0
Thursday 26 Jul 2012 15:44

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں نوجوان کی ہلاکت کیخلاف پُرتشدد مظاہرے

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں نوجوان کی ہلاکت کیخلاف پُرتشدد مظاہرے
اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں فوج کے ہاتھوں نوجوان کی ہلاکت کے خلاف پُرتشدد مظاہرے ہوئے جبکہ سینکڑوں مرد و خواتین نے نوجوان کی نعش کے ہمراہ احتجاجی مارچ کیا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ایک پولیس افسر اور کئی اہلکاروں سمیت 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئے، اُدھر فوج نے مارے گئے نوجوان کو عسکریت پسند قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ جنگل میں دوران جھڑپ مارا گیا، تاہم مقامی لوگوں نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے، شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں اُس وقت سخت کشیدگی اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جب یہ خبر پھیلی کہ آلوسہ بانڈی پورہ کے مضافاتی گاﺅں میں بھارتی فوجی اہلکاروں نے دوران شب ایک مقامی نوجوان کو گولیاں مار کر ابدی نیند سلا دیا ہے۔
 
اس واقعہ کے خلاف کئی دیہات کے ہزاروں لوگ گھروں سے نکل آئے اور انہوں نے نوجوان کی نعش کو اٹھا کر بانڈی پورہ قصبہ کی طرف مارچ شروع کیا، مقامی لوگوں نے بتایا کہ سرینگر میں قائم خیبر سیمنٹ فیکٹری میں گذشتہ 5 سال سے بطور سیکورٹی گارڈ کام کرنے والا 25 سالہ نوجوان ہلال احمد ڈار ولد غلام محی الدین ساکنہ آلوسہ بانڈی پورہ 24 جولائی گھر سے کہیں جانے کیلئے نکلا، مقامی لوگوں کے مطابق انہیں رات کے تقریباً ساڑھے 10 بجے نزدیکی گاﺅں میں شدید فائرنگ سنائی دی،  فوج کے ہاتھوں مارے گئے نوجوان کے لواحقین نے بتایا کہ انہیں یہ اندازہ تھا کہ ممکنہ طور ہلال احمد پڑوسی گائوں (ملنگام) گیا ہوگا جہاں رمضان کے پیش نظر کوئی اجتماع ہونا تھا۔
خبر کا کوڈ : 182123
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے