0
Friday 29 Jun 2012 20:10

بجٹ خسارہ، پنجاب حکومت نے ملازمین کی تنخواہ روک لی

بجٹ خسارہ، پنجاب حکومت نے ملازمین کی تنخواہ روک لی
اسلام ٹائمز۔ حکومت پنجاب نے رواں سال کا بجٹ خسارہ چھپانے کے لئے صوبائی ملازمین کی تنخواہوں کا چیک روک لیا، وزیر اعلیٰ پنجاب نے غیر معمولی اقدام کی منظوری دیدی، گیارہ ارب روپے اسٹیٹ بینک میں پنجاب حکومت کے کھاتے کو رواں مالی سال کے اختتام پر سرپلس ظاہر کرنے کے لئے استعمال کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سے منظور کی گئی ایک سمری کے مطابق ضلعی حکومتوں اور صوبائی محکموں کے ملازمین کی تنخواہ کا کوئی چیک رواں مالی سال ختم ہونے سے پہلے کیش نہیں ہوگا جس سے اسٹیٹ بینک میں صوبائی حکومت کے کھاتے میں بجٹ خسارہ کم ظاہر کرنے میں مدد ملے گی۔ 

ایک سرکاری دستاویز کے مطابق مئی کے خاتمے پر صوبائی حکومت کے کنسالیڈیٹڈ فنڈ میں چونتیس ارب روپے سے زائد کا خسارہ سامنے آیا ہے۔ محکمہ خزانہ کی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب فنانشل رولز اور نیو اکاؤنٹنگ ماڈل کے تحت ہر سال جون میں جاری ہونیوالے تمام بینک چیکوں کی ادائیگی اس ماہ کی تیس تاریخ سے پہلے ہونا لازمی ہے بصورت دیگر قانونی لحاظ سے یہ چیک ناکارہ تصور ہوتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ رولز کو نرم کرکے ان چیکوں کو جولائی میں کیش کرنے کی سمری منظور کرلی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن جون میں ادا نہ کرنے سے پنجاب حکومت کا بجٹ خسارہ دس ارب اٹھانوے کروڑ روپے کم ظاہر ہوگا۔ محکمہ خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پریکٹس دو سال پہلے اس وقت شروع کی گئی جب پنجاب حکومت کو اخراجات پورے کرنے کے لئے پہلی بار اسٹیٹ بینک اوور ڈرافٹ لینا پڑا تھا۔
خبر کا کوڈ : 175282
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے