0
Thursday 10 Jan 2013 10:11

عالمی برادری اور اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر حل کروائے، برطانوی و یورپی ممبران پارلیمنٹ

عالمی برادری اور اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر حل کروائے، برطانوی و یورپی ممبران پارلیمنٹ
 اسلام ٹائمز۔ برطانیہ اور یورپ کے تینوں ایوانوں اور تینوں سیاسی پارٹیوں کے ممبران پارلیمنٹ نے یوم حق خودارادیت کے موقع پر جموں و کشمیر کے عوام کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیان بند کروانے کیلئے اقوام متحدہ، یورپی یونین اور برطانوی حکومت سے مسئلہ کشمیر حل کروانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ ریاستی اور پاکستانی جماعتوں کے علاوہ مقامی کمیونٹی رہنماؤں اور کونسلروں نے اقوام متحدہ کی بے حسی اور پاک بھارت مذاکرات میں کشمیریوں کی شرکت کو لازمی بناکر ریاست کی تمام اکائیوں میں شہری علاقوں سے فوجوں کے انخلاء، ظالمانہ قوانین کا خاتمہ اور ریاست کی تینوں اکائیوں کی منتخب حکومتوں کو حقیقی جمہوری بنانے کیلئے بین الاقوامی مبصرین کی موجودگی میں غیر جانبدارانہ انتخابت کے ذریعے کشمیری قیادت منتخب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

جبکہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت اور پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 1948ء اور 1949ء کی کشمیر پر قراردادوں پر بھی عملدر آمد کریں تاکہ کشمیری عوام بھی دیگر اقوام کی طرح اپنے وطن میں آزادی سے زندگی گزار سکیں اور برطانیہ اور یورپ میں آباد ایک ملین کشمیری انکی فلاح و بہبود میں معاونت کرسکیں اس موقع پر برطانیہ اور یورپ کے ایوانوں میں قائم آل پارٹیز کشمیر گروپوں اور پاکستانی گروپوں کے عہدیداران کی کارکردگی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے مزید اقدامات کرنے کیلئے اپنی اپنی حکومتوں پر دباؤ بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار جموں کشمیر تحریک حق خودارادیت یورپ کے زیر اہتمام نیلسن کے مقامی کمیونٹی سینٹر میں کشمیری و پاکستانی رہنماؤں اور ممبران پارلیمنٹ نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی مناسبت سے منعقدہ اس خصوصی تقریب میں کیا جس کی صدارت کشمیر ورکنگ گروپ سنٹرل کے سابق چیئرمین و سابق کونسل لیڈر ایلن ڈیوس نے کی۔ 

انہوں نے اپنی اپنی پارلیمنٹ اور گروپوں کی طرف سے کشمیریوں کیلئے مؤثر آواز اٹھانے اور اپنی گزشتہ کارروائیوں پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ مسئلہ کشمیر کو انسانی بنیادوں اور حق خودارادیت کے علاوہ حقائق اور حالات کے مطابق بھی حل کروانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی ممالک ہیں اور انکے تصادم سے عالمی امن کو بھی خطرہ ہے انہوں نے تقریب میں وعدہ کیا کہ وہ برطانوی اور یورپی ایوانوں اور حکومتوں تک کشمیریوں کے جذبات پہنچائیں گے مگر کشمیری بھی مزید منظم ہوکر نہ صرف 650 ممبران پارلیمنٹ تک رسائی حاصل کریں بلکہ یورپ کے دیگر ممالک میں مقیم کشمیریوں کو بھی متحرک کریں تاکہ برطانوی ارکان یورپی پارلیمنٹ کے علاوہ بھی دیگر ممالک کے یورپی ارکان بھی کشمیریوں کی حمایت کرسکیں۔ ممبران پارلیمنٹ نے کشمیریوں پر زور دیا کہ وہ مہینے میں کم از کم ایک بار اپنے ممبران پارلیمنٹ کو کشمیر کے حوالے سے خط ضرور لکھیں۔
خبر کا کوڈ : 229799
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے