9
0
Wednesday 15 May 2013 13:36

پاراچنار کی موجودہ صورتحال اور پاکستانی علماء کی ذمہ داریاں

پاراچنار کی موجودہ صورتحال اور پاکستانی علماء کی ذمہ داریاں
رپورٹ: محمد طیفور بلتی

الیکشن 2013ء ملکی تاریخ میں پرتشدد ترین اور مہلک ترین انتخابات ثابت ہوئے۔ کوئی حلقہ ایسا نہیں رہا ہوگا جس میں ہنگامے نہ ہوئے ہوں۔ انتخابات کے دوران پورے ملک کی طرح بندہ کی پاراچنار پر خاص نظر رہی، ہر لمحے پاراچنار میں موجود دوستوں اور صحافیوں سے رابطہ رہا۔ 5 مئی کو خود پاراچنار جاکر حالات کا بنفس نفیس جائزہ لینا شروع کیا۔ چنانچہ پورے ملک کی طرح پارا چنار بھی اس سلسلے میں کسی سے پیچھے نہ رہا۔ پاراچنار میں قومی اسمبلی کے دو حلقے ہیں اور دونوں حلقوں یعنی این اے 37 اور این اے 38 میں پرتشدد واقعات رونما ہوئے۔ این اے 38 میں تو سابق ایم این اے اور موجودہ امیدوار منیر خان اورکزئی کے جلسے پر 5 مئی کو خودکش حملہ ہوا، جس میں 100 سے زائد زخمیوں کے علاوہ 30 افراد جاں بحق بھی ہوئے۔ اس طرح کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ منیر اورکزئی اس دھماکے کے لئے اپنے مدمقابل سینیٹر رشید خان کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔
 
موجودہ سنگین صورتحال: 
این اے 37 کے الیکشن نے اس وقت سنگین صورتحال اختیار کی۔ جب پولنگ ڈے (11 مئی) سے تقریباً تین یا چار ہفتے قبل مرکزی جامع مسجد میں جمعہ کے خطبے کے دوران متعدد امیدواروں میں سے صرف تین کا اعلان کیا گیا اور پھر تین میں سے بھی پہلے ساجد طوری کا نام لیکر اس پر کافی زور دیا گیا۔ گویا اسی دن ساجد طوری کو طوری اقوام کے قومی مرکز سے امیدوار قرار دیا گیا۔ جس پر باقی 12 امیدواروں نے احتجاج شروع کر دیا اور سول اسٹیڈیم میں ایک احتجاجی اجتماع کیا۔ جس میں مرکز کی یکطرفہ پالیسی کو ہدف تنقید بنایا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ حالات نے مزید سنگینی یوں اختیار کی کہ جب تینوں میں سے بھی دو کو بالکل مسترد کرکے صرف ایک امیدوار (ساجد حسین طوری) کے لئے مرکزی جامع مسجد پاراچنار، خصوصاً مدرسہ جعفریہ پاراچنار کو بطور الیکشن آفس استعمال کیا جانے لگا۔ اس کمپین کے دوران جامع مسجد کے پیش امام، جن کا تعلق شمالی علاقہ جات گلگت سے ہے، خواتین اور مردوں کے الگ الگ اجتماعات میں صاف صاف کہنے لگے کہ یہ ووٹ ساجد طوری کو نہیں، آپ نے ووٹ پیش نماز کو دینا ہے۔ اس دوران جناب عالی اس حد تک جذباتی ہوگئے کہ یہان تک کہنے سے بھی اجتناب نہیں کیا کہ 11 مئی کو دشمنوں کو بھگا دو، یا یہ کہ دشمنوں سے مقابلہ ہے۔ یعنی ساجد طوری کے علاوہ تمام 14 یا 15 امیدواروں اور انکے حامیوں کو دشمن قرار دیا۔ 

الیکشن ڈے: 
 11 مئی کا دن بالآخر آگیا۔ اس دن اکثر پولنگ اسٹیشنوں میں ہنگامے اور جھڑپیں ہوئیں۔ جس میں فائرنگ کے واقعات بھی رونما ہوئے اور درجنوں خواتین و حضرات زخمی ہوگئے۔ واضح رہے کہ یہ جھڑپیں ووٹ ڈالنے والوں کے درمیان یا امیدواروں کے حامیوں کے درمیاں نہیں بلکہ مرکزی جامع مسجد کے پیش امام کی نگرانی میں خدمات دینے والے ایک نیم سرکاری پولیس فورس "پاسدار کرم" اور دیگر امیدواروں کے حامیوں یا ایجنٹوں اور پولنگ عملے کے مابین ہوتی رہیں۔ لڑائی جھگڑوں کے علاوہ پولنگ عملے یا ایجنٹوں کے اغوا اور یرغمال بنائے جانے کے بیسیوں واقعات متعلقہ دفاتر میں نوٹ کئے جاتے رہے، جس کے لئے ایف سی کی کمک طلب کی جاتی رہی، مگر کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلتا تھا۔
 
گیارہ مئی کا دن نعروں، فائرنگ اور ڈنڈوں کی جھنکار میں گزر گیا، شام کو نتیجہ آنا شروع ہوگیا۔ تو ابتدائی نتائج کے مطابق سید قیصر حسین کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا تھا۔ واضح رہے کہ 11 مئی کو تقریباً 8 بجے سے پاراچنار سٹی میں کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا۔ رات دو بجے کو جبکہ اکثر اسٹیشنوں کا رزلٹ آچکا تھا، صرف تین یا چار پولنگ اسٹیشنز کا رزلٹ باقی تھا۔ جس کا مجموعی ووٹ بمشکل چار ہزار ہوگا۔ ساجد طوری پر سید قیصر کو 5000 ووٹوں سے برتری حاصل تھی۔ لوگوں کو تسلی بلکہ یقین ہوچکا تھا کہ باقی ماندہ اسٹیشنوں کے تمام ووٹ ساجد طوری کے حق میں پڑگئے تب بھی سید قیصر تک نہیں پہنچ سکتے۔ نیز پولیٹیکل ایجنٹ نے بھی سید قیصر حسین کو مبارکباد دی، تو سید قیصر حسین کے حامیوں نے خوشیاں منانا شروع کر دیں، اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔ 

الٹا نتیجہ: 
صبح 5 بجے لوگ آرام اور تسلی سے سوگئے۔ غم اور خوشی کے ملے جلے جذبات میں سونے والے عوام کی آنکھ صبح 8 بجے اس وقت کھلی جب ساجد طوری کے مایوس حامیوں نے خوشیاں منانا شروع کیں، اور ہوائی فائرنگ کے علاوہ بھنگڑے ڈالنے شروع کئے، انہوں نے گاڑیوں میں ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں جلوس کی شکل میں نعرہ بازی کرتے ہوئے مارچ شروع کیا، جس کے نتیجے میں مختلف دیہات میں جھڑپیں ہوئیں۔ ادھر سید قیصر کے حامیوں نے پاراچنار شہر میں جمع ہونا شروع کیا کر دیا اور کرفیو کے باوجود جلوس نکالا، جلوس پر انجمن حسینیہ کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔ جس میں آٹھ افراد کے شدید زخمی ہونے کے علاوہ ایک شخص جاں بحق بھی ہوگیا۔ جاں بحق ہونے والے پیواڑ کے نو خیز جوان کا والد اس سے پہلے کرم جنگ میں شہید ہوگیا تھا جبکہ زخمیوں میں سے بھی بیشتر کا تعلق قائد شہید کے گاؤں پیواڑ سے ہے۔
 
احتجاج کے بعد ساجد طوری کے حق میں ٹی وی پر نشر ہونے والا نتیجہ روک دیا گیا۔ نیز سید قیصر حسین کو پی اے نے تسلی دی کہ متازعہ 13 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ ہوگی۔ جن میں عملے کو اغوا کیا گیا تھا اور جہاں سید قیصر حسین کے کسی حامی کو ووٹ ڈالنے نہیں دیا گیا تھا۔ 36 گھنٹے نتیجہ روکنے کے بعد 13 مئی کی شام کو ٹی وی پر ساجد طوری کو کامیاب امیدوار قرار دیتے ہوئے نتیجہ دوبارہ نشر ہونے لگا۔ اس نتیجے کے علاوہ، پولنگ کے دوران خواتین ووٹرز نیز خواتین عملے اور ایجنٹوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے خلاف 13 مئی کو پی اے دفتر اور شہید پارک کے سامنے خواتین نے دھرنا شروع کر دیا جو پاراچنار کی تاریخ میں خواتین کا پہلا احتجاجی جلسہ اور دھرنا ہے۔ جس سے پی اے کے دفتر کو جانے والے راستے مکمل طور پر مسدود ہوگئے ہیں۔ 

طالبان کی مداخلت: 
پاراچنار اس وقت جس صورتحال سے گزر رہا ہے، ایک طرف الیکشن کے حوالے سے اہل تشیع نے آپس میں ایک دوسرے کے گریبان پکڑے ہوئے ہیں، جبکہ دوسری جانب اس علاقے کی جانب طالبان کی پیشقدمی نے علاقے کی صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے کیونکہ ایف آر پاڑہ چمکنی میں طالبان نے حملہ کرکے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور وہاں سے پاڑہ چمکنی کے لوگوں نے پاراچنار اور صدہ کی جانب نقل مکانی شروع کر رکھی ہے۔ واضح رہے پاڑہ چمکنی کا مذکورہ آٖفت زدہ علاقہ پاراچنار کے نواحی علاقے کڑمان سے صرف 15 تا 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق حکومت نے ملحقہ شیعہ علاقوں کڑمان بدامہ اور بوغکی کو بھی وارننگ دی ہے کہ اپنے علاقے خالی کریں۔ ایسی گھمبیر صورتحال میں جبکہ ایک طرف خطرناک اور بے رحم دشمن سر پر کھڑا ہے جبکہ دوسری جانب طوری اقوام کی اکثریت کے اپنے مرکز (مرکزی جامع مسجد اور انجمن حسینیہ) سے اختلافات انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔ ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے یہاں مقامی کوئی حل دکھائی نہیں دے رہا، اسکے لئے نان لوکل شخصیات کی ثالثی ہی کام آسکتی ہے۔
 
انصار الحسین کا مصالحتی وفد: 
اسی سلسلے میں انصار الحسین کوہاٹ نے نیکی کا پہلا قدم اٹھاتے ہوئے ہنگو اور کوہاٹ سے اہم شخصیات کا ایک وفد 14 مئی کو پاراچنار پہنچا دیا ہے، جس میں ایم ڈبلیو ایم پشاور کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ سبیل حسن مظاہری، مسجد جماران کچئی کوہاٹ کے خطیب علامہ حمید حسین امامی، کوہاٹ کے معروف شخصیت علامہ سید شاہ حسن میاں الحسینی، جامعہ عسکریہ ھنگو کے وائس پرنسپل علامہ غلام مہدی صاحب، امیر حسین ممبر صوبائی کونسل انصار الحسین (شیر کوٹ)، نسیم عباس بنگش ممبر صوبائی کونسل انصار الحسین (جوزارہ) شامل ہیں۔ اسی روز 14 مئی کو وفد نے فریقین کے ساتھ مذاکرات کا ایک دور مکمل کرلیا ہے، وفد نے خواتین کا دھرنا ختم کرانے کی کوشش کی۔ جس میں انہیں سید قیصر حسین اور انکے سیاسی کونسل کے بزرگ اراکین کی بھی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ بڑی منت سماجت کے بعد خواتین کو دھرنا ختم کرنے پر راضی کیا گیا، لیکن کچھ ہی دیر بعد خواتین کے جذبات دوبارہ ابھر آئے اور دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا۔
 
احتجاج کرنے والوں کے مطالبات: 
سید قیصر حسین کے حامی جن میں سے اکثر اعلٰی تعلیم یافتہ، آفیسرز، بینکرز، ہیڈ ماسٹرز، ڈاکٹرز اور مفکرین ہیں۔ خصوصاً اہلیان پیواڑ مبینہ قاتلین کو حوالے کرنے کے مطالبے کے علاوہ ساجد طوری کے اعلان کو منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ انکے مطالبات میں سرفہرست یہ بات شامل ہے کہ مرکز میں موجود افراد کا ٹینیور پورا ہوچکا ہے، فوری طور کرم ایجنسی میں موجود تمام قبائل کی ایک نمائندہ اور تعلیم یافتہ انجمن تشکیل دی جائے، نیز مرکز کا اختیار غیر مقامی شخص سے لیکر مقامی علماء کی ایک نمائندہ کونسل کے حوالے کیا جائے۔ مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ مرکز میں موجود لوگ کرپٹ، نیز وہ حکومت اور طالبان کے آلہ کار ہیں۔ جن پر سے عوام کے 80 فیصد لوگوں کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ جس کا ثبوت موجودہ انتخابات ہیں۔ جس میں دھاندلی، دھونس اور دھمکیوں کے باوجود تقریبا 70 فیصد لوگوں نے انکے اعلان کردہ امیدوار کے مقابلے میں ووٹ دیا۔ واضح رہے کہ موجودہ الیکشن میں ساجد طوری نے 30000 چند سو، قیصر حسین نے 29 ہزار چند سو جبکہ سید اقبال میاں نے 19 ہزار چند سو ووٹ لئے تھے۔ جن میں مبینہ طور پر ساجد طوری کو 4000 سے کچھ زیادہ ووٹ اہلسنت کے بھی پڑے تھے۔ 

انجمن حسینیہ کا موقف: 
دوسری جانب انجمن حسینیہ کے اراکین جن میں سے اکثر انپڑھ یا کم پڑھے لکھے افراد ہیں۔ دیہات سے عوام کو بلا کر انکے جذبات ابھارنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ انجمن حسینیہ کے متنازعہ اراکین جن کے خلاف قتل کا دعویٰ کیا گیا ہے، کا کہنا ہے کہ گولیوں کا نشانہ بننے والے افراد کو انہوں نے نہیں مارا ہے بلکہ انہیں مخالفین (سید قیصر کے حامیوں) نے خود مارا ہے۔ تاہم انجمن حسینہ کے متنازعہ ممبران اور مبینہ ملزمان، حاجی حامد حسین، رئوف حسین، کاظم حسین وغیرہ سب نے چار پانچ دنوں سے مرکزی مسجد کے احاطے میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر رکھی ہے اور اپنے گھروں کو آنا جانا بند کر دیا ہے۔ کرم ایجنسی خصوصاً پاراچنار سٹی ایک ایسا منظر پیش کر رہی ہے جیسے چند سال پہلے طالبان کے ساتھ لڑائی میں تھا۔ 

ملکی شخصیات اور علماء کا فریضہ:
 ملک بھر کی اہم شخصیات خصوصاً علماء کا اس سلسلے میں فریضہ بنتا ہے کہ وہ فوری طور پر کرم ایجنسی کا رخ کریں اور فریقین میں مصالحت کا کردار ادا کریں۔ اس سلسلے میں ہمارے شمالی علاقہ جات خصوصاً گلگت سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع، بالخصوص علماء کا سب سے بڑھ کر یہ فریضہ بنتا ہے کہ اپنے ہموطن مولانا، آغا شیخ محمد نواز عرفانی صاحب، جو کہ 13 مئی کو اسلام آباد میں موجود اپنی رہائش گاہ پہنچ گئے ہیں، کے ساتھ مذاکرات کریں اور انہیں کرم کی حالت زار پر رحم کرنے پر راضی کریں۔ 

میں نے اپنی ملاقاتوں کے دوران ہر طبقے خصوصاً تعلیم یافتہ جوانوں کا موقف معلوم کیا کہ مقامی حالات کی تمام تر ذمہ داری نان لوکل مولانا پر عائد ہوتی ہے، انکا یہ بھی کہنا تھا کہ مذکورہ مولانا عام حالات میں بھی مسجد سے اکثر شیعہ تنظیموں کے خلاف انپڑھ عوام کے جذبات ابھارنے کی بار بار کوشش کرتے ہیں، نیز یہ کہ اکثر مجتہدین اور رہبر کے خلاف بھی بولنے سے نہیں کتراتے، انکا یہ بھی کہنا تھا کہ اس مولانا نے کبھی اپنی تقریر یا خطبے کے دوران طالبان یا انتظامیہ کے خلاف ایک جملہ بھی نہیں بولا ہے۔ دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاراچنار کے عمر رسیدہ اور انپڑھ لوگوں میں سے اکثر کے علاوہ بعض جذباتی جوانوں کی اس مولانا کے ساتھ جنوں کی حد تک عقیدت ہے۔ اور وہ انہیں کرم کا نجات دہندہ، بلکہ ولی اللہ کے برابر سمجھتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 264016
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iran, Islamic Republic of
خدا را لکهنے میں انصاف سے کام لیں اور قیامت کو مدنظر رکھیں۔
Sweden
I have been noticing your reports_from the last couple of weeks and it gave us impression that it is based on biasness. It is not true what you are trying to convey. We can sacrifice for Agha Nawaz Irfani with our families and children. He is the true leader of momineen which he has proved during our war with talibans and long lasting seige of our area. Please stop it otherwise Imam Zamana (ajtf will not excuse you. Thanks. Zeeshan Turi
Sweden
For yur kind information it was not a procession at all, they were marching towards the Imam Barghah in order to kick out Agha Nawaz _from it. History reoeats itself. These elements did it 2nd time. Previously the distroyed our Chehlam Imam Hussain as procession in order to insult and kill Agha Nawaz. We all can die for him. No one can harm him....remember.
Sweden
It is absolutely wrong that he doesn,t talk against terrorist for God sake...itna bara jhot....sarasar bohtan hain Khuda kee qasam....he has been severly condemn those zalimeen and culprits more or less in every juma prayer. What I am saying is 100% right as i have sacrificed one of my dear and younger brother and one cousin during war with taliban. We are still contributing in the defense fund initiated by our dear leader Agha Nawaz.
its all 100 percent true
agha nawaz muhtarm hain. taham sajid ki himayat kar k on sy ghlti sar zad hoye.
taahm logoon sy guzarish hai. k ab alekshan khatam ho gay. bs bat khatam ho gaye is sy kia faida jo hona hogya. jo b jeeta ab to jeet gia. pory mulk mai dhandli k alzamat hen. lekin wahan to parachinar ki tarah tashadud nahi. khoda ra hosh k nakhon lo.
Although some info is correct but the overall picture shown by the outsider writer could not be termed as fair ...
The matter needs further insight keeping in mind the historical references
If there is someone playing role as moderator at Islamtimes, he/they should assure that the site is meant to promote harmony and the environment of constructive criticism. It has been observed that certain views are published with even without basic sensorship. If the team handling the site consider that the news in the _from of article sent to Islam Times are correct, then the team should have the courage to publish it with their own tag . I hope a positive progress onwards.
Pakistan
اس سے بڑھ کر کوئی جانبدار پورٹ نہیں ہوسکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔