0
Monday 23 Sep 2019 13:41
آج کشمیر فلسطین سے زیادہ مظلوم ہے

کشمیری عوام کی یہ وقتی خاموشی ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے، آغا سید عباس

بہت جلدی کرگلی عوام کشمیری عوام کیساتھ ملکر بھارت کو دندان شکن جواب دینگے
کشمیری عوام کی یہ وقتی خاموشی ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے، آغا سید عباس
آغا سید عباس موسوی کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے سرحدی ضلع کرگل سے ہے، وہ کرگل خطے کے معروف عالم دین آغا سید محمد موسوی کے صاحبزادے ہیں۔ آغا سید عباس گذشتہ پندرہ برسوں سے کرگل میں سیاست میں اہم کردار ادا کئے ہوئے ہیں، لداخ ہِل کونسل میں اہم عہدوں پر فائز ہونے کے بعد آج کونسل کے ایگزیکٹیو کونسلر ہیں، انہوں نے مسئلہ کشمیر پر واضح موقف اختیار کیا ہوا ہے، انکا ماننا ہے کہ ہم کشمیری عوام اپنی سرزمین پر کسی ملک کو اپنی جنگ لڑنے کی اجازت ہرگز نہیں دینگے۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نے آغا سید عباس موسوی سے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ دو ماہ سے صورتحال تشویشناک بنی ہوئی ہے، کرگل خطے کے کیا حالات ہیں۔؟
آغا سید عباس:
سب سے پہلے ہم آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہیں گے کہ آپ نے کرگل خطے کا دورہ کیا۔ دیکھیئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے سے یہاں بحرانی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ میں گذشتہ پندرہ برسوں سے سیاست میں ہوں تو میں نے ایسا بحران کبھی نہیں دیکھا۔ ساتھ ہی ساتھ آج جو تقسیم اور تفریق کی سیاست بھارت بھر میں جاری ہے، یہ بہت ہی بدقسمتی کی بات ہے۔ یہ مذہب اور طبقوں کی تقسیم بہت ہی خطرناک ہے۔ اگر آپ تاریخ کا مشاہدہ کریں گے تو کرگل لداخ خطہ تمام مذاہب کے درمیان باہمی رواداری کا مرکز رہا ہے، لیکن آج بھاجپا کی حکومت کے نتیجے میں تفرقہ اپنے عروج پر ہے۔ کرگلی عوام نے ہمیشہ اخوت و برادری کا ثبوت فراہم کیا ہے، یہاں آج بھی مندر اور مساجد کی دیواریں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں، لیکن یہ حکمران نہیں چاہتے کہ یہاں امن و سلامتی کی فضا قائم رہے۔ ہم ان سے یہی کہنا چاہتے ہیں کہ ہوش کے ناخن لیں، ورنہ پھر یہ نفرت کی آگ انہیں جلا کر راکھ کر دے گی۔ یہ دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کا خاتمہ دلیل ہے کہ بھارتی حکومت یہاں لوگوں کا آرام اور سکون زور و زبردستی چھیننا چاہتی ہے۔ ہم اگرچہ فلسطین کے لئے نعرے لگاتے تھے، لیکن آج کشمیر فلسطین سے زیادہ مظلوم ہے۔
 
اسلام ٹائمز: مقبوضہ کشمیر بھر میں میڈیا پر پابندی کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
آغا سید عباس:
دیکھیئے میں سیاسی لیڈر کی حیثیت سے کہنا چاہوں گا کہ اگر حکومت حق بجانب ہے تو یہ پابندیاں کیوں۔ سیاسی قیادت کو جیلوں میں کیوں بھر دیا گیا ہے۔ دو مہینے سے مواصلاتی نظام معطل کیوں کر دیا گیا ہے۔ میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ ظلم و تشدد سے پُرامن شہریوں کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا ہے۔ کب تک لوگوں کو گھروں میں محصور رکھا جائے گا۔ کب تک اسکول اور دفاتر مقفل رکھے جائیں گے۔ یہ زور و زبردستی علامت ہے کہ حکومت کا فیصلہ غیر قانونی ہے۔ آج لداخ میں بودھ اور مسلم آمنے سامنے ہیں اور اس نفرت کی ذمہ داری بی جے پی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ آخر کیوں ہمارے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی اور ہم سے ہمارا آئین چھینا گیا۔ کیوں بھارت خود ہی کشمیر کو شام و عراق بنانے کے درپے ہے، کہاں گئے وہ اٹوٹ انگ کے دعوے۔

اسلام ٹائمز: وطن عزیز کے دشمن کیخلاف ہمارا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیئے۔؟
آغا سید عباس:
دیکھیئے میں اپنے علماء کرام سے مخاطب ہوکر کہنا چاہوں گا کہ وہ کتنے آمادہ ہیں۔ میں دینی تنظیموں سے اپیل کرنا چاہوں گا کہ وہ باہم متحد ہو جائیں اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر لیں۔ محرم و صفر کے ایام میں ہمارے علماء کرام کو کشمیر کو درپیش مسائل اور انکے حل کے بارے میں گفتگو کرنی چاہیئے، میرے والد صاحب بھی ایک عالم دین ہیں، میں سب سے پہلے ان سے کہنا چاہوں گا کہ وہ آگے آکر اپنی مسئولیت کو نبھائیں۔ علماء کرام کو ان ایام میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی پوزیشن پر بات کرنی چاہیئے۔ اگر ہمارے علماء آج بھی زبان نہیں کھولتے ہیں تو پھر کب بولیں گے۔ اللہ نے موقع فراہم کیا، وہ علماء کی بات سننے مجلس میں آتے ہیں تو ہمارے ذمہ داروں کو حالات حاضرہ سے انہیں آگاہ کرنا چاہیئے۔ جب ہم اپنے روایتی بھائی چارے کو بیان کریں گے تو بھارت کی پارلیمنٹ میں جو افراد تقسیم و تفریق کی تعلیم دیتے ہیں، انہیں خبردار کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے علماء کو اس سنگین وقت میں خاموش نہیں بیٹھنا چاہیئے۔ جو ہمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں، وہ کشمیر آئیں اور خود دیکھیں کہ ہم کس طرح باہم متحد ہیں۔

اسلام ٹائمز: بھاجپا حکومت کے ہوتے ہوئے لوگ ڈر کا شکار ہیں اور عام لوگ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں، ایسا کیوں ہو رہا ہے۔؟
آغا سید عباس:
ڈر انہوں نے پیدا کیا ہے، جب انہوں نے گھر کے افراد کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑوایا ہے۔ بھائی کو بھائی کا دشمن بنایا ہے، مسلمانوں کو باہم دست بگریباں کیا ہے۔ ہندو مسلم فسادات کو تقویت دی تو ڈر خود بخود پیدا ہوگیا ہے۔ بھارت میں جہاں کہیں بھی زیادہ مسلمان ہیں، وہاں انہوں نے فسادات کروائے، اپنے غنڈوں کو آزاد چھوڑا، ہندو مسلم فسادات کی کوئی تحقیقات نہیں ہوتی۔ گائے کے نام پر پورے بھارت کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ووٹ کی خاطر اقلیت میں ڈر پیدا کیا گیا۔ کبھی گائے کے نام پر تو کہیں ڈر پیدا کراکر ووٹ حاصل کیا گیا۔ آج جہاں دیکھیں ڈر ہی ڈر ہے۔ اس کے پیچھے آر ایس ایس کی ایک مکمل پالیسی کارفرما ہے۔ کشمیر بھر میں تمام سہولیات معطل ہیں۔ کشمیر کو ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے، فوجی حصار میں ڈر ہی پیدا ہوگا اور کچھ نہیں۔ لیکن آر ایس ایس اور اسکے آلہ کار یہ سمجھ لیں کشمیری عوام کی یہ خاموشی ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ بہت جلدی کرگلی عوام کشمیری عوام کے ساتھ مل کر بھارت کو دندان شکن جواب دیں گے۔

اسلام ٹائمز: کرگل کے مسائل کے راہ حل کیلئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی، کیا اسے بھاجپا توڑنے کیلئے کوشش نہیں کریگی۔؟
آغا سید عباس:
بی جے پی یا آر ایس ایس جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو توڑنے کی کوشش کرے گا نہیں بلکہ انہوں نے اس کمیٹی کو توڑنے کے لئے کوششیں کب کی شروع کی ہوئی ہیں۔ ہمارے کرگل کے کچھ لوگوں نے جاکر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی، اس کا کیا مطلب ہے، یہ وہی کوشش ہے کہ کرگلی عوام کی مشترکہ کوشش کو توڑا جائے۔ کیا ان افراد نے ہمارے علماء کرام سے مشاورت کی، کیا یہ لوگ اپنے ذاتی مفادات کے لئے بھاجپا میں گئے یا قوم کے لئے، اگر قوم کے لئے گئے تو پھر مشاورت کیوں نہیں۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کاوشیں ہی تھیں کہ کچھ ایام قبل گورنر صاحب کو کرگلی عوام کے مسائل کو سننے کے لئے یہاں آنا پڑا۔ اس لئے اس آواز کو توڑنا فطری سی بات تھی۔ لیکن کرگل ہل کونسل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے شانہ بشانہ ہے۔

اسلام ٹائمز: آپکا تعلق چونکہ سرحدی علاقہ سے ہے تو یہاں بھارت و پاکستان کے درمیان جنگ کی باتیں بھی ہو رہی ہیں، آپ صورتحال کو کس طرح دیکھتے ہیں۔؟
آغا سید عباس:
دیکھیئے مجھے تو خطے کی سلامتی خطرے میں نظر آرہی ہے۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ پونچھ اور راجوری سرحدی علاقے میں روز انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، وہاں تو جنگ کی صورتحال کا سامنا ہے، وہاں کے لوگ گھروں سے فرار اختیار کئے ہوئے ہیں۔ طویل عرصے سے وہاں کے اسکول بند پڑے ہیں۔ غرض جیسی بھی صورتحال ہے، دونوں ملکوں کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کو اسکا سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ کشمیری عوام ہمیشہ حالت جنگ میں ہوتی ہے، سالہا سال سے ہم امن و امان کے خواہاں ہیں۔ ہم کشمیری امن و سکون کو ترس گئے ہیں۔ کشمیری عوام سے زیادہ امن کی ضرورت کسی اور کو نہیں ہے۔ دونوں ملکوں کو ہمارے امن و امان کی بحالی کے لئے فوری اقدام کرنے چاہیئے۔ جنگ سے کسی ایک ملک کو بھی فائدہ نہیں ہوسکتا ہے اور بھارت و پاک میں سے کوئی بھی جنگ کے سنگین نقصانات کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ ممالک ہماری زمین پر اپنی جنگیں لڑ رہے ہیں تو نقصان بھی سب سے زیادہ ہمارا ہی ہوگا۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ دنوں ملکوں میں امن و امان کی فضا قائم ہو جائے۔ بھارتی میڈیا وہ سب تو دکھا رہے رہا ہے، جو سرحدوں پر ہو رہا ہے، لیکن جو کچھ اسکے فوجی کشمیر وادی میں انجام دے رہے ہیں، اسے کیوں چھپایا جا رہا ہے، کیوں آزاد میڈیا پر قدغن لگایا جا رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: کشمیر میں میڈیا پر پابندی کی بات آئی تو ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔؟
آغا سید عباس:
جب مقبوضہ کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کیا گیا تو میڈیا پر شدید پابندیاں عائد کی گئیں، سب سے زیادہ میڈیا کو ہی نشانہ بنایا گیا، یہی تو ہمارا سوال بھارتی وزیراعظم بھارتی صدر سے ہے کہ یہ جمہوریت کے چوتھے ستون پر پابندیاں عائد کرکے سب سے بڑے جمہوری ملک کا دعویٰ کیسے باقی رہتا ہے۔ آخر یہ کیسا جمہوری نظام ہے کہ آپ نے تمام تر انٹرنیٹ پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ اس سوال کا جواب ہمیں ابھی تک نہیں ملا۔ اگر حکومت کو کوئی قانون نافذ کرنا تھا تو اس قانون کو میڈیا ہی ہمیں سمجھاتا کہ یہ ان قوانین کی اصلیت کی ہے، لیکن جب میڈیا پر ہی پابندی عائد کی گئی تو ہم یونین ٹریٹری کو کیسے سمجھ سکتے ہیں۔ بھارت بھر میں کشمیر کے خلاف ایک منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، کشمیر میں آزاد میڈیا اسکا جواب دیتا، لیکن دو ماہ سے ہم اپنی آواز دنیا تک نہیں پہنچا پا رہے ہیں تو حالات کو کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ تشدد کا یہ سلسلہ آج کی بات نہیں ہے بلکہ یہ سلسلہ کم سے کم دس سال سے جاری ہے۔ یہ آر ایس ایس کی واضح پالیسی ہے کہ حق اور حقیقت کو چھپایا جائے، میڈیا کو اسکا آزادانہ کام نہ کرنے دیا جائے۔ اگر حقیقت لوگوں پر آشکار ہوگیا تو بھارت کو عالمی سطح پر اسکا جواب تو دینا پڑے گا۔
خبر کا کوڈ : 817826
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب