0
Monday 14 Dec 2009 13:37

امریکی حکومت دنیا کی سب سے زیادہ قانون توڑنے والی حکومت ہے: آیت اللہ سید علی خامنہ ای

امریکی حکومت دنیا کی سب سے زیادہ قانون توڑنے والی حکومت ہے: آیت اللہ سید علی خامنہ ای
اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ دنیا کی سب سے زیادہ قانون کی مخالف اور اس کو پامال کرنے والی حکومت امریکی حکومت ہے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای تہران میں حوزہ علمیہ قم کے علماء سے خطاب فرما رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا قانون مند ہونے، انسانی حقوق کی پابندی کرنے اور مظلوموں کی حمایت کرنے کا دعوی کرتا ہے لیکن حقیقت اسکے خلاف ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے کہا: "کچھ دن پہلے امریکی صدر نے کہا ہے کہ ہم اس کوشش
میں ہیں کہ قانون توڑنے والی حکومتیں عوام کے سامنے جواب دیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ دنیا میں امریکی حکومت سے بڑھ کر قانون توڑنے والی حکومت کون سی ہے؟"۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے مزید کہا: "امریکی حکومت نے کس قانون کے تحت عراق پر قبضہ کیا ہے اور عراقی قوم کو اس قدر جانی اور مالی نقصان سے دوچار کیا ہے؟، امریکہ نے ایک خودساختہ جھوٹ اور افواہ کی بنیاد پر عراق پر قبضہ کیا اور ایک لاکھ افراد کو موت کی گھاٹ اتار دیا اور کروڑوں عراقی شہریوں کو بے گھر کر دیا"۔ انہوں
نے کہا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ عراق میں امریکی حملے کے بعد اب تک 550 اہم علمی شخصیات کو اسرائیلی جاسوسی ایجنسیوں نے ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے شہید کیا ہے۔ اسکی ذمہ داری بھی امریکہ کے کندھوں پر آتی ہے کیونکہ اس نے عراق پر ناجائز طور پر حملہ کر کے اس قتل و غارت کا موقع فراہم کیا ہے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکی حکومت کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا: "آپ لوگ کس قانون کی رو سے عراق میں داخل ہوئے ہیں؟، کس قانون کے تحت ابھی تک وہاں پر موجود ہیں؟، کس قانون کے تحت عراقی عوام
کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپناتے ہیں؟، کس قانون کے تحت افغانستان پر قبضہ کیا ہے؟، کس بین الاقوامی عاقلانہ قانون کے تحت افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں؟"۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی طرف سے بے گناہ عام شہریوں کی قتل و غارت کی یاددہانی کراتے ہوئے کہا: "گذشتہ کچھ سالوں میں افغانستان میں ایسے کئی واقعات پیش آئے جن میں بے گناہ عام شہری شہید ہوئے، ان میں سے کئی واقعات میں شادی کی تقریبات پر حملہ
کیا گیا۔ اسکے باوجود امریکی فوجی افسر یہ کہتے ہیں کہ ہم طالبان کا پیچھا کر رہے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہرات میں 100 عام شہریوں کو شہید کر دیا جن میں سے 50 بچے تھے۔ آپ لوگ لاقانونیت کا مظہر ہیں، آج دنیا کی بے قانون ترین حکومت امریکی حکومت ہے"۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے عالمی استکباری قوتوں مخصوصا امریکا کی طرف سے مسلمانوں میں اختلاف اور تفرقہ ڈالنے کی سازش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "آج فتنہ گر قوتیں جس کام کے پیچھے سنجیدگی سے پڑی ہوئی ہیں وہ مسلمانوں کے
اندر مذہبی اختلافات کو ایجاد کرنا ہے۔ دنیا کے مسلمان نشین علاقوں کے اسٹریٹجک، مفید اور تیل سے مالا مال ہونے کے ناطے عالمی استکباری قوتوں کی نظریں ان پر جمی ہوئی ہیں اور جو چیز انکے پست مقاصد کے سامنے رکاوٹ بنی ہوئی ہے وہ اسلام ہے لہذا اس مسئلے سے نپٹنے کیلئے جو راستہ انہوں نے اختیار کیا ہے وہ مسلمانوں کے اندر مذہبی اختلافات کو ایجاد کرنا اور انہیں ہوا دینا ہے۔ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ان حقائق کو آشکار کریں اور لوگوں کو دشمن کی سازشوں سے آگاہ کریں"۔
خبر کا کوڈ : 16896
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب