0
Wednesday 15 Jan 2020 03:31
ہم (پاکستان) تو بڑی خاموشی کیساتھ امریکہ کی گیم کا حصہ ہیں 

امریکہ نے جو جنگ چھیڑی ہے، یہ ایک دن میں ختم ہونیوالی نہیں، یہ جنگوں کی ماں ثابت ہوگی، جاوید ہاشمی 

تیسری جنگ عظیم جو شروع ہوچکی ہے، اسکا اکھاڑہ ہمارا خطہ ہے، یورپ نہیں
امریکہ نے جو جنگ چھیڑی ہے، یہ ایک دن میں ختم ہونیوالی نہیں، یہ جنگوں کی ماں ثابت ہوگی، جاوید ہاشمی 
مخدوم جاوید ہاشمی یکم جنوری 1948ء کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی صدر کے عہدے سے مستعفی ہوئے ہیں۔ مخدوم جاوید ہاشمی کو نواز لیگ چھوڑ کر تحریک انصاف جوائن کرنے پر پی ٹی آئی کا مرکزی صدر نامزد کیا گیا تھا، تاہم قیادت کیساتھ اختلافات پر انہوں نے تحریک انصاف کو خیر باد کہہ دیا۔ جاوید ہاشمی وفاقی وزیر صحت، وفاقی وزیر یوتھ افیئرز بھی رہے ہیں۔ 1999ء میں پرویز مشرف کے شب خون کے بعد جاوید ہاشمی نے نواز لیگ کو سنبھالے رکھا۔ سیاسی بنیادوں پر جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی۔ جاوید ہاشمی نے عام انتخابات میں شیخ رشید کو شکست دی اور رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ جاوید ہاشمی نے اپنے تنظیمی کیریئر کا آغاز زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے کیا، بعد ازاں سیاسی میدان میں قدم رکھا اور خود کو بہترین سیاست دان ثابت کیا۔ اسلام ٹائمز نے ایران امریکہ کشیدگی اور پاکستان کے موجود حالات پر اُنکے ساتھ ایک نشست کی، جسکا احوال اپنے قارئین کیلئے پیش کر رہے ہیں۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: حالیہ ایران امریکہ کشیدگی کا مستقبل کیا ہوگا۔؟ 
مخدوم جاوید ہاشمی:
اس میں بہت زیادہ منحصر ہے روس اور چائنہ پر، اگر وہ ایران کے ساتھ کھڑے ہوگئے تو ایران فل ٹائم دے گا، کیونکہ باقی تو امریکہ کے اتحادی ہیں۔ انڈیا، پاکستان بلکہ اس جنگ میں پاکستان کا سب سے پہلے بھرکس نکلے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت جو یہ ممالک ہیں ملائیشیا، ترکی وہ سارے کے سارے، آدھا یورپ بھی اس وقت وہ امریکہ کی جنگ کے خلاف ہیں، امریکی کانگریس اور سینٹ میں اس کے اثرات نظر آرہے ہیں، ٹرمپ کی طاقت کو کم کر رہے ہیں، اس دوران وہ جنگ تو نہ لڑے، لیکن ایران کے اندر زیادہ خدشات یہ ہیں کہ موجود حکومت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا، جیسے اُس نے شورش کرکے جنرل قذافی کو ہٹایا، صدام حسین کو ہٹایا، اب یہاں بھی وہ اپنا کھیل کھیلے گا۔

امریکہ ایران کے انقلاب کو توڑنے کی مکمل کوشش کرے گا، اندر سے لوگوں کو اُبھارے گا، طاقتور نظام ہے لیکن اُن کو آپس میں لڑائے گا، لبنان میں حسن نصراللہ کو حکومت کے مدمقابل لائے، شام میں وہ بشار الاسد کو ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوا، اس جنگ میں سب سے زیادہ سعودیہ اور ایران کا نقصان ہوگا، جو فرنٹ پر ہیں، ان کے اندر باہر تبدیلیاں آئیں گے اور اس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے، ہماری معیشت پر بہت دبائو آئے گا، لیکن چائنہ اور روس ہماری معاشی مشکلات کو دور کرسکتے ہیں، اس طریقے سے یہ بلاک جو بن چکا ہے اور یقین کی حد تک اس حوالے سے میں بیس سال پہلے اپنی کتابوں میں لکھ چکا ہوں، ایک دن آئے گا کہ بھارت بھی امریکہ کے خلاف کھڑا ہوگا۔

اسلام ٹائمز: پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ایران امریکہ جنگ میں اصل ہدف پاکستان ہے، اس حوالے سے آپ کیا کہتے ہیں۔؟ 
مخدوم جاوید ہاشمی:
پاکستان کا جو ایٹم بم ہے، وہ تو امریکہ کا کیا پوری مغربی دنیا کا جس میں روس، انڈیا اور یورپ شامل ہے، سوائے چین کے اُن کا پہلا کام ہے کہ ہمارا ایٹمی پروگرام قابو کر لیں، اس کو معاشی طور پر کمزور کر دو، تاکہ یہ ختم ہو جائے، وہ پاکستان کے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے، تاکہ یہ کہیں ایٹم بم نہ رکھ سکیں، ایٹم بم تو جنگ میں چلانے کے لیے ہے، اگر ملک کے ٹکڑے ہی چار پانچ ہو جاتے ہیں، بلوچستان چلا جاتا ہے، اُن کے کئی مقاصد ہیں، ایران سے امریکہ کو اُس نکتہ نظر سے جنگ نہیں ہے، اُسے اُنہوں نے کہا کہ تم نے ایٹم بم نہیں بنانا، وہ تھوڑا پیچھے ہٹ گیا۔

پاکستان نے وہ خطرناک کام کیا ہے، جو کسی ایک سیاستدان نے نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کی خواہش تھی، دیکھیں ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو توڑنے میں حصہ لیا ہے، اُنہوں نے شیخ مجیب کو دھکا دینے کا کام کر دیا، اسمبلی کا اجلاس نہیں ہونے دیا، جس کے بعد فوری طور پر بھٹو نے اس ملک کو طاقتور بنانے کے لیے سوچا اور اس کا کریڈٹ اُنہیں جاتا ہے، اُنہیں اس کا سلسلہ شروع کیا، جس کے بعد کسی نے اس سلسلے کو بند نہیں کیا، جس کے بعد جنرل ضیاء الحق نے امریکہ سے کئی جھوٹ بھولے کہ ہم ایٹم بم نہیں بنا رہے، لیکن ہم نے ایٹم بم بنایا، پاکستان کو خطرات ضرور لاحق ہیں لیکن یہ منطق سمجھ نہیں آتی۔

اسلام ٹائمز: ایران امریکہ کشیدگی کے خطے پر کیا اثرات مرتب ہونگے۔؟ 
مخدوم جاوید ہاشمی:
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی سے بہت بھیانک اثرات ہمارے خطے پر مرتب ہوں گے، معاشی ترقی کی طرف بڑھیں گے اور گوادر اس ترقی کا مرکز ہوگا، اس حوالے سے کافی تبدیلیاں رونما ہوں گی، امریکہ نے جو جنگ چھیڑی ہے، یہ ایک دن میں ختم ہونے والی نہیں ہے، یہ درحقیقت جنگوں کی ماں ثابت ہوگی، امریکہ نے ایرانی جنرل کو جو مارا، وہ جنگوں کی ماں کو اُنہوں نے چھیڑ دیا ہے، اب اس کو بند کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا، اس خطے کی پوری شکل و صورت بدلے گی، امریکہ کو بہت ساری جگہوں پر ہزیمت اُٹھانی پڑے گی، ویتنام سے زیادہ ہزیمت، افغانستان سے زیادہ ہزیمت اُٹھانی پڑے گی، اُسے پیچھے ہٹنا ہوگا، لیکن یہ ضروری نہیں ہے، یہ خطہ بہت عظیم بن جائے، ہوسکتا ہے لیکن تیسری جنگ عظیم جو شروع ہوچکی ہے، اس کا اکھاڑہ ہمارا خطہ ہے یورپ نہیں۔ 

اسلام ٹائمز: عالمی سطح پر اتنی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، لیکن پاکستان میں اتنی مضبوط قیادت نہیں ہے، جو اس حوالے سے ٹھوس حکمت عملی اپنا سکے، اس سے پاکستان کو کس حد تک اور کتنا نقصان ہوگا؟ ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ ہم کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، جبکہ مسئلہ کشمیر پر ہم دوسرے ممالک کیجانب نگاہ رکھتے ہیں۔؟
مخدوم جاوید ہاشمی:
ہم (پاکستان) تو بڑی خاموشی کے ساتھ امریکہ کی گیم کا حصہ ہیں، یہ صرف کہنے کی باتیں ہوتی ہیں کہ ہم کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، ایران کو ہم نہ کوئی کھانے کی چیز دیں گے، نہ کوئی خریدیں گے اور مزید امریکہ جو پابندیاں لگا رہا ہے، وہ بھی مانیں گے، جو کہ آپ کی اور ہماری سوچ سے بھی زیادہ ہیں اور ہم اُسے مانیں گے، ورنہ وہ ہماری معیشت کو تباہ کر دے گا، آئی ایم ایف میں تو ہم جاچکے ہیں، ہمیں جان بوجھ کر آئی ایم ایف میں پھنسایا گیا، اگر مسلم لیگ نون کی حکومت چلتی رہتی تو معاشی حالت بہتر ہو جاتی، ہمارے دورے میں جی ڈی پی پانچ فیصد پر چلی گئی تھی، لیکن آج وہ ادھوری ہوچکی ہے، آئی ایم ایف پیسے دینے والا کوئی بینک نہیں بلکہ وہ اُن کا سب سے بڑا سیاسی ڈھانچہ ہے، اُس کے اندر وہ اپنی شرائط پوچھتے ہیں، وہ پوچھتے ہیں کہ آپ نے چائنہ کے ساتھ کیوں کام کیا، آئی ایم ایف میں جو پوری کی پوری ٹیم بیٹھی ہوئی ہے، وہ امریکی ہے، عمران خان کی نہیں ہے اور اُن کی تھی بھی نہیں، پہلے آپ تھنک ٹینک تھنک ٹینک سنتے رہتے تھے، اب کبھی تھنک ٹینک کا لفظ بھی سنا ہے؟ پاکستانی قیادت میں اتنی جرات نہیں کہ وہ امریکہ کو انکار کرسکے، ہم غلام لوگ ہیں، آئی ایم ایف کا دباو ہے۔

اسلام ٹائمز: ہائیکورٹ کیجانب سے سابق صدرپرویز مشرف کے حق میں آنیوالے فیصلے پر آپ کیا کہیں گے۔؟ 
مخدوم جاوید ہاشمی:
ہائیکورٹ نے یہ فیصلہ دے کر کچھ لوگوں کے بلکہ حکومت کے لوگوں کے مطابق خصوصی عدالت کے لگائے ہوئے دھبوں کو دھو دیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمارے ججز کو عمر خضر عطا فرمائے، کہا جاتا ہے کہ دو قوانین ہیں، یہاں صرف آئین کا مقصد ملک کے عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا نہیں ہوتا، مخصوص افراد کو تحفظ دینا ہمارے آئین کا بنیادی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے، پاکستان میں آئین بنتے اور ٹوٹتے رہے ہیں، لگتا یہ ہے کہ فرد واحد کو بچانا ضروری ہوتا ہے، آئین کا پڑھنا اور لکھنا ثانوی حیثیت اختیار کر جاتا ہے، ہمارے ہاں پرویز مشرف جیسے عبقری صدیوں میں بھی پیدا نہیں ہوتے، جنرل یحیٰ خان، جنرل ایوب، جنرل ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے علاوہ کوئی ملک کا خیرخواہ ہو ہی نہیں سکتا، ہماری تاریخ کے مطابق لیاقت علی خان، محترمہ فاطمہ جناح، ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو، میاں نوازشریف، ایئر مارشل اصغر خان، نوابزدہ نصراللہ خان ہماری تاریخ کے مطابق ان کے نام غداری کے زمرے میں نام سرفہرست ہیں، ملکی معیشت کو سب سے زیادہ تباہ سیاستدانوں نے کیا ہے، اس کی معیشت کو سنبھالا صرف ہمارے چار ماشل لاء کے ادوار نے ہے۔

مجھ پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا، جس میں بائیس سال مجھے قید بامشقت دی گئی، دس لاکھ جرمانہ تھا، ادا نہ کرنے کی صورت میں آٹھ سال مزید سزا تھی، تیس سال کل سزا تھی، چونکہ میں غداری کا ارتکاب کرچکا تھا، ان تیس سالوں میں چھ سال میں جیل کے اندر بیٹھا رہا ہوں۔ جیل کاٹی، سی کلاس سے بدتر جیل، جس میں نہ کوئی اے سی، نہ کوئی ہیٹر، نہ کوئی اور چیز اور اُن دنوں بجلی بھی لوڈ شیڈنگ کے باعث میرے کمرے کبھی پنکھا اور نہ سردیوں میں کسی ہیٹر کی اجازت تھی بلکہ یہ جرم تھا، اب میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر واقعی میں غدار ہوں تو مجھے ضمانت سپریم کورٹ تک نے نہیں دی، اب بھی میں جو ری ویو پٹیشن میں دو ججوں کو اپنے غلطی کا احساس ہوا، جنہوں نے یہ تسلیم کیا کہ ہم سے غلطی ہوئی اور اُنہوں نے مجھ سے تین دفعہ معافی مانگی۔

یہ فیصلہ موجود ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ضمانت ملنے کے بعد آج تک مجھ سے کسی نے پوچھا نہیں کہ تم نے تو غداری کی تھی، مقدمہ چلانا ہے اور وہ مقدمہ معافی مانگنے کے باوجود ابھی تک موجود ہے، مجھے غدار کہا جاتا ہے، لیکن جو آئین کا حقیقی غدار ہے، اُسے مقدس ماب بنا دیا گیا ہے کہ اس کی کوئی توہین نہیں کرسکتا، تین دفعہ آئین توڑا ہے، آنکھوں کے سامنے ہے اور آج حقیقت ہے، میں تو دکھی ہو رہا تھا، مجھے ابھی کابینہ کی میٹنگ میں عمران خان بیچارہ بیٹھا تھا، لیکن وہ کابینہ کی میٹنگ اُس کے اندر جیسے کسی کے جسم سے روح نکال دی جائے، دو وزیر نہیں آئے، طارق بشیر چیمہ اور خالد مقبول صدیقی صاحب، نہ ہونے کے بعد عمران خان کی روح فنا ہوئی ہوئی تھی۔

مٹی کا مادھو ایک کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہا تھا، جب یہ توہین آمیز رویئے بن جائیں گے تو میں عمران خان سے کہوں گا کہ تھوڑی سی عزت بچ جائے گی، اگر وہ استعفیٰ دیدے تو، گھر چلا جائے، اسمبلیوں کو نہ توڑے، یہ کام بھی وہ ایک دن کرے گا، لیکن میں کہتا ہوں کہ مزید بحران پیدا کرنے کی بجائے گھر چلا جائے، آج دیکھیں کہ وہ اسلام آباد بیٹھا ہے اور ایک، دو، تیسرے بندے کو کراچی بھیج رہا ہے، (چٹھی میرے ڈھول دی وے لائے جانویں کبوترا) وہ کبوتر اُڑا رہا ہے، پیغام دے رہا ہے، امن کا کبوتروں کے ذریعے اور کبوتروں کے پیغام سے ملک تو نہیں چلتے۔ 

اسلام ٹائمز: آرمی چیف کی توسیع کے حوالے سے دیگر جماعتوں کیطرح مسلم لیگ نون بھی اُسی صف میں کھڑی ہوگئی ہے؟ وہ جو بیانیہ تھا کہ ووٹ کو عزت دو، وہ کہاں چلا گیا۔؟ 
مخدوم جاوید ہاشمی:
اس پر مجھ سے زیادہ بہتر جو لوگ اندر ہیں، وہ اس پر تبصرے بھی کر رہے ہیں، میں اُس پر ایک بات کہنا چاہتا ہوں، یہ سارا کچھ ہائیکورٹ کے فیصلے، سپریم کورٹ کے فیصلے، یہ سارا خلائی مخلوق ہی تو کر رہی ہے، وہ جو خلائی مخلوق یا محکمہ زراعت ہے، وہ طاقت ہے، اُنہیں کی بات سوچی اور سمجھی جا رہی ہے اور جو وہ کہتے ہیں، جو اس کو نہیں مانتا، وہ اُسے فیلڈ میں نہیں جانے دیتے، دیکھیں حالات چاہے جیسے بھی ہوں، جو بھی مجبوری ہو، اس وقت مسلم لیگ کی قیادت میدان میں نہیں ہے، زیادہ تر لندن میں بیٹھی ہوئی ہے، جو یہاں پر قیادت ہے، وہ سیکنڈ لائن ہے، اُن کی جو باتیں آرہی ہیں، وہ ہمارے ذہن میں اور پوری پارٹی کے ذہن میں زیادہ مسائل پیدا کر رہی ہیں، میں وہیں کھڑا ہوں، یہ الیکشن بھی خلائی مخلوق نے کرایا ہے اور خلائی مخلوق اسٹیبلشمنٹ ہے۔ اُنہوں نے اپنی مرضی کی چیزیں چلائی ہیں اور اس وقت خلائی مخلوق کا بیانیہ چل رہا ہے، مسلم لیگ کا بیانیہ نہیں چل رہا۔

لیکن ایک بات میں آپ کو کہہ دوں کہ ووٹ کو عزت دو، اس نعرے پر کسی کی مناپلی نہیں ہے، لیکن آج وہ شعر یاد آتا ہے کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز، نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز، بے شمار تبدیلیاں آئیں گی اور میں نے شروع میں کہا تھا کہ اس پانچ سالہ مدت میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوں گی، لیکن یہ بات مسلمہ ہے، جو وہ چاہیں گے، وہی حکومت میں آئے گا۔ عمران خان نے کافی چیزیں اُن کے مطابق کی ہیں، اُس کی کابینہ اپنی نہیں ہے، اُس کے فیصلے اپنے نہیں ہیں، اُس کی سوچ اپنی نہیں ہے، وہ ہر روز سوچ بدلتا ہے، چلو میں آگیا ہوں، کچھ تو مجھے چلنے دو، جمہوریت کا رعب دبدبہ اس وقت نظر نہیں آرہا ہے، عمران خان کو دو دن کے اندر اُنہوں نے دال آٹے کا بھاو بتا دیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 838504
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش