0
Wednesday 6 Nov 2019 16:43

امریکہ اور بھارت کی طرح فضل الرحمن ملک کو بلیک لسٹ کرنے کیلئے کوشاں ہیں، انصر مجید نیازی

امریکہ اور بھارت کی طرح فضل الرحمن ملک کو بلیک لسٹ کرنے کیلئے کوشاں ہیں، انصر مجید نیازی
2018ء کے عام انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 78 سرگودہا سے منتخب ہونیوالے پاکستان تحریک انصاف کے نوجوان رہنماء اسوقت پنجاب حکومت میں محنت اور انسانی وسائل کے صوبائی وزیر ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کے آزادی مارچ، حکومت کیخلاف عوامی سطح پہ پائی جانیوالی بے چینی، حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے ملک گیر حکومت مخالف تحریک کی دھمکیوں سمیت اہم ایشوز پر انکے ساتھ اسلام ٹائمز کا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: 2014ء کے مارچ اور دھرنے کو لیگی حکومت نے بین الاقوامی سازش سے جوڑا، موجودہ حکومت کو اپنے تجربے کی بنیاد پہ ایسے الزامات سے گریز نہیں کرنا چاہیئے۔؟
انصر مجید نیازی:
موجودہ حکومت کا شریف خاندان کی حکمرانی سے کوئی تقابل درست نہیں، نہ ہی عمران خان ایسے لیڈر ہیں، انہیں نہ صرف پاکستانی عوام نے منتخب کیا ہے بلکہ وہ عالمی اور علاقائی سطح پر بھی مقبول لیڈر ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی نے تبدیل ہوتے علاقائی و عالمی حالات میں نہایت اہمیت حاصل کرلی ہے، عالمی معیشت کا محور مغرب سے مشرق کی طرف تبدیل ہو رہا ہے، ہمارے خطے میں ترقی کے بے پناہ مواقع ہیں، پرامن ہمسائیگی ہمارا منشور ہے، امریکہ اور طالبان میں بات چیت دوبارہ بحال ہو رہی ہے، سینیئر طالبان رہنماؤں کے ردعمل سے ہماری حوصلہ افزائی ہوئی ہے، ایران اور سعودی عرب کے ساتھ ابتدائی مشاورت سے کشیدگی میں کمی آرہی ہے۔ اس لیے ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کو آزادی مارچ سے کچھ نہیں ملا، لیکن وہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے میں ضرور کامیاب ہوئے ہیں۔ عمران خان کا استعفیٰ طلب کرنے سے مراد یہی ہے کہ پاکستان میں موجود مودی لابی ملک کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی سازش کر رہی ہے، لیکن عوام ان کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

اسلام ٹائمز: آزادی مارچ کرنیوالوں کا مطالبہ تو موجودہ حکومت کی برطرفی اور الیکشن کمیشن کا ایسی اصلاحات کا ہے کہ آئندہ شفاف طریقے سے حکومت کی تشکیل ہوسکے۔؟
انصر مجید نیازی:
یہ سب بہانے اور اصل مقصد کو چھپانے کے لیے سامنے رکھی جانیوالی باتیں ہیں، آزادی مارچ کو پتہ ہونا چاہیئے کہ 18 جولائی 2018ء کے انتخابات میں پاکستان کے عوام کو کرپٹ مافیا سے آزادی مل چکی ہے، نون لیگ اور پی پی پی کے ایماء پر ہونیوالے مولانا کے آزادی مارچ کا مقصد کرپٹ مافیا اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ امریکہ اور بھارت کی طرح فضل الرحمن ملک کو بلیک لسٹ کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ ڈنڈوں اور مسلح جتھوں کے ساتھ احتجاج مہذب معاشروں میں زیب نہیں دیتا۔ مولانا نے مسلح جتھے دکھا کر ملک کو بدنام کیا ہے۔ وزیراعظم کی قیادت میں ملک ترقی کا سفر طے کر رہا ہے اور یہی بات اپوزیشن کیلئے پریشانی کا باعث ہے۔ ملک کی معیشت بہتر جبکہ کرپٹ مافیا کی معیشت خراب ہو رہی ہے۔

قومیں اتحاد کی قوت سے ترقی و خوشحالی کی منزل پاتی ہیں۔ آزادی مارچ کرنے والے قوم میں تفریق پیدا کرکے ترقی کے سفر کو روکنا چاہتے ہیں۔ ملک کے ترقی کے سفر میں رکاوٹیں ڈالنا قوم سے دشمنی کا ایجنڈا ہے۔ کرپٹ مافیا نے اپنی اولادوں اور دوستوں کو نوازا، ملک کو بدحال کیا۔ کرپٹ مافیا نے قومی وسائل کی لوٹ مار سے بیرون ملک جائیدادیں بنائی۔ نون لیگ اور پیپلزپارٹی اپنے ادوار میں کی جانے والی کرپشن بچانے کیلئے مولانا کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ذاتی مفادات کیلئے اکٹھے ہونے والوں کا گروہ جلد بکھر جائے گا۔ اپوزیشن کی غیر جمہوری حرکتوں اور رکاوٹوں کے باوجود تبدیلی اور ترقی کا سفر طے کریں گے۔ مارچ میں آنے والے لوگوں کو حکومت نے کہیں نہیں روکا اور انہیں اسلام آباد آنے دیا گیا۔ اب یہاں پہنچنے والے افراد صرف ایک مکتبہ فکر کے ہیں اور خواتین کا بھی کوئی کردار نہیں ہے۔ میں ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کا جو امیج دنیا بھر میں بھارت نہیں توڑ سکا، وہ مولانا فضل الرحمان کے احتجاج سے ختم ہوگیا۔

ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوشش کی جا رہی ہیں، لیکن آزادی مارچ سے بڑا منفی پیغام گیا۔ مولانا فضل الرحمان اپنا سیاسی ایجنڈا بتانے میں اب تک ناکام رہے ہیں۔ استعفیٰ اور دوبارہ انتخابات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے، اس پر بات ہوسکتی ہے اور سپریم کورٹ بھی اس پر اپنا تبصرہ کرچکی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کراچی سے چلے اور اسلام آباد پہنچ گئے، لیکن انہوں نے اپنا ایجنڈا واضح نہیں کیا۔، کونسا سیاسی ایجنڈا اور کونسے انتخابی اصلاحات کے مطالبات، ایسا کچھ بھی نہیں۔

اسلام ٹائمز: تبدیلی کے جو نعرے عوام کے سامنے رکھے گئے تھے، وہ تو پورے نہیں ہوئے، لیکن یہ تبدیلی کا سفر پہلے سے زیادہ کٹھن ہوچکا ہے، کیا حکومت واقعی ہتھیار ڈالنے والی ہے یا مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کی کوئی امید باقی رکھی جا سکتی ہے۔؟
انصر مجید نیازی:
ہم نے ملکی معیشت کو از سرنو تعمیر کرنے کا جو پروگرام پیش کیا تھا، اس پہ حکومتی ٹیم مکمل منصوبہ بندی کیساتھ محنت کر رہی ہے، ہمارے ملک کا مستقبل نوجوان ہیں، یہی ہماری ترجیح ہے، بالخصوص نوجوانوں کیلئے منصوبے جاری کیے گئے ہیں، یہ پروگرام ماضی کی حکومتوں کے ادوار میں بھی شروع کیے جاتے رہے، لیکن وہ پوری طرح کامیابی سے اس لیے ہمکنار نہ ہوسکے کہ ان میں میرٹ کا خیال نہیں رکھا گیا تھا۔ جہاں دوسرے شعبوں میں اقربا پروری چلتی رہی، روزگار سکیموں میں بھی اس نے اپنا رنگ دکھایا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سرمایہ خرچ ہوگیا، لیکن تجارتی اور کاروباری شعبوں میں وہ یا اتنی واضح تبدیلیاں اور اتنی بہتری نہ لائی جا سکی، جس کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ پروگرام مرتب کئے گئے تھے۔ پاکستان قرضوں کی دلدل میں پھنسا اور دھنسا ہوا ملک ہے، جس کے لیے اتنی بڑی رقم کسی پروگرام کے لیے مختص کرنا آسان نہیں۔ لیکن اب نوجوان نسل حکومت کی خصوصی توجہ کی حامل ہے۔

بہرحال موجودہ حکومت کے کامیاب جوان سمیت ہر منصوبے میں میرٹ کو یقینی بنایا جائیگا، ماضی جیسی صورتحال پیدا نہیں ہوگی اور یہ پورے معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی کا سبب بن جائے گا۔ ایک لاکھ نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کی تربیت دینے کا پروگرام شروع کیا گیا ہے، کیونکہ یہ بالکل سامنے کی بات ہے کہ ایک تربیت یافتہ نوجوان، غیر تربیت یافتہ کی نسبت زیادہ بہتر انداز میں کاروبار، تجارتی یا صنعتی یونٹ کو چلانے کی اہلیت کا حامل ہوتا ہے۔ نوجوانوں کے لیے نیشنل انٹرن شپ پروگرام بھی لایا جا رہا ہے، گرین یوتھ موومنٹ میں بھی نوجوانوں کو ممبرشپ دی جائے گی اور نوجوانوں کے لیے یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن بھی قائم کی جا رہی ہے۔

یہ منصوبے بھی نوجوانوں کو متحرک کرنے اور اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے میں ممد ثابت ہوں گے اور یوں ہمارے وطن کا نوجوان طبقہ جو ملک کی مجموعی آبادی کا پچاس فیصد سے زیادہ ہے، پاکستان کو ترقی کی اس معراج پر لے جانے کا سبب بنے گا، جس کا خواب یہ قوم گذشتہ بہتر برسوں سے دیکھ رہی ہے۔ دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں، جن میں میرٹ کا نظام ہوتا ہے۔ ہر سطح پر میرٹ کے فروغ اور کرپشن کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے گے ہیں، تاکہ بطور ایک قوم ہم اقوام عالم کے شانہ بشانہ آگے بڑھ سکیں اور ترقی کی نئی منزلوں کی جانب اپنا سفر جاری رکھ سکیں۔ اسی طرح حکومت کے ہر پروگرام کا ایک چوتھائی خواتین کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس وقت خواتین پاکستان کی کل آبادی کا 49.2 فیصد ہیں۔

اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کو مجموعی زندگی کے دھارے میں شامل کیے بغیر مجموعی ترقی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ ویسے بھی خواتین مختلف شعبہ ہائے زندگی میں عرصے سے کمال خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ ٹیچنگ سے لے کر ڈاکٹری تک اور نرسنگ اور پولیس سے سے لے کر فوج تک، ہر جگہ انہوں نے اپنی اہمیت اور ذہانت کو منوایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمیں ہر شعبے میں اپنے حصے کا کردار بخوبی ادا کرتی نظر آتی ہیں، چنانچہ انہیں اگر کاروبار کے سلسلے میں مدد، حمایت اور سرمایہ فراہم کیا جائے تو یہ بات ماضی کے تجربے کی بنیاد پر پورے یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ خواتین یہاں بھی اپنی افادیت، اہمیت اور قابلیت ثابت کر دیں گی۔ یہ ترقی اور خوشحالی کا نقشہ ہے، جس کو پورا کرنے کے لیے پی ٹی آئی حکومت دن رات کوشاں ہے۔

اسلام ٹائمز: عام آدمی کو فی الفور تو کوئی ریلیف نہیں مل سکا، لیکن احتسابی اور انتخابی عمل سمیت اہم شعبوں میں اصلاحات کیلئے کوئی پیشرفت کیوں نہیں ہوسکی۔؟
انصر مجید نیازی:
یہ درست ہے کہ بلاامتیاز احتساب ہمارا نعرہ تھا اور ہم اس پر کاربند ہیں، لیکن اس کے لیے قومی اور آئینی ادارے ہیں، جن کی یہ ذمہ داری ہے اور وہ کام کر رہے ہیں، حکومت کا اس میں کوئی دخل نہیں، یہ ضرور کہوں گا کہ نیب کا کردار بہت اچھا ہے اور وہ مکمل شفافیت سے اپنا کام کر رہا ہے، جبکہ ایف آئی اے ناکام ہوگیا۔ عمران خان اپنی مدت پوری کریں گے اور پی ٹی آئی کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے، اس دوران معیشت سمیت بہت ساری اصلاحات ہو جائیں گی۔ پاکستانی سیاست ایک بار پھر ہنگامہ خیز دور سے گزر رہی ہے۔ لیکن فی الوقت مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں حزب اختلاف کی بڑھتی لہر کا زور ٹوٹنا دکھائی دے رہا ہے، کیونکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں آگے جانے کو تیار نہیں ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے اس احتجاج سے کئی اہداف حاصل کر لیے اور حکومت کے خلاف پہلا پتھر پھینک کر دکھا دیا۔

ہوسکتا ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان بامعنی مذاکرات کا دور شروع ہو جائے، عام پاکستانی ملک میں سیاسی استحکام چاہتا ہے۔ اس عمل کی کامیابی کا دارومدار قانون سازی کے عمل پر ہے، یہاں تو پارلیمنٹ کو حزب اختلاف نے چلنے ہی نہیں دیا، وزیراعظم کی پہلی تقریر میں ہی شور مچایا گیا تو تقریر کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ جس کے بعد حکومت نے خود فیصلے کرنا شروع کر دیا اور اس کی ذمہ دار حزب اختلاف ہے۔ قانون سازی دو طریقے سے ہوسکتی ہے، ایک اسمبلی کے ذریعے اور دوسری صدارت آرڈیننس کے ذریعے۔ اس لیے اگر حزب اختلاف مداخلت کرے گی، قانون سازی کے دوسرے طریقے کا آپشن موجود ہے۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے علاوہ سب کچھ ہی ہو رہا ہے۔ سب جماعتیں بیٹھ کر طے کر لیں کہ آئندہ نہ کوئی این آر او مانگے گا اور نہ کوئی دے گا۔ جس پر الزامات ہیں، وہ عدالت سے رجوع کرے۔ ہم بھی کوشش کر رہے ہیں کہ اصلاحات مکمل ہو جائیں اور ملک شفافیت کیساتھ ترقی کے راستے پر چل پڑے۔ کیا آزادی مارچ میں شامل جماعتوں نے 2018ء کے عام انتخابات میں حصہ نہ لیا تھا۔؟

کیا ان عام انتخابات میں شرکت کے بعد ان میں سے چند جماعتوں نے پاکستان میں حکومتوں کے قیام میں شرکت نہ کی؟ کیا مارچ میں شریک ایک جماعت نے پنجاب میں بھی اتحادی حکومت قائم کرنے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا تھا؟ کیا مذکورہ عام انتخابات میں کامیابی کے بعد ان جماعتوں کے اراکین مختلف ایوانوں میں تشریف فرما نہیں ہیں؟ تو پھر اعتراض کیوں ہے؟ اور اگر تبدیلی ہی درکار ہے تو کیا یہ کام تحریک عدم اعتماد پیش کرکے نہیں کیا جا سکتا؟ یہ درست ہے کہ کسی بھی حکومت کو بد انتظامی کا حق حاصل نہیں ہوتا؛ تاہم، جو پارلیمانی، جمہوری نظام یہاں رائج ہے، اُس میں طے شدہ اصول موجود ہے۔ بدانتظامی کی سزا حکومت کو آئندہ عام انتخابات میں ووٹ کے ذریعے، صرف ووٹرز ہی دینے کا حق رکھتے ہیں یا پھر ان ہائوس تبدیلی کا راستہ موجود ہے۔

اسلام ٹائمز: علاقائی صورتحال کا تقاضا تو یہی ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام اور معیشت مضبوط ہو، لیکن حکومت کی طرف سے مذاکرات بھی ہو رہے ہیں اور وزراء اشتعال انگیز بیانات بھی دے رہے ہیں، یہ معاملہ حل کی جانب کیسے بڑھے گا۔؟
انصر مجید نیازی:
وزیراعظم کی پالیسی یہی ہے کہ حالات پرامن رہیں، جمہوریت کا بھی یہ تقاضا ہے کہ جس کا جو آئینی حق ہے، اسے استعمال کرنے کی پوری آزادی ہونی چاہیئے، حکومت سے اختلاف اور احتجاج ہر جماعت کا حق ہے، لیکن اپوزیشن نے مولانا کو بری طرح استعمال کیا ہے، یہی ہمارا موقف ہے، اس میں انکا اپنا ایجنڈا بھی شامل ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں براہ راست مدارس میں ہونیوالی اصلاحات پر بات کرنیکی بجائے سیدھا سیدھا وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ انہوں نے اپنی طرف سے بات چیت کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی تھی، اس کے باوجود حکومت نے اس مسئلے اور مطالبے کو انا کا مسئلہ نہیں بنایا، پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی کمیٹی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ حالانکہ بہت سارے سوالات ہیں، جیسا کہ میں نے اے ایف ٹی ایف کا ذکر کیا ہے، اس حوالے پاکستان کو حساس ترین صورتحال کا سامنا ہے، نیشنل ایکشن پلان کا بھی اہم حصہ مدارس کی اصلاحات پہ مبنی ہے۔

موجودہ حکومت کی کوششوں سے تمام مدارس اس پر متفق ہیں کہ ہمیں پاکستان کو درپیش چینلجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری اصلاحات پہ کوئی اعتراض نہیں، اس میں ایک معاملہ مدارس کے لیے ہونیوالی فنڈنگ کو شفاف بنانا ہے، تاکہ کسی بھی فورم پہ یہ معاملہ ہمارے لیے پریشانی کا باعث نہ بنے۔ یہ جو ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ ایک مذہبی جماعت کا مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہوئے یہ دھرنا اور احتجاج ہے، یہ پاکستان کیخلاف ایک پوری چارج شیٹ ثابت کرنیکی کوشش ہے، وہ اس طرح کہ مولانا صاحب کے ٹیکس ریٹرنز دیکھیں تو ان میں کچھ بھی نہیں ہے، لیکن ان کے جلسے دیکھیں تو وہ کہتے ہیں ہم پاکستان کے ہر علاقے میں ملین مارچ کرچکے ہیں، یہ بڑا مارچ ہم نے کراچی سے اسلام آباد کیا ہے، کوئی ان سے پوچھ کے بتائے کہ اس کے لیے ان کے پاس پیسہ کہاں سے آیا، یہ اخراجات وہ کہاں سے پورے کر رہے ہیں، کیا اس کا جواب ان کے پاس ہے، کیا اس کا جواب اپوزیشن کی کسی جماعت کے پاس ہے۔

لیکن آپ اس انکار نہیں کرسکتے کہ پاکستان کیخلاف سب سے بڑی تلوار جو لٹک رہی ہے، وہ ایسے ہی الزامات ہیں، پھر وہاں افغان طالبان کے پرچم لہرا دیئے گئے، اس سے دنیا کو کیا پیغام گیا ہے کہ پاکستان کے دارالحکومت میں ایسے گروپوں کو مکمل آزادی دی گئی ہے، اس سے یہ تاثر بھی لیا جا سکتا ہے کہ یہ گروپ پاکستان کے ذریعے اپنے اخراجات پورے کرتے ہیں، یہ سب الزامات ہیں، مولانا سیاسی مقاصد کے لیے یا اپنی شکست کی وجہ سے انتقام کے جذبے کو تسکین دینے کیلئے ملکی مفاد کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ یہ جتنا جلدی ہوسکے اسے ختم ہونا چاہیئے، ہماری یہی کوشش ہے، ان شاء اللہ ہم کسی ملک دشمن ایجنڈے کو پورا نہیں ہونے دینگے، نہ ہی پاکستان کے اداروں کو بدنام ہونے دینگے، سیاسی عمل مکمل پرسکون ماحول میں جاری رہیگا، آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے یہ معاملات حل کر لیے جائیں گے۔ جس طرح عمران خان نے ملک کا نام روشن کیا ہے، اسی طرح ان اندرونی مسائل کو بھی حل کر لیا جائیگا۔
خبر کا کوڈ : 825865
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے