0
Wednesday 15 Apr 2020 02:37
کورونا پہلی اور دوسری جنگ عظیم سے بڑا چیلنج ہے

اقوام متحدہ ایران سمیت پابندیوں کا شکار ممالک کو ریلیف پہنچانے کیلئے اقدامات کرے، سینیٹر مشتاق خان

اقوام متحدہ ایران سمیت پابندیوں کا شکار ممالک کو ریلیف پہنچانے کیلئے اقدامات کرے، سینیٹر مشتاق خان
سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب کا شمار جماعت اسلامی کے دیرینہ کارکنوں میں ہوتا ہے، وہ اسوقت جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر ہونے کیساتھ ساتھ ایوان بالا کے رکن کی حیثیت سے بھی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ جماعتی سطح پر مختلف ذمہ داریوں پر کام کرچکے ہیں، مشتاق خان صاحب ملکی اور بین الاقوامی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں۔ اسلام ٹائمز نے کورونا وائرس کے پھیلنے کے تناظر میں پیدا ہونیوالے ملکی و بین الاقوامی حالات پر سینیٹر مشتاق احمد خان کیساتھ ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: اب تک کورونا وبا کو کنٹرول کرنے اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونیوالی صورتحال میں عوام کو ریلیف پہنچانے میں حکومت کیجانب سے کئے گئے اقدامات سے آپ کس حد تک مطمئن ہیں۔؟
سینیٹر مشتاق خان:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ آپ کا شکریہ، کورونا وائرس ایک عالمی وباء ہے، اس کو کنٹرول کرنا کسی ایک ملک کے بس کا کام نہیں، بلکہ بین الاقوامی برادری کو ملکر اس پر قابو پانا ہوگا، بہرحال اپنے ملک کی حد تک حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ دستیاب تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے بہترین حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے تحت عوام کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ لیکن افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہے اور اب تک حکومت نے جو بھی اقدامات کئے ہیں، وہ ادھورے ہیں۔ کبھی حکومت کہتی ہے کہ لاک ڈاون ہے، کبھی کہتی ہے کہ شٹر ڈاون ہے، کبھی کہتی ہے کہ جزوی لاک ڈاون ہے، حکومت ابھی تک اپنی سمت کو واضح نہیں کرسکی ہے۔

اس کے علاوہ حکومت کو اس مسئلہ پر فوری ایکشن لینا چاہیئے تھا، اس کے لئے ضروری تھا کہ پولیٹیکل سسٹم، ماہرین، میڈیا اور تمام ریاستی اداروں کو آن بورڈ لیکر ایک نیشنل ایکشن پلان دیا جاتا، پھر اس پلان پر ملکر کام کیا جاتا، لیکن موجودہ صورتحال میں مجھے حکومت کی سمجھ نہیں آرہی، کابینہ میں بھی وزیراعظم اور دیگر کی ہم آہنگی نہیں ہے۔ ریاستی ادارے بھی ایک پیج پر نہیں ہیں۔ ادھورے اقدامات کئے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے کورونا وائرس کا گراف مسلسل اوپر کی طرف جا رہا ہے۔ آج جو حکومت نے لاک ڈاون کو توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے، وہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت خود ناکام ہوچکی ہے۔

اسلام ٹائمز: سپریم کورٹ کیجانب سے کورونا کے معاملات پر سوموٹو ایکشن اور مشیر صحت کے حوالے سے ریمارکس کیا عدلیہ کا حکومتی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔؟
سینیٹر مشتاق خان:
بالکل، یہ حکومت پر عدالت کا عدم اعتماد کا اظہار ہے، سپریم کورٹ نے حکومت کو آئینہ دکھایا ہے، حکومت کو چاہیئے کہ اس آئینہ میں اپنی خرابیوں اور خامیوں کا جائزہ لے اور اپنی سمت درست کرے اور ابھی بھی ملک کو بچانے کیلئے وقت ہے۔ نیشنل ایکشن پلان، سیاسی مفاہمت اور تمام سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ کرکے قومی جدوجہد کے ذریعے اس مسئلہ پر قابو پانے کیلئے اب بھی وقت ہے۔ حکومت قوم کے اربوں روپے پارٹی مفادات کیلئے استعمال کرنے پر تلی ہوئی ہے، اگر حکومت اب بھی اپنی انا کے خول سے نہیں نکلی تو خدانخواستہ ہمیں بہت بڑے انسانی المیے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسلام ٹائمز: جماعت اسلامی الخدمت کے پلیٹ فارم سے فلاحی سرگرمیاں بھی سرانجام دیتی ہے، اس صورتحال میں آپکی جماعت نے قومی سطح پر اب تک عوام کی کیا خدمت کی ہے۔؟
سینیٹر مشتاق خان:
جماعت اسلامی ہمیشہ آپ کو عوام کیساتھ کھڑی نظر آئے گی، الحمد اللہ جماعت کی قیادت اور کارکن روز اول سے اپنے مشن کو آگے بڑھا رہی ہے، اس وقت ہم عوام کو راشن کی فراہمی، پکا پکایا کھانا لوگوں کو پہنچا رہے ہیں، ایمبولنس سروس کی صورت میں خدمت کی جا رہی ہے، ماسک اور سینیٹائزر فراہم کیا گیا ہے، ادویات کے حوالے سے معاونت کی جا رہی ہے، اسی طرح ہمارے ہزاروں کارکن کراچی سے لیکر چترال تک عوام کی خدمت میں مسلسل مصروف عمل ہیں۔ اس وقت تک ہم لگ بھگ ایک ارب روپے کے ذریعے 36 لاکھ خاندانوں کی کسی نہ کسی طرح خدمت کرچکے ہیں۔ جب تک یہ امتحان اور آزمائش ہے، اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت سے اور عوام کے اعتماد کیساتھ اپنے اس خدمت کے مشن کو جاری رکھیں گے۔

اسلام ٹائمز: ایک جانب جہاں ملک میں ایمرجسنی ہے، دوسری جانب گندم اور چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ بھی منظرعام پر آگئی، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عمران خان اپنے اردگرد بیٹھے اس مافیا کو کیفر کردار تک پہنچا پائیں گے۔؟
سینیٹر مشتاق خان:
دیکھیں، ہمارے یہاں بدقسمتی یہ ہے کہ وفاقی کابینہ میں مافیا کا قبضہ ہوتا ہے، اس وقت بھی وفاقی کابینہ میں مافیا بیٹھا ہوا ہے، جس میں آٹا مافیا بھی ہے، گندم مافیا بھی ہے، اس کے ساتھ چینی مافیا بھی ہے۔ رابرٹ ہولڈ ایک ڈاکو تھا، جو مالداروں سے لیتا تھا اور غریبوں میں تقسیم کرتا تھا، لیکن ہمارے حکمران ایسے ڈاکو ہیں، جو غریبوں سے لیتے ہیں اور امیروں میں تقسیم کرتے ہیں۔ سبسڈی کی صورت میں شوگر ملز مافیا کو اربوں روپے دیئے گئے۔ چینی برآمد نہیں کی گئی اور وہی چینی اسی قیمت پر فروخت کی گئی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس مافیا کا حکومت پر قبضہ ہے، اس پر وزیراعظم نے جو ایکشن لیا ہے، وہ محض دکھاوا ہے، ان لوگوں کی صرف کرسیاں تبدیل کر دی گئی ہیں۔ کسی کو فارغ نہیں کیا گیا۔ اگر کوئی مشیر تھا تو اسے معاون خصوصی بنا دیا گیا۔ اگر کوئی وزیر تھا تو اسکا محکمہ تبدیل کرکے اسے دوسرا محکمہ دے دیا گیا۔

اسلام ٹائمز: عبداللہ حسین ہارون اور عامر خان نے کورونا وائرس کو امریکی پیداوار اور منظم سازش قرار دیا ہے، آپ اس حوالے سے کیا کہیں گے۔؟
سینیٹر مشتاق خان:
اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا پہلی اور دوسری جنگ عظیم سے بڑا چیلنج ہے، اس کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کو پیدا کیا گیا اور یہ کسی ملک کی سازش ہے، یہ قبل از وقت ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان لوگوں کے پاس کیا دلیل ہے۔ اس وقت تو پوری دنیا اس سے متاثر ہوئی ہے۔ یہ انسانی تاریخ کا واحد مسئلہ ہے، جس سے پورا کرہ ارض متاثر ہے۔ دنیا بھر کی انڈسٹری بیٹھ چکی ہے، اسٹاک ایکس چینج کریش کرچکی ہیں۔ پوری دنیا کسی نہ کسی طرح آئسولیشن میں جاچکی ہے۔ دنیا کی معیشت، معاشرت اور سیاست پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس کے بارے میں ابھی سے کچھ اس قسم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ پوری دنیا کیلئے بہت بڑی آزمائش ہے۔ اس آزمائش سے اللہ تعالیٰ کیساتھ رجوع کرکے چھٹکارہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

اسلام ٹائمز: ایک طرف ایسی عالمی وبا اور دوسری جانب ایران جیسے ملک پر امریکی پابندیاں، اس صورتحال میں کیا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اقوام متحدہ کی کوئی ذمہ داری بنتی ہے۔؟
سینیٹر مشتاق خان:
یہ تو انسانی ہمدردی کا مسئلہ ہے، اس حوالے سے یو این او کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، ایران سمیت تمام ان ممالک کو ریلیف دینا چاہیئے جن پر پابندیاں ہیں، تاکہ وہ اپنے عوام کا تحفظ یقینی بناسکیں۔ ادویات اور دیگر سہولیات ان ممالک تک پہنچنی چاہئیں۔ اس صورتحال میں جن ممالک کی معیشت بیٹھ چکی ہے، ان ممالک کے قرضے معاف کئے جانے چاہئیں یا ری شیڈول ہونے چاہئیں۔ ان ممالک کی معشیت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے اقوام متحدہ کو ان کی مدد کرنی چاہیئے۔ اس کے علاوہ ان ممالک کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جانے چاہیئں۔
خبر کا کوڈ : 856726
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش