0
Thursday 9 May 2013 23:57

سول اسٹیڈیم پاراچنار میں آخری جلسہ، ساجد طوری کا خطاب کے دورن اپنے منشور کا اعلان

سول اسٹیڈیم پاراچنار میں آخری جلسہ، ساجد طوری کا خطاب کے دورن اپنے منشور کا اعلان
رپورٹ: ایس این حسینی

سول اسٹیڈیم پاراچنار نے الیکشن 2013ء کے دوران آج آخری بار ساجد حسین طوری کے لئے فرش راہ بچھا دیا ہے۔ آج جمعرات کو صبح نو بجے سے بڑی تعداد میں گاڑیاں پاراچنار شہر کی طرف جا رہی تھیں۔ پاراچنار کی طرف جانے والے تمام راستے ساجد طوری کے حامیوں کی گاڑیوں سے بھرے ہوئے تھے۔ دوپہر ایک بجے کے بعد پاراچنار بازار کی مختلف کالونیوں سے لوگ ٹولیوں کی شکل میں سول اسٹیڈیم کی جانب جا رہے تھے۔ جلسے کے لئے سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ جگہ جگہ تلاشیاں لی جا رہی تھیں۔ تقریباً اڑھائی بجے جلسہ شروع ہوا۔ جلسے کے دوران بار بار اعلان کیا جا رہا تھا کہ اجتماع سے پیش امام علامہ شیخ محمد نواز عرفانی خطاب فرمائیں گے۔ اسٹیڈیم کافی حد تک بھر چکی تھا جبکہ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے بھی ڈالے جا رہے تھے۔ جلسے کے آخر تک کے اعداد و شمار اور اندازوں کے مطابق شرکاء کی تعداد 20 ہزار کے لگ بھگ تھی۔

جلسے سے متعدد مقررین نے خطاب کیا، جن میں سابق سیکرٹری انجمن حسینیہ کیپٹن یوسف حسین، شاعر علی اصغر شاغلے، مولانا ایران علی، منتظر حسین، حاجی ضامن حسین، جلال حسین، ملک زاھد حسین بنگش، سیکرٹری انجمن حسینیہ حاجی حامد حسین قابل ذکر ہیں۔ مقررین کا زیادہ زور اس بات پر تھا کہ مرکز کو مضبوط کرو اور یہ کہ مرکز کو ووٹ دو۔ مولانا ایران علی نے اپنے خطاب میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ولایت فقیہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی مجتہد پر تمام مجتہدین متفق ہوں، جبکہ پیش امام شیخ نواز عرفانی پر چھ مجتہدین متفق ہیں۔ لہذا یہاں پیش امام ہمارے لئے سب کچھ ہیں، وہی ولی فقیہ کے نمائندے ہیں۔ لہذا انکا حکم ماننا ہر شیعہ پر واجب ہے۔ شعراء نے اپنے کلام میں مخالف امیدواروں کے ہجو پیش کئے۔ اقبال حسین بنگش کے مطابق جلسے پر لسانیت اور نسلی تعصب کا کافی حد تک غلبہ تھا۔ شعراء اور مقررین نے اپنے خطابات میں کافی حد تک اسی پہلو پر زور دیا۔ ساجد طوری کے کارناموں کی بجائے پیش امام شیخ محمد نواز عرفانی کو ووٹ دینے پر لوگوں کو آمادہ کیا جاتا رہا۔ 

آخر میں جلسے سے اس حلقے کے امیدوار سابق ایم این اے ساجد حسین طوری نے خطاب کیا۔ ساجد حسین طوری نے خطاب کے دوران اپنی گذشتہ کارکردگی کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے شرکاء میں اپنے منشور کی کاپیاں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ خود بھی بعض کاموں کی جانب اشارہ کیا۔ انہوں نے عوام سے وعدہ کیا کہ میرے بعض منصوبے نامکمل رہ گئے ہیں، دوبارہ منتخب ہونے پر وہ تمام منصوبے تکمیل تک پہنچا دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے دور میں لیوی پنشن کا سنگین مسئلہ حل کیا، میں نے اسلامیہ کالج کی برانچ یہاں کھلوائی، علی زئی میں کیڈٹ کالج کی باقاعدہ منظوری ہوچکی ہے، میں رہوں یا نہ رہوں وہ ہر صورت میں تعمیر ہوگا۔ آئی ٹی یونیورسٹی کی منظوری بھی ہوچکی ہے، انشاءاللہ 8 ماہ میں اسکی خوشخبری عوام خود سنیں گے۔ اساتذہ کی تقرری پر جو بین (پابندی) لگی تھی وہ مسئلہ بھی میں نے حل کرایا۔ 

اسکے علاوہ جو پراجیکٹ ادھورے رہ گئے ہیں، جیسے ڈیم اور ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی اپ گریڈیشن وغیرہ، اسکی بنیادی وجہ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال تھی۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ منتخب ہونے پر ان تمام ادھورے پراجیکٹس پر جلد از جلد کام شروع کرکے پایہ تکمیل تک پہنچا دونگا۔ انہوں طلباء سے بھی وعدہ کیا کہ منتخب ہونے پر طلباء کے لئے اسکالر شپ کا بندوبست کرونگا۔ انہوں نے خود ایسی کوئی بات نہیں کی، جس سے رنگ و نسل کی بو آتی ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریر کے دوران سابق ایم این اے کا انداز دوسرے مقررین کی نسبت مہذب تھا۔ مخالف امیدواروں کے متعلق کسی قسم کی جارحیت کا سہارا بالکل نہیں لیا۔

ماہرین کے مطابق جلسے کے لئے جن ذرائع کا سہارا لیا گیا تھا اور جلسے کے لئے جو محنت کی گئی تھی۔ گھر گھر گاؤں گاؤں گاڑیاں پہنچائی گئی تھیں، اسکے مقابلے میں جلسے میں لوگوں کی تعداد مایوس کن تھی۔ لوگوں کا خیال تھا کہ اس جلسے میں لوگوں کی تعداد 5 اور 8 مئی کے جلسے میں شریک افراد کے مقابلے میں دوگنی ہوگی۔ مگر یہ تعداد 8 مئی کے مقابلے میں بھی کافی حد تک کم تھی، کیونکہ ایک طرف کرسیوں کا فاصلہ بہت زیادہ تھا۔ دوسرا یہ کہ شرکاء بھی بہت ایزی اور فاصلے پر بیٹھے تھے۔ جس سے صحیح اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ یہ جلسہ کل کے مقابلے مین کافی حد تک کم تھا۔
دوسری جانب عوام میں یہ افواہ بھی گشت کر رہی ہے کہ سید اقبال میاں، سید قیصر حسین کے حق میں دستبردار ہو رہے ہیں۔ اگر یہ افواہ درست ثابت ہوتی ہے تو اس سے صاف واضح ہو رہا ہے کہ سید قیصر حسین بڑی آسانی سے جیت جائیں گے۔ مگر دیکھتے ہیں یہ افواہ حقیقت کا روپ دھار لیتی ہے یا 11 مئی کی شام تک افواہ ہی رہتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 262300
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب