0
Monday 21 Oct 2019 11:05

اہل تشیع نے عمران خان کو نجات دہندہ سمجھا لیکن انہوں نے ہمیں مایوس کیا ہے، علامہ عبدالحسین

عالمی اربعین واک داعش اور سرپرست یزیدی قوت کی شکست ہے
اہل تشیع نے عمران خان کو نجات دہندہ سمجھا لیکن انہوں نے ہمیں مایوس کیا ہے، علامہ عبدالحسین
علامہ سید عبدالحسین الحسینی کا تعلق ضلع ہنگو کے علاقہ ابراہیم زئی سے ہے، انہوں نے ابتدائی تعلیم کوہاٹ سے حاصل کی۔ جس کے بعد جامعۃ المنتظر لاہور سے مذہبی تعلیم حاصل کی۔ پنجاب یونیورسٹی سے عربی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ دو سال تک جامع مسجد محمد علی سوسائٹی کراچی میں خطیب کی حیثیت سے ذمہ داریاں بھی ادا کیں۔ اس کے بعد وہ سعودی عرب چلے گئے اور وہاں سپریم کورٹ کے ترجمان کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ پاکستان واپسی پر وحدت کونسل ہنگو کے سینیئر نائب صدر کے طور پر عہدہ سنبھالا اور پھر مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں، اسکے بعد دوبارہ ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مقرر ہوئے۔ علامہ سید عبدالحسین الحسینی علاقہ بنگش کی ایک فعال تنظیم وحدت کونسل کے رہنماء بھی ہیں، اسلام ٹائمز نے علاقائی اور صوبائی معاملات پر علامہ عبدالحسین کیساتھ ایک انٹرویو کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ ادارہ
 
اسلام ٹائمز: اس سال ہنگو میں یوم عاشورہ کے جلوس کے حوالے سے علمائے کرام سمیت کئی شیعہ افراد پر ایف آئی آر کا اندراج ہوا، یہ کیا معاملہ تھا۔؟
علامہ عبدالحسین الحسینی:
میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہنگو کا امن تباہ کرنے کی ایک بہت سوچی سمجھی سازش تھی، جسے بابصیرت افراد نے ناکام بنادیا۔ یہ سب کچھ ڈی پی او ہنگو کا کیا دھرا ہے۔ اس نے تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے یوم عاشور کے انتہائی قدیمی جلوس پر ایف آئی آر کاٹی۔ اس جلوس کو ہنگو کے شیعہ اپنی جانوں کے نذرانے دے کر برآمد کرتے رہے ہیں، یہ ڈی پی او کیا چیز ہے۔ ہم نے یہ جلوس راکٹوں اور میزائلوں کی بارش میں بھی برآمد کئے ہیں۔ اور انشاء اللہ یہ جلوس اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ شان و شوکت کیساتھ برآمد ہوتا رہے گا۔ ڈی پی او نے علامہ خورشید انور جوادی سمیت ہمارے کئی لوگوں پر ایف آئی آر درج کی، جس پر پوری شیعہ قوم ناراض ہے، ہم اس اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہیں اور کسی کو یہ موقع نہیں دیں گے کہ وہ علاقہ کا امن تباہ کرے یا عزاداری سید الشہداء کو محدود کرنے یا اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی کوشش کرے۔
 
اسلام ٹائمز: اس ایف آر کی آڑ میں کیا ہنگو میں تکفیری عناصر کو ایک مرتبہ پھر اشتعال انگیزی پھیلانے کا جواز فراہم نہیں کیا گیا۔؟
علامہ عبدالحسین الحسینی:
ہوا ایسا ہی ہے، ایف آئی آر کے بعد شرپسندوں نے ہنگو میں زبردستی ہڑتال کروائی اور بازار ڈنڈے کے زور پر بند کرائے، مجھے معلوم نہیں یہ کیسا ڈی پی او ہے جسے جلوس عزاداری شرپسندی نظر آتا ہے اور زبردستی بازار بند کرانا، شیعہ کافر کے نعرے لگوانا، پتھراو کرنا شرپسندی نظر نہیں آتا۔ یہ ڈی پی او شرپسندوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ اگر جلوس کیخلاف کسی قسم کا اقدام نہ کیا جاتا تو شرپسندوں کی ہرگز ہمت نہ ہوتی۔
 
اسلام ٹائمز: اسی طرح کا رویہ کے ڈی اے امام بارگاہ کے حوالے سے کوہاٹ کے ڈی پی او نے بھی اختیار کیا تھا، اس مسئلہ کی کیا تفصیلات ہیں۔؟
علامہ عبدالحسین الحسینی:
جی۔ کوہاٹ کے شہر میں کے ڈی اے کے علاقہ میں امام بارگاہ کو سیل کیا گیا تھا، اور بعض لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا، یہ ہزاروں شیعہ افراد پر مشتمل آبادی کا کافی عرصہ سے مطالبہ تھا کہ ہمیں یہاں مسجد بنانے کی اجازت دی جائے، جس پر ہائیکورٹ کا بھی حکم موجود ہے، مگر کوہاٹ کی انتظامیہ نے یزید وقت کا کردار ادا کرتے ہوئے شیعہ مسلمانوں کو نہ صرف عزاداری سے روکا بلکہ نماز پر بھی پابندی لگائی گئی۔ جس معاشرے میں انسان کو اپنی عبادت کرنے کی بھی آزادی نہ ہو تو وہ معاشرے تباہ ہوجاتے ہیں۔ ہمارے تو ملک کے آئین میں موجود ہے کہ یہاں اقلیتوں کو بھی کوئی عبادت کرنے سے نہیں روک سکتا، ریاست کا تو فرض ہے کہ وہ لوگوں کو عبادت میں مدد فراہم کرے، مگر یہاں پر تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ ہمارے مسلمانوں کو عبادت اور نماز سے روکا جارہا ہے، یہ کیسا نیا پاکستان ہے جہاں لوگوں کو عبادت سے بھی روکا جارہا ہے۔
 
اسلام ٹائمز: ان مسائل کے حوالے سے آپ لوگوں کی حکومت سے کوئی بات چیت ہوئی ہے۔؟
علامہ عبدالحسین الحسینی:
گذشتہ دنوں ایم ڈبلیو ایم کے وفد کی سینئر صوبائی وزیر جناب عاطف خان سے ملاقات ہوئی ہے، وہاں میں نے یہ معاملات ان کے سامنے رکھے، ہم نے قوم کے غم وغصہ سے انہیں آگاہ کیا ہے، ہم نے انہیں بتایا ہے کہ یہ ظلم ہورہا ہے، انہوں نے تفصیل سے ہماری باتیں سنیں اور یقین دہانی کرائی کہ ان معاملات پر حکومت اقدامات کرے گی، اور آئندہ کوشش کی جائے گی کہ ایسی کوئی صورتحال پیدا نہ ہو۔ اب دیکھتے ہیں کہ صوبائی حکومت ان معاملات کو کیسے ڈیل کرتی ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت ان معاملات پر سنجیدگی دکھائے گی۔
 
اسلام ٹائمز: خیبر پختونخوا میں اہل تشیع کو اس کے علاوہ بھی کئی مسائل درپیش ہیں، جس میں کوٹلی امام حسین علیہ السلام ڈی آئی خان، پاراچنار میں بالشخیل کی زمینوں کا معاملہ، لاپتہ افراد، ہنگو میں شاہوخیل کی آبادکاری اور ہزارہ ڈویژن میں عزاداری کے مسائل۔ شیعہ تنظیمیں ان مسائل پر کس حد تک حکومت کیساتھ رابطہ میں ہیں۔؟
علامہ عبدالحسین الحسینی:
میں اگر علاقائی تنظیم وحدت کونسل کی بات کروں تو ہنگو، کوہاٹ اور اورکزئی کے معاملات پر اس پلیٹ فارم سے بھرپور آواز اٹھائی گئی ہے، اس کے علاوہ ایم ڈبلیو ایم کی جانب سے ہر موقع اور ہر ملاقات میں ان مسائل پر بات ہوئی ہے، عاطف خان صاحب کیساتھ ملاقات میں بھی ان مسائل پر بات ہوئی ہے، جن کی نشاندہی آپ نے کی ہے۔ یقینی طور پر تنظیموں کا یہی کام ہوتا ہے کہ حکومت کیساتھ مسائل کو اٹھائے، ان کو حل کرنا حکومت کے اختیار میں ہوتا ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت صوبہ خیبر پختونخوا میں اہل تشیع کو درپیش یہ تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔ اور اسے فوری طور پر کرنا بھی چاہیئے۔
 
اسلام ٹائمز: اس مرتبہ ملک بھر میں شیعہ ووٹ اکثریت میں پی ٹی آئی کو گیا، ایسے میں صوبائی اور مرکزی حکومت کی ترجیحات میں ان مسائل کا حل ہونا چاہیے تھا، پھر کیا وجہ ہے کہ ایسے مسائل سامنے آرہے ہیں۔؟
علامہ عبدالحسین الحسینی:
بالکل۔ ایسا ہی ہوا ہے، شیعہ قوم نے دیگر جماعتوں سے تنگ آکر عمران خان کو نجات دہندہ کے طور پر دیکھا، خیبر پختونخوا میں بھی یہی صورتحال تھی، یہی باتیں ہم صوبائی وزراء کو باور کراچکے ہیں، اب صوبائی حکومت کی بہت بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے شیعہ ووٹرز کو مایوس نہ کرے، یہ مسائل انتہائی اہم نوعیت کے ہیں، اگر ان پر تاخیر کی گئی تو مزید مسائل جنم لے سکتے ہیں، لہذا حکومت مزید تاخیر نہ کرے۔
 
اسلام ٹائمز: آخر میں اربعین حسینی کے حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے۔؟
علامہ عبدالحسین الحسینی:
امام حسین علیہ السلام کی شہادت آج بھی دنیا کو یہی درس دے رہی ہے کہ ظالم کے سامنے نہیں جھکنا، حق کا پرچم سربلند رکھنا ہے، دین مبین اسلام کی خاطر اپنے بچے اور دوست بھی قربان کرنے پڑیں تو کوئی پیچھے نہ ہٹیں۔ اربعین پر نجف سے کربلا تک ہونے والی عالمی مشی اس بات کا اظہار ہے کہ حسینیت جیت گئی اور داعش اور اس کے سرپرست یزیدی آج بھی ہار گئے۔
خبر کا کوڈ : 823133
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب