0
Saturday 6 Jul 2019 22:41

مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں عالمی برادری کا ایک اہم کردار ہے، ہلال احمد وار

مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں عالمی برادری کا ایک اہم کردار ہے، ہلال احمد وار
ہلال احمد وار گذشتہ 34 برسوں سے مقبوضہ کشمیر کی تحریک مزاحمت سے وابستہ ہیں، ایرانی انقلاب سے متاثر ہو کر انہوں نے کشمیر میں مسلح جدوجہد کا آغاز کیا اور اسلامک اسٹوڈنٹس لیگ کے نام سے ایک تنظیم کی داغ بیل ڈالی، وہ ایک انجینیئر گریجویٹ ہیں اور کچھ عرصہ ایک امریکی کمپنی کیساتھ کام کیا ہے، 1996ء میں انہوں نے کشمیر میں پیپلز پولیٹکل پارٹی کی بنیاد ڈالی اور تاحال اسکے سربراہ ہیں، پی پی پی کشمیر فعلاً آل پارٹیز حریت کانفرنس کی اکائی کی حیثیت رکھتی ہے، ہلال احمد وار نے اپنی کتاب ‘‘دی گریٹ ڈسکلوجرز’’ میں مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں ایک روڈ میپ پیش کیا اور اس دیرینہ مسئلہ کو انسانی بنیادوں پر حل کرنے پر زور دیا۔ سیاست میں اعلٰی کارکردگی کیساتھ ساتھ انہوں نے متعدد کتابیں بھی تحریر کی ہیں، جو انکی اعلٰی صلاحیت پر دلالت کرتی ہیں۔ اسلام ٹائمز نے ہلال احمد وار سے ایک نشست کے دوران ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے موجودہ مرحلے کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں۔؟
ہلال احمد وار:
دیکھیئے ہمیں امید ہے کہ ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں اور موجودہ مرحلہ انتہائی نازک اور سنجیدہ ہے۔ دنیا سے مثبت اشارے مل رہے ہیں، دنیا جان گئی ہے کہ مسائل کو سرد خانے کی نذر کرکے مسائل کو ٹالا نہیں جاسکتا اور عالمی قیادت دنیا کے مختلف ممالک میں بڑھتی ہوئی بے چینی، سیاسی انارکی اور ہتھیار بند مہم جوئی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ایک پُرامن فضا کی تلاش کے لئے ممکنہ ذرائع کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ ہماری جوان نسل بھی موجودہ ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے دنیا تک اپنی آواز پہنچا رہی ہے اور دنیا کے انصاف پسند حلقے ہماری آواز سن بھی رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: کشمیر میں بھارت نواز سیاسی تنظیموں اور انکے قائدین کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کیا کردار ہے۔؟
ہلال احمد وار:
مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بھارت نواز جماعتوں اور ان کے قائدین کا کوئی رول نہیں ہے۔ جن انتخابات کی بنیاد پر یہ لوگ اسمبلی اور ایوان اقتدار میں بیٹھے ہیں، اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور اس بات کا اقرار خود بھارت کے کئی دانشوروں نے بارہا کیا ہے۔ یہ نام نہاد انتخابات کبھی بھی آزادانہ ماحول میں نہیں ہوئے اور حریت پسند قائدین کو عوام تک جانے نہیں دیا گیا اور اکثر مقامات پر فوج لوگوں کو پولنگ مراکز کی جانب لے جاتے ہوئے دیکھی گئی، تاکہ دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جاسکے کہ لوگ اپنی مرضی سے ووٹ ڈال رہے ہیں۔ اب جبکہ ان انتخابات کی کوئی آئینی حثییت نہیں ہے، اس لئے ان کے نمائندہ کردار کی بات بھی نہیں بنتی اور نہ ان کا اس مسئلے میں کوئی رول بنتا ہے کہ یہ لوگ بھارتی سسٹم کی نمائندگی کرتے ہیں، عام آدمی کے جذبات کی نہیں۔

اسلام ٹائمز: آپ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عالمی برادری کے کردار پر کیا کہنا چاہیں گے۔؟
ہلال احمد وار:
مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں عالمی برادری کا ایک اہم کردار ہے۔ عالمی برادری نے ہی جموں و کشمیر کے سلسلے میں 18 قراردادوں کی منظوری دی ہے۔ اگر عالمی برادری مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں مداخلت کرسکتی ہے تو جموں کشمیر کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے عالمی برادری پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ سلامتی کونسل میں منظور کی گئی قراردادوں کو عمل میں لانے میں دلچسپی کا اظہار کرے اور یہ عالمی امن کی ضمانت بھی فراہم کرسکتا ہے۔ برصغیر کے دو ممالک جنگ کی حالت میں ہیں، آئے روز سرحدوں پر تنازعات جنم لیتے ہیں اور مارا ماری، تناطنی اور کشاکش کا سلسلہ روکنے کے لئے اقوام متحدہ کے لئے ایک اہم رول بنتا ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے کئی بار اس بات کا برملا اظہار بھی کیا ہے کہ اس مسئلہ کو عالمی نگرانی میں سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے بھی حل کئے جانے کے لئے ایک آپشن موجود ہے۔

اسلام ٹائمز: حریت کانفرنس میں اتحاد کو مزید مستحکم اور فعال بنانے کیلئے آپ نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔؟
ہلال احمد وار:
دیکھیئے میں نے حریت کانفرنس کو ہمیشہ فعال دیکھنے کے لئے اپنی تمناؤں کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں اپنا دست تعاون بھی فراہم رکھا، میں نے آج بھی ایک خادم کی حیثیت سے تمام آزادی پسندوں کو اس پلیٹ فارم کو مضبوط بنانے کی کئی بار اپیل کی ہے، اس سمت میں ہمیشہ کوشش کرتا آیا ہوں اور مستقبل میں بھی کرتا رہوں گا۔ یہ میرا خواب بھی ہے اور ایک مشن بھی کہ تمام حریت پسند ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں اور حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی یا حریت کانفرنس (م) کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کی قیادت پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے فعال کردار ادا کریں۔

اسلام ٹائمز: آپکی نظر میں مسئلہ کشمیر کے حل میں حائل رکاوٹیں کون سی ہیں اور انہیں کیسے دور کیا جاسکتا ہے۔؟
ہلال احمد وار:
بھارت مذاکرات پر اپنی آمادگی کا اظہارکرے تو ہر رکاوٹ دور ہوگی اور جنوب مغربی ایشیاء میں امن کی فضا قائم ہوگی۔ اسے دور کرنے کے لئے عالمی قائدین کو بھارت پر دباؤ بڑھانا ہوگا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بھارت و پاکستان کے مابین اب تک چار خونین جنگیں ہوئی ہیں، جن میں لاکھوں کی تعداد میں انسانی جانوں کا زیاں ہوا اور بے حساب مالی نقصان ہوا، تاہم دونوں ممالک کو بعد از جنگ بات چیت کے لئے میز پر آنا ہی پڑا۔ ہمارا ماننا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ بھارت و پاکستان کی قیادت مذاکرات کا سلسلہ شروع کرکے مسئلہ کشمیر کے حل میں مثبت رول ادا کریں۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کیا عسکریت پسندوں کا کوئی کردار ہے۔؟
ہلال احمد وار:
دیکھیئے ہم سیاسی سطح پر اپنی جدوجہد کر رہے ہیں، لیکن عسکری سطح پر جدوجہد کی نفی نہیں کر رہے ہیں۔ جدوجہد کے لئے کئی راستے ہیں اور اب یہ کسی کی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ اپنے لئے کون سا طریقہ موزوں سمجھتا ہے۔ جہاں تک عسکری حلقوں کا تعلق ہے، وہ اس تحریک کو اپنے مقدس خون سے سینچ کر اس کی آبیاری کر رہے ہیں اور ہم اس سلسلے میں وعدہ بند ہیں کہ ان کی پیش کی گئی قربانیوں کے ساتھ کسی بھی کھلواڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
خبر کا کوڈ : 803544
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے