0
Monday 29 Apr 2013 20:36

پنجاب میں دنیا کا جدید ترین الیکشن مانیٹرنگ سسٹم تشکیل دیدیا گیا

پنجاب میں دنیا کا جدید ترین الیکشن مانیٹرنگ سسٹم تشکیل دیدیا گیا
اسلام ٹائمز۔ نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پنجاب پہلا صوبہ ہے جس نے دنیا کا جدید ترین الیکشن مانیٹرنگ سسٹم تشکیل دیاہے جس کے ذریعے پورے انتخابی عمل کو مانیٹر کیا جائے گا۔ عام انتخابات کے منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے سول سیکرٹریٹ میں پنجاب الیکشن مانیٹرنگ سینٹر قائم کر دیا ہے جو یکم مئی سے مکمل طور پر فعال ہوجائے گا۔ الیکشن مانیٹرنگ سینٹر میں کوئی بھی شہری ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے حوالے سے اپنی شکایت درج کروا سکے گا جس کے ازالہ کے لئے ایک مربوط میکنزم تشکیل دیا گیا ہے۔ پنجاب الیکشن مانیٹرنگ سینٹر ایک انقلابی اقدام ہے جو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے نہ صرف ممدومعاون ثابت ہو گا بلکہ انتخابات کے پرامن ، شفاف اور غیرجانبدارانہ انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے مددگار ثابت ہو گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب سول سیکرٹریٹ میں انتخابات کی مانیٹرنگ کیلئے تشکیل دیئے گئے جدید ترین الیکشن مانیٹرنگ سسٹم کے بارے میں بریفنگ کے دوران میڈیاکے نمائندوں سے گفتگو کررہے تھے۔ صوبائی وزیر داخلہ طارق پرویز،چیف سیکرٹری ،پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلیٰ ،سیکرٹری داخلہ،سیکرٹری صحت ، سیکرٹری اطلاعات، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ، چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ الیکشن کی مانیٹرنگ اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کو روکنے کیلئے متعلقہ عملے کو سمارٹ فون فراہم کئے گئے ہیں اور شہریوں کی سہولت کیلئے ہاٹ لائن 8070قائم کی گئی ہے جس کے ذریعے شہری انتخابی عمل میں کسی بھی بے قاعدگی ،الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور انتخابات کے حوالے سے کسی بھی قسم کی شکایت درج کراسکے گا۔

وزیراعلیٰ نجم سیٹھی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب حکومت نے انتخابات کے شفاف اور پرامن انعقاد کیلئے ہرممکن اقدامات کئے ہیں۔ انتخابات کی مانیٹرنگ کیلئے تشکیل دیاگیا جدید نظام بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کے مانیٹرنگ افسران کے علاوہ این جی او فافن کے 50ہزار افراد بھی انتخابات کے عمل کو مانیٹرنگ کررہے ہیں۔ان کے پاس ان کے ادارے کی طرف سے فراہم کردہ سمارٹ فون موجود ہیں،سرکاری اداروں کے علاوہ عوام الناس کوبھی مانیٹرنگ کے عمل میں شامل کیاجارہا ہے۔ اسی مقصد کے تحت ہاٹ لائن قائم کر دی گئی ہے تاکہ شہری کسی بھی شکایت کی صورت میں الیکشن مانیٹرنگ سینٹر میں اطلاع دیں سکیں۔جونہی مانیٹرنگ سینٹر میں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی یا بے قاعدگی کی اطلاع موصول ہوگی تو متعلقہ حکام کو اس کے ازالہ کیلئے فوری ہدایات جاری کی جائیں گی اور شکایت کے درج ہونے سے اس کے ازالہ تک کے عمل کو مکمل مانیٹرکیاجائے گا۔

انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت نے شفاف انداز میں جدید الیکشن مانیٹرنگ سسٹم تشکیل دیاہے اور الیکشن مانیٹرنگ سینٹر میں 9ڈویژن کے علیحدہ علیحدہ ڈیسک قائم کئے گئے ہیں۔ کوئی بھی شہری ہاٹ لائن کے علاوہ اپنے سمارٹ فون کے ذریعے اپیلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرکے تصویر ، تاریخ اور وقت کے ساتھ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی شکایت درج کروا سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس جدید سسٹم تک عام شہریوں کو رسائی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید الیکشن مانیٹرنگ سینٹر کے علاوہ سول سیکرٹریٹ میں چیف سیکرٹری کے دفتر میں وڈیو کانفرنس کی سہولت فراہم کی گئی ہے جہاں سے وہ تمام افسران سے براہ راست رابطے میں رہیں گے اور انہیں ضروری ہدایات بھی جاری کرسکیں گے۔ اگر کسی شکایت پر فوری ایکشن نہ لیاگیا تو الیکشن مانیٹرنگ سینٹر کی مدد سے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن مانیٹرنگ سینٹر میں میڈیا کو بھی رسائی دی گئی ہے اگر کوئی مانیٹرنگ سسٹم کا جائزہ لینا چاہے تو ڈی جی پی آر اس ضمن میں انہیں سہولت فراہم کرے گا۔انتخابات کے حوالے سے کسی بھی قسم کی بے قاعدگی یا الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے بارے میں شکایت سامنے لانا میڈیا کا کام ہے اور اس کا ازالہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

نئے تشکیل دیئے گئے مانیٹرنگ سسٹم کے اخراجات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ سمارٹ فون کسی اور منصوبے کیلئے حاصل کئے گئے تھے اور اب یہ فون الیکشن کی مانیٹرنگ کیلئے استعمال کئے جارہے ہیں۔ ہم نے ان فون کی خریداری پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا بلکہ جن اداروں کو سمارٹ فون فراہم کئے گئے ہیں وہ ان کا کرایہ ادا کریں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے 2 لاکھ پولیس افسران و اہلکاران متعین کئے گئے ہیں۔ پولنگ کے دن ایک لاکھ مزید عارضی طور پر افراد فرائض سرانجام دیں گے۔ اس کے علاوہ فوج کی مدد حاصل کرنے کیلئے بھی بات چیت جاری ہے۔ پولنگ سٹیشنوں پر امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے رینجرز کی خدمات بھی حاصل کی جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انتخابات کی مانیٹرنگ کے لئے جو جدید نظام تشکیل دیاہے اس کے بیشمار فوائد ہیں اور ایک وقت ایسا آئے گا جب اس نظام کے ذریعے تمام اداروں کی کارکردگی بہتر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انقلابی نظام ہے جس سے افسران کا بھی احتساب ممکن ہو گا۔

انہوں نے کہاکہ خسرہ ، ڈینگی اور دیگر وبائی امراض کو بھی اس نظام کے ذریعے مانیٹر کیاجارہاہے۔انتخابات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہاکہ انتخابات کے التواء کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حالات کیسے بھی ہوں، انتخابات مقررہ وقت پر ضرور ہوں گے۔ کوئی انتخابی عمل میں رخنہ نہیں ڈال سکتا۔آئندہ عام انتخابات سو فیصد ہوں گے اور مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے رابطے میں ہوں اور یہ امر انتہائی خوش آئند ہے کہ کسی جماعت نے اپنی پسند کا افسر لگانے کیلئے نہیں کہا۔ مجھ پر انتخابات کے شفاف انعقاد کیلئے جو اعتماد کیاگیاہے ،اس پر پورااتروں گا اور انتخابات کے منصفانہ انعقاد کی قومی ذمہ داری بطریق احسن پوری کریں گے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ امن و امان کے حوالے سے خدشات موجود ہیں تاہم ہم نے تیاری مکمل کی ہوئی ہے۔ انتخابات ملتوی کرنے کے حوالے سے قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں ، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، عام انتخابات صاف، شفاف اور غیرجانبدارانہ ہوں گے۔
خبر کا کوڈ : 259167
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب