0
Saturday 31 Aug 2019 20:05

ایران نے کشمیر پر دوٹوک موقف اپناکر ایک سچا مسلمان ہونیکا ثبوت دیا ہے، سینیٹر محمد علی سیف

ایران نے کشمیر پر دوٹوک موقف اپناکر ایک سچا مسلمان ہونیکا ثبوت دیا ہے، سینیٹر محمد علی سیف
سینیٹر محمد علی سیف کا تعلق کراچی کے علاقہ عزیزآباد سے ہے، ایم کیو ایم کی طرف سے سینیٹ کے معزز رکن ہیں، قومی معاملات پر کھل کر بولتے ہیں، 2015ء میں بطور سینیٹ رکن منتخب ہوئے، قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کے کنونئیر بھی ہیں۔ اسلام ٹائمز نے کشمیر کی موجودہ صورتحال اور مسلمہ امہ کی خاموشی پر ایک خصوصی انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ادارہ

اسلام ٹائمز: کشمیر کی صورتحال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے، حکومت کے پاس اب کیا آپشنز ہیں۔؟
سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف:
جی دیکھیں، کشمیر ہمارے لیے ایک ایسا ایشو ہے، جس میں اب میک اور بریک کا عمل جاری ہوگیا ہے، ہندوستان کی جانب سے جو حالیہ اقدام ہوا ہے، جس میں کشمیر کو ہندوستان کی ریاست شمار کر دیا گیا ہے، وہ انتہائی قابل مذمت اقدام ہے، آرٹیکل 35 اے کے تحت باہر سے آنے والوں کو کشمیر میں جائیدادیں خریدنے کی اجازت دی گئی ہے، تو یہ ایک بہت بڑا اقدام ہے کہ اس کے اثرات آنے والے سالوں میں دیکھے جائیں گے، اس کے نہ صرف سیاسی بلکہ سماجی اور معاشرتی اثرات اس خطے پر مرتب ہونگے، ہندوستان کی حکومت نے صحیح معنوں میں چیلنج کر دیا ہے۔ کشمیر کو ہندوستان کا حصہ بنا کر تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کے آگے جو جواب ہماری طرف سے جانا چاہیئے، وہ فیصلہ کن ہونا چاہیئے، میرے خیال میں مصلحت اور مفاہمت کے جو نعرے ہیں، اسکو ایک سائیڈ پر رکھ کر اس جدوجہد کا آغاز ہونا چاہیئے، جو کشمیر کی آزادی کا باعث بنے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ جدوجہد کئے بغیر ہم کشمیر کو آزاد نہیں کرا سکتے، کشمیر کو آزاد کئے بغیر، اس کا حتمی فیصلہ کئے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکے گا بلکہ یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا جائے گا۔

اسلام ٹائمز: سر جدوجہد سے کیا مراد ہے آپکی، دوسرا آزادی کیسے ممکن بنائی جاسکتی ہے، اس پر واضح پلان کیا ہوسکتا ہے۔؟
سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف:
میں سمجھتا ہوں کہ آزادی کی نعمت انہی قوموں کو نصیب ہوتی ہے، جو قومیں ایک ہوکر سامنے آتی ہیں، ہندوستان نے نہ صرف بطور پاکستانی بلکہ بطور مسلمان بھی چیلنج کیا ہے اور یہی موقع ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرکے قومی یکجہتی کا اظہار کریں، اب ہم بلوچی، سندھی، پٹھان، پنجابی، سرائیکی، کشمیری سب کو چھوڑیں، یہ ہماری پہچان ضرور ہیں، مگر پاکستانی ہونے کی پہچان سے بڑھ کر نہیں، اس لیے اپنی تمام شناختوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے کشمیر کیلئے ایک ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، یہ ہمارا دینی اور قومی فریضہ ہے کہ ہم کشمیر کے حق میں بات کریں اور اسے عالمی ایشو بنائیں۔

اسلام ٹائمز: حکومت کیطرف سے عالمی عدالت میں کشمیر کا کیس لیکر جانے کا فیصلہ درست ہے یا غلط، اسکے اثرات کیا مرتب ہوسکتے ہیں۔؟
سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف:
اس میں کوئی شک نہیں کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے، لیکن بین الاقوامی قوانین پر جن اداروں سے عملدرآمد کروایا جاتا ہے، وہاں پر فیصلے زیادہ تر سیاسی مفادات کیلئے کئے جاتے ہیں، اقوام متحدہ کی تاریخ ہے اور یہاں طاقتور ممالک کے حق میں فیصلے ہوتے ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ کیس کو عالمی عدالت میں لیکر جانے سے مسئلہ کشمیر دنیا کی سطح پر اجاگر ہوگا اور ہندوستان کی اصل حقیقت کھل کر سامنے آئے گی، مگر یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ کیا ہندوستان یہ تسلیم کرلے گا؟، ہندوستان تسلیم کرے گا، تب ہی عالمی عدالت کوئی فیصلہ دے سکے گی، اس سے بڑھ کر یہ سوال بھی اپنی جگہ پر قائم ہے کہ کیا بھارت عالمی عدالت کا فیصلہ تسلیم بھی کرلے گا۔؟ مجھے ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان نے جو کرنا تھا کر دیا، اب اس کو بےنقاب کرنا اور اسکے غیر قانونی اقدام کو دنیا کے سامنے لانا ضروری ہے۔

اسلام ٹائمز: عمران خان کی حکومت نے خطے کے ممالک کیساتھ تعلقات بہتر کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا نے ہمارا ساتھ نہیں دیا، حتی اسلامی معاملک نے ساتھ نہیں دیا۔ الٹا ایوارڈ سے نوازا گیا۔؟
سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف:
یہ ہماری بدقسمی یہ ہے کہ جب مسلم امہ پر کوئی مشکل درپیش ہوتی ہے یا کوئی چیلنج ہوتا ہے تو ہم مسلمان امہ اور اسلام کے مفاد کے علاوہ دوسرے مفادات کے چکر میں پڑ جاتے ہیں، آج ہندوستان کے سامنے امت مسلمہ کا تصور خیالی رہ گیا ہے، اس کی عملی کوئی شکل نہیں، یہ دنیا مفادات کی دنیا ہے اور مفادات کو ہی وصول کیا جاتا ہے، ہمیں اعتراف کر لینا چاہیئے کہ ہم پرائی جنگوں میں اور پرائے معاملات میں اپنے لئے بھی دشمنیاں پیدا کرتے رہے ہیں، اپنی پہچان بھی عام دنیا کے سامنے دہشتگرد کی بنا دی ہے، آج ہم شائد اس کی سزا بھگت رہے ہیں، ہم اکیلے ہیں، آج بھی ہم فلسطین کیلئے آواز اٹھاتے ہیں اور یہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر رہے ہیں، کوشش کر رہے ہیں کہ سب کے سب اسرائیل کی گود میں جا کر بیٹھ جائیں، لیکن آج بھی ہم ان کا مقدمہ اسرائیل کے خلاف کھڑے ہو کر لڑ رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: پاکستان کو کب عقل آئیگی کہ اسکا مفاد کیا ہے، ہم کیوں خواہ مخواہ دوسروں کے پنگے میں پڑتے ہیں۔؟
سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف:
میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں قومی مفادات کو ترجیح دینی چاہیئے، اس بات سے مکمل طور پر اتفاق کرتا ہوں، یہ دیکھنا چاہیئے کہ کیا یہ اسلام کے نام پر ہم سے اپنے مفادات تو نہیں وصول کر رہے، کیا یہ عربی قومی مفاد تو نہیں وصول کر رہے۔؟ مجھے عرب ممالک بشمول متحدہ عرب امارات کے سب پر افسوس ہے، انہوں نے مسئلہ کشمیر پر ایسی پالیسی اختیار کی ہے، جو مسلم امہ کے مفاد میں ہرگز نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں سعودی عرب نے تو آنکھیں بند کرلیں جبکہ ایران نے پارلیمنٹ میں باقاعدہ قرارداد منظور کی جبکہ ہمارے انکے ساتھ تعلقات ابھی درست سمت میں نہیں تھے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کھل کر کشمیر کے مسئلے پر سپورٹ کیا۔؟
سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف:
میں سمجھتا ہوں کہ ایران نے قرارداد پیش کرکے اور اپنا موقف دیکر مسلمان ملک ہونے کا حق ادا کر دیا ہے، یہ اعتماد ملا ہے کہ کم از کم دنیا میں مسلمان مٹ نہیں گئے، ابھی سچے مسلمان اس روئے زمین پر موجود ہیں، میرے دل میں ایرانی حکومت کی عزت پہلے بھی تھی، اب تو اور بڑھ گئی ہے، تیس چالیس سال سے جب سے ایران میں اسلامی انقلاب آیا ہے، 1979ء سے لے کر اب تک انہوں نے عملی طور پر  ثابت کیا ہے کہ ایران جو بات کرتا ہے، اصولوں کی کرتا ہے اور اصولوں پر ہی عمل کرتا ہے، ایران نقصانات کا خوف کئے بغیر اقدام لیتا ہے اور میرے خیال سے مرد مومن کا شیوہ بھی یہی ہونا چاہیئے کہ دنیاوی چھوٹے چھوٹے مفادات کو اگنور کرے، میرے خیال سے جو مسلمان قربانی نہیں دے سکتا، اس کو سوچنا چاہیئے کہ کیا وہ واقعی اللہ پر ایمان رکھتا ہے۔؟

اسلام ٹائمز: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان افغان امن عمل میں امریکا کو جو سپورٹ دے رہا ہے، اسکو کشمیر کے مسئلہ کیساتھ مشروط کیا جائے، آپ کیا سمجھتے ہیں۔؟
سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف:
جب ہندوستان نے یہ حرکت کی تو پہلے ہی دن انٹرویو میں یہی بات کی تھی کہ پاکستان کو اپنا مفاد مقدم رکھنا چاہیئے اور قومی مفاد کیلئے جو بھی آپشنز آئیں، انہیں اگنور نہیں کرنا چاہیئے، میں نے کہا تھا کہ اگر امریکا افغانستان سے باعزت اپنی جان بچا کر نکلنا چاہتا ہے تو ہمیں امریکا کو مجبور کرنا چاہیئے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ حل کرکے اس خطے سے نکل جائے، کیونکہ افغانستان کا مسئلہ اکیلا واحد مسئلہ نہیں، کشمیر کا مسئلہ خطے کا پرانا مسئلہ ہے، پہلے پرانے مسئلے کو حل کریں، پھر آگے سوچیں۔ اگر امریکا کشمیر کے معاملے پر سپورٹ کرتا ہے تو پھر اس سے تعاون کرنا چاہیئے۔

ہمارا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ افغانستان میں خون بہتا رہے، میں کوئی غیر اخلاقی بات نہیں کرونگا، لیکن یہ کہ ہمیں امریکا کی دم پر پاوں تب تک رکھے رہنا چاہیئے، جب تک کہ وہ مسئلہ کشمیر حل نہیں کرواتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ کبھی بھی کسی کو دنیا کی منت سماجت کرکے یا درخواستیں بھیج کر آزادی نہیں ملتی، یہ قانون قدرت ہے، آزادی اسی کو ملتی ہے، جس نے قربانی دیکر آزادی چھینی ہے۔ میرا یہ خیال ہے کہ جب تک سری نگر کی گلیوں میں بھارتی فوجیوں کا خون نہیں بہے گا، جب تک سری نگر کی ندیاں بھارتی فوجیوں کے خون سے سرخ نہیں ہونگی، تب تک کشمیر کی آزادی ایک خواب ہی ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 813798
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے