0
Wednesday 25 Sep 2019 23:24
حکومت پاکستان سعودیہ، ایران تنازعہ میں فریق بنی تو امت مسلمہ کا بہت بڑا نقصان ہوگا

سعودی عرب کا امریکی مفادات کا تحفظ برقرار رکھنا اسلام دشمنی ہے، مولانا یوسف جعفری

سعودی عرب کا امریکی مفادات کا تحفظ برقرار رکھنا اسلام دشمنی ہے، مولانا یوسف جعفری
مولانا یوسف حسین جعفری کا تعلق پاراچنار کے نواحی علاقے نستی کوٹ سے ہے۔ دینی مدرسہ میں پڑھنے کے علاوہ ایم اے اسلامیات ہولڈر ہیں۔ محکمہ تعلیم میں جب تھیالوجی ٹیچر تھے تو اس دوران تنظیم العلماء صوبہ سرحد کے صدر رہے۔ ایک سال تک مجلس علمائے اہلبیت پاراچنار کے صدر رہے، جبکہ 11 مئی 2016ء سے تحریک حسینی کے صدر ہیں۔ اپنی صدرات کے ابتدائی 6 مہینے قومی حقوق کی پاداش میں جیل میں گزارے۔ مولانا صاحب نڈر اور جوشیلے مزاج کی حامل ایک انقلابی شخصیت ہیں۔ کسی بھی مصلحت کے تحت اپنے جائز موقف سے پیچھے ہٹنے پر یقین نہیں رکھتے۔ تحریک حسینی کی صدارت نہایت احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے حالیہ حالات کے تناظر میں انکے ساتھ ایک خصوصی گفتگو کا اہتمام کیا ہے۔ جسے محترم قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔(ادارہ)
 
اسلام ٹائمز: علامہ صاحب پاراچنار انتہائی حساس علاقوں میں شمار ہوتا ہے، اس مرتبہ عشرہ محرم میں کوئی مسائل تو سامنے نہیں آئے۔؟
مولانا یوسف جعفری: ۔ بالکل آپ نے درست فرمایا، کرم ملک کے حساس ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور محرم الحرام کے دوران تو اس کی حساسیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اس مرتبہ الحمد اللہ محرم الحرام یہاں بہت پرامن گزرا، کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا، حکومت، پاک فوج، دیگر سکیورٹی فورسز اور ہمارے رضاکاروں نے سکیورٹی کے بہت اچھے انتظامات کئے ہوئے تھے، ہمارے تمام جلوس اور مجالس وغیرہ احسن انداز میں اختتام پذیر ہوئیں۔
 
اسلام ٹائمز: مجموعی طور پر علاقہ کی موجودہ صورتحال کیسی ہے۔؟
مولانا یوسف جعفری: میں سلام پیش کرتا ہوں اپنے ان عظیم شہداء کو، جن کی قربانیوں اور پاک خون کی وجہ سے آج کرم کے عوام امن کی فضاء میں سانس لے رہے ہیں۔ مجموعی صورتحال کرم کی بہت بہتر ہے، الحمد اللہ کئی مسائل حل ہوئے ہیں، البتہ بالش خیل کے حوالے سے ہمارے تحفظات اپنی جگہ موجود ہیں اور اس مسئلہ کی وجہ سے قوم میں ایک پریشانی کی کیفیت برقرار ہے، ہم حکومت سے پہلے بھی بارہا مطالبہ اور بات چیت کرچکے ہیں اور آپ کی وساطت سے ایک بار پھر صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اب کرم ضلع بن گیا ہے، آپ نے کئی مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن مسائل جوں کے توں ہیں، لہذا مہربانی کریں اور بالش خیل سمیت دیگر مسائل کو حل کریں۔
 
اسلام ٹائمز: آپکے پڑوسی اضلاع ہنگو اور کوہاٹ میں محرم الحرام کے حوالے سے مسائل دیکھنے میں آئے، اس حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
مولانا یوسف جعفری: جی بالکل، ہنگو میں بزرگ عالم دین علامہ خورشید جوادی سمیت کئی مومنین پر عاشورہ کے روایتی جلوس کے حوالے سے ایف آئی آر درج کی گئی، اس کے علاوہ کوہاٹ میں کے ڈی اے امام بارگاہ کے مسئلہ میں ڈی پی او نے انتہائی تعصب اور بدمعاشی کا مظاہرہ کیا، میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو اس قسم کے ہتھکنڈوں سے گریز کرنا چاہیئے اور امن و امان کی پرامن فضاء کو خراب کرنے والے ڈی پی اوز کیخلاف کارروائی کرنی چاہیئے۔
 
اسلام ٹائمز: کشمیر زلزلہ میں متاثر ہونیوالوں کیلئے کیا جذبات رکھتے ہیں۔؟
مولانا یوسف جعفری: بہت افسوسناک صورتحال ہے وہاں۔ ہم جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت اور ان کے لواحقین کو صبر عطا کرنے کیلئے خدا سے دعاگو ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ خداوند کریم زخمیوں کو شفائے کاملہ عطا فرمائے۔
 
اسلام ٹائمز: سعودی تیل کی تنصیبات پر ہونیوالے ڈرون حملوں کے بعد سعودیہ سے زیادہ امریکہ کو تکلیف ہے، کیا وجہ ہوسکتی ہے۔؟
مولانا یوسف جعفری: امریکہ اس سارے کھیل میں اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے، اپنا دفاع کرنا ہر ملک کا اپنا فرض ہوتا ہے، سعودی عرب کو اپنا دفاع کرنا چاہیئے، مگر جب سعودیہ یمن پر حملہ آور ہے تو ظاہر ہے کہ وہ بھی اپنے دشمن کو نشانہ بنائیں گے۔ امریکہ سعودی عرب کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ اور اپنی پالیسی پر عملدرآمد چاہتا ہے، جبکہ اگر سعودیہ امریکہ کے مفادات کا تحفظ برقرار رکھتا ہے تو یہ اس کی امت مسلمہ اور اسلام کے ساتھ کھلی دشمنی ہوگی۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اس خطہ میں تماشا لگا رہے، کبھی وہ کسی بہانے سے یہاں گڑبڑ کرتا ہے، کبھی کسی اور بہانے سے۔
 
اسلام ٹائمز: اب یہ باتیں ہونے لگی ہیں کہ پاکستان سعودی عرب کے اتنا قریب ہوچکا ہے کہ شائد ایران کیساتھ ثالثی نہ کرا سکے۔؟
مولانا یوسف جعفری: آپ درست فرما رہے ہیں، قوم کو یہ تشویش ہے کہ کہیں پاکستان اس سارے معاملہ میں فریق نہ بن جائے اور اگر پاکستان اس معاملہ میں باقاعدہ فریق بن گیا تو یہ امت مسلمہ کا بہت بڑا نقصان ہوگا۔ پاکستان کو اپنی پوزیشن خراب نہیں کرنی چاہیئے، میرے کہنے کا مقصد یہ نہیں کہ ہم دنیا سے الگ ہوکر بیٹھ جائیں، بلکہ ہمیں اپنے قومی اور امت مسلمہ کے مفادات کو دیکھ کر آگے بڑھنا چاہیئے۔
 
اسلام ٹائمز: وزیراعظم اسوقت امریکہ کے اہم دورہ پر ہیں، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر درست انداز میں اجاگر کیا۔؟
مولانا یوسف جعفری: عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی رہنماوں کیساتھ ملاقاتوں کے دوران اجاگر تو کیا، لیکن اب اس سے بڑھ کر اقدامات کی ضرورت ہے۔ کشمیری عوام اس وقت بھی شدید مشکلات اور تکلیف میں ہیں، وہ صرف اور صرف پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں، میں مانتا ہوں کہ عمران خان صاحب کے سامنے کئی چیلنجز ہیں، لیکن کشمیر پر بیان بازی سے بڑھ کر کچھ کرنے کی ضرورت ہے، ہمارے وزیر خارجہ نکمے ہیں، وہ اپنا کام کرنے کی بجائے اپنے آپ کو متنازعہ بنا رہے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ کشمیر میں کوئی بہت بڑا حادثہ رونما ہو جائے اور ہم ملاقاتیں ہی کرتے رہیں۔
خبر کا کوڈ : 818408
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے