0
Tuesday 28 May 2013 15:01

تعاون کی صورت میں ہی نومنتخب حکومت کی حمایت کرینگے، تاجر برادری

تعاون کی صورت میں ہی نومنتخب حکومت کی حمایت کرینگے، تاجر برادری
اسلام ٹائمز۔ کراچی کے تاجروں کو مستقبل میں درپیش متوقع بحرانوں سے نمٹنے کیلئے آل کراچی تاجر اتحاد نے مارکیٹوں کے نمائندگان پر مشتمل علاقائی سطح پر پریشر گروپس کے قیام کا اعلان کر دیا۔ مختلف علاقوں کی مارکیٹوں کی زونل کمیٹیاں تشکیل دینے کا عمل شروع ہو گیا۔ تاجروں کا پہلا پریشر گروپ آرام باغ میں قائم کر دیا گیا ہے۔ پریشر گروپ کے قیام کا مقصد تاجروں کے جائز اور بنیادی مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں حکومت اور اسکے اداروں پر دباﺅ ڈالنا ہے۔ یہ فیصلہ آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر کی زیرِصدارت آرام باغ فرنیچر مارکیٹ میں منعقد کئے گئے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ اس موقع پر علاقہ آرام باغ کی مارکیٹوں کی ایک زونل کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا جس کے مطابق سمیع اللہ خان کو کمیٹی کا چیف کنوینر جبکہ عبدالقادر، حاجی محمد رفیع اور تنویر باڑی کو ڈپٹی کنوینر کی ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں یوسف خان، شرافت خان، عبدالرحمان، محمد آصف، یوسف بٹلہ، شاہد شمسی شامل ہیں۔
 
اجلاس میں شریک علاقہ آرام باغ کی 30 سے زائد مارکیٹوں کے نمائندگان نے حکومت کے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ کاروباری طبقے کو درپیش لوڈشیڈنگ، اسٹریٹ کرائم، بھتہ خوری، ٹریفک جام، صفائی ستھرائی، سیوریج لائنوں کی خرابی، سڑکوں کی استر کاری اور دیگر مسائل 15 دنوں میں حل نہ کئے گئے تو متعلقہ اداروں کے خلاف احتجاجی لائحہ عمل طے کیا جائیگا جس کے تحت ایم اے جناح روڈ پر دھرنے اور احتجاجی بینرز آویزاں کئے جائینگے۔ اس موقع پر تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کا کاروباری مستقبل تاجروں کے باہمی اتحاد اور یکجہتی سے مشروط ہے۔ ماضی میں کسی بھی حکومت نے چھوٹے تاجروں کے مسائل کو سمجھنے اور ان کی مشکلات کے خاتمے کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ تاجر برادری کو مایوس کُن صورتحال سے نکالنے کیلئے نومنتخب وزیرِاعظم فوری طور پر کراچی کا دورہ کریں۔
 
عتیق میر نے مزید کہا کہ کراچی کے تاجر گذشتہ پانچ سال سے حالتِ احتجاج میں ہیں اس کے باوجود مسائل حل ہوئے نہ مشکلات ختم ہو سکیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ تاجروں کا مثالی تعاون یا شدید احتجاج اس کا فیصلہ نومنتخب حکومت کو کرنا ہے۔ تاجروں سے جائز معاملات میں تعاون کی صورت میں ہی نومنتخب حکومت کی بھرپور حمایت کرینگے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ناکامی کی صورت میں مستقبل میں جمہوریت نفرت کا سمبل بن جائیگی۔ اجلاس میں شریک کراچی کی مختلف مارکٹیوں کے نمائندگان نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور اس کے ادارے تاجروں کی تجاویز و مشاورت کو اپنی کارروائی اور مستقبل کی پلاننگ کا حصہ بنائیں تاکہ تاجر نمائندگان اور اداروں کے مابین اعتماد کی فضاء فروغ پاسکے اور باہمی مشاورت اور افہام و تفہیم سے مسائل کا قابلِ عمل حل تلاش کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 268290
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب