0
Monday 23 Sep 2019 13:37
مودی حکومت میں بھارت کی کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں ہے

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور میڈیا پر پابندیاں قابل مذمت ہیں، قمر علی آخون

ہم سے ہمارا قومی پرچم، ہماری خود مختاری اور ہمارا آئین چھینا گیا، ہم یہ سب کیسے برداشت کرسکتے ہیں
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور میڈیا پر پابندیاں قابل مذمت ہیں، قمر علی آخون
قمر علی آخون کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے سرحدی ضلع کرگل سے ہے۔ وہ کرگل خطے میں سیاست میں اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں، وہ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی میں مسلسل بارہ سال تک کرگل سے ایم ایل اے منتخب ہوئے ہیں۔ قمر علی آخون روز اول سے ہی جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس سے وابستہ رہے، ریاست جموں و کشمیر کی وحدت کی سلامتی کیلئے وہ ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں، قمر علی آخون کا ماننا ہے کہ ہم ریاست کی کسی بھی تقسیم کاری کے سراسر خلاف ہیں۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نے قمر علی آخون سے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: سب سے پہلے ہم کرگل خطے کی موجودہ صورتحال کے بارے میں جاننا چاہیں گے کہ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد کیا حالات درپیش ہیں۔؟
قمر علی آخون: دیکھیئے جہاں تک خطے لداخ کا تعلق ہے تو یہ خطہ ہمیشہ جموں و کشمیر سے منسلک تھا۔ ہماری ریاست کے تین صوبے تھے، لیکن اچانک جموں و کشمیر کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ہم سرے سے ہی تقسیم کاری کے خلاف ہیں۔ ہم اس ڈویژن کے خلاف ہیں، ہم ہمیشہ یونائیٹڈ اسٹیٹ کے حق میں رہے ہیں۔ ہم نے بھارت کے تمام نمائندوں سے یک زبان ہوکر جموں و کشمیر کی وحدت کی بات کی ہے۔ بھارتی حکومت کا یہ فیصلہ ہماری امنگوں کے برخلاف ہے۔ آخر کسی سیاسی جماعت یا لیڈر کو اعتماد میں لئے بغیر کیوں مختلف ڈیژن کے قیام کے فیصلے لئے گئے۔ کیوں آئین اور جمہوریت کا پاس و لحاظ نہیں رکھا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کو تقسیم کا فیصلہ سراسر غیر جمہوری قدم ہے۔ یہ فیصلہ کشمیری عوام کے جذبات اور احساسات کے بالکل برخلاف لیا گیا۔

اسلام ٹائمز: خطے لداخ میں اس تقسیم کاری کے کیا نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔؟
قمر علی آخون:
دیکھیئے خطہ لداخ دو اضلاع پر مشتمل ہے، کرگل اور لہہ۔ کرگل میں مسلم آبادی زیادہ ہے تو لہہ میں بودھسٹ کی اکثریت ہے، اس وجہ سے دونوں اضلاع کے مطالبات اور افکار مختلف رہے ہیں۔ لہہ والوں نے ہمیشہ یونین ٹئریٹری کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرگل والوں نے ہمیشہ یونین ٹئریٹری کی مخالفت کی ہے اور ریاست کی وحدت کی بات کی ہے۔ اس لئے اگر آج لہہ والوں کا مطالبہ پورا کیا گیا اور کشمیر کو تقسیم کیا گیا تو یہ ہم پر سراسر ظلم کیا گیا ہے۔ ہم آج بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں جموں و کشمیر کے ساتھ رکھا جائے، ہمارا مستقبل کشمیر سے جڑا ہوا ہے۔

اسلام ٹائمز: کیوں ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کاری عمل میں لائی گئی۔؟
قمر علی آخون:
یہ فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے، اس فیصلہ سے نہ کشمیر خطے کا کوئی فرد راضی ہے نہ جموں خطے کے لوگ اس فیصلے سے مطمئن ہیں، لداخ خطے میں بھی اس حوالے سے مختلف رائے پائی جاتی ہے۔ اگر اس فیصلہ کو لوگوں نے قبول کیا ہوتا تو یہاں اس قدر پابندیاں عائد نہیں کی جاتیں، لوگوں کو اس قدر پریشانیوں کا سامنا نہیں ہوتا۔ جب کسی کو اعتماد میں لئے بغیر فیصلہ لیا جاتا ہے تو یہی نتائج سامنے آتے ہیں، جو آج کشمیر بھر میں صورتحال درپیش ہے۔ یہاں گورنر آئے، ہم نے ان سے بھی یہی بات دہرائی کہ ہم کسی بھی حال میں اس فیصلہ کو قبول کرنے والے نہیں ہیں۔ ہم نے ان سے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کی عوام بھارتی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

بھارت خود بھی جانتا ہے کہ کشمیری عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ مایوسی کا شکار ہیں۔ خاص طور پر کشمیر وادی میں لوگ خون کے آنسو بہا رہے ہیں۔ لہہ کے لوگوں نے بھی جب دیکھا کہ یو ٹی میں فائدے سے زیادہ نقصان ہی ہے تو وہ بھی پشیمان ہوگئے اور ابھی افسوس کر رہے ہیں۔ یو ٹی کے نتیجے میں ہم سے ہمارے حقوق چھینے گئے ہیں، عوام سے ان کی نمائندگی چھینی گئی۔ اسمبلی میں لوگ اپنا نمائندے چنتے تھے اور وہ ان کے روزمرہ کے امور انجام دیتے تھے، لیکن اب ہمیں ایک ایک چیز کے لئے محتاج کیا گیا ہے۔ اب ہمیں ایک ایک لقمے کے لئے نئی دہلی سے بھیک مانگنی پڑے گی۔ یہ بات  کشمیری عوام جانتی ہے اور لہہ کے لوگوں پر بھی حقیقت جلدی آشکار ہوگی۔ غرض کہ یونین ٹئرٹری کے نتیجے میں ہمیں بے پر و بال کیا گیا۔

اسلام ٹائمز: کرگل کی عوام لہہ کیساتھ رہنے کے بجائے وادی کشمیر کیساتھ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں، آپ کیا مانتے ہیں۔؟
قمر علی آخون:
میں نے کہا کہ ہم متحدہ جموں و کشمیر کی بات کرتے ہیں، ہم نے ریاست کے تینوں خطوں کی وحدت کی بات کی ہے۔ جموں، کشمیر اور لداخ تینوں خطے ایک مکمل ریاست ہے، اس کو تقسیم نہیں کیا جانا چاہیئے تھا۔ ہم ریاست جموں و کشمیر کے خصوصی پوزیشن کے حق میں رہے ہیں۔ جب ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کیا گیا تو ہم نے بھارتی حکومت سے زوردار مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پالیسی پر دوبارہ غور کرے۔ ہم یونائیٹد جموں و کشمیر کے حق میں ہیں۔

اسلام ٹائمز: کیا آپ ایسا سوچتے ہیں کہ بھارت مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کی وحدت کو برداشت کریگا۔؟
قمر علی آخون:
بھارت نے ہماری وحدت کو توڑنے کی ایک واضح کوشش کی ہے۔ بھارت کیا چاہتا ہے یا کیا کرتا ہے، اگر ہماری سالمیت کے خلاف وہ اقدام ہیں تو ہمیں آواز بلند کرنے کا حق حاصل ہے۔ بھارت اگر یہ سوچتا ہے کہ کشمیری عوام اس تقسیم کاری سے خوش یا مطمئن ہو جائیں گے تو یہ اس کی غلط سوچ ہے۔ ہم نے بھارت کے نمائندوں سے بھی یہ بات دہرائی کہ ہم تقسیم کاری کے خلاف ہیں۔ جب بھی کوئی حکومت پرانا نظام ختم کرتی ہے اور نیا نظام یا قانون لے کر آتی ہے تو نیا قانون راحت بخش اور سودمند ہوتا ہے، لیکن بھارت نے کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کیا اور ریاست کی سالمیت کو خطرے سے دوچار کیا، ایسا کرنا کس جمہوریت میں روا ہے۔ ان قوانین کے نتیجے میں ہمیں نقصان ہی نقصان اٹھانے پڑ رہے ہیں، جو پہلے سے کچھ حقوق ہمیں دیئے گئے تھے، وہ بھی چھینے گئے۔ ہم سے ہمارا قومی پرچم، ہماری خود مختاری اور ہمارا آئین چھینا گیا، ہم یہ سب کیسے برداشت کرسکتے ہیں۔ جب ہم نے اپنے مطالبات گورنر کے سامنے رکھے تو انہوں نے سرد مہری کا مظاہرہ کیا، لیکن ہم اپنے مطالبات کے سامنے ڈٹے رہے۔

اسلام ٹائمز: سننے میں آیا کہ کرگل کے لیڈروں نے گورنر کے سامنے اہم اور بنیادی نکات نہیں رکھے بلکہ جزوی چیزوں پر بات کی، آپ اس حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
قمر علی آخون:
میں ذاتی طور پر خود گورنر کے ساتھ میٹنگ میں شریک تھا۔ ہم نے اہم اور بنیادی نکات گورنر کے سامنے رکھے۔ میں نے اور جناب اصغر علی کربلائی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہمیں یونین ٹئریٹری قبول نہیں ہے اور ہم دفعہ 370 کے خاتمے کے خلاف ہیں۔ کم سے کم ہمارا مطالبہ یہ تھا کہ کرگل کو الگ یو ٹی دی جائے، ہمیں لہہ کے ساتھ نہیں رکھا جائے۔ ہم نے تمام حکمرانوں سے کہا کہ ہمارے حقوق کو بحال کیا جائے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ گورنر نے کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیا۔ انہوں نے یہ تک کہا کہ یو ٹی اور دفعہ 370 کی بحالی میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کمزور کرنیکی سازشیں بھی ہو رہی ہیں، اس حوالے سے آپ کیا رائے رکھتے ہیں۔؟
قمر علی آخون:
یہ تو دشمن کی سازش رہے گی کہ ہماری مشترکہ کوشش کو کمزور کیا جائے، جموں کو کشمیر سے اور کشمیر کو لداخ سے لڑایا جائے، ہمیں ایک دوسرے سے الگ کیا جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کرگل کے عوام کی مشترکہ آواز ہے، اس لئے دشمن اسے کیسے برداشت کرسکتا ہے۔ آپ خود دیکھ رہے ہیں کہ فرقہ وارانہ فسادات کو کس قدر پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ کشمیر کے ساتھ ساتھ بھارت بھر میں اقلیت میں خوف و ہراس طاری ہے، لوگ سہمے ہوئے ہیں۔ کل بھارت میں شورش زیادہ تھی تو آج ہماری ریاست سازشوں کی زد میں ہے۔

اسلام ٹائمز: مقبوضہ کشمیر کی مین اسٹریم سیاسی قیادت بھی جیلوں میں قید ہے، آپکی جماعت نیشنل کانفرنس کے لیڈران بھی مقید ہیں، حکومت کے ان اقدام کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
قمر علی آخون:
جی ہاں، آج جموں و کشمیر کی تمام سیاسی قیادت جیلوں میں قید ہے، میں نے گورنر صاحب سے بھی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کی رہائی کی بات کی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب تک جموں و کشمیر کے سیاسی قائدین کی رہائی عمل میں نہیں لائی جاتی، تب تک ہم کوئی مسقتل لائحہ عمل مرتب نہیں کرسکتے ہیں۔ قیادت کے بغیر ریاست کے تینوں خطوں کا رابطہ ٹوٹ گیا ہے، ہمیں کیا کرنا چاہیئے کوئی نہیں جانتا، جب قیادت رہا ہوکر آئے گی تو ہم کچھ سوچ سکتے ہیں۔ تین ہزار کے قریب سیاسی قائدین و کارکنان جیلوں میں قید ہیں، ایسے میں امن و امان کی امید کیسے کی جاسکتی ہے۔ جب ہم نے گورنر سے قیدیوں کی رہائی کی بات کی تو انہوں نے اس بارے میں بھی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔

میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ کیوں ہمیں سیاسی جدوجہد سے بھی روکا جا رہا ہے۔ کیوں ان لیڈروں کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے، جنہوں نے بھارتی آئین پر حلف اٹھایا ہے، حتی کہ بھارتی پارلیمنٹ کے ممبروں کو بھی جیل میں رکھا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور میڈیا پر پابندی بھی قابل مذمت ہے۔ سب سے بڑے جمہوری ملک میں بھی لوگ خوف و ہراس کے شکار ہیں، یہ گاندھی جی کا ہندوستان تو نہیں ہے، یہ خود بھارتی آئین کے منافی روش ہے جو بھاجپا نے اپنائی ہوئی ہے۔ مودی حکومت میں بھارت کی کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں ہے۔ یہ ہندو انتہا پسندی بھارت کی سالمیت کے لئے بھی شدید خطرہ ہے۔ لیڈر کے پاس خطروں سے لڑنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، لیڈروں کو بغیر خوف و خطر کے آگے آکر ملک کی سالمیت کو بچانا ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 817824
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب