0
Friday 3 Aug 2012 14:41

مسلم لیگ (ن) اور کھوسہ خاندان میں اختلافات شدت اختیار کر گئے

مسلم لیگ (ن) اور کھوسہ خاندان میں اختلافات شدت اختیار کر گئے
اسلام ٹائمز۔ مسلم لیگ (ن) اور کھوسہ خاندان کے اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، ذوالفقار خان کھوسہ کے بعد دوست محمد خان کھوسہ نے بھی پارٹی رکنیت اور عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔ گزشتہ دنوں مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنما سردار ذوالفقار خان کھوسہ (ن) لیگ کی رکنیت سے مستعفی ہو گئے تھے جمعہ کے روز مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن ذوالفقار خان کھوسہ نے شہباز شریف سے ملنے معذرت کر لی تھی اور ان کی (ن) لیگ میں واپسی کے امکانات بہت کم ہو چکے تھے۔

سردار ذوالفقار خان کھوسہ کے بعد ان کے صاحبزادے دوست محمد خان کھوسہ نے بھی جمعہ کے روز پارٹی رکنیت اور مسلم لیگ (ن) ڈیرہ غازی خان کی صدارت سے استعفیٰ دیدیا ہے۔ واضح رہے کہ دوست محمد خان کھوسہ اور میاں شہباز شریف کے درمیان اختلافات شدید تھے اور یہی کھوسہ خاندان کی (ن) لیگ سے علیحدگی کا باعث بنا۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں محمد نواز شریف اور ذوالفقار علی خان کھوسہ کے درمیان بہت جلد ملاقات کا امکان ہے جس میں میاں نواز شریف انہیں منانے کی کوشش کرینگے۔

ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ اختلافات کی وجہ ڈیرہ غازی خان کے علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں جن کے خلاف آئی جی پنجاب نے کارروائی شروع کر رکھی ہے اور آئی جی اس حوالے سے خود بھی ڈی جی خان کا وزٹ کر چکے ہیں جہاں انہوں نے برملا کہا تھا کہ پنجاب میں ہر جگہ دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں لیکن پنجاب پولیس ان کا ہر جگہ پر پیچھا کر کے انہیں ختم کرئے گی۔ گزشتہ روز بھی کالعدم لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے اہم دہشت گرد کو ملتان میں قتل کر دیا تھا جس پر آئی جی نے لاہور میں واضح کہا کہ سبزی منڈی میں ہونے والے بم دھماکے ملتان واقعہ کا ردعمل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی خان کے علاقہ راجن پور، تونسہ شریف اور بیٹ کے علاقوں میں کالعدم جماعتوں کے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں جن کی سرپرستی کھوسہ خاندان کے افراد بھی کرتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف جو کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں اس وجہ سے کھوسہ خاندان ناراض تھا دوسری جانب یہ کہا جا رہا ہے کہ جنوبی پنجاب چونکہ صوبہ بننے جا رہا ہے اور کھوسہ خاندان جنوبی پنجاب کا سب سے پرانا سیاسی خاندان ہے، اس طرح نواز لیگ میں رہتے ہوئے ان کا سیاسی قد چھوٹا رہ جاتا اپنا قد بڑھانے اور جنوبی پنجاب کی حکومت لینے کیلئے ذوالفقار کھوسہ نے نواز لیگ سے علیحدگی اختیار کی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کھوسہ خاندان نواز لیگ میں رہتا تو ان کا سٹیٹس شریف برادران کے بعد کا ہی ہونا تھا جبکہ شریف برادران جنوبی پنجاب کا صوبہ بننے کے کی صورت میں حمزہ شہباز کو وہاں کا وزیراعلیٰ بنانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ ایسی صورت میں کھوسہ خاندان اور بھی پیچھے رہ جاتا اس کے علاوہ سپنا خان اغواء کیس میں بھی شہباز شریف نے دوست کھوسہ کی کوئی مدد نہیں کی بلکہ ان کے خلاف مقدمہ درج ہو گیا جس پر انہیں سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز لیگ میں آمرانہ سوچ پائی جاتی ہے کیونکہ یہ صدر ضیاء الحق کی پیداوار ہے اور نواز لیگ کے بہت سے رہنما اس پالیسی کی وجہ سے نالاں ہیں اور مستقبل میں بھی نواز لیگ کی کشتی سے بہت سے ’’مسافر‘‘ اترنے والے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 184541
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب