0
Sunday 21 Mar 2010 11:36
وال اسٹریٹ جرنل کی وارننگ:

ایران کا نیو ورلڈ آرڈر امریکی نیو ورلڈ آرڈر کیلئے بڑا چیلنج

ایران کا نیو ورلڈ آرڈر امریکی نیو ورلڈ آرڈر کیلئے بڑا چیلنج
اسلامی جمہوری ایران کے سپریم لیڈر کے ساتھ اسلامی مزاحمتی تحریکوں کے سربراہوں کی ملاقات اور دمشق میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد، شام کے صدر بشار اسد اور حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ کی انتہائی اہم میٹنگ کے چند دنوں بعد دنیا کے بااثر ترین سیاسی اور اقتصادی روزنامے وال اسٹریٹ جورنل نے نئے مشرق وسطی کی تشکیل کی خبر دی ہے جو امریکہ کی بجائے ایران کی سربراہی میں وجود میں آ رہا ہے۔
اس اخبار میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں کہا گیا ہے: ایران خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے ذریعے دنیا والوں کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ امریکی طاقت صرف باتوں کی حد تک ہے۔ اسی ضمن میں ایران کا ایک حربہ 1+5 اجلاس میں روس اور چین کو امریکا سے جدا کرنا تھا۔ ایران نے اس طرح سے اپنے خلاف پابندیوں کی کوشش کو ناکام بنا دیا اور یہ دکھا دیا کہ امریکا اور اس کے اتحادی اتنا اثر و رسوخ نہیں رکھتے جتنا ظاہر کرتے ہیں۔
وال اسٹریٹ جورنل مشرق وسطی کے خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: ایران کے مثبت نکات میں سے ایک یہ ہے کہ خطے میں حزب اللہ اور حماس کے ساتھ اسکے اچھے تعلقات ہیں۔ اسی طرح ایران لاطینی امریکا کے ملکوں کے ساتھ اقتصادی، فوجی اور ڈپلومیٹک تعلقات قائم کرنے میں بھی کامیاب رہا ہے جس وجہ سے اس خطے میں بھی ایران کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایران 1823 میں مونرو ڈاکٹرائن (دنیا کے مغربی حصے میں یورپی اثر و رسوخ روکنے کی امریکی پالیسی) کے اعلان کے بعد پہلی مرتبہ دنیا کے مغربی حصے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
یہ امریکی اخبار جسکا مالک رابرٹ مورڈک نامی صیہونیست ہے لکھتا ہے: احمدی نژاد نے 2009 میں ایک صحافی کے جواب میں کہا تھا "دنیا بڑے پیمانے پر ترقی کی دہلیز پر کھڑی ہے، دو یا چند ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ ساری دنیا کے فیصلے انکے ہاتھ میں ہیں اور باقی ممالک کو انکی پیروی کرنی چاہئے لیکن انہیں جان لینا چاہئے کہ زمانہ بدل گیا ہے"۔
یہ اخبار مزید کہتا ہے کہ اسلامی جمہوری ایران یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ امریکا کی عالمی طاقت ختم ہو چکی ہے اور وہ دنیا والوں پر مزید حکم نہیں چلا سکتا۔ وال اسٹریٹ جرنل لکھتا ہے: اوباما اور کلنٹن نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ امریکہ کو دنیا کی لیڈرشپ اپنے ہاتھ میں لینی چاہئے کیونکہ امریکا آزاد دنیا کا سربراہ ہے اور ہر ملک سے زیادہ دنیا میں انسانی حقوق کی ترویج کیلئے کوشاں ہے۔ لیکن یہ باتیں ادھوری ہیں۔ ایران کو دھمکیوں، اس پر دباو ڈالنے اور پابندیاں لگانے کے بعد امریکا ایران کے ساتھ دنیا کی لیڈرشپ ہاتھ میں لینے کے بڑے مقابلے میں شریک ہو چکا ہے۔ امریکا کو اپنی موثر اور یگانہ حیثیت کی حفاظت کیلئے یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ اس میں اس قدر طاقت ہے کہ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام اور دنیا میں اسکی بلند پروازیوں کو روک سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے جارج بش کی شدت پسند وزیر خارجہ کانڈولیزا رائس نے مشرق وسطی پر امریکی حملے کے تناظر میں نئے مشرق وسطی کی بات کی تھی جو نیل سے فرات تک اور امریکا کی سرکردگی میں وجود میں آنا تھا۔ لیکن ایران، عراق، شام، ترکی، فلسطین اور لبنان میں اسلامی مزاحمت کی مسلسل کامیابیوں سے یہ دکھائی دیتا ہے کہ مشرق وسطی کا خطہ ایک نئے نقشے کی طرف گامزن ہے جس کا محور اسلامی مزاحمت ہے۔

خبر کا کوڈ : 22323
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے