0
Monday 27 Jan 2020 22:21
ہمارا مقصد فلاحی اقدامات ہیں، جس میں کوئی دو رائے نہیں

ہمیں بیمار اور لاغر معیشت ورثے میں ملی، روزانہ ساڑھے 6 ارب روپے صرف بیرونی قرضوں پر سود ادا کرنا پڑتا ہے، شاہ محمد وزیر

اسوقت ملک کو جن سنگین مسائل کا سامنا ہے وہ انہی اپوزیشن جماعتوں کے پیدا کردہ ہیں
ہمیں بیمار اور لاغر معیشت ورثے میں ملی، روزانہ ساڑھے 6 ارب روپے صرف بیرونی قرضوں پر سود ادا کرنا پڑتا ہے، شاہ محمد وزیر
بنوں سے تعلق رکھنے والے شاہ محمد وزیر نے چند روز قبل ہی صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ کی حیثیت سے حلف اُٹھایا ہے۔ انکا تعلق بکاخیل وزیر قبیلے سے ہے۔ شاہ محمد وزیر 1970ء میں پیدا ہوئے تھے۔ 2013ء کے میں پہلی بار آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا اور رکن خیبر پختونخوا اسمبلی منتخب ہوئے۔ انہوں نے غیر مشروت طریقے سے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پہلے مرحلے میں انہیں ڈیڈک کا چیئرمین اور پھر معان خصوصی برائے ٹرانسپورٹ مقرر کیا گیا۔ 2018ء کا الیکشن آیا تو ان کی دعوت پر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بنوں سے بھی قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا اعلان کیا، جس کیلئے شاہ محمد وزیر نے تمام تر انتظامات کئے اور بھر پور مہم چلائی، جبکہ خود ایک بار پھر سے پی کے 89 سے میدان میں اُترے، شاہ محمد وزیر خود بھی کامیاب ہوئے اور اپنے قائد کو بھی کامیابی سے ہمکنار کرایا۔ جب حکومت سازی کا مرحلہ آیا تو ایک بار پھر انہیں ٹرانسپورٹ کیلئے معاون خصوصی مقرر کیا گیا، جس پر انہوں نے خاموش احتجاج کرتے ہوئے انکار کردیا اور ایک طرف ہوگئے، تاہم جماعتی سرگرمیاں برابر جاری رکھیں اور پھر آخرکار انکا خاموش احتجاج رنگ لے آیا اور اب وہ صوبائی وزیر کی حیثیت سے حلف اُٹھا چکے ہیں۔ شاہ محمد خان کا تعلق انتہائی پسماندہ قبائلی علاقے سے ہے، وہ اپنے علاقے کی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ اسلام ٹائمز نے ان سے خصوصی گفتگو کی جو قارئین کی نذر ہے۔(ادارہ)


اسلام ٹائمز۔ آپ کے کاندھوں پر اسوقت محکمہ ٹرانسپورٹ کی ذمہ داریاں ڈالی جاچکی ہیں جس کا ایک بہت بڑا منصوبہ بی آر ٹی ہے، کیا آپ اس کی تکمیل کی کوئی ڈیڈ لائن دے سکتے ہیں؟
شاه محمد وزیر:
پہلی بات تو یہ ہے کہ بی آر ٹی پشاور کیلئے بہت بڑا تحفہ ہے جو پاکستان تحریک انصاف اور وزیراعظم عمران خان نے دیا ہے۔ یہ منصوبہ ہمارے پچھلے دور حکومت میں شروع کیا گیا تھا جس کیلئے 6 ماہ کی مدت میں رکھی گئی تھی، اگرچہ ارادہ اور کوشش یہی تھی، مگر جب منصوبے پر کام کا آغاز ہوا، تعمیراتی سلسل شروع ہوا تو حقیقت آشکارا ہونے لگی کہ اس منصوبے میں جلد بازی کی کوشش کی گئی تو معیار انتہائی متاثر ہوسکتا ہے۔ چنانچہ شروع میں جس قدر جلد بازی کی گئی رفتہ رفتہ اس حکمت عملی پر نظرهانی ہوتی رہی، کیونکہ حکومت کسی بھی صورت اس میگا پراجیکٹ میں تعمیراتی کام کے معیار پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ کام کی رفتار سست تو ہوئی مگر مانیٹرنگ سخت کردی گئی۔ پھر نگران دور میں کام سست روی کا شکار رہا۔ اب انشاء الله ہم رواں مالی سال کے دوران ہی اس عظیم منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ منصوبے کا کافی کام مکمل ہوچکا ہے، میں یہ ضرور کہوں گا کہ انشاء اللہ 30 جون سے قبل منصوبہ مکمل ہو جائے گا۔

اسلام ٹائمز: اس منصوبے کی لاگت میں اضافے کے حوالے سے بہت سی چہ میگوئیاں کی جارہی ہیں آپ کیا کہتے ہیں؟
شاه محمد وزیر:
(ہنستے ہوئے) چہ میگوئیاں پھیلانے والوں کو آپ بھی بخوبی جانتے ہیں اور ہم بھی ان کو اچھی طرح سے پہچانتے ہیں، مگر حقیقت کچھ اور ہے۔ جب اس منصوبہ کی فزیبلٹی سامنے آئی تو اس کی لاگت کا اندازہ 49 ارب روپے لگایا گیا تھا، مگر پھر اس کے ڈیزائننگ میں تبدیلی اور روٹ کی طوالت میں اضافہ ہوا۔ دیگر اخراجات میں اضافے کے بعد تخمینہ بڑھ کر 66 ارب روپے ہوگیا، صرف کارخانوں مارکیٹ تک تین کلومیٹر طویل فلائی اوور بنا تھا، ظاہر ہے لاگت میں بھی اضافہ ہوا۔ کنسٹرکشن کی مد میں پہلے 29 ارب روپے کا تخمینہ لگایا تھا تو پھر بڑھ کر 39 ارب روپے ہوگیا ہے، جبکہ بسوں کی قیمت، زمین کی خریداری، یوٹیلٹی شفٹنگ اخراجات اور پرانی گاڑیوں کی مالکان سے خریداری کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ یہ منصوبہ دیگر میٹرو منصوبوں سے بہت مختلف ہے، کیونکہ اس میں 7 فیڈروٹس بھی ہیں۔ 220 بسوں میں سے اب تک 140 تک آچکی ہیں، باقی 80 بسیں بھی جلد آجائیں گی۔

اسلام ٹائمز۔ اپوزیشن جماعتیں آج بھی بی آر ٹی کو سفید ہاتھی قرار دیکر تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں، حکومت کیوں تیار نہیں ہو رہی؟
شاہ محمد وزیر:
دیکھیں یہ ایک خالصتاََ عوامی فلاح کا منصوبہ ہے ہم اسے مزید عوام دوست بنا رہے ہیں۔ جہاں تک اپوزیشن جماعتوں کا تعلق ہے تو عام انتخابات اور پھر قبائلی اضلاع کے انتخابات میں مسترد ہو جانے کے بعد وہ بالکل حواس باختہ ہوچکی ہیں۔ اس لئے عوامی منصوبوں پر سیاست چمکانے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں۔ یہ تو بی آر ٹی ہے، عوامی نیشنل پارٹی کے دور میں مختصر سا منصوبہ مفتی محمود فلائی اوور پر 5 سال میں کام مکمل نہیں ہوسکا تھا۔ جہاں تک تحقیقات کا تعلق ہے تو اس مرحلے پر تحقیقات کا مطالبہ کر کے اپوزیشن درحقیقت پشاور کے لوگوں کی مشکلات کو بڑھانے پر بضد ہیں، ہم نے کبھی بھی تحقیقات سے انکار نہیں کیا کیونکہ ہمارا دامن صاف ہے، مگر اس مرحلے پر تحقیقات سے منصوبے میں مزید تاخیر ہوگی، اس لئے ہم منصوبہ مکمل ہونے کے بعد ہر قسم کی تحقیقات کرانے کیلئے تیار ہیں اور اس حوالے سے ہماری پیشکش برقرار ہے۔ بی آر ٹی کی تکمیل سے پشاور میں ٹرانسپورٹ کے مسائل بڑی حد تک حل ہو جائیں گے، کیونکہ شہر کے تمام کمرشل مراکز، دفاتر، ہسپتال اور مارکیٹس اس کے ذریعے لنک ہو جائیں گے۔ بی آر ٹی کے تینوں سٹیشنوں میں 1200 سے زائد گاڑیوں کی پارکنگ کرنے کی گنجائش ہے۔ اس سے انداز لگا سکتے ہیں کہ روزانہ کتنی گاڑیوں کی کمی ٹریفک میں واقع ہوگی۔ محکمے کا چارج سنبھالنے کے بعد میری پہلی ترجیح بی آر ٹی کی 30 جون سے قبل تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔

اسلام ٹائمز۔ پشاور سمیت صوبہ بھر میں ٹرانسپورٹ کے حوالے سے دیگر مسائل بھی ہیں، اس حوالے سے کیا حکمت عملی تیار کی گئی ہے؟
شاہ محمد وزیر:
بالکل اسوقت صوبہ اور پشاور میں گونا گوں مسائل ہیں، ٹرانسپورٹ کی صورتحال کی بہتری کیلئے جلدی اقدامات شروع کئے جارہے ہیں۔ میں گذشتہ دور میں بھی اس حوالے سے کام کر چکا ہوں، تب ہماری حکومت نے صوبہ بھر میں 200 غیرقانونی اڈوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں بند کردیا تھا، اب غیرقانونی اڈوں کے خلاف جلدی بھر پور آپریشن شروع کیا جارہا ہے۔ اس مقصد کیلئے خفیہ اداروں سے بھی مدد لی جارہی ہے، تاکہ غیرقانونی اڈوں کی فہرست تیار کی جاسکے۔ اس سلسلے میں کوتاہی اور غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی، کیونکہ انہی کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے صوبہ بھر میں بے شمار غیرقانونی اڈے قائم ہیں۔ یہاں میں یہ بات بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ صوبہ بھر کے ٹرانسپورٹ اڈوں پر محکمہ ٹرانسپورٹ کا حق ہے، تمام اڈے ہمیں واپس ملنے چاہیئں، تمام دنیا میں اڈے محکمہ ٹرانسپورٹ کے زیرانتظام ہوا کرتے ہیں، مگر ہمارے ہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے، بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ ٹریفک پولیس کو بھی محکمہ ٹرانسپورٹ کا حصہ بنایا جائے، کیونکہ ٹریفک پولیس کا تمام کام ٹرانسپورٹ کے ساتھ ہے، مگر ہمارے پاس کوئی اختیار ہی نہیں، اس لئے سزا جزا کا سلسلہ شروع نہیں کیا جاسکتا ہے، جب ٹریفک پولیس ہمارا حصہ بنے گی تو ٹرانسپورٹ کی صورتحال میں تیزی سے بہتری دیکھنے کو ملے گی۔ اسی طرح دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھی جلد اقدامات ہوں گے۔ اس سلسلے میں ویٹس نامی ادارے کو فعال کرنے والے ہیں جس کے ذریعے شہر کے مختلف علاقوں میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی اچانک مانیٹرنگ کا سلسلہ شروع ہوگا۔ ڈرائیونگ لائسنس کو بھی سمارٹ کارڈ سے منسلک کیا جارہا ہے، پشاور میں ایک بڑا مسئلہ بغیر پرمٹ کے چلنے والے رکشوں کا بھی ہے جس نے شہریوں کا سکون اور ٹریفک کا پورا نظام متاثر کر رکھا ہے، اس کیلئے جامع منصوبہ بندی کی ہدایت کردی ہے تاکہ مسئلے کے عمل کیساتھ ساتھ لوگوں کو پیروزگار ہونے سے بھی بچایا جاسکے۔ بی آر ٹی کی تکمیل کے ساتھ ہی تمام پرانی بسیں شہر سے نکال دی جائیں گی، ایک اور بڑا ایشو گاڑیوں میں سی این جی کے غیرمعیاری سلنڈروں کا ہے، پہلے مرحلے میں سکول کے بچے لے جانے والی گاڑیوں کی بھر پور چیکنگ شروع کر رہے ہیں کیونکہ اس حوالے سے واضح عدالتی فیصلہ بھی موجود ہے، اس معاملے میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی، صوبہ بھر میں غیرمعیاری سلنڈروں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جارہی ہے۔

اسلام ٹائمز: اپوزیشن جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری نہیں کر پائے گی، وہ نئی تحریک شروع کرنے کی تیاریوں میں بھی مصروف ہیں، حکومت کی تیاریاں کن مراحل میں ہیں؟
شاه محمد وزیر:
جہاں تک اپوزیشن جماعتوں کا تعلق ہے تو ان کو یاد رکھنا چاہیئے کہ ہم بھرپور عوامی مینڈیٹ لے کر برسراقتدار آئے ہیں، ہماری حکومت 5 سال کی آئینی مدت پوری کرے گی، تمام وعدے پورے ایفاء کئے جائیں گے اور مسائل حل ہوں گے، اسوقت ملک کو جن سنگین مسائل کا سامنا ہے وہ انہی اپوزیشن جماعتوں کے پیدا کردہ ہیں۔ آپ اندازہ اس امر سے لگا سکتے ہیں کہ صرف پہلے سال ہماری حکومت نے ساڑھے دس ارب ڈالر کا غیرملکی قرض اتارا، ہمیں ایک ایسی بیمار اور لاغر معیشت ورثے میں ملی کہ جہاں ہمیں ساڑھے 6 ارب روپے صرف بیرونی قرضوں پر روزانہ کی بنیاد پر سود ادا کرنا پڑتا ہے۔ یہ تمام قرضے 2008ء سے 2018ء تک لئے گئے، ان لوگوں نے ملکی معیشت دیوالیہ کر کے رکھ دی تھی۔ حیرت تو دیگر سیاسی جماعتوں پر ہے کہ جو آج چیخ رہی ہیں، وہ مختلف اوقات میں اُن حکومتوں کا حصہ رہی ہیں جنہوں نے ملک کو غیرملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبایا ہوا ہے۔ ان جماعتوں نے اعتراض اسوقت کیوں نہ کیا جب یہ قرضے ان کے دور میں لئے جارہے تھے؟ یہ تمام قرضے آج پاکستان تحریک انصاف کی حکومت واپس کر رہی ہے، اس کے باوجود ہم اپنے تمام انتخابی وعدے پورے کریں گے۔ ہمیں بخوبی علم ہیں کہ حالات سخت ہیں، توقعات کے برعکس مہنگائی بہت زیادہ ہے، مگر ہم ہی پاکستانی قوم کو اس مشکل صورتحال سے نکالیں گے۔

اسلام ٹائمز: صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کیوں کر رہی ہے؟
شاہ محمد وزیر:
مجھے آپ کی بات سے اتفاق نہیں، تاخیر ہم نہیں حالات کررہے ہیں، اسوقت نئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں حلقہ بندیوں کا مرحلہ باقی ہے، الیکشن کمیشن جونہی اس حوالے سے اپنا کام مکمل کر لے گا صوبائی حکومت الیکشن کی تیاریاں شروع کردے گی۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلٰی محمود خان اس سلسلے میں پوری طرح سے پرعزم ہیں، وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کئے جائیں گے۔ اس مقصد کیلئے پہلے ہی بہتر بلدیاتی نظام نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پنجاب میں بھی متعارف کرایا جارہا ہے۔ ہماری طرف سے تمام تر قانون سازی مکمل ہوچکی ہے، حلقہ بندیاں مکمل ہونے بعد الیکشن کی تیاریاں شروع کردی جائیں گی اور پاکستان تحریک انصاف اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔

اسلام ٹائمز: صوبائی حکومت اپنے ہی وزیر فارغ کر رہی ہے، فارغ ہونے والے وزراء کا وزیراعلٰی پر عدم اعتماد کا سبب کیا ہے؟
شاه محمد وزیر:
 ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وزیراعلٰی پوری طرح سے بااختیار ہیں، انکو عمران خان نے وزیراعلٰی منتخب کیا ہے، فارغ ہونے والے وزراء میں سے وزارت اعلٰی کے امیدوار رہے ہیں لیکن عمران خان نے جسے صوبے کیلئے بہتر سمجھا اسے منتخب کیا۔ جب پارٹی کے قائد نے محمود خان کو وزیراعلٰی منتخب کردیا ہے تو کسی بھی ایم پی اے یا وزیر کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ منتخب کردہ شخصیت کے خلاف کام کرے۔ جب آپ پارٹی کے فیصلے کے خلاف جاتے ہیں تو لیڈر شپ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کارروائی کرے۔ ہمارا مقصد فلاحی اقدامات ہیں، جس میں کوئی دو رائے نہیں۔

اسلام ٹائمز: اپنے حلقے میں اب تک پسماندگی کے خاتمے کیلئے کس قدر مؤثر کردار ادا کر سکے ہیں اور کیا آپ کی کارکردگی سے لوگ مطمئن ہیں؟
شاه محمد وزیر:
میرا تعلق بنوں کے سب سے پسماندہ اور نظر انداز شدہ علاقے سے ہے۔ پی کے 89 میں شامل علاقے قبل ازیں ہر حکومت کی توجہ سے یکسر محروم رہے ہیں، جب میں پہلی بار ایم پی اے منتخب ہوا تو پہلی ترجیح دیرینہ مسائل کے حل پر مرکوز کردی تھی۔ ضلع میں تین نئی تحصیلیں قائم کیں۔ اپنے حلقے میں دو ڈیم منظور کروائے جن میں ایک مکمل ہوچکا ہے، جبکہ چار اور منظور کرائے ہیں۔ تمام جنوبی اضلاع کیلئے وزیراعلٰی محمود خان نے بہت بڑا منصوبہ دیدیا ہے۔ ان علاقوں تک موٹر وے بنائی جارہی ہے جس پر 250 ارب روپے لاگت آئے گی۔ یہ سارے جنوبی اضلاع سے گزریں گے۔ اپنے حلقے میں 12 میگا پُل اور کیڈٹ کالج بھی بنایا ہے، مواصلاتی اور بجلی کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ اس حلقے میں گرِڈ اسٹیشن بنا رہے ہیں، اس بدقسمت علاقے کی تقدیر بدل کر رکھ دیں گے۔

اسلام ٹائمز: ضم شدہ اضلاع میں محکمہ ٹرانسپورٹ کی توسیع کے حوالے سے حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے؟
شاه محمد وزیر:
جی ہاں محکمہ ٹرانسپورٹ کو وہاں تک توسیع دی جا رہی ہے، اس سلسلے میں کام جاری ہے وہاں محکمہ ٹرانسپورٹ کے دفاتر قائم کئے جائیں گے، بھرتیاں ہوں گی، بس ٹرمینل قائم ہوں گے، ٹرک اڈے بھی قائم کریں گے، تمام قبائلی اضلاع میں ٹرانسپورٹ کا جامع نیٹ ورک قائم کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 841038
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش