0
Monday 18 May 2020 20:26
بھارتی غیر قانونی اقدام سے کشمیر کی متنازع حیثیت ختم نہیں ہوسکتی

لاک ڈاون ختم نہیں کیا جا رہا بلکہ معاشی سرگرمیوں کیلئے طریقہ کار کیساتھ نرمی لائی جا رہی ہے، ملک احسان ٹوانہ

لاک ڈاون ختم نہیں کیا جا رہا بلکہ معاشی سرگرمیوں کیلئے طریقہ کار کیساتھ نرمی لائی جا رہی ہے، ملک احسان ٹوانہ
پی ٹی آئی پنجاب کے رہنماء، خوشاب سے قومی اسمبلی کے رکن اور قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور  کے ممبر ملک محمد احسان اللہ ٹوانہ کیساتھ موجودہ حکومت کی مسئلہ کشمیر پر سفارتی، سیاسی کوششیں اور کرونا وائرس کیوجہ سے پیدا ہونیوالی سنگین صورتحال پر موقف، سیاسی بیانیے میں تبدیلیوں اور اپوزیشن رہنماؤں کیخلاف جاری احتسابی عمل سمیت اہم ایشوز پر انٹرویو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: وائرس کیوجہ سے پھیلنے والی تباہی کے بعد عوام کی نظریں سب سے زیادہ حکومت کیجانب لگی ہوئی ہیں، لیکن یہ تاثر بھی ہے کہ وفاقی حکومت کوئی ٹھوس پالیسی دینے میں ناکام رہی ہے، اس سے پیدا ہونوالے خوف و ہراس کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔؟

ملک احسان ٹوانہ: وزیراعظم عمران خان پہلے دن سے ہی وہی باتیں کر رہے ہیں، جو ڈاکٹرز اور ان کی تنظیمیں میڈیا پہ آکر کر رہی ہیں، اس وباء کے خطرات سے کسی کو انکار نہیں، پوری دنیا میں لاکھوں لوگ اس کا شکار ہو رہے ہیں، لیکن پاکستان کے متعلق بات کرتے ہوئے ہمیں ملک کی حقیقی صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا چاہیئے۔ ہم کہاں کھڑے ہیں، ہمارے ہیلتھ سسٹم کی کیا صورتحال ہے۔ معاشی طور پر زمینی حقائق کیا ہیں۔ اسی لیے وزیراعظم نے یہ نہیں کہا کہ ہم لاک ڈاون نہیں کرینگے، نہ ہی انہوں نے خوف و ہراس پھیلاتے ہوئے یہ کہا کہ ایک دم پوری زندگی مفلوج کر دی جائے، بلکہ انہوں لوگوں کو ذہنی ظور پر تیار کرنے کیلئے لاک ڈاون کیوجہ سے جو معاشی دباؤ آسکتا ہے، اس سے آگاہ کیا، ساتھ ہی لوگوں کی مدد کیلئے احساس پروگرام  اجراء کیا، جس سے واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ لوگوں کے اندر جو خوف تھا، اس میں کمی آئی ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں اپنے طور پر اقدامات کر رہی ہیں، ہم بھی کر رہے ہیں، کسی بھی حکومت کو کہیں بھی ذمہ دار ٹھہرانا ٹھیک نہیں۔

اسلام ٹائمز: اسد عمر صاحب نے یہ کہا ہے کہ لاک ڈاون میں اس لیے نرمی کی جا رہی ہے کہ جتنے لوگ وباء سے مر رہے ہیں، اتنے تو سڑکوں پر ہونیوالے حادثات میں بھی مر جاتے ہیں، کیا ایک وفاقی وزیر کا ایسے الفاظ استعمال کرنا عام شہری کیلئے تکلیف دہ نہیں۔؟
ملک احسان ٹوانہ: کسی بھی حکومتی عہدیدار یا وزیر کی طرف سے جو بات کی جاتی ہے، وہ جو ان سے سوال کیا جاتا ہے، اس کے مطابق ہوتی ہے، ان کا مقصد لوگوں کو اذیت پہنچانا نہیں ہوتا، نہ ہی ہمارا ایسا مقصد ہے۔ پھر ہم نے کوئی پالیسی مسلط نہیں کی بلکہ لوگوں کی طبیعت اور مزاج کے مطابق اس کو آہستہ آہستہ لاگو کرنیکی کوشش کی ہے، یہی معاملہ لاک ڈاون کے بارے میں بھی ہوا رہا ہے، لاک ڈاون ختم نہیں کیا جا رہا بلکہ لوگوں کی معاشی سرگرمیاں شروع کرنیکے لیے اس میں ایک طریقہ کار کیساتھ نرمی لائی جا رہی ہے اور جہاں ضرورت محسوس ہوتی ہے، وہ نرمی واپس لے لی جاتی ہے، یہ دونوں طرح کے اقدامات عام آدمی کے تحفظ اور اس کی آسائش کیلئے ہیں، اس میں کوئی سیاسی یا حکومتی مفاد نہیں۔ یہ کسی ایک وزیر کی بات نہیں، جو فیصلے ہو رہے ہیں، ان میں وفاقی حکومت نے کمیٹی بنائی ہوئی ہے.

جس میں تمام وزرائے اعلیٰ شامل ہیں، ریاستی اداروں کے ذمہ دار شامل ہیں، سب مل کر ہی پالیسی بناتے ہیں اور پھر اس پر عمل درآمد کا طریقہ کار طے کیا جاتا ہے۔ جہاں فیصلے ہو رہے ہیں، وہاں یہ بھی مدنظر رکھا جاتا ہے کہ ہماری 25 فیصد آبادی خط غرب سے نیچے رہتی ہے، 40 فیصد لوگ تین ڈالر سے کم کماتے ہیں، اس کے علاوہ وہ طبقہ جو بہتر کماتا تھا، وائرس کیوجہ سے مجبوری کے طور پر جو لاک ڈاون ہوا ہے، اس سے ان اچھی کمائی کرنے والوں کی بھی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ ہم کیا کرسکتے ہیں، صرف لاک ڈاون کا آپشن لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دیگا۔ ہم تمام تر زور لگانے کے باوجود صرف بارہ سو ارب کا پیکچ لا سکے ہیں، ریلیف پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کے باوجود اگر نرمی کی گئی ہے تو اس کو پابند کیا گیا ہے کہ لوگ ایس او پیز کی خلاف ورزی نہ کریں۔

اسلام ٹائمز: وفاقی حکومت کا جو ایمرجنسی ریلیف پیکج ہے، اسکے متعلق صوبوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسکی شفافیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، مکمل طور پر منصفانہ اقدامات کی کمی کیوں ہے۔؟
ملک احسان ٹوانہ: اس سلسلے میں حکومت نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا ہے، جیسا کہ پہلے بتایا ہے کہ سب فیصلے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سمیت مختلف باڈیز مل کر رہی ہیں۔ چاہے یہ فیصلے ریلیف کے حوالے ہوں، معاشی امداد کے حوالے سے ہوں، وفاقی حکومت ان تحفظات کو ملحوظ خاطر رکھتی ہے۔ سب سے زیادہ مشکل کیش کی تقسیم ہے، لیکن حکومت نے کام بھی بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیا ہے، 90 ارب روپے ضرورت مندوں میں تقسیم کیے گئے ہیں۔ ابھی تاجروں کیلئے جو اسکیم شروع کی گئی ہے، اس میں سات لاکھ تاجر سندھ کے مستفید ہونگے۔ اس کے باوجود اگر کہیں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ مزید بہتری کی ضرورت ہے تو مل بیٹھ کر بات کی جاسکتی ہے۔

کوارڈینشن کیلئے جو کمیٹی موجود ہے، وہاں بات کی جا سکتی ہے، اس کو میڈیا کے سامنے اچھالنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس سے لوگوں کا کیا فائدہ ہوسکتا ہے، یہ صرف کیچڑ اچھالنے والی بات ہے۔ جو کسی کے مفاد میں نہیں، صرف لوگوں کی پریشانی بڑھانے والی بات ہے۔ صوبے خود اپنا کام کر رہے ہیں، اس میں آزاد ہیں، پنجاب میں ایک ماہ قبل ہی کرونا آرڈیننس آچکا ہے، باقی صوبوں کو بھی اقدمات کرنے میں کوئی پابندی نہیں، وفاق بھرپور مدد کر رہا ہے۔ کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔ ایسی صورتحال میں انسانیت کا تقاضا بھی یہی ہے اور ایک قوم ہونے کا ثبوت دینے کی ضرورت ہے، ورنہ ہماری مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اسلام ٹائمز: کرونا کا بحران اور بھارتی جارحانہ عزائم کیوجہ سے ملک میں قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے، لیکن حکومت ایک دفعہ پھر اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں کا آغاز کرنے جا رہی ہے، متفقہ لائحہ عمل کیسے وجود میں آئیگا۔؟
ملک احسان ٹوانہ: یہ ایک ایسی بات ہے، جو ہر دفعہ اور ہر کرپٹ سیاستدان احتساب سے بچنے کیلئے کرتا ہے کہ اس کے بغیر قوم نامکمل ہے، حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ کرپٹ عناصر سے ملک کو پاک کیا جائے اور سیاسی عمل میں کسی قسم کی کرپشن کا داغ رکھنے والے لوگوں کو اقتدار حاصل کرکے اپنے ذاتی مقاصد حاصل کرنیکا موقع نہ دیا جائے۔ جہاں تک شریف خاندان کی بات ہے، ان کی کرپشن کہانی اتنی طویل ہے، جو ختم ہونیکا نام نہیں لے رہی، جس وجہ سے انکا اضطراب قابلِ فہم ہے، موجودہ حکومت نے اداروں کو مکمل آزادی دی ہے، جس وجہ سے نیب سمیت تمام ادارے شریف خاندان کے دور حکومت کی بدعنوانی کے ذریعے کمائی گئی رقوم اور انکی ترسیل کی مکمل چھان بین کرکے اسکا ریکارڈ سامنے لا رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر ہونے کے دعویدار اور سیاسی پارٹی کے سربراہ اب ایک بار پھر مطلوب ملزم کے طور پر سامنے آرہے ہیں، اسی لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔ وہ ایک مطلوب ملزم  ہیں، جو کاروبار شوباز اینڈ سنز کمپنی اور 23 جعلی کمپنیوں کا مالک ہے، جو ہر ماہ ڈالر اپنے جعلی اکاؤنٹس میں حاصل کرتے ہیں اور انکے ذرائع آمدن نامعلوم ہیں، اس وقت انصاف کے لیے چلا رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: بھارت کشمیر میں مسلسل لاک ڈاون اور ظالمانہ کارروائیوں میں کشمیریوں کو مسلسل شہید کر رہا ہے، لیکن موجودہ حکومت ان شہداء کا نام تک لینے سے گریزاں ہے، کیا کشمیر پالیسی میں تبدیلی آرہی ہے۔؟
ملک احسان ٹوانہ: ہم مکمل طور پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کیلئے اپنی مکمل حمایت کیساتھ کھڑے ہیں، کشمیری گذشتہ کئی دہائیوں سے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ کشمیر کے معاملے پر پوری قوم متحدہ ہے اور پاکستان مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کو ہر عالمی فورم پر بے نقاب کر رہا ہے، کیونکہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں آر ایس ایس کا ایجنڈا مسلط کرنا چاہتی ہے۔ بھارتی قیادت کے موجودہ بیانات اور اقدامات مقبوضہ کشمیر سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ لیکن اس عزم پہ قائم ہیں کہ حق خودارادیت کے لیے قانونی جدوجہد کو دہشت گردی قرار دینے کی بھارتی کوشش ناکام ہوگی۔ اس وقت عالمی برادری کو باور کروا رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی 90 لاکھ آبادی پر بھارتی مظالم جاری ہیں اور کشمیری شہداء کی لاشیں ورثاء کے حوالے نہیں کی جا رہی ہیں.

بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں افسوسناک ہیں، کشمیریوں کو جعلی پولیس مقابلوں میں مارا جا رہا ہے، بھارت جھوٹے فلیگ آپریشن کے لیے عذر گھڑ رہا ہے، بھارت کی طرف سے کسی غیر ذمہ دارانہ حرکت کے خطے کے امن کیلئے سنجیدہ خطرات ہوں گے، لاک ڈاون تو پہلے سے ہی جاری ہے، اس کے علاوہ کورونا وائرس کو پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کیلئے ایک اور جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، بھارت یو این سلامتی کونسل قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، بھارتی غیر قانونی اقدام سے کشمیر کی متنازع حیثیت ختم نہیں ہوسکتی۔ مودی سرکار کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو نہیں چھین سکتی۔ بھارت بے بنیاد دعوؤں سے عالمی برادری کو گمراہ کرنے سے باز رہے۔ پاکستان قوم، افواج، حکومت سب کشمیری بھائیوں کیساتھ ہیں اور بھارت ہزار بہانوں کے باوجود خطے کے امن کو خراب نہیں کرسکے گا، نہ ہی جارحانہ عزائم پورے کرسکے گا۔
خبر کا کوڈ : 863283
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش