0
Friday 6 Jul 2012 09:06

پاک، ايران اور ترکی کا ريل، روڈ انفراسٹرکچر پر ملکر کام کرنے پر اتفاق

پاک، ايران اور ترکی کا ريل، روڈ انفراسٹرکچر پر ملکر کام کرنے پر اتفاق
اسلام ٹائمز۔ پاکستان ايران اور ترکي نے تجارت بڑھانے کے لئے کم وقت ميں اي سي او خطے تک تجارتي اشيا پہنچانے کے لئے ريل اور روڈز کے انفراسٹرکچر پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کيا ہے۔ وفاقي ايوان صنعت و تجارت کے مطابق يہ فيصلہ پاکستان ايران اور ترکي کے ريلوے حکام اور تاجروں کے درميان ايک اجلاس ميں کيا گيا۔ پاکستاني وفد کي سربراہي جي ايم ريلويز جنيد قريشي اور وفاقي ايوانہائے صنعت و تجارت کے امجد رفيع نے کي۔ اجلاس ميں جي ايم ريلويز جنيد قريشي نے بريفنگ ديتے ہوئے تاجروں کو بتايا کہ کوئٹہ تافتان ريلوے ٹريک کو اپ گريڈ کيا جائيگا، جبکہ اس منصوبے کے لئے فنڈنگ کے حوالے سے ايشيائي ترقياتي بينک نے حکومت پاکستان سے تيکنيکي تفصيلات مانگي ہيں۔ جي ايم ريلويز نے اجلاس کو بتايا کہ اسلام آباد استنبول ٹرين سروس کو 15جولائي سے بحال کر ديا جائيگا۔ جو کچھ ماہ سے نہيں چل رہي تھي۔ اجلاس ميں پاکستان ايران اور ترکي کے تاجروں نے پاکستان سے استنبول تک چلائي جانے والي ٹرين سروس کا شيڈول جاري کرنے پر بھي زور ديا۔

ادھر پاکستان کے ريلوے انجنوں ميں کمي کي بازگشت بيروني دنيا تک جا پہنچي ہے، پاکستان ريلوے حکام کو ترکي کے شہر انقرہ ميں منعقدہ اي سي او ريلوے سربراہي اجلاس ميں يہ بات تسليم کرنا پڑي کہ پاک ايران اور ترکي کے درميان ريلوے سروس معطل کئے جانے کي وجہ ريلوے انجنوں کي کمي تھي۔ تاہم جي ايم ريلوے نے اجلاس کے شرکاء کو يقين دلايا کہ 15 جولائي سے يہ ريلوے سروس بحال کي جا رہي ہے۔ تفصيلات کے مطابق اي سي او ريلوے سربراہان کا 11 واں اجلاس 27 اور 28 جون کو انقرہ ميں منعقد ہوا، جس ميں پاکستان کي نمائندگي جي ايم پاکستان ريلوے جنيد قريشي نے کي۔ اجلاس ميں تينوں ممالک کے درميان ريلوے اور روڈ انفرا اسٹرکچر کا جائزہ ليا گيا۔ اجلاس ميں بتايا گيا کہ ريلوے انجنوں کي کمي اور کوئٹہ تافتان روڈ ٹريک کي اپ گريڈيشن اور ٹيکنيکل مدد کيلئے اسلامک ڈيولپمنٹ بينک سے درخواست کي گئي ہے۔
 
اجلاس ميں پاکستان نے اسلام آباد سے ايراني سرحد تک کے ٹائم ميں 4 روز کے اضافے کي درخواست کي، جسے منظور کرليا گيا۔ اس طرح اب اسلام آباد سے استنبول تک ٹرين کا ٹائم 14 دن سے بڑھا کر 18 دن کر ديا گيا ہے۔ اسلام آباد سے ايراني سرحد تک يہ ٹرين 10 روز، ايران ميں 4 روز جبکہ ترکي ميں 4 روز کا وقت لے گي۔ واضح رہے کہ ترکي اور پاکستان ميں مسافت تقريباً 1900 کلوميٹر يکساں ہے، مگر پاکستان ميں اسے 1900 کلوميٹر کا فاصلہ طے کرنے ميں 10 روز جبکہ ترکي ميں 4 روز لگيں گے۔ اجلاس ميں يہ بھي فيصلہ کيا گيا کہ پرائيويٹ سيکٹر کي توجہ کيلئے ريلوے شيڈول کا پيشگي اعلان کيا جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 176962
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے