0
Thursday 21 Nov 2019 09:30

مارچ اور دھرنے کے ذریعے مصنوعی تبدیلی کی بجائے حقیقی انقلاب پر یقین رکھتے ہیں، سراج الحق

مذہبی جماعتوں کو متبادل قوت کے طور پر سامنے آنا چاہیے
مارچ اور دھرنے کے ذریعے مصنوعی تبدیلی کی بجائے حقیقی انقلاب پر یقین رکھتے ہیں، سراج الحق
امیر جماعت اسلامی سراج الحق ضلع لوئر دیر میں 5 ستمبر 1962ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مقامی سکول سے حاصل کی۔ 1990ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایجوکیشن میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ یونیورسٹی دور میں مولانا مودودیؒ کی کتب سے متاثر ہو کر اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل ہوئے، 1988ء سے 1991ء تک اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلٰی رہے۔ 2002ء کے جنرل الیکشن میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے صوبائی اسمبلی کی رکنیت کے لئے الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے، صوبائی وزیرخزانہ رہے، 2013ء کے عام انتخابات میں سراج الحق جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر دوسری بار رکن صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا منتخب ہو گئے۔ 30مارچ 2014ء کو وہ جماعت اسلامی کے امیر منتخب ہو گئے۔ جون 2014ء ہی میں وزارت خزانہ سے استعفی دے دیا۔ پانامہ کیس سپریم کورٹ میں لیکر گئے۔ 14 اگست 2014ء میں انہیں جمہوریت کے فروغ کے لئے کی جانے والی کوششوں پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ گزشتہ سینیٹ الیکشن میں وہ سینیٹر منتخب ہوئے۔ موجودہ سیاسی صورتحال کے مختلف پہلوؤں سے متعلق اسلام ٹائمز کیساتھ انکا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: جماعت اسلامی نے مولانا فضل الرحمان کا ساتھ نہیں دیا لیکن جماعت کی قیادت ایسے بیانات دیتی رہتی ہے، جس سے اپوزیشن کیطرف سے وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے کی تائید ہوتی ہے، حکومت کو کیوں جانا چاہیے؟
سراج الحق:
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلی حکومت ہے، جو اتنی جلدی ایک حکومت کی ناکامی کھل کر سامنے آئی ہے، اتنے مہینے نہیں پورے ہوئے، جتنی ناکامیاں انہوں نے سمیٹ لی ہیں۔ حالانکہ سمجھا یہی جا رہا تھا کہ یہ ایک مقبول جماعت بن کر سامنے آئی ہے، اور تیسری سیاسی قوت ہونے کے ناطے اسے ایک سپورٹ حاصل ہے، لیکن پورے ملک میں ایک عجیب طوفان کھڑا ہے، ان کیخلاف، یہ کچھ بھی نہیں کر سکے، ڈاکٹرز، تاجر، مزدور، سیاسی جماعتیں، میڈیا ہر ایک ان سے نالاں ہے، اور سب کا اعتراض اپنی جگہ پہ بالکل درست ہے کہ انہوں نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ جہان تک دھرنے اور مارچ میں جماعت کے نہ شامل ہونیکا سوال ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکموت دراصل پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کا تسلسل ہی ہے۔ مسلم لیگ نون کی پالیسیوں کا تسلسل ہے، بلکہ جنرل پرویز مشرف کی حکومت کا تسلسل ہے۔

یہ سب اسٹیٹس کو کی حامی قوتیں ہیں، اب حکومت اور اپوزیشن جماعتیں ہمارے نزدیک ایک جیسی ہیں، جن میں سے صرف پرویز مشرف منظر سے غائب ہیں، باقی تو سب لوگ وہی ہیں، کوئی حکومت میں ہے اور کوئی اسی حکومت کی اپوزیشن کر رہا ہے، پھر کس طرح ان کیساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔ کوئی چہرہ بھی نیا نہیں ہے، جو لوگ اپوزیشن میں ہیں انہی کی طرح کے لوگ حکومت میں شامل ہیں، اس طرح کے احتجاج کا کیا فائدہ۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف ہم نہیں سمجھتے ہے کہ کوئی ہے، بس طاقت اور اقتدار کیلئے لڑتے ہیں، وہ بھی ظاہری لڑائی ہوتی رہتی ہے، ایک دوسرے سے انکا جھگڑا تو صرف یہی ہے کہ جب ایک کی جگہ دوسرا حکومت میں آتا ہے یا لایا جاتا ہے تو یہ شور مچاتے ہیں کہ مجھے کیوں نہیں حکومت اور اختیار دیا گیا، مولانا صاحب کے دھرنے میں آپ دیکھیں شہباز شریف صاحب یہی تو کہہ رہے تھے کہ پاکستان کے اداروں نے جتنا پی ٹی آئی کی حکومت کو سپورٹ کیا ہے، انکا اشارہ خفیہ اور طاقتور اداروں کی طرف تھا، کہ یہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا ساتھ دیتے، تو ہم بہت کام کرتے، اس سے کیا مراد ہے، ان باتوں میں ملک، قوم اور عام آدمی کہاں ہے۔

اسلام ٹائمز: یہ تو جماعت کا دیرینہ موقف ہے، اس صورت میں حکومت پر تنقید کا مقصد کیا ہوا؟
سراج الحق:
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ صرف مخصوص افراد یا شخصیات پر بات کرنیکا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا، اس لے ہم نے انہیں اپنا مقصد نہیں بنایا، لیکن جو خامیاں ہیں اور ختم نہ ہونیکا کا نام بھی نہیں لے رہی ہیں، تو اس ملک کا ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری ہے، اس پر بات کریں، تبدیلی کو کوشش کریں، لوگوں کو شعور دیں، حکمران کو غلط کام کرنے سے روکنے کی کوشش کریں۔ وزیر خارجہ، معاون خصوصی، وزیر ریلوے، وزیر خزانہ، سب وہی ہیں، جو پہلی حکومتوں میں رہے ہیں۔ یہ وضاحت کے لیے کہہ رہا ہوں۔ یہ صرف افراد اور انکی مثالیں نہیں ہیں، بلکہ پچھلی حکومتوں کی طرح یہ لوگ بھی ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور عالمی اداروں کی پالیسی لیکر چلنے والے ہیں، سب ان کے غلام ہیں۔ ان کی تعلیمی، معاشی پالیسی یعنی سود پہ مبنی معیشت، عام آدمی کو نفع نہ پہنچانے کے حوالے سے سب ایک پیج پر ہیں، اس لیے خاموش نہیں رہنا چاہیے، سیاست اپنی جگہ پہ ہے، لیکن اصولوں کی بنیاد پہ بات تو ہونی چاہیے، معاشرے کو بھی اس طرح اچھے برے کا معلوم ہوتا رہتا ہے۔

عام شہری کے دل میں جو احساسات اور جذبات ہوتے ہیں، جس طرح وہ کچلے جا رہے ہیں، ان کے لیے آواز اٹھانا اور ان مسائل کے سیاسی حل پر بات کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم موجودہ اپوزیشن اور حکومت کی طرح یہ نہیں کہتے کہ ریاستی ادارے ان کا ساتھ کیوں ہیں یہ ہمارے ساتھ ہوں، بلکہ ہم نظام کی بات کرتے ہیں، بنیادی تبدیلیوں کی بات کرتے ہیں، جس سے یہ اسٹیٹس کو، ختم ہو، غریب، عاجز، فقیر، کسان، دہقان، مزدور کی زندگی آسان ہو جائے۔ یہ لوگ جس نظام کو لیکر چل رہے ہیں، یہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا چلایا ہوا ایک چکر ہے، جس میں ایک غریب آدمی پھنس کے پس رہا ہے، اس کے نکلنے کا کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔ ہم قوم کو حقیقی تبدیلی کیلئے تیار کرنیکی خاطر سیاست کر رہے ہیں، موجودہ سیاسی سیٹ اپ صرف مصنوعی تبدیلی کے ذریعے دہائیوں سے قوم کو دھوکا دے رہا ہے۔ بلکہ یہ لوگ تو کسی قسم کی تبدیلی کے لیے اہل ہی نہیں، نہ ہی یہ کوئی تبدیلی چاہتے ہیں۔ جماعت اسلامی نظام کی تبدیلی کیلئے کام کر رہی ہے اور قوم کا ساتھ چاہتی ہے۔

اسلام ٹائمز: انقلاب سے کیا مراد ہے، یہ نعرہ تو مذہبی اور سیاسی جماعتیں سنا چکی ہیں، کیا یہ موجودہ انتخابی سیاست کے ذریعے ممکن ہے؟
سراج الحق:
ہاں ممکن ہے، سیاسی عمل کے ذریعے ممکن ہے، ہماری سیاست کا مقصد یہی ہے، مقصد کے بغیر کوئی بھی کوئی جد و جہد کیسے کر سکتا ہے، مافیاز کی صورت میں کام کرنے والی سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں نے قوم کو یہاں لا کھڑا کیا ہے کہ کوئی سوچنے اور اعتبار کرنے پر تیار نہیں ہے کہ پاکستان میں کوئی تبدیلی حقیقی معنوں میں ممکن بھی ہے یا نہیں، ہم امید دلاتے ہیں، یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایسا نظام ممکن ہے کہ جہاں ہر آدمی کے لیے ایک آسان فضاء اور ماحول اور مواقع میسر ہوں۔ کوئی کسی بالادست کا دست نگر ہو، کسی مخصوص فرد یا طبقے کی اجارہ داری نہ ہو۔ اس مقصد کی خاطر سیاسی عمل کا حصہ رہنا اور اس میں اپنے بنیادی اصولوں پہ ڈٹے رہنا ہوگا، تاکہ لوگ سمجھیں، یقین کریں، حوصلہ پیدا کریں اور آگے بڑھیں۔ یہ سوچ تبدیل ہو، اس سوچ میں تبدیلی حقیقی انقلاب یعنی نظام کی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔

اس تبدیلی کیلئے ہر شعبے چاہے تعلیم ہے، معیشت ہے، خارجہ پالیسی ہے، اسکا پروگرام سمجھایا جائے، پیش کیا جائے، تاکہ لوگوں میں امنگ پیدا ہو۔ اس موجودہ گلے سڑے نظام کی خامیاں تو ہر ایک پر واضح ہو چکی ہیں، اس میں رہتے ہوئے حکومت کریں یا اپوزیشن میں رہ کر احتجاج کریں، لوگوں کو ساتھ ملایا جا سکتا ہے، لیکن اسکا فائدہ صرف مخصوص طقبوں اور خاندانوں کو ہوتا ہے، ہم یہ نہیں کر سکتے، یہ نہیں چاہتے۔ اس کا حقیقی راستہ کسی کے پاس نہیں، صرف اسلام ہی اسکا واحد حل ہے، کوئی اور نظام اس قابل نہیں جو کسی بھی معاشرے میں واقعی تبدیلی کی قوت رکھتا ہو۔ جہاں کسی کی حق تلفی نہیں ہوتی، ورنہ غلط نظاموں کی صورت میں چاہے کوئی ذاتی طور پر جتنی محنت کر لے، اسے نجات نہیں مل سکتی، وہ مشکلات اور مسائل کی دلدل میں دھنستا جائیگا، کیونکہ رائج نظام بنائے ہی مخصوص لوگوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے گئے ہیں۔

اسلام ٹائمز: عوام تو ان دعوؤں کی تشریح سے قاصر ہیں، خوشنما نعرے ہی انہیں کھینج لاتے ہیں، مروجہ طریقے سے ہٹ کے وہ کیسے سمجھ سکتے ہیں اور قبول کیسے کر سکتے ہیں، یقین تو دور کی بات ہے، عوام کی بھلائی، قومی مفاد اور ترقی کے نعرے بھی موجود ہیں؟
سراج الحق:
سب سے پہلے ایک آدمی کو اسکی اپنی ذات، وقار، عزتِ نفس کا احساس دلانے کی ضرورت ہوتی ہے، جو مروجہ نظام کتم کرتا ہے اور چھین لیتا ہے، اسکا حل بڑا آسان ہے، اللہ کا اسلام۔ جو لوگ حکمران ہیں یا حکمرانی کے خواہش مند ہیں، انکی مثال ایک سانپ اور بچھو جیسی ہے، یہ اس سے بھی زیادہ زہریلے ہیں، کیا انسان اس لیے پیدا کیا گیا ہے، وہ اپنی اولاد بیٹی یا بیٹا اس لیے پیدا کرے کہ یہ سانپ اور زہر آلود جانور، درندے اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنائیں، جو کچھ ہو رہا ہے معاشرے میں، کیا ہے، آدمی کا سر شرم سے جھک جاتا ہے، لیکن معاشرے سے کوئی آواز ہی نہیں اٹھتی، اس کی کیا وجہ ہے، لوگوں کا ضمیر اور احساس ہی مردہ کر دیا جاتا ہے، اب ملک میں تبدیلی، نظام میں تبدیلی سے پہلے سوچ کی تبدیلی اور رویے کی تبدیلی ضروری ہے، لیکن یہ بات درست ہے کہ سیاسی نعروں کا اتنا شور ہوتا ہے کہ اس گرد میں عام آدمی کی سوچ اور فکر کملا جاتی ہے، شور و غوغا میں سب کچھ گم سا ہو جاتا ہے۔

اسی ماحول کے اندر انہیں بے نقاب کیا جا سکتا ہے، اور یہ ہر آنے والے دن اپنا مسخ شدہ چہرہ دکھا رہے ہیں، ایک ایسے معاشرے میں جہاں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں، وہاں انصاف کے نعرے کے فریب میں لوگ مبتلا ہیں، جہاں اسلام نام کی کوئی چیز نہیں، ریاست مدینہ کا نعرہ دلوں کو لبھا رہا ہے، جرائم ہیں، جرائم پیشہ لوگوں کے سرپرست حکومتوں میں ہیں، کرپشن کیخلاف مہم چلائی جا رہی ہے، مہم چلانے والے پکڑے گئے ملزموں سے بڑے چور ہیں، ایسی صورتحال میں عام آدمی تو کیا اچھا بھلا سوچ سمجھ رکھنے والا آدمی چکرا جاتا ہے، اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ دیا جلائے رکھیں، یہ صرف اخلاقی قوت کی بدولت ممکن ہوتا ہے، جو جماعت اسلامی کی لیڈرشپ کے علاوہ کہیں نظر نہیں آتی، لیکن اس اخلاقی قوت کی وجہ سے اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے، اور مادی وسائل کی کمی بھی پوری ہو جاتی ہے اور لوگوں تک حق کی آواز بھی پہنچائی جا سکتی ہے۔

اسلام ٹائمز: مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کی آپ نے بات کی، لیکن یہ سوال مولانا اور انکی جماعت کے متعلق بھی ہے کہ وہ بھی بنیادی اصلاحات اور نظام میں تبدیلی کے مطالبے پہ نکلے ہیں، اس بارے میں کیا کہیں گے؟
سراج الحق:
وہ بنیادی طور پر تو استعفیٰ مانگ رہے ہیں، جو نہیں ملے گا، یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی وزیر تبدیل ہو جائے، اب اس پہ غور کریں، یہاں نظام کی تبدیل ممکن نہیں، اس طرح ممکن نہیں، صرف کسی وزیر کے تبدیل ہونے سے نظام کیسے تبدیل ہو سکتا ہے، یہ بڑی صراحت سے کہہ چکے ہیں کہ دیکھیں ہم ساتھ تو دے رہے ہیں لیکن آپ نے اس دوران اسلام کا نام بھی نہیں لینا، یہ شروع سے ہی بلاول بھٹو نے کہا تھا، باقی بھی یہی کہتے ہیں، اس دوران، بلکہ ان لوگوں کی موجودگی میں کھڑے ہو کر اگر مولانا تقریر کرتے ہیں اور اصلاحات اور نظام کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں، تو مکمل تبدیلی کا پیش خیمہ کیسے بن سکتا ہے، اسکا مطلب یہ ہوگا کہ کل کو اسکا نتیجہ الٹ نکلے گا۔

جب عام آدمی پر اس کا راز فاش ہوگا کہ جو نعرہ لگایا گیا، وہ تو تھا اصلاحات اور تبدیلی کا لیکن ہو ا اس کے الٹ، یعنی موجودہ نظام کا ہی حصہ جماعتوں یا مخصوص طبقے کو رعایت دلوانا مقصد تھا، پھر خود انقلاب اور تبدیلی کا نعرہ بھی بدنام ہو جائیگا، اب ہماری مشکل دہری ہو گئی، ڈبل رکاوٹ بن گئی، کیونکہ اب تو پگڑی اور داڑھی کیساتھ یہ نعرہ لگایا گیا لیکن حقیقت میں وہ نعرہ تھا نہیں، بلکہ اس کے پردے میں کچھ اور مقاصد تھے، جو مافیا نے حاصل کیے، احترام اپنی جگہ لیکن ہمیں غلطی سے اجتناب کرنا چاہیے، اس کی گنجائش نہیں، ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، انقلاب اگر مشکل ہی سہی، اسے مزید مشکل تو نہیں بنانا چاہیے۔

اسلام ٹائمز: اس سے پہلے کود مذہبی جماعتوں نے بھی تو سیاسی اتحاد بنائے ہیں، کیا اس سے انقلاب کی منزل اور راستے کو نقصان نہیں پہنچا؟
سراج الحق:
ہاں ایم ایم بنی تھی، الیکشن میں حصہ بھی لیا، الیکشن میں ناکامی بھی ہوئی، لیکن موجودہ صورتحال میں چھوٹے صوبوں کی جماعتوں اور بڑی سیاسی جماعتوں کو نقصان ہوا ہے، وہ اس کا ازالہ چاہتے ہیں، ہم نے کبھی اس طرح نہیں سوچا، بلکہ حقیقی تبدیلی کیلئے ہی اتحاد بنائے، اس الیکشن کے بعد بھی ہم نے مولانا سے گذارش کی کہ ہمیں اس بات پر متفق ہونا چاہیے کہ یہ جو پی ٹی آئی ہے، یہ ویسی ہی ایک جماعت ہے، جیسی پی ایم ایل این اور پی پی پی ہیں، تو بجائے ان کو ساتھ ملانے کے، آپس میں ایک انقلابی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے مل کر اتحاد بنانا چاہیے، جد و جہد کرنی چاہیے، لیکن یہ موجودہ لوگ ہمارے ساتھ آئیں تو بھی یہ صرف اپنی منفعت کے لیے آئیں گے، اگر ہمیں اپنے ساتھ ملائیں گے تو بھی اپنے مفاد کیلئے، ہمیں ان لوگوں کیساتھ نہ ملنا چاہیے، نہ انکو اپنے ساتھ ملانا چاہیے۔ بلکہ انقلاب کیلئے حقیقی جد و جہد کرنی چاہیے، اس طرح عوام اگر بیدار ہونگے اور اس نظام سے باغی ہوںگے تو ہماری طرف آئیں گے۔

کیونکہ موجودہ نظام کو چلانے اور اس سے فائدہ اٹھانے والوں کیساتھ ہم نہیں کھڑے ہونگے۔ اس نظام کے مقابلے میں اسلام کا انقلابی، سیاسی، معاشی، تعلیمی نظام ہم پیش کر سکیں گے، ورنہ لوگ ہمیں بھی انکا حصہ اور ان جیسا سمجھیں گے۔ ایسا نظام جو سب کی فلاح کیلئے ہو، ریاست اور حکومت کے سربراہ کیلئے بھی وہی نظام ہو جو مزدور کے بچے کیلئے ہو۔ لیکن اگر ایسا نہیں کرتے اور ان ہی سیاستدانوں کی قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں تو ایک عام پاکستانی یہ کہنے میں سچا ہوگا کہ یہ تو وہی پیپلزپارٹی ہے، وہی مسلم لیگ ہے، میں کسی مذہبی قوت کا ساتھ دینے کی بجائے، براہ راست انہیں سیاسی جماعتوں کا ساتھ دیتا ہوں، کوئی نہ کوئی فائدہ بھی اٹھا لوں گا۔ مولانا نے جس طرح دھرنا کا پروگرام چلایا ہے، اس سے عام آدمی یہی سمجھ رہا ہے کہ آنا تو پھر پرویز مشرف، شریف خاندان یا بھٹو فیملی میں سے کسی نے اقتدار میں ہے، اس لیے اپنی شناخت اور اسلامی طریقے اور اصولوں کا تقاضا ہے کہ انقلاب کی منزل کو قریب کرنے کیلئے کم از کم ہم تو ان کے نعروں کے فریب کی زد میں نہ آئیں۔ ہمیں کسی اتحاد کا حصہ بننے کی بجائے متبادل قوت کے طور پر سامنے آنا چاہیے۔

اسلام ٹائمز: اپوزیشن اور جے یو آئی (ف) کی موجودہ احتجاجی تحریک کے وقت اور خطے کے حالات کے متعلق بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ مناسب نہیں تھا، اس پر آپ کیا سمجھتے ہیں، کیسا ہے؟
سراج الحق:
اس سلسلے میں متعدد بار بات ہو چکی ہے کہ جن دنوں میں یہ مارچ اور احتجاج شروع کرنیکی باتیں ہونے لگیں، انہی دنوں میں 5 اگست کو بھارت نے کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کا قانون پاس کروایا، ہم نے بھی کچھ اور احباب نے بھی انہیں اس سے روکنے کی کوشش کی، سقوط ڈھاکہ کے بعد یہ بڑا سانحہ تھا، ہماری حکومت خاموشی سے دیکھتی رہی، پھر کچھ دن شور مچایا، پھر آدھ گھنٹہ احتجاج کیا، لیکن اس احتجاج کا کوئی اثر نہیں ہوا اور مودی نے مذاق اڑایا، سارا فوکس اس پہ ہونا چاہیے، جس کے لیے ہم پوری کوشش کر رہے ہیں، اظہار یکجہتی کرنا، اور اپنی حکومت پر دباؤ ڈالتے رہنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 828261
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے