0
Friday 15 Nov 2019 15:50
ڈیل پر شہباز شریف کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا

مولانا کے حکومت کیساتھ مذاکرات کی منسوخی کا فیصلہ پیپلز پارٹی کی تجویز پر کیا گیا، تسنیم احمد قریشی

حکومت نے کشمیر پر جھک جانے کی پالیسی اپنا رکھی ہے
مولانا کے حکومت کیساتھ مذاکرات کی منسوخی کا فیصلہ پیپلز پارٹی کی تجویز پر کیا گیا، تسنیم احمد قریشی
سابق وفاقی وزیر برائے امور داخلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما تسنیم احمد قریشی سرگودہا سے 2002ء سے لیکر 2013ء تک رکن قومی اسمبلی رہے ہیں، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کیساتھ وزیر مملکت رہے، حکومتی پالیسیوں پر بے لاگ تبصروں اور سرگودہا میں حزب مخالف کی بے دھڑک نمائندگی کے حوالے سے معروف ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے نظریاتی کارکن اور پارٹی میں قائدانہ کردار کے حامل اپوزیشن رہنما کیساتھ موجودہ سیاسی صورتحال، نیب کے ذریعے رہنماؤں کی گرفتاریوں، آزادی مارچ اور اپوزیشن کی حکمت عملی سمیت اہم ایشوز پر اسلام ٹائمز کیساتھ انکا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: آزادی مارچ اسلام آباد پہنچنے کے بعد وزیراعظم کے مستعفی ہونیکی بجائے مولانا فضل الرحمان کی سیاست ہی بند گلی میں پہنچ گئی ہے، مولانا کے پلان بی کا مستقبل کیا ہوگا۔؟
تسنیم احمد قریشی:
حکومت کو گرانے کیلئے جو تحریک شروع ہوئی ہے، اس حوالے سے آزادی مارچ اور اپوزیشن کی قیادت اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں، پاؤں تو حکومت کے اکھڑ گئے ہیں، ایک وزیر کوئی بیان داغ رہا ہے، دوسرا کوئی اور بات کر رہا ہے، سب کے الگ الگ منہ ہیں، نہ کوئی سر ہے نہ پیر۔ حکومت صرف ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے، ان کی اس ضد کی وجہ سے سیاست اور جمہوریت بند گلی میں پہنچا دی گئی ہے، اپوزیشن جمہوریت کی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے۔ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے، اس کی خاطر ہم نے قیادت کی قربانی دی ہے، جیلیں کاٹی ہیں، کٹھ پتلیوں کے بس میں نہیں کہ ملک چلا سکیں۔ مولانا فضل الرحمان نے جمہوری تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے، کراچی سے لاہور اور پھر اسلام آباد تک پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسا کوئی مظاہرہ مثال کے طور پر بھی پیش نہیں کیا جاسکتا۔

اسلام ٹائمز: پیپلز پارٹی دھرنے میں شریک نہیں ہوئی، کیا اپوزیشن جماعتوں کو پلان بی کے حوالے سے اعتماد میں لیا گیا ہے۔؟
تسنیم احمد قریشی:
جمعیت علمائے اسلام (ف) اور دیگر ہم خیال سیاسی جماعتوں کے احتجاجی مارچ کے معاملے پر حکومت اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں میں ڈیڈ لاک کی سی کیفیت نظر آتی ہے، جو ملک و قوم کے لیے خطرات کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ حکومت کیساتھ مذاکرات کی جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے منسوخی کا فیصلہ پیپلز پارٹی کی تجویز پر کیا گیا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات اکیلے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی بجائے متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے ہونے چاہئیں۔ رہبر کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے دو دو جبکہ متحدہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کا ایک ایک نمائندہ شامل ہے۔ یہ سبھی تجربہ کار اور سرد و گرم چشیدہ سیاسی رہنما ہیں۔

چنانچہ یہ ہماری دور اندیشی کا امتحان ہے کہ ہم اس موقع پر کیا فیصلہ کرتے ہیں اور ملکی و قومی مفاد کو کہاں تک ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے کارکنان مشتعل ہیں کہ عوامی مسائل کو حل کرنے کے ہر قسم کے احتجاج میں شامل ہوں، لیکن پیپلز پارٹی نے پہلے دن ہی کہہ دیا تھا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کے احتجاج کی بھرپور حمایت کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ احتجاج کا سلسلہ پرامن رہے۔ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کیا جائے۔ ہم عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ نہیں کرنا چاہتے۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ جے یو آئی کا ہے رہبر کمیٹی کا نہیں۔

اسلام ٹائمز: یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ حکومت دھاندلی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشیل کمیشن بنانے کیلئے تیار تھی، لیکن اپوزیشن نیب قوانین سمیت کسی بھی قانون سازی اور جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کیلئے تعاون پر آمادہ نہیں۔؟
تسنیم احمد قریشی:
پارلیمنٹ کو لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے اور ایوان صدر کو آرڈیننس فیکٹری بنا دیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں این ایف سی ایوارڈ کا اجرا نہ ہونا، مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ بلایا جانا اور صدر کی خاموشی ایک مجرمانہ غفلت ہے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل بل پارلیمان نے مسترد کر دیا تھا، مگر اس کے حوالے سے بھی صدارتی آرڈیننس جاری کر دیا گیا۔ موجودہ حکومت بزنس فرینڈ لی ہے، لیکن حکومت کو عوام خصوصاً غریب کے مسائل کا کوئی ادراک نہیں۔ مشیر خزانہ نے ٹماٹر کی قیمت سترہ روپے کلو بتائی۔ مشیر خزانہ ٹماٹر کی قیمت سترہ روپے کلو بتانے پر بضد رہے۔ یہ ایک افسوسناک بات ہے کہ وزیراعظم نے پارلیمانی روایات سے کچھ نہیں سیکھا۔ آپ پارلیمانی روایات کو ختم کرچکے ہیں۔ دس دس سال تک دور آمریت سہنے والے ممالک میں اقتصادی استحکام نہیں آتے۔ ملک میں ترقی جمہوری لیڈر کی قیادت میں آتی ہے۔

ویژنری لیڈر شپ نے ملک کو پانچ سال میں اقتصادی طور پر مستحکم کیا، ملک کو اندھیروں سے نکالا۔ بدقسمتی سے ملک میں ویژنری لیڈرشپ کا انجام پھانسی یا جلا وطنی ہے۔ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں بھارت سمیت دیگر غیر ملکی ایجسنیز شامل رہی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے آنے سے معاشی حالات خراب ہوئے۔ مہنگائی کے باعث ہر کوئی رو رہا ہے۔ جب تک ہم جارحانہ رویہ اختیار نہیں کرینگے، ہمارے ساتھ یہی حال ہوگا۔ جب تک ہم گرے لسٹ سے نہیں نکلتے، آئی ایم ایف کچھ نہیں دے گا۔ حکومت آئی تو سوچا پارلیمان کو اہمیت دی جائیگی۔ بدقسمتی ہے کہ حکومت ایوان کو بائی پاس کر رہی ہے۔ حکومت پارلیمنٹ سے قانون سازی کیوں نہیں کرتی، اس ایوان کا کیا کام ہے۔ آرڈیننس سے ملک کو چلایا جا رہا ہے۔ سب سے بڑا جرم جو حکومت نے کیا ہے کہ پی ایم ڈی سی کو تحلیل کیا۔

جس بل کو سینیٹ نے مسترد کیا تھا، حکومت اسے آرڈیننس کی صورت میں لے آئی ہے۔ اگر عدالت کے ساتھ ایسا ہوتا تو توہین عدالت ہوتی، لیکن یہ پارلیمنٹ کے ساتھ مذاق کیا ہے۔ صدر کو مس گائیڈ کرکے آرڈیننس جاری کروائے جا رہے ہیں۔ رات کی تاریکی میں پی ایم ڈی سی کو تالے لگا دیئے گئے۔ نجی کالجوں کے مالکان کی خواہش پر ہدایات جاری کی جاتیں ہیں۔ حکمران اپوزیشن کو دشمن سمجھ رہے ہیں اور جیلوں میں ڈال رہے ہیں، لیکن کم از کم پارلیمنٹ کو بے توقیر نہ کریں۔ آپ بل لائیں، ہم اچھے قوانین کی حمایت کریں گے اور مدد کریں گے۔ 10 لاکھ سے زائد لوگ بیروزگار ہوچکے ہیں۔ مگر یہ حکومت نہیں چلنے والی، یہ جو بھی کر لیں۔ ہم سب کو جیلوں میں ڈال دیں، پھر بھی یہ کمپنی نہیں چلنے والی۔ یہ وزراء نمائشی ہیں، اصل طاقت غیر منتخب لوگوں کے پاس ہے۔ وہ غیر منتخب لوگ کسی اور کے کہنے پر آئے ہیں۔

اسلام ٹائمز: بلاول بھٹو زرداری نے پہلے دن سے ہی سیاسی مقاصد کیلئے مذہب کے استعمال کی مخالفت کی ہے، مولانا نے کیسے یقین دہانی کروائی کہ وہ مذہب کا نام استعمال نہیں کرینگے۔؟
تسنیم احمد قریشی:
ہمارے ملک میں مذہب اور سیاست کو ایسے ملا دیا گیا ہے کہ جب دل کرتا ہے، مذہب پر آجاتے ہیں اور جب دل کرتا ہے، سیاست کی طرف چلے جاتے ہیں۔ مذہبی جماعتیں بھی جہاں دل کرتا ہے یوٹرن لے لیتی ہیں۔ جہاں تک مولانا کی بات ہے تو مولانا فضل الرحمان نہ تو طاہر القادری ہیں اور نہ ہی خادم رضوی۔ مولانا فضل الرحمان صرف تقریریں کرکے نہیں جائیں گے، وہ کچھ نہ کچھ لے کر جائیں گے۔ جمعیت علمائے اسلام ف مذہبی اور سیاسی جماعت ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ہم کسی ایسی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے، جس میں مذہب کا کارڈ استعمال کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان کے سیاسی معاملے پر ان کے ساتھ ہیں، لیکن ہم مذہبی کارڈ کے پیچھے نہیں کھڑے ہوں گے۔

اسلام ٹائمز: نواز شریف کی بیماری کی بنیاد پہ ضمانت کے بعد نون لیگ اور حکومت کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہے، کس کا موقف حقیقت پسندانہ ہے۔؟
تسنیم احمد قریشی:
اگر میری رائے پوچھیں تو میں کہوں گا کہ نواز شریف اور مریم نواز کے ملک سے باہر جانے پر مسلم لیگ نون کو نقصان پہنچے گا اور پارٹی کمزور ہوگی۔ نواز شریف واقعی بیمار ہیں اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے، لیکن اگر نواز شریف کسی ڈیل کے ذریعے باہر جا رہے ہیں تو یہ جلد سامنے آجائے گا اور اس معاملے پر شہباز شریف کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ریاست دہرے معیار کا مظاہرہ کر رہی ہے، ریاست ساتھ چلنے والے سیاستدانوں کے ساتھ ایک سلوک، مخالف سوچ رکھنے والوں کے ساتھ دوسرا رویہ رکھتی ہے۔ سابق آمر جنرل پرویز  مشرف کو عدالت لے جاتے ہوئے سی ایم ایچ لے جایا گیا اور بعد میں نام ای سی ایل سے نکال کر دبئی علاج کیلئے بھجوایا گیا۔

دبئی سے سابق صدر پرویز مشرف کی مختلف ویڈیوز سوشل میڈیا کی زینت بنیں۔ سابق صدر آصف زرداری تاحال سزا یافتہ نہیں ہیں، لیکن انہیں نجی ڈاکٹرز تک رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے بیان پر غداری کا مقدمہ درج کرنے کی بات کی گئی۔ موجودہ حکمرانوں نے ماضی میں وزیراعظم سے متعلق کیا کچھ نہیں کہا۔ ماضی میں سیاستدانوں کو غدار اور بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو سکیورٹی رسک قرار دیا گیا۔ سابق وزیراعظم سے شورٹی بانڈ مانگ کر دہرا معیار اختیار کیا گیا۔ نواز شریف کے معاملے پر حکومت کہہ رہی ہے ہم نے لچک کا مظاہرہ کیا۔ ساری دنیا میں ہی ایسا ہوتا ہے کہ آپ اپنے معالج تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں اور علاج کرانے کہیں بھی جا سکتے ہیں، لیکن آصف زردرای کے تو ذاتی معالج کو بھی نہیں ملنے دیا جا رہا۔

نواز شریف اور آصف زرداری کے معاملے پر حکومت کی دہری پالیسی ہے، تاہم حکومت کو کسی کی بیماری پر سیاست نہیں کرنی چاہیئے اور نواز شریف کو ریلیف ضرور ملنا چاہیئے۔ بھارتی ایجنٹ سے تو آپ ہاتھ ملاتے اور چائے پلاتے ہیں، لیکن سیاسی مخالفین کے ساتھ بہت برا رویہ رکھا ہوا ہے۔ حکومت سیاسی رہنماؤں کی زندگی پر سیاست کر رہی ہے اور ابھی تک تو ٹرائل بھی شروع نہیں ہوا۔ حکومت کی جانب سے تو پیپلز پارٹی سے محبیتں دکھائی جا رہی ہیں۔ نواز شریف بیمار ہیں، لیکن ایک پارٹی رہنما ہیں، کوئی ایسی مثال نہیں بنانا چاہتے، زرتلافی نہ دینے کا اصولی فیصلہ ہے، یہ غیر قانونی مطالبہ ہے۔ نواز شریف کی بیماری کا وزیراعظم عمران خان کو پتہ ہے۔  انہوں نے ذاتی حثیت میں تصدیق کرائی ہے۔ پی ٹی آئی والے صرف سیاست کر رہے ہیں، انہیں اندازہ نہیں ہو رہا کہ حالات کس طرف جا رہے ہیں۔؟

اسلام ٹائمز: کشمیر کو جیل بنانے کے بعد بھارتی سپریم کورٹ نے بھی بابری مسجد کے حوالے سے مسلمانوں کیخلاف فیصلہ دیا ہے، اسکے کیا نتائج ہونگے۔؟
تسنیم احمد قریشی:
بابری مسجد کے فیصلے کے بعد اب لگتا ہے کہ وہ مساجد بھی شہید کر دی جائیں گی، جن پر تنازعہ چل رہا ہے۔ اس وقت بھارت میں اقلیتیں انتہائی خوفزدہ ہیں۔ بھارت میں اگر محفوظ رہنا ہے تو بھارت کی پالیسیوں کی حمایت کرنی ہوگی، شاید اسی لیے بھارتی علماء نے بھی کشمیر کے معاملے پر بھارت کی حمایت کی۔ لیکن اس کے باوجود یہ کہنا درست ہے کہ بھارت میں اب تمام اقلیتیوں بالخصوص مسلمانوں کی جان، مال اور عبادت گاہوں کو سخت خطرہ ہے، اس کے لیے پوری اسلامی دنیا کو آواز بلند کرنی چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: کشمیر پہ زور دار تقریروں کے بعد حالات جوں کے توں ہیں، کشمیری پاکستان کیطرف دیکھ رہے ہیں، انہیں کب اس عذاب سے نجات ملے گی۔؟
تسنیم احمد قریشی:
پیپلز پارٹی کی بنیاد کشمیر کے مسئلے کے حل پر رکھی گئی تھی اور کشمیر کے مسئلے کا واحد حل رائے شماری ہے۔ اس مرتبہ پیپلزپارٹی اپنا یوم تاسیس کشمیریوں کے ساتھ منائے گی۔ مودی سرکار نے کشمیر میں ظلم کی انتہا کر دی ہے۔ ہماری حکومت بتائے کشمیر کے حوالے سے ان کے پاس کیا پلاننگ ہے۔ حکومت کشمیر کے معاملے پر اپوزیشن کو اعتماد میں لے۔ حکمرانوں کی کشمیر کے ساتھ دلچسپی نہیں ہے۔ وزیر خارجہ اگر کشمیر سے دلچسپی رکھتے تو ایوان میں موجود ہوتے۔ وزیر خارجہ مختلف ٹی وی چینلز پر سابق وزیراعظم کے بیرون ملک جانے سے متعلق بیان دیتے نظر آئے۔ مقبوضہ کشمیر میں بارہ ربیع الاول کی تقاریب منعقد نہ ہوسکیں۔ کشمیریوں کو جب ولادت النبیؐ کی تقاریب سے روکا گیا، تب ہم کرتارپور کی تقریب منعقد کر رہے تھے۔ طویل عرصے کے بعد مقبوضہ کشمیر کی درگاہ حضرت بل پر موئے مبارک کی زیارت نہ ہوسکی ہے۔

میں مذہبی آزادی اور رواداری کا قائل ہوں، حکومت نے خوشنودی اور جھک جانے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ حکومت نے کوئی بات منوائے بغیر دو بھارتی پائلٹس رہا کئے۔ پاکستان طالبان کو میز پر لانے کیلئے کردار ادا کرے، لیکن دنیا سے کشمیریوں کیلئے میز سجانے کا مطالبہ کرے۔ ہم مہمانوں کو خود گاڑی چلا کر ایئرپورٹ سے گھر لاتے ہیں، لیکن ہم مہمانوں سے کشمیر میں کرفیو کے خاتمے کیلئے کردار ادا کرنے کا نہیں کہہ سکتے۔ وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے کشمیر سے کرفیو کے خاتمے کے مطالبے کیلئے کتنے غیر ملکی دورے کئے۔؟ بتایا جائے کشمیر کمیٹی نے ماضی میں کیا کام کیا اور اس پر کتنا خرچہ آیا۔ کشمیر کے معاملے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی بجائے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمیں کشمیر کے معاملے کو اقوام متحدہ میں سنجیدگی سے اٹھانا ہوگا۔ پوری دنیا میں ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کشمیر کے معاملے پر دو قراردادیں پیش کرنی تھیں۔
خبر کا کوڈ : 827523
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے