0
Friday 24 Jan 2020 13:16
امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں

ثالثی کی پیشکش سے امریکہ بھارت کو عالمی سطح پر دباؤ سے نکلنے میں مدد فراہم کرنا چاہتا ہے، سردار ظفر حسین

حکمران اپنے اقتدار کی بجائے کشمیر پر فوکس کریں تو اسکے پورے عالم اسلام پر مثبت اثرات مرتب ہونگے
ثالثی کی پیشکش سے امریکہ بھارت کو عالمی سطح پر دباؤ سے نکلنے میں مدد فراہم کرنا چاہتا ہے، سردار ظفر حسین
جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے نائب امیر سردار ظفر حسین جماعت اسلامی فیصل آباد کے سابق امیر اور ایڈووکیٹ ہیں۔ زمانہ طالب علمی سے ہی سیاست سے وابستہ ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر امریکہ کی طرف سے ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش، بھارتی مظالم، مسلمان ممالک کے کشمیر سے متعلق کردار اور 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر سمیت اہم ایشوز پر اسلام ٹائمز کیساتھ انکا انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ایک دفعہ پھر امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی ہے، اس سے امریکہ کا کیا مفاد وابستہ ہے۔؟
سردار ظفر حسین خان:
کشمیر پاکستان اور مسلمانوں کا مسئلہ ہے، امریکہ تو بھارت کو اپنا اسٹریٹیجک اتحادی سمجھتا ہے، ہمیں اس دھوکے میں نہیں آنا چاہیئے۔ امریکہ خود پوری دنیا میں ہونیوالے مظالم کا ذمہ دار ہے، موجودہ امریکی صدر مسلمانوں کو انسان ہی نہیں سمجھتا، اسے جب بھی موقع ملا وہ مودی کا ساتھ دے گا۔ کشمیر پر ایک اور تقریر اور ثالثی کی باتوں کے سوا کچھ نہیں ہوا۔ امریکہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا تعاون چاہتا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کیخلاف دباؤ بڑھا رہا ہے، ہمیں آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں امریکی صدر یا امریکی انتظامیہ کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیئے۔ لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان پر ایسے لوگ مسلط ہیں، جو خود دھوکے سے آئے ہیں، اسی طرح انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ امریکی صدر نے دھوکہ دینا ہے۔ لیکن چونکہ یہ کشمریوں سے مخلص نہیں، اس لیے انہیں اس کا احساس ہی نہیں کہ کشمیریوں پر کیا بیت رہی ہے، ایسے حکمران جن کی کی عوام میں جڑیں نہ ہوں، پاکستان کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں، صرف قیادت اور کمٹمنٹ رکھنے والے حکمران کی کمی ہے، ورنہ ہمیں کسی سہارے کے بغیر بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا چاہیے، یہی کشمیر کا حل ہے۔

لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ ایک بار پھر عمران خان نے امریکی صدر سے اپیل کی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد کریں، کئی ماہ پہلے کی گئی ثالثی کی پیشکش کا کیا ہوا؟ بھارت نے تو ثالثی یکسر مسترد کر دی اور ٹرمپ بھارت کو ناراض نہیں کرسکتا، خواہ عمران خان سے دوستی کا دعویٰ ہو۔ ویسے بھی فرد واحد سے دوستی کا مطلب کسی قوم اور ملک سے دوستی نہیں ہوتا۔ اسے عمران خان کی سادگی کہیں یا کیا کہ پھر ٹرمپ سے درخواست کر دی کہ بھارت سے معاملات حل کرائیں اور ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہم تیار ہیں۔ ٹرمپ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ وہ کشمیر پر ہونے والی پیش رفت بغور دیکھ رہے ہیں۔ اس پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیئے کہ وہ دیکھ تو رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے تو دنیا دیکھ رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ امریکا سمیت اس بے حس دنیا نے عملاً کیا کیا ہے۔ صرف بھارتی مظالم پر خاموشی اور خاموش تائید، یہ تو خود ایک ظلم اور واضح طرفداری ہے۔

اسلام ٹائمز: وزیر خارجہ نے امریکہ کا دورہ کیا، پھر ڈیووس میں وزیراعظم کیساتھ صدر ٹرمپ سے ملاقات میں شریک رہے، انہوں نے اسکا پلس پوائنٹ یہ بتایا ہے کہ کشمیر پر امریکی ثالثی سے بھارت کیخلاف قانونی مقدمہ بنا کر عالمی فورمز پر آواز اٹھانے میں آسانی ہوگی، کیا اس سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہیئے۔؟
سردار ظفر حسین خان:
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں، وہ صرف دباؤ سے نکلنا چاہتا ہے، امریکی صدر کی ثالثی کی پیشکش مودی سرکار کو مظالم سے روکنے کیلیے نہیں بلکہ بھارت کو دباؤ سے نکالنے کیلئے ہے۔ میں ایک بار پھر کہوں گا کہ ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے، یہ سمجھ کر بھروسہ کریں اور یہ بھول جائیں کہ امریکی صدر آپ کو دھوکہ دے رہا ہے، اس سے فاش غلطی نہیں ہوسکتی، لیکن ہمارے خیال میں امریکی صدر تو دھوکہ دے رہا ہے، البتہ ہمارے حکمران ٹرمپ کے دھوکہ میں آ نہیں رہے بلکہ ہمیں دھوکہ دینے میں اسکا ساتھ دے رہے ہیں، یہ دراصل قوم کے، پاکستان اور کشمیریوں کے مجرم ہیں۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ عالمی سطح پر امریکی ثالثی کو کشمیر کے حق میں استعمال کیا جا سکتا ہے، تو کیا کسی کو شک ہے کہ بھارت ظلم کر رہا ہے، کیا امریکہ نے کبھی بھارتی مظالم پر بات کی ہے، امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

یہ تو ممکن ہے کہ امریکہ عالمی سطح پر پاکستان کو نقصان پہنچانے اور بھارت کو فائدہ دینے کیلئے ثالثی کا نام لے رہا ہو، یہ ممکن نہیں کہ وہ اس سے پاکستان کو یا کشمیر کاز کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہوں، جب میں بار بار دھوکے کی بات کر رہا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ ایک ظالم طاقت ہے، ہمارے ممالک پر خود ان کا غاصبانہ قبضہ ہے، امریکہ اسرائیل کے قبضے کی تائید کر رہا ہے، ان کی مدد کر رہا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم امریکہ کو اپنا حامی شمار کرنے بیٹھ جائیں، اس کا مطلب ہوگا کہ امریکہ فلسطین سمیت عالم اسلام اور مسلمانوں کے حقیقی مسائل سے پاکستان کو الگ کرنیکی سازش میں کامیاب ہو جائیگا۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ کشمیری پاکستانی پرچم کو کفن بنا کر قربانی دے رہے ہیں، ہم ان کے ساتھ وفاداری کریں، وہ اپنا خون بہا رہے ہیں، ہمیں ان کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔

اسلام ٹائمز: کشمیر کے مسئلے پر مسلمان ممالک کے کردار کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
سردار ظفر حسین خان:
جس طرح امریکہ کیطرف سے کشمیر پر کی جانے والی ثالثی کی پیشکش ایک بے معنی چیز ہے، اسی طرح عمران خان کا اپنے گھر کو چھوڑ کر اور کوالالمپور کانفرنس میں صرف ایک ملک کی خواہش پر انکار سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ مسلمان ممالک کے درمیان جو صلح اور امن قائم کروانے کی باتیں کرتے ہیں، ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب بھارت سے تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کو بڑھا رہا ہے۔ کشمیری مسلمان مر رہے ہیں تو مرتے رہیں، ورنہ بھارت کو صرف ایک دھمکی کافی تھی کہ بنیا مالی نقصان برداشت نہیں کرسکتا۔ عمران خان کے دوست ٹرمپ کے ہاتھ تو فلسطینیوں کے خون سے بھی رنگین ہیں اور اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے، اس میں امریکا کی پشت پناہی کا دخل ہے۔ وہی کچھ بھارت کشمیر میں کر رہا ہے۔ ٹرمپ اسے بھی بغور دیکھتے رہیں گے۔ ادھر وزیراعظم عمران خان امریکا اور ایران، سعودی عرب اور ایران کے درمیان صلح صفائی کرانے چلے ہیں، یہ جانے بغیر کہ ان کا اپنا وزن کیا ہے۔

ملک کے اندر عمران خان لڑائی جھگڑوں اور مخالفین کو چور، ڈاکو، لٹیرا اور بدعنوان کہنے میں مصروف ہیں۔ ملک کے اندر یہ رویّہ ہے اور چلے ہیں بین الاقوامی سطح پر کردار ادا کرنے۔ گھر کے اندر ان کی ساکھ انتہائی خراب ہوچکی ہے اور ان کے اپنے بھی نئے محاذ بنا رہے ہیں۔ ایران، امریکا اور سعودی عرب کی فکر چھوڑ کر گھر کی فکر کریں۔ اگر آج بھی حکمران اپنے اقتدار کی بجائے کشمیر پر فوکس کریں تو اس کے پورے عالم اسلام پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ امریکا کو الگ سے اس عمل میں ملوث کرنے کے طرف دار چند طالع آزمائوں کے سوا کوئی پاکستانی اس بارے میں کسی سمجھوتے کو برداشت نہیں کرے گا۔ ماضی میں بھی، جس کسی نے پاکستانی قوم کے اصولی موقف سے انحراف کی کوشش کی ہے، اس کا حشر عبرت ناک ہوا ہے اور مستقبل بھی ان شاء اللہ اس سے مختلف نہیں ہوگا۔

اسلام ٹائمز: کشمیریوں کی جدوجہد آزادی، عالمی فورمز پر بات چیت، میڈیا کیطرف سے بھارتی مظالم کی خبریں اور انڈیا میں ہونیوالے مظاہروں کے باوجود مودی سرکار ٹس سے مس نہیں ہوئی، آپ کس دباؤ کا ذکر کر رہے ہیں، جس سے وہ نکلنا چاہتے ہیں۔؟
سردار ظفر حسین خان:
جو حقیقت ہے، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مظلوم مسلمان بھائیوں کی مدد کو جہاد دیا ہے، خود مسئلہ کشمیر ہو یا فلسطین، یا افغانستان سمیت غاصبوں سے آزادی، اس کا حل بھی جہاد ہے، 30 سالہ تحریک ِجہاد نے بھارت پر دباو ڈالا ہے اور جس کے نتیجے میں بھارت کی فوج اور ایک حد تک سوچنے سمجھنے والے سیاسی عناصر کسی راہِ نجات کی تلاش میں ہیں۔ بھارتی قیادت پوری عیاری کے ساتھ اصل اسباب کی طرف رجوع کرنے کے بجائے دہشت گردی، انتہاء پسندی کا راگ الاپ رہی ہے اور امریکا اور بہت سے مغربی سیاست کار بھی اسی آواز میں آواز ملاتے نظر آرہے ہیں۔ یہ سب نہ نیا ہے اور نہ غیر متوقع، البتہ سب سے تشویش ناک پہلو پاکستان کے کچھ رہنمائوں کے متعدد متضاد بیانات اور صحافت کے کچھ قلم کاروں کی مغالطہ انگیز خلافِ جہاد مہم ہے، جس کا بروقت نوٹس لینا بہت ضروری ہے۔

امریکا، بھارت، اسرائیل اور ان کے حواریوں نے ایک عرصے سے جہاد کے خلاف ایک عالم گیر مہم چلا رکھی ہے اور اسے دہشت گردی اور تشدد کے ہم معنی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پر ستم یہ ہے کہ خود پاکستان کی انگریزی صحافت میں مجاہد کو اب جہادی اور دہشت گرد بناکر پیش کیا جاتا ہے اور دفاع پر اخراجات کو غربت اور پس ماندگی کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔ کبھی دینی مدارس پر پابندیوں کی باتیں کی جاتی ہیں، کبھی ان کو دہشت گردی کے مراکز بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ میں ایک دفعہ پھر کہوں گا کہ امریکی سیاسی اور فوجی قیادتوں کی مداخلت بلکہ مداخلت کرنے کی دعوت، دبے اور کھلے الفاظ میں کشمیر کے مسئلے کے جلد حل ہو جانے کی ہوائیاں اپنے اندر خطرات رکھتی ہیں۔ اس کھیل میں شامل سابق فوجی افسران ہوں یا سفارت کار، سب کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیئے کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستانی قوم کا ایک اصولی اور تاریخی موقف ہے، جس سے ہٹ کر کسی فرد کو اس قوم کی قسمت سے کھیلنے کا اختیار نہیں۔

کسی کو یہ حق اور مینڈیٹ حاصل نہیں ہے کہ پاکستانی قوم اور مسلمانانِ جموں و کشمیر، قائداعظم سے لے کر آج تک جس موقف پر قائم ہیں اور جس کے لیے انھوں نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں اور تنگی و غربت کے باوجود ایک عظیم الشان فوج کی تمام ضرورتیں پوری کی ہیں۔ ملک کو ایک ایٹمی قوت بنایا ہے، وہ اس بارے میں کسی انحراف یا پسپائی یا سمجھوتے کا تصور بھی کرے۔ یہ قوم غریب ہے اور بٹی ہوئی بھی، لیکن جہاں تک کشمیر کے مسئلے کا تعلق ہے، یہ اس کے لیے ایمان و اعتقاد اور زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ زمانے اور وقت کی قید کا بھی پابند نہیں۔ اس جدوجہد کے بارآور ہونے میں جتنی مدت بھی لگے، لیکن مسلمانانِ پاکستان اور مسلمانانِ جموں و کشمیر اس علاقے کے مستقبل کو طے کرنے کے لیے اپنے حقِ خود ارادیت سے کم کسی بات کو کبھی قبول نہیں کرسکتے۔

اسلام ٹائمز: حکومت نے 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کیلئے تیاریوں کا اعلان کیا ہے، دنیا کے ہر فورم پر آواز بھی اٹھائی گئی ہے، پوری قوم کو کشمیریوں کیلئے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے۔؟
سردار ظفر حسین خان:
بحیثیت مجموعی مسئلہ کشمیر نہ صرف زمینی تنازعہ ہے، نہ صرف دو ملکوں کا معاملہ ہے، یہ انسانی مسئلہ ہے اور کسی خاص جماعت، گروہ یا طبقے کا مسئلہ بھی نہیں ہے۔ اس مسئلے کے بارے میں قوم، قومی سیاسی قیادت اور فوج کے درمیان بھی مکمل ہم آہنگی ہے۔ اس سے پہلے جماعت نے اس دن انسانی زنجیر بنا کر کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیا تو پوری قوم نے ساتھ دیا۔ لیکن صرف سرکاری طور پر دن منا لینا کافی نہیں، یہ ضرروی ہے، اس کی اپنی اہمیت ہے، جہاں تک قوم کو کشمیر پر متحد رکھنے اور یاد دلائے رکھنے کی ضرورت ہے، وہ تو قوم پہلے بھی کشمیریوں کیساتھ تھی، اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ یہ ایک کروڑ 30 لاکھ انسانوں کی آزادی اور حقِ خود ارادیت کا مسئلہ ہے، جن کی ریاست کے بڑے حصے پر ایک سامراجی ملک بھارت نے محض طاقت کے بل پر، فوج کشی کے ذریعے قبضہ کرکے تقسیم ہند کے ایجنڈے کی تکمیل کو سبوتاژ کیا ہے۔

وہ قوت کے ذریعے آج بھی نہ صرف اس پر قابض ہے بلکہ اس نے اپنے دستور کی دو دفعات کو تبدیل کرنے کے لیے، ترمیمی ضابطے کی کھلی خلاف ورزی کی ہے اور سیاسی عہدوپیمان کا خون کرکے ضم کرنے کا خطرناک کھیل کھیلا ہے۔ جس کے نتیجے میں مقبوضہ جموں و کشمیر، بدترین کرفیو اور شہری و کاروباری زندگی کی مکمل معطلی سے دوچار کیا جاچکا ہے۔ پوری ریاست کے مظلوم، نہتے اور بے نوا شہری 9 لاکھ بھارتی مسلح فوجیوں کی سنگینوں تلے ایک ہولناک اجتماعی جیل خانے کی چکّی کے دو پاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں۔ لیکن آفرین ہے کہ ان کی تحریک مزاحمت اور آزادی کی جدوجہد نہ صرف جاری ہے بلکہ وہ ایک فیصلہ کن موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ غاصب ملک خود اپنے وعدوں، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی بے مثال جدوجہد آزادی اور قربانیوں کو یکسر نظرانداز کرکے فسطائی اور سامراجی فلسفے کی بالادستی قائم کرنے پر بضد ہے۔

اقوام متحدہ بہ حیثیت ادارہ بدستور بزدلانہ لاتعلقی اور مجرمانہ روش پر قائم ہے اور لفظی لیپا پوتی سے زیادہ ایک قدم آگے بڑھنے پر آمادہ نظر نہیں آتا۔ کشمیر میں اقوامِ متحدہ کے مبصروں کی موجودگی اور مسئلے کے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود رہنے کے باوجود، 72 برسوں سے اس مسئلے کے حل کے لیے عملی کوششوں سے دست کش ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں قصۂ پارینہ ہیں اور اس عالمی تنظیم کو اپنے چارٹر کے تحت قیامِ امن اور تصفیہ طلب تنازعات کی دفعات سے بھی کوئی غرض نہیں۔ اب لے دے کے دوطرفہ مذاکرات کے وعظ اور اپیلوں کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں اور ان کا بھارت کی طرف سے وہی ایک جواب ہوگا کہ پہلے فضا سازگار ہو، یعنی وہ فضا کہ جو خود بھارت کی سفاکی نے خراب کی ہے۔
خبر کا کوڈ : 840367
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش