0
Sunday 30 Jun 2013 10:49

پٹوار خانے سے ایوان صدر تک کرپشن عام ہے ، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ

پٹوار خانے سے ایوان صدر تک کرپشن عام ہے ، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
اسلام ٹائمز۔ پشاورمیں تربیتی کورس مکمل کرنے والے ججزمیں اسناد تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ اعلیٰ سطح کا آئینی ادارہ قائم کیا جائے جو صدر وزیر اعظم سمیت تمام لوگوں کو قانون کے شکنجے میں لائے۔ ہمارا ملک قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ مگر اس کے باوجود حکمران کشکول لے کر بھیک مانگتے ہیں۔ صوبے میں موبائل کورٹس اور صارفین عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ اس حوالے سے صوبائی حکومت جلد اسمبلی سے ایکٹ منظور کرائے۔ موبائل کورٹس میں3 ایڈیشنل3 سول،3 فیملی ججز اور 3 مجسٹریٹس متعین ہوں گے۔ عوام کو انصاف دینا ججز اور وکلاءکی بنیادی ذمہ داری ہے۔

این این آئی کے مطابق انہوں نے کہا کہ حکمران صرف نعر ے لگاتے ہیں پالیسی مرتب کرنے کےلئے کوئی بھی سنجیدہ نہیں۔ اگرکرپشن کے خاتمے کےلئے موثرعدالتی نظام بنایا جائے توہماراملک نہ صر ف ایشیا بلکہ دنیا بھر کا ٹائیگر ملک کہلایاجائیگا۔ انسداد بدعنوانی کامحکمہ بنایاگیا توپولیس کے محکمے میں کرپشن عروج کوپہنچ گئی۔ ایف آئی اے کاادارہ بنایاگیا توکرپشن میں 10 گنا اضافہ ہوگیا۔ رہی سہی کسرنیب نے پوری کردی ۔ پشاورہائی کورٹ نے ڈیڑھ کروڑ کی لاگت سے موبائل کورٹس سروس جلدشروع کررہی ہے۔ موبائل کورٹس سروس 4 وسطی اضلاع، 2 جنوبی اضلاع ،3 مالاکنڈ اور4 ہزارہ ڈویژن میں کام کریگی۔ پٹوارخانے سے لیکر ایوان صدرتک کرپشن کے خاتمے کےلئے ایسی جامع پالیسی مرتب کی جائے جس کوآئین میں ضمانت حاصل ہو۔

چیف جسٹس دوست محمدخان نے کہا کہ اگر ہمارے ملک میں کرپشن کے خاتمے کےلئے موثرعدالتی نظام بنایا جائے توہماراملک نہ صر ف اشیاءبلکہ دنیا بھر کاٹائیگرملک کہلایاجائیگا۔ پشاورہائیکورٹ نے ڈیڑھ کروڑ کی لاگت سے موبائل کورٹس سروس جلدشروع کررہی ہے جس میں 3 سول،3 مجسٹریٹ،3 ایڈیشل اور3 فیملی کورٹ کے ججز ہونگے 24صارفین عدالتیں قائم کی جائیگی جس سے لوگوں کوفوری اورسستا انصاف میسر ہوگا،موبائل کورٹس سروس چاروسطی اضلاع ،2 جنوبی اضلاع ،3 مالاکنڈ اور4 ہزارہ ڈویژن میں کام کریگی۔ کرپشن کے خاتمہ کیلئے موثر عدالتی نظام بنایاجائے اس مقصد کیلئے پارلیمنٹ،عدلیہ اور ایگزیکٹو کو ایک آواز ہونا پڑے گا۔ کریمنل جسٹس سسٹم ،سول جسٹس سسٹم اور فرانسک سائنس پر ٹریننگ کےلئے یورپی یونین کے ماہرین جلد جوڈیشل اکیڈمی میں ٹریننگ دیں گے کیونکہ ہماری موجودہ پولیس سیٹ اپ کےلئے موجودہ جرائم کی سرکوبی ماڈرن طریقوں سے کرنا مشکل ہے کیونکہ ان کی روایتی تربیت ہوئی ہے۔ صوبہ میں 24کنزیومر کورٹس بنانے کےلئے سمری صوبائی حکومت کو ارسال کردی گئی ہے اگر حکومت اس سکیم کو منظور کرتی ہے تو اس سے صارفین کے مسائل اور شکایات گھنٹوں اور چند دنوں میں حل ہو جائیں گے ، وکلاءاور رپورٹرز کےلئے بہت جلد 15روزہ تربیتی پروگرامز جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں شروع کئے جائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 278093
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے