0
Friday 6 Sep 2019 23:56

جہادی جتھوں اور غیر ملکی فنڈنگ کے متعلق حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، میاں فرخ حبیب

جہادی جتھوں اور غیر ملکی فنڈنگ کے متعلق حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، میاں فرخ حبیب
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری، میاں فرخ حبیب فیصل آباد سے رکن قومی اسمبلی ہیں، ستمبر 2018ء میں وزیراعظم نے انہیں وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلوے مقرر کیا۔ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر اور ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات رہ چکے ہیں۔ حالات حاضرہ اور ملکی سیاست کے اتار چڑھاؤ پر گہری نظر رکھنے والے رہنماء کیساتھ موجودہ ملکی، سیاسی صورتحال، حکومت کو درپیش چیلنجز، مسئلہ کشمیر، کالعدم تنظیموں اور معاشی صورتحال، ایف اے ٹی ایف کی شرائط سمیت اہم ایشوز  سے متعلق اسلام ٹائمز کیساتھ انکا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: ڈی جی آئی ایس پی آر نے کشمیر میں جہاد کے نام پہ کسی کارروائی کو کشمیر اور پاکستان سے دشمنی کے مترادف قرار دیا ہے، کیا حکومت داخلی طور پر اس پالیسی کو کامیابی سے آگے بڑھائے گی یا پہلے کی طرح کسی دباؤ کا شکار ہو جائیگی۔؟
میاں فرخ حبیب:
یہ ہمیں ماننا پڑیگا کہ کشمیر کیلئے اللہ پر توکل کیساتھ ہم نے حق پہ یقین کیساتھ قدم نہیں اٹھایا، بدقسمتی سے سفارتی طور پر محکم اور مضبوط بنیاد کیساتھ مسئلہ کشمیر پر کام کرنیکی بجائے، پچھلے ادوار میں پاکستانی سرزمین کو دوسروں کے مفادات کے استعمال کیلئے چھوڑ دیا گیا، یہ اب ہمارے گلے پڑ گیا ہے، یہ تو اللہ کی طرف سے دہشت گردوں سے غلطی ہوگئی اور اے پی ایس کا واقعہ ہوگیا پشاور میں اور پوری قوم کی آنکھیں کھلیں کہ ہمیں اپنی پالیسی بدل کر دہشت گردی سے جان چھڑانی چاہیئے، نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا، ایک ذمہ دار قوم ہونیکے ناطے ہماری ضرورت ہے کہ پیشہ وارانہ اپروچ کیساتھ دنیا کا سامنا کرنیکے کیلئے آگے بڑھیں، اب دنیا بدل چکی ہے، انسانی بنیادوں پہ اور اچھی اقدار کیساتھ اپنے آپ کو منوانا پڑتا ہے، جس خطے میں پاکستان اور کشمیر ہے، یہاں روس کو شامل کرکے دنیا کی پچاس فیصد آبادی ہے۔

اب اس صورتحال میں پوری دنیا کا مستقبل داو پہ لگ سکتا ہے، اگر ایٹمی جنگ ہوگی تو دنیا میں کوئی جگہ بچے گی نہیں، اب دنیا کی ذمہ داری ہے کہ خاموشی توڑیں، بھارت انسانیت کی دھجیاں اڑا رہا ہے، اقوام عالم کو بولنا پڑیگا، مدارس کو حکومت نے
کنٹرول کیا ہے، کالعدم تنظیموں کو مکمل طور پر رول بیک کر دیا گیا ہے، ہم نے مکمل طور پر تہیہ کیا ہے کہ پاکستان کی زمین اب کوئی بھی ذاتی مقصد کیلئے یا خود جہاد کشمیر کے نام پر استعمال کرنیکی اجازت نہیں دی جائیگی، چاہے حافظ سعید صاحب ہوں، جیش محمد ہو یا کوئی اور جماعت یا شخص، اجازت نہیں ہوگی کہ ریاست کی پالیسی کو سبوتاژ کرکے پاکستان کو نقصان پہنچائے، اب جو کچھ بھی ہوگا وہ پاکستان کی ریاست، حکومت اور فوج کریگی۔

نان اسٹیٹ ایکٹر کا تو صفحہ ہی پھاڑ دیا گیا ہے۔ یہ بات تسلیم کرنا پڑیگی کہ اسٹیٹ نے ہی ان عناصر کو استعمال کیا تھا، لیکن اب ایسا کچھ نہیں ہوگا، نہ ہی پاکستان اس کا متحمل ہوسکتا ہے۔ کشمیر ہو یا افغانستان کسی بھی ایشو کیلئے غیر ریاستی عناصر کو سرزمین استعمال نہیں کرنے دینگے۔ اس سے پہلے کسی حکومت نے کالعدم تنظیموں کو معطل نہیں کیا، ہم نے اکراس دا بوڑد ایکشن لیا ہے، لوگوں کو بند کیا ہے، مدارس کو قانونی دائرے میں لائے ہیں۔ رٹ قائم کی گئی ہے، اس سے بہت اچھے اثرات مرتب ہونگے، مدارس کے ایک ایک بچے کو دیکھیں گے، ریاست ہر چیز کو ملکی قانون کے مطابق لیکر چلے گی۔ پورے اعتماد کیساتھ پالیسی بنائی گئی ہے، اس پر عمل بھی ہو رہا ہے اور ہوگا، اب ہمارے پاس کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ہمارے دل میں کوئی چور ہو اور ہم دنیا میں کشمیر سمیت اپنے مسائل پہ دنیا میں آواز بلند کر رہے ہوں۔

اسلام ٹائمز: جس طرح دورہ امریکہ سے پہلے حافظ سعید کو گرفتار کیا گیا، اسی طرح ایف اے ٹی ایف کی لسٹ سمیت بین الاقوامی دباؤ سے نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔؟
میاں فرخ حبیب:
ہاں یہ سب چیزیں آپس میں باہم مربوط ہیں، یہ بھی ہم نے پہلی مرتبہ مستقل اقدامات کیے ہیں، فنانشل ٹاسک فورس نے ہمیں ہر طرف سے جکڑ لیا تھا، پہلے جب بھی آتے تھے تو وزارت خزانہ، داخلہ اور وزارت خارجہ، اسٹیٹ بینک، مالیاتی نگرانی کا یونٹ، سب الگ الگ ڈیل کرتے تھے، ٹیم ورک نہیں تھا، ہم نے پہلے تو ان سب اداروں کو یکجا کیا ہے، اب ہمیں اعتماد پیدا ہوگیا ہے کہ اکتوبر میں جو ریویو ہے، ہم گرے لسٹ سے نکل آئیں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے دوست ممالک، جیسے ملائشیاء، ترکی،
چین تھے، لیکن زیادہ اسپورٹ نہیں کر پاتے تھے، اس دفعہ نہیں پوچھا گیا کہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر دوسرے ملکوں سے پیسہ آتا ہے، پاکستان کا کوئی سسٹم نہیں، ریاست کی رٹ اس سے چیلنج ہوتی ہے، پاکستان کوئی اقدامات ہی نہیں کر رہا، پہلی حکومت کے پاس کوئی ثبوت ہی نہیں ہوتا تھا کہ ہم یہ اقدامات کر رہے ہیں۔

ہم نے انسداد دہشت گردی فورس پنجاب، کے پی، آرمی کورٹس سمیت اہم اداروں سے ایسے افراد کا ڈیٹا لیا ہے، جو فرقوں کی بنیاد پہ مختلف ملکوں سے پیسہ لیتے تھے، پاکستان میں تقسیم کرتے تھے، پھر یہ ڈیٹا ایف اے ٹی ایف کیساتھ شیئر کیا ہے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیکٹا کے اندر ایک ٹیم کی صورت میں یہ سب انیشیٹو لے گئے ہیں، اب ایف اے ٹی ایف پاکستان کے اقدامات سے مطمئن ہے۔ جب ہم نے اقدامات کیے ہیں، ادارے مطمئن ہیں تو کیوں پاکستان کو گرے لسٹ سے نہیں نکالیں گے۔ اسی طرح نیشنل ایکشن پلان کے مطابق جو 20 نکاتی ایجنڈا بنا تھا، ان نکات کے مطابق کمیٹیز اور سب کمیٹیز بنی تھیں، لیکن ان کی کبھی میٹنگ نہیں ہوئی، حتیٰ کہ کبھی ایک میٹنگ بھی نہیں ہوئی، اب ان کی ٹیمیں بنائی گئی ہیں، ان کے اجلاس ہوتے ہیں، ان کی کارکردگی ہے، سب کمیٹیز کام کر رہی ہیں۔

سی ٹی ڈی نے ٹیرر فنانس کے لیے استعمال ہونے والے سارے اکاونٹس اور چینلز ٹریس کیے ہیں، جن پر ہمارا کام ہے، ایسی تمام رقوم اور جہاں جہاں ایف اے ٹی ایف کا کنسرن تھا، وہ ہم نے سو فیصد دے دیئے ہیں، اب انہوں نے مزید بھی چیزیں مانگی ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ 23 فیصد ہماری فارمل اکانومی ہے، باقی ساری ان فارمل اکانومی ہے، جس میں سب سے بڑا حصہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا ہے، فضائی، بحری اور بری راستوں سے جیسے جیسے کیپیٹل موومنٹ ہوتی ہے، اس کی رپورٹس بنائی ہیں، انٹی نارکوٹکس فورس، ائیرپورٹ سکیورٹی فورس، کسٹمز، کوسٹل فورسز میں مثالی اقدامات لیے ہیں، جو دنیا میں کسی بھی فورم پہ انہیں اطمینان دلانے کیلے کافی سے زیادہ ہیں۔ پاکستان کے جتنے بھی داخل اور خروج کے پوانٹس اور مقامات ہیں، سب پہ کام کیا ہے، نگرانی ہوتی ہے، کنٹرول ہے، اب اندر سے ایسی کوئی کمزوری نہیں جس کو بنیاد بنا کر کوئی ہمیں پھنسا
سکے۔ اس زیرو ٹالرنس پالیسی کیساتھ اپنے دوست ممالک کو بھی بتا دیا گیا ہے کہ انہیں ریاست سے بڑھ کر کسی قسم کی فنڈنگ کی اجازت نہیں دی جائیگی۔

اسلام ٹائمز: کیا مشرق وسطیٰ سے مدارس اور مذہبی تنظیموں کیلئے آنیوالی امداد مکمل طور پر رکوا دی گئی ہے، اس پر عالمی اداروں کو کیسے اطمینان دلایا گیا ہے۔؟
میاں فرخ حبیب:
عرب ممالک سے آنے والا پیسہ تو خود ہی بند ہوگیا ہے، باقی جو کچھ تھا وہ ہم نے کنٹرول کر لیا ہے۔ اب ہم نے ممالک کیساتھ ایم او یوز سائن کیے ہیں اور اب مجرموں کی حوالگی کے معاہدے بھی کر لیے ہیں، جس میں برطانیہ اور ترکی بھی شامل ہیں۔ اب یہ دفاعی اپروچ ہمیں مار رہی ہے، اس سے نجات حاصل کر لی ہے، مودی کے اقدامات نے کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے، اس موقع سے ہم فائدہ اٹھائیں گے، کسی کو سفارتی میدان میں پاکستان کیخلاف انگلی اٹھانے کا موقع نہیں دینگے۔ میڈیا کو احتیاط کی ضرورت ہے، ہندوستان پاکستانی چینلز کی فوٹیج ایف اے ٹی ایف میں پیش کرتا ہے، ریاست کو مشکلات ہوتی ہیں۔

اب کسی جتھے کو وہ لبرل ہوں یا غیر ریاستی عناصر، انہیں ریاست کو ڈکٹیٹ کرنیکی اجازت نہیں دینگے۔ کسی بھی لیول پر نان اسٹیٹ ایکٹرز کو پاکستان میں آپریٹ کرینکی اجازت نہیں ہوگی، اس میں ہزاروں این جی اوز بھی ہیں، کئی فلاحی ادارے ہیں، ان کے مقابلے میں دینی تنظیمیں، مدارس اور کالعدم تنظیمیوں کی تعداد تو بہت کم ہے، کچھ غیر ملکی چینلز اور ان کی ویب سائیٹس بھی بند کی گئی ہیں، ہر طرف سے ایک پالیسی کو مکمل طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔

اسلام ٹائمز: سکیورٹی کیساتھ معیشت بھی جڑی ہوئی ہے، حکومت کفایت شعاری کی پالیسی پر گامزن ہونیکے دعوے کر رہی ہے، لیکن معیشت نہیں سنبھلی، نہ ہی عام آدمی کو ریلیف ملا ہے، بہتری کی توقعات دم توڑ رہی ہیں، حکومت وعدوں پہ پوری کیوں نہیں اتری۔؟
میاں فرخ حبیب:
لوگوں کو پریشانی ہے، ہمیں اس کا احساس ہے، ہماری نیت ٹھیک ہے، معاشی ٹیم ملکی اقتصادی صورتحال بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہے اور حکومت سنبھالی تو معاشی صورتحال زبوں حالی کا شکار تھی۔ حکومت نے کفایت شعاری کی پالیسی اپنائی جبکہ درآمدات اور کرنٹ اکاؤنٹ
خسارے میں کمی کی گئی۔ بجٹ میں کمزور طبقات کیلئے 100 فیصد مراعات دی گئیں اور ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پہلی بار عسکری اخراجات کو منجمد کیا گیا اور قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے 150 ارب روپے مختص کیے گئے۔ گذشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال برآمدات میں اضافہ ہوا اور اگست کے مہینے میں سیلز ٹیکس میں 43 فیصد اضافہ ہوا۔

ٹیکس وصولیاں مقررہ اہداف کے مقابلے میں 90 فیصد پر آئیں اور گذشتہ سال 19 لاکھ ٹیکس فائلرز تھے۔ ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھکر 25 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور ٹیکس دہندگان کی تعداد میں 27 فیصد اضافہ ہوا۔ 2015ء سے اب تک سیلز ٹیکس ریفنڈ کلیئر کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور فیصلے سے 10 ہزار ٹیکس دہندگان کو فائدہ ہوگا۔ تاریخی ریونیو کولیکشن چاہتے ہیں، جس کیلئے ٹارگٹس بڑھا کر رکھے ہیں اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔ سیلولر کمپنیاں اب ہمیں براہ راست ادائیگیاں کریں گی اور گذشتہ 2 روز میں سیلولر کمپنیوں نے 70 ارب روپے حکومت کو دیئے۔ اس کے علاوہ مزید کمپنیوں سے رقوم ملنے پر فنڈز 200 ارب روپے ہو جائیں گے اور زراعت کی ترقی کیلئے اہم فیصلے کر رہے ہیں۔

ہم پرامید ہیں کہ رواں سال زراعت میں گروتھ ریٹ 3.5 فیصد ہوگا اور ایکسپورٹ ٹیکس ریفنڈ کا نیا نظام 30 اگست سے لاگو ہوچکا ہے، سرکاری محکمے 2 ارب تک کے منصوبوں پر خود فیصلے لے سکیں گے اور نان ٹیکس ریونیو میں اس سال خاطر خواہ اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ بجلی چوری کو کنٹرول کرکے 120 ارب روپے بچائے گئے اور گیس چوری میں بھی 9 سے 10 فیصد تک کمی آئی۔ پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین کو دیا اور ایکسپورٹ ٹیکس ریفنڈ میں ایف بی آر اہلکاروں کا کردار ختم کر دیا۔ ایکسپورٹ ٹیکس ریفنڈ کا نیا نظام 30 اگست سے نافذ ہوچکا ہے اور ایکنک نے 579 ارب روپے کے منصوبے منظور کیے۔

ایکنک نے زرعی شعبے میں 250 ارب کے منصوبوں کی منظوری دی اور گذشتہ 5 سال میں زرعی شعبے میں ترقی کی شرح منفی رہی۔ رواں مالی سال زرعی شعبے میں ساڑھے 3 فیصد ترقی کا امکان ہے۔ نان ٹیکس ریونیو میں 800 ارب روپے کا اضافہ متوقع ہے اور شعبہ توانائی
کی آمدن میں 8 ماہ میں 120 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ ماضی میں گردشی قرضوں میں ماہانہ 38 ارب روپے کا اضافہ ہو رہا تھا۔ گردشی قرضوں میں ماہانہ 28 ارب روپے کی کمی لائی گئی اور پرانے قرضوں کی ادائیگی کیلئے 3 ہزار ارب دینے ہیں۔ قرضوں کی ادائیگی کے لیے ریونیو چاہیئے۔ آٹے کی قیمت کنٹرول کرنے کیلئے اسٹیک ہولڈر سے میٹنگ ہوگی اور حکومت کا ہر فیصلہ عوامی مفاد، ملکی بھلائی کے تناظر میں ہو رہا ہے۔ امیر افراد کے ٹیکس ریفنڈ پر اگلے ماہ بڑا فیصلہ آئے گا۔

اسلام ٹائمز: حکومت ایک طرف معاشی مشکلات کا شکار ہے، دوسری طرف مخصوص گروپوں کو اربوں معاف بھی کئے جا رہے ہیں، کیا کرپشن کی جڑیں اتنی مضبوط ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کی حکومت میں بھی سرایت کرچکی ہیں۔؟
میاں فرخ حبیب:
اب تو یہ آرڈینس واپس لیا جا چکا ہے، جی آئی ڈی سی کے بارے میں سپریم کورٹ سے رہنمائی لی جائے گی اور جی آئی ڈی سی میں ہر فیصلہ قانون، عوامی مفاد کی بنیاد پر ہوگا۔ ہماری حکومت میں شفافیت کا عنصر قانون کے مطابق ہے اور جی آئی ڈی سی لانے کا مقصد کھاد کی قیمتوں میں کمی کرنا ہے۔ واپسی کا فیصلہ حکومت نے تنازع کے بعد گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس سے متعلق آرڈیننس واپس لیا ہے۔ ہماری رائے پھر بھی یہی ہے کہ اب جب یہ واپس لیا گیا ہے، کچھ مدت انتظار کریں، اس کے اثرات آنا شروع ہو جائنگے۔ گیس انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سرچارج کوئی نئی چیز نہیں، عدالتی فیصلے کے تحت قدم اٹھایا تھا۔ 2011ء کی حکومت نے جی آئی ڈی سی لگایا تھا۔

2017ء کی حکومت نے سی این جی سیکٹر سے متعلق معاہدہ کیا تھا، جی آئی ڈی سی کا مسئلہ عوامی مفاد میں حل کیا تھا، حکومت کو پہلے سال 45 ارب روپے حاصل ہونے تھے، جی آئی ڈی سی میں کسی کو کوئی رعایت نہیں دی گئی تھی، کمپنیوں سے فرانزک آڈٹ کی شرط پر عمل کا کہا گیا تھا، فرٹیلائزرسیکٹر کا اسپیشل آڈٹ بھی شامل تھا، حکومت کی طرف سے کسی بھی شعبے میں ناجائز رعایت نہیں دی جا رہی تھی، وزیراعظم نے اسپیشل آڈٹ کے لئے ترمیم کی ہدایت کر دی تھی، اس کے باوجود کہ پچھلی حکومت نے سی این جی سیکٹر سے معاہدہ کرکے 50 فی صد معاف کیا تھا، اب یہ معاملہ عدالت کے ذریعے حل ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 814881
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب