0
Tuesday 28 Aug 2012 19:45
غیروابستہ تحریک کا اجلاس، ایران نے 120 ممالک کو اپنے پاس اکھٹا کر لیا

ایران اسلامی ممالک کا مرکز ہونے کی حیثیت سے سیاسی تنازعات حل کرنے کی صلاحیت رکھنے والا اہم ملک ہے، عراق

ایران اسلامی ممالک کا مرکز ہونے کی حیثیت سے سیاسی تنازعات حل کرنے کی صلاحیت رکھنے والا اہم ملک ہے، عراق
اسلام ٹائمز۔ عالمی میڈیا تہران میں منعقدہ غیروابستہ تحریک کے اجلاس، جس میں ایک سو بیس سے زائد ممالک کے نمائندے شامل ہیں کو بھرپور کوریج دے رہا ہے، ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ترکی سے شائع ہونے والے اخبار اے آر ڈی نے لکھا ہے کہ ایک سو بیس ممالک کی تہران آمد سے سفارتی میدان میں ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو بہترین سفارتی مدد مل سکتی ہے۔ تحریک کے سربراہی اجلاس میں پینتیس سے زائد سربراہان ممالک شرکت کر رہے جن میں مصر کے صدر محمد مرسی، ہندوستان کے وزیراعظم من موہن سنگھ اور کیوبا کے سربراہ راؤل کاسترو کی شرکت یقینی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون بھی امریکہ اور اسرائیل کی ناراضگی کے باوجود تہران اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ روزنامہ اے آر ڈی نے مزید لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان مارٹن نسیرکی نے اعلان کیا ہے کہ بانکی مون اس اجلاس میں شرکت کے مشتاق ہیں کیونکہ یہ اجلاس مختلف ممالک کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے کا بہترین موقع ہے۔ 

دوسری جانب غیروابستہ تحریک میں عراقی وفد کے رکن اور سینیئر سفارتکار نے اسلامی جمہوریہ ایران کو علاقائی اور اسلامی ممالک کا مرکز اور اس کی جیوپولیٹیکل حیثیت کی بنیاد پر سیاسی تنازعات حل کرنے کی صلاحیت رکھنے والا اہم ملک قرار دیا ہے۔ غیروابستہ تحریک کے سولہویں سربراہی اجلاس میں شریک عراقی وفد کے سفارتکار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ غیروابستہ تحریک میں شامل دنیا کے ایک سو بیس اہم ممالک عالمی، سیاسی معاملات میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں اور میرے خیال میں اس عالمی ادارے کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں ویٹو کا حق حاصل ہونا چاہیئے۔ اس موقع پر عراقی سفارتکار نے اس اجلاس کے لئے خصوصی طور پر قائم کی گئی نم نیوز ایجنسی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا یہ بڑا موثر اقدام ہے جس سے اس اجلاس کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ غیروابستہ تحریک کے تمام رکن ممالک میں اس کے باقاعدہ دفاتر ہونے چاہیئیں۔
خبر کا کوڈ : 190794
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے