0
Friday 4 Oct 2019 15:14

مولانا فضل الرحمان کو مذہب کے نام پر فساد اور دہشت پھیلانے کی اجازت نہیں دینگے، سردار محمد سبطین

مولانا فضل الرحمان کو مذہب کے نام پر فساد اور دہشت پھیلانے کی اجازت نہیں دینگے، سردار محمد سبطین
پاکستان تحریک انصاف میانوالی کے رہنماء سردار محمد سبطین خان 1958ء میں پیدا ہوئے، 1982ء میں سیاسیات میں ماسٹر کی ڈگری مکمل کی، 1983ء میں بلدیاتی سیاست کا آغاز کیا۔ 1990ء میں صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور وزیر جیل خانہ جات رہے۔ بعد ازاں 2002ء سے 2007ء تک رکن پنجاب اسمبلی رہے اور معدنیات کے وزیر رہے۔ 2013ء رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے، صوبائی اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر رہے۔ 2018ء میں رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ جے یو آئی کے آزادی مارچ، ملکی معیشت، عمران خان کے دورہ امریکہ سمیت موجودہ ملکی صورتحال کے حوالے سے اسلام ٹائمز کیساتھ انکا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: پی ٹی آئی کے دھرنے کو جس طرح چوہدری نثار نے روکا، اسے آپ نے غلط کہا، اگر لاک ڈاؤن ہوتا ہے تو حکومت کیا راستہ اختیار کریگی؟
سردار محمد سبطین:
ہمیں تو خوشی ہو رہی ہے کہ بلی تھیلے سے باہر آ رہی ہے، یہ مذہب کا کارڈ سیاست کیلئے استعمال کرینگے، جسکی پوری دنیا میں مذمت ہو گی، جتنے دن اسلام آباد میں رہیں گے، اتنا زیادہ ہمارا سیاسی فائدہ ہو گا۔ البتہ یہ ایک لطیفے سے زیادہ کچھ نہیں کہ یہ 15 لاکھ لوگوں کو لیکر آئیں گے اور آ کر اسلام آباد میں بیٹھ جائیں گے، جبکہ دشمن کی فوجیں کشمیر میں موجود ہیں، پاکستان کا گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ یہ کس منہ سے کہتے ہیں کہ انکا مینڈیٹ چوری ہوا ہے، انکے حق پہ ڈاکہ ڈالا گیا ہے، مولانا فضل الرحمان تو ہمارے ایک کارکن سے ہزاروں ووٹوں سے شکست کھا چکے ہیں، اب یہ کیا کارنامہ انجام دینگے، ہمیں اسکا نتیجہ پہلے سے ہی معلوم ہے۔

یہ ہوائی باتیں اور نعرے ہیں، جس شخص کے پیچھے پوری پارٹی کی اسپورٹ ہوتی ہے، وہ ہی اگر الیکشن ہار چکا ہو تو اسکی آواز کتنی طاقتور ہے، اسکا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں۔ مولانا فضل الرحمان اب تیرھویں کھلاڑی بھی نہیں، انکا کھیل ختم ہو چکا ہے، وہ اب پویلین میں بھی نہیں بیٹھ سکتے، انکی دھمکیوں سے کون ڈرتا ہے، کون سنجیدہ لیتا ہے۔ احتجاج ہر ایک کا حق ہے، ہم نے بھی احتجاج کیا ہے، جب تک لوگوں کی جان مال املاک کو کوئی نقصان نہ پہنچائیں، کریں احتجاج، لیکن ہم تو کنٹینر بھی آفر کر چکے ہیں، کسی میں دم خم ہوتا تو اسلام آباد آ چکے ہوتے۔ انکی اب سیاست ہی ختم ہو چکی ہے، ایک ہارا ہوا آدمی کیسے عوام کی نمائندگی کر سکتا ہے۔

اسلام ٹائمز: ووٹ ایک الگ چیز ہے، مذہبی سیاسی جماعتوں کو اسٹریٹ پاور ایک الگ چیز ہے، آپ خود بھی تو ایک سیٹ سے سیاست شروع کرنیوالی پارٹی ہیں، اور آپ کئی دنوں تک اسلام آباد کو بند رکھا، مولانا کیلئے یہ قدغن کیوں؟
سردار محمد سبطین:
ہم نے جن مطالبات کیلئے دھرنا دیا وہ سب درست ثابت ہوئے، اسی طرح کوئی بھی سیاسی جماعت یہ حق استعمال کر سکتی ہے، لیکن یہاں تو پورے ملک میں پرچیاں تقسیم ہو رہی ہیں کہ پیسے دو، لوگوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکایا جا رہا ہے کہ ختم نبوت خطرے میں ہے، یہ درست نہیں۔ ان رسیدوں اور مدارس کے بچوں کو ورغلانا کونسا سیاسی عمل ہے، یہ کہاں جائز ہے، یہ تحفظ ناموس رسالت نہیں ہے، یہ اقتدار کا لالچ ہے، صرف مارشل لاء لگوانے کی کوشش ہے، جو کامیاب نہیں ہو گی۔ ہر دفعہ حکومتی ایوانوں میں رہے ہیں، اب وہ تڑپ رہے ہیں۔

مولانا کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، لیکن انکے پاس کشمیر پہ کہنے کیلئے ایک لفظ بھی نہیں۔ لیکن اب یہ پانچ سو پانچ سو روپے لیکر پانچ ہزار بندے بھی اکٹھے نہیں کر سکتے۔ یہ کوئی مودی کیخلاف غزوہ ہند لڑنے نہیں جا رہے، پاکستانی عوام ہی انکی آواز نہیں سنیں گے، انکے مطالبات ہی بے بنیاد اور موقف سرے سے غلط ہے۔ مولانا فضل الرحمان لوگوں کو بھارت کیخلاف جہاد کی کال کیون نہیں دیتے، اسلام کے نام پہ اپنی سیاسیت کیوں چمکا رہے ہیں، یہ بات ہر پاکستانی سمجھ رہا ہے۔ جب نون لیگ نے قانون میں ترمیم کی تھی تب تو مولانا صاحب نے کوئی دھرنے کی کال نہیں دی، اب انہیں حکومت اور اسمبلی سے باہر ہونیکے مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ جب ختم نبوت کے نام پہ آواز اٹھانے کی ضرورت تھی، تب اس حکومت کا حصہ کیوں رہے، کیونکہ انکا مقصد ہی اقتدار میں رہنا ہے۔

ہر پاکستانی یہ سمجھتا ہے کہ اسلام کو اور ختم نبوت کو کوئی خطرہ نہیں ہے، یہ کیسے علماء ہیں جو مدراس کے طلبہ اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھنوک رہے ہیں، سیدھے سیدھے یہ سیاسی مقاصد کی بات کریں تو حکومت انکے ساتھ بات کریگی اور لوگ بھی انکی بات سنیں گے، کیونکہ سیاسی طور اپنی رائے رکھنا یا اپوزیشن کا کردار ادا کرنا انکا حق ہے، مذہب کے نام پر بلیک میلنگ کرنا غلط ہے، جسکا راستہ عوام خود روکیں گے۔ اسی لیے تو بار بار شہباز شریف نے حیرت کسیاتھ مولانا صاحب سے بار بار پوچھا ہے کہ واقعی میں پندرہ لاکھ لوگ لے آئینگے، میرے خیال میں یہ خود نون لیگ کو ہی مطمئن نہیں کر سکیں گے، احتجاج کیا کرینگے۔ دنگا فساد اور دہشت پھیلا سکتے ہیں، جسکی اجازت نہیں ملے گی۔

اسلام ٹائمز: احستاب کے نام پہ اپوزیشن رہنماء گرفتار ہو رہے ہیں اور حکمران جماعت کے افراد کو بری کیا جا رہا ہے، کیا اس جانبداری سے شفافیت اور اداروں کی ساکھ پر پڑنے والاے اثرات کا ازالہ حکومت کو نہیں کرنا چاہیے؟
سردار محمد سبطین:
ہمارا ملک جس بحران کا شکار ہے، اسکی وجہ کرپشن ہے، ملک سے بدعنوانی ختم کرنی ہے تو ہر طبقہ کے بدعنوان افراد کے خلاف کارروائی ضروری ہے، نیب کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جو بھی کرپٹ آٓدمی پکڑا جاتا ہے وہ اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے شور مچاتا ہے۔ ہمیں یہ یقین ہے کہ نیب کسی کی طرفداری نہیں کر رہی اور کارروائیوں میں شفافیت ہے۔ حکومت سیاستدان بھی نیب کے دائرے میں ہیں اور ان کے خلاف بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ جو وقت زیادہ لگ رہا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ وائٹ کالر کرائم میں کوئی ٹائم لائن نہیں ہوتی اور30 دن میں مقدمات کی سماعت ممکن ہی نہیں ہے، پھر گواہوں کی لمبی لمبی فہرست بھی اس لیے بنائی جاتی ہے تاکہ مقدمات کو طوالت دی جائے اور اس کی وجہ سے ہی مقدمہ کمزور ہو جاتا ہے۔ لیکن ہر صورت میں نیب کو اپنے کارروائیوں میں شفافیت رکھنی چاہیے۔ حکومت اور حزب اختلاف کے خلاف کارروائی ایک جیسے ہونی چاہیں، اس وقت ہمیں کوئی جھول نظر نہیں آ رہا اور نیب اپنا کام درست طریقے سے کر رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: حکمران جماعت کے اراکان کو نیب گرفتار کیوں نہیں کر رہا ہے؟ پھر ٹیکس دہندگان بھی اپنی جگہ تحفظات کا شکار ہیں؟
سردار محمد سبطین:
نہیں ایسا نہیں ہے، پشاور نیب کی جانب سے حکومتی نمائندوں پر مقدمات  بنے ہوئے ہیں، وفاق میں حکومت کو آئے ابھی تو ایک سال ہی ہوا ہے۔ حزب اختلاف کے افراد کئی سالوں سے حکومت کرتے رہے ہیں اور ان کی بدعنوانی کی فہرست لمبی ہے۔ یہ سلسلہ بہت زیادہ پھیلا ہوا ہے، بیورو کریسی کی گرفتاریوں کے حوالے سے بھی شور مچایا جا رہا ہے لیکن بدعنوانی روکنے کے لیے سب کی پکڑ دھکڑ ہونا ضروری ہے۔ سابق ڈی جی پارکس 20 ویں گریڈ کے، افسر تھے لیکن ان کے گھر سے اربوں روپے مالیت کا سامان برآمد ہوا۔ اسی طرح ایک ٹیکس کا مسئلہ ہے، ٹیکس کا معاملہ نیب کا مسئلہ نہیں ہے۔ نیب صرف ایسے افراد پر ہاتھ ڈالتی ہے، جو بدعنوانی میں ملوث ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے نیب کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عدالتوں میں آنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ان مقدمات میں جھول ہے۔

سیاسی رہنما جب عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں تو ان کے چہروں پر اطمینان ہوتا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ وہ رہا کر دیے جائیں گے۔ نیب کے مقدمات میں گواہوں کی ایک لمبی فہرست ہوتی ہے جس کی وجہ سے مقدمات لمبے چلتے ہیں اور اس وقت سینکڑوں مقدمات ہیں جبکہ جج صرف ایک ہی ہے۔ گرفتاری کا مقصد تحقیقات کرنا ہوتا ہے صرف سلاخوں کے پیچھے ڈالنا نہیں۔ حزب اختلاف کے لوگوں کو پکڑا جائے تو وہ کہتے ہیں حکومتی رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں نہیں کی جا رہیں۔ جسے پکڑا گیا اسے اپنا حساب دینا چاہیے۔ نیب میں ترمیم لانے کی باتیں کی جا رہی ہے تاکہ بدعنوان افراد کو بچایا جا سکے۔ بیوروکریسی کے افراد سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیے۔ نیب کے قانون میں ترمیم کے ذریعے کرپٹ مافیا یہ چاہتا ہے کہ نیب کو بالکل دیوار سے لگا دیا جائے اور جیسے وہ کرپشن روکنے کے لیے نہیں بلکہ کرپشن کرانے کے لیے بنائی گئی ہو۔ چیئرمین نیب کی تعیناتی کا طریقہ کار تبدیل ہونا چاہے۔ کسی بھی قانون میں ترمیم کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔

اگر ضرورت ہو تو، موجودہ چیئرمین نیب کو جو لوگ لائے تھے وہ اس وقت جیل میں ہیں جبکہ چیئرمین نیب کی گرفتاری کے اختیارات کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ملزم طاقتور ہو تو نیب بے اختیار ہوجاتا ہے لیکن کمزور ہو تو انتہائی بااختیار ہوجاتا ہے، اس رویے کے خاتمے کے لیے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ نیب جتنا بھی موثر ہوجائے، اس سے کرپشن ختم نہیں ہوسکتی، کیونکہ کرپشن کے خاتمے کے لیے اس کی وجوہات کا خاتمہ ضروری ہے، حکومت ان وجوہات کے خاتمے کیلئے کوشاں ہے۔ پاکستان کے مسائل چوروں کی مجلس کی وجہ سے حل نہیں ہو رہے تھے۔ ماضی  کے حکمرانوں نے ملک کو لوٹا ،کرپشن  کی اور معیشت برباد کی، ملک کے ساتھ دھوکہ کرنے والے آج جیلوں میں ہیں جب کہ ملک ترقی کی جانب گامزن ہے اور معیشت بہتر ہورہی ہے۔ ملک اور بھی آگے جائے گا اور ان لٹیروں  کے سامنے ترقی کرے گا۔

اسلام ٹائمز: تاجر ایک بار پھر آرمی چیف سے مل رہے ہیں، سال مکمل ہونے کے باوجود کاروبار میں آسانیاں پیدا کر کے معیشت کی سمت درست کرنے میں حکومت کیوں ناکام ہے؟
سردار محمد سبطین:
اس میں بہت زیادہ کردار تو پچھلی حکومتوں کا ہے، معیشت میں بنیادوں سے پہلے اس کا تاثر ٹھیک ہونا ضروری ہوتا ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں معیشت کے حالات اس سے خراب ہوئے لیکن شوکت عزیز نے تاثر اچھا رکھا۔ آرمی چیف نے یقین دلایا ہے کہ ان کی جائز شکایات کو دور کیا جائے گا۔ لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کرینگے کہ فوج پریشان ہے کہ سیکیورٹی کے خطرات اسی طرح ہیں، اگر معیشت بہتر نہ ہوئی ملکی مسائل میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ آرمی چیف کی بات سے اعتماد پیدا ہوتا ہے اور اس وقت معیشت کو اسی چیز کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس حقیقت کا ادراک ہے کہ اس ملاقات سے پہلے جو لوگ گبھرائے ہوئے تھے، ان میں اعتماد پیدا ہوگا جس کا فائدہ معیشت کو ہوگا۔ جب لوگ سول حکومت سے پریشان ہوتے ہیں تو فوج کی طرف دیکھتے ہیں۔

لیکن اس وقت فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں، جس وجہ سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ نہ حکومت ملک کیلئے سیکورٹی رسک ہے، نہ ہی فوج کی طرف سے کسی قسم کی مداخلت کا خدشہ ہے، یہ باہمی اعتماد کی بہترین مثال ہے۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ آرمی چیف ایک امید دلانے والے انسان ہیں، سب انہیں پسند کرتے ہیں، معاشی پالیسیوں میں بھی بہتری لائی جا رہی ہے۔ انہی تاجروں نے وزیراعظم سے بھی ملاقات کی ہے، جس کے بعد انہوں اطمینان ظاہر کیا ہے، کاروباری طبقے سے میری ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، صنعتکار ملکی معیشت میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ ترقی کا پہیہ صرف کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے سے ہی چلے گا۔ کرپشن نے ہمارے نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے مگر ہماراا مشن ہے کہ اس ناسور سے ملک کو نجات دلائیں۔ کاروباری حضرات سے پہلے بھی مشاورت ہوتی رہی جن کی بنیاد پر بہت سے پالیسی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ کاروبار اور سرمایہ کاری کو فروغ دینگے۔ ملک کے  کاروباری افراد پریشان ہوکر آرمی چیف کے پاس نہیں گئے، انکا کہنا ہے کہ جو میڈیا میں رپورٹ ہوا ہے سب غلط ہے انکی آرمی چیف سے ملاقات کا ایک پس منظر ہے۔

 آرمی چیف نے بھی حکومت کی پالیسیوں پر ایک بار پھر اطمینان کا اظہار کیا ہے، آرمی چیف نے کہا کہ حکومتی معاشی ٹیم کی کاروباری طبقے تک رسائی اور جوابدہی، سرکاری و نجی اداروں کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی معاشی سرگرمیوں کے لیے مثبت عمل ہے۔ یہ ایک مل بیٹھنے کا اچھا موقع تھا، حکومتی معاشی ٹیم نے بھی تاجر برداری کو حکومت کی جانب سے کاروبار میں آسانی کے لیے متعارف کیے گئے اقدامات اور ملکی معیشت کے استحکام کی کوششوں کے حوصلہ افزا نتائج سے آگاہ کیاہے، جس سے تاجر برادری اور حکومت کے درمیان تعلقات میں اعتماد پیدا ہوگا۔ تاجر برادری نے ٹیکسوں کی ادائیگی،حکومتی معاشی پروگرام کی کامیابی کےلیے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ آرمی چیف نے بھی یہ کہا ہے کہ معیشت میں بہتری لانے کےلیے مشاورت کا عمل جاری رہنا چاہیے۔ اس پر پروپیگنڈہ کرنے کی بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس سے مثبت اثرات زیادہ ہونگے، جو کام پہلے نہیں ہو سکا، وہ اس دور میں ہو رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: عمران خان نے دعویٰ کیا کہ دورہ امریکہ سے پاکستان کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے، تو اس کے اثرات پاکستان کی اکانومی پر کیوں نظر نہیں آ رہے؟
سردار محمد سبطین:
وزیراعظم پہلے تو پاکستان کے متعلق جو منفی تاثر پایا جاتا ہے اسکو ختم کرنے میں مصروف رہے ہیں، اب حالات بہتر ہو رہے ہیں، دنیا کے سب سے بڑے پلیٹ فارم پر پاکستان کا مقدمہ بڑی کامیابی سے پیش کیا گیا ہے، دنیا میں جہاں بھی کچھ ہوتا ہے اس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر پر پڑتے ہیں۔ دنیا میں اسلاموفوبیا ہے، اسلام کو خاص رنگ میں رنگا جارہا ہے۔ اسکا کا تاثر بھی پاکستانیوں کو زائل کرنا پڑتا ہے، پہلی دفعہ اسلام کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کے لیے اہم قدم اٹھانے کا سوچا گیا ہے، پاکستان، ترکی اور ملائیشیا نے مسلمانوں کی ترجمانی کے لیےانگریزی چینل چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، یہ عمران خان کا اہم اقدام ہے، جس سے پاکستان کا رول مزید بہتر ہو رہا ہے، ابھی ہمیں کافی کام کرنیکی ضرورت ہے، پاکستان کا بیانیہ کمزور نہیں بلکہ جیب خالی ہے اور اگر آپ آئی ایم ایف کے محتاج ہوں گے تو دنیا توجہ نہیں دی گی۔

ہمیں معیشت بہتر بنانے اور سیاسی طور پر استحکام کی ضرورت ہے، ورنہ پاکستان کا بڑے سے بڑا دوست بھی حالات سدھارنے میں ہمارے کام نہیں آئیگا۔ ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ یہ بھارت کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے کہ پاکستان پر ہر طرف سے دباؤ ڈالا جائے۔ ان کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ کشمیر پو جو توجہ ہے وہ کسی طرح کم ہو۔ کسی طرح وہ پاکستان کی توجہ ہٹائے کیونکہ پاکستان کی وجہ سے دنیا کی نظریں اسی معاملے پر آئی ہیں۔ پاکستان سے اپنی سطح پر کافی اقدامات کیے ہیں جس کے بعد امکان ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔ وزیراعظم ایک جامع پالیسی لیکر دنیا میں پاکستان اور کشمیر کا مقدمہ پیش کر رہے ہیں، پاکستان نے کشمیریوں کا بھرپور ساتھ دیا ہے جس سے بھارت کو نقصان ہوا ہے اس لیے ان بیانات کا مقصد یہی ہے کہ کسی طرح اس دباؤ سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔ اس وقت بھارت میں قیادت انتہاپسندوں کے ہاتھ میں ہے۔

انہیں پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکامی ہوئی ہے جس کے بعد وہ اس بات سے فرار چاہتے ہیں کہ پاکستان نے جو کشمیر کو مرکزی دھارے میں لایا ہے، اس سے کسی طرح توجہ ہٹا سکیں۔ بھارتی قیادت کے بیانات کا مقصد اندرونی سطح پر اپنی مقبولیت کو برقرار رکھنا ہے، بھارت کی جانب سے ان کوششوں کے باوجود پاکستان کی توجہ ان معاملات سے نہیں ہٹ سکتی کیونکہ پاکستان کی پوری توجہ صرف بھارت پر ہی مرکوز ہے۔ آج دنیا میں پاکستان کو جو عزت اور وقار ملا اس کی وجہ عمران خان ہیں۔ عمران خان نے کشمیر کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا، وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کے آواز اٹھائی کہ اگر آج مغرب میں کشمیر جیسا حال ہوتا تو کوئی خاموش نہ رہتا۔ پاکستان کو ایک اچھا لیڈر ملا ہے جس نے ملک کا تشخص بحال کیا ہے۔ عمران خان نے ایک پاکستانی ہونیکے ساتھ ساتھ ایک مسلمان ہونے کے ناطے بھی اپنی ذمہ داری پوری کی ہے، جس سے عالم اسلام بھی مسئلہ کشمیر کی طرف متوجہ ہوا ہے، اب کشمیری اکیلے نہیں ہیں، ہر آنے والا دن کشمیرکی آزادی کو قریب کریگا۔
خبر کا کوڈ : 820071
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب