تو پاکستان کے لوگ یہ کام کرتے تھے، اس کے باوجود ہم کہیں نہ کہیں مار کھا جاتے ہیں، ہمیں صرف کام یہ کرنا ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے پاؤں پہ کھڑے ہو جائیں، ملایشیا، ترکی کی مثالیں آج بھی ہمارے سامنے ہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان اندرونی طور پر کئی مشکلات اور کمزوریوں کا شکار ہے، بیرونی لحاظ سے دوست ممالک آپس میں مخاصمت کا شکار ہیں، خارجہ پالیسی میں توازن کیسے ممکن ہے۔؟
شیخ وقاص اکرم:
یہ سب تب ہوسکتا ہے کہ ہمیں اس بات کا شعور ہو جائے کہ کون کہاں کھڑا ہے، کون ہمیں استعمال کرنا چاہتا ہے، کون ہماری مدد کرنا چاہتا ہے، کون ہم سے فائدہ لینا چاہتا ہے، خود بخود بیلنس قائم ہو جائیگا۔ افغانستان کو دیکھ لیں، اس جنگ کے دو حصے ہیں، ایک ہم نے روسیوں کیخلاف لڑی، ایک جو ہم نے امریکیوں کے ساتھ مل کے لڑی، ان دونوں جنگوں میں اپنے کردار کا تعین کرنے میں کہیں نہ کہیں کوتاہی ہوئی ہے، ورنہ ہمارا نقصان نہ ہوتا، نہ ہمارے دشمنوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا، نہ ہم دوستوں سے محروم ہوتے۔ ابھی امریکہ افغانستان سے پٹ کے جا رہا ہے، یہ یاد رکھیں کہ وہ اس ہزیمت کو بھولے گا نہیں، یہ بڑا خطرناک مرحلہ ہے، اس کے مفادات ایک لمبے عرصے تک موجود ہیں، یہ حقیقت ذہن میں رکھنا ہوگی، اسوقت صرف چین ہمارا پڑوسی ملک نہیں، بلکہ افغانستان میں لمبی موجودگی کی وجہ سے امریکہ بھی ہمسایہ ہے۔

جو ایسا ہمسایہ ہے، جو ڈکٹیٹ کروانا چاہتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ نیٹو بھی ہے، اب یہاں یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ صرف ڈالر سمیٹنے کیلئے کسی ایک طرف ہو جائیں، دوسروں کو دشمن بنا لیں۔ پھر جو امدادیں اور قرضے جو آتے ہیں، انکے ساتھ وابستہ مفادات کو اچھی طرح دیکھ لینا چاہیئے، صرف یہ کافی نہیں کہ حکومت، فوج یا کوئی اور فریق اسے سرمایہ کاری اور سفارت کاری کی کامیابی اور کریڈٹ کی باتوں میں محدود کر دے اور اصل میں پاکستان کے اہم اسٹیک کو ذہنوں سے نکال دے۔ یہ موجودہ سرمایہ کاری جو آرہی ہے، یا اس سے پہلے سی پیک کیلئے گذشتہ ادوار میں حکومتوں نے کام کیا ہے، ہر دور میں مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ کسی کے دباؤ میں آئے بغیر پاکستان آسانی سے نہ سہی، لیکن اپنے وسائل اور ذرائع پہ یقین رکھتے ہوئے تعلقات میں توازن برقرار رکھ سکتا ہے۔ یہ توازن رکھیں گے تو ترقی کی راہیں کھل جائیں گئیں، ورنہ محتاجی اور انحصار بڑھتا جائیگا۔
خبر کا کوڈ : 779876
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے