0
Monday 16 Sep 2013 22:26

طالبان کیساتھ مذاکرات، کئی جواب طلب سوالات!

طالبان کیساتھ مذاکرات، کئی جواب طلب سوالات!
رپورٹ: ایس اے زیدی

گذشتہ ہفتے وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں جاری دہشتگردی کے مسئلہ پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی، جس میں شریک تمام جماعتوں نے ملک میں قیام امن کیلئے متفقہ طور پر طالبان دہشتگردوں کیساتھ مذاکرات کی منظوری دی اور ڈرون حملوں کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ اس اے پی سی میں ملک کی اعلیٰ عسکری قیادت بھی موجود تھی۔ اے پی سی میں متفقہ فیصلے سامنے آنے کے بعد دہشتگردوں سے بات چیت کا عمل شروع کرنے کیلئے پیپر ورک شروع کردیا گیا۔ تاہم طالبان کیساتھ مذاکرات کے اس ''متفقہ'' فیصلے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اور بعض محب وطن اور سنجیدہ حلقے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اس اے پی سی میں کیا ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں، طبقات، مسالک اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی نمائندگی تھی۔؟ جس کا جواب یقیناً نفی میں ہے۔ 

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ کل جماعتی کانفرنس میں شریک زیادہ تر جماعتیں وہ تھیں جو روز اول سے دہشتگردوں کیساتھ بات چیت کرنے کی حامی ہیں۔ طالبان یا دیگر دہشتگرد گروپوں کے مظالم کا سب سے زیادہ شکار ہونے والے طبقات کا کوئی نمائندہ اے پی سی میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ یعنی اہلسنت (بریلوی) اور اہل تشیع رہنماوں کی عدم موجودگی نے اے پی سی میں قومی اتفاق رائے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے طالبان کیساتھ مذاکرات کا راستہ اپنانے کیلئے پہلے ہی منصوبہ بندی کرلی تھی، اے پی سی محض ''خانہ پری'' کیلئے بلائی گئی۔ مولانا سمیع الحق اور مولانا فضل الرحمان کو اے پی سی سے قبل ہی بعض اہداف سونپ دیئے گئے تھے، جبکہ عمران خان کو بھی گرین سگنل دے دیا گیا تھا۔ 

واضح رہے کہ اس سے قبل طالبان سے 9 امن معاہدے ہوئے، جو تمام کے تمام ٹوٹ گئے۔ لہذا دہشتگردوں کے ماضی کے وعدہ خلافی کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے کیا ضمانت ہے کہ اس مرتبہ مذاکرات کے نتیجے میں اگر کوئی امن معاہدہ طے پاتا ہے تو دہشتگرد اس پر کار بند رہیں گے۔ علاوہ ازیں اہم سوال یہ ہے کہ حکومت کس دہشتگرد گروہ سے مذاکرات کرے گی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت 14 سے زائد شدت پسند اور دہشتگرد گروپ سرگرم ہیں۔ ان میں بعض دہشتگرد گروہوں کو ’’گڈ طالبان‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آیا ان ’’گڈ طالبان‘‘ کیساتھ مذاکرات ہوں گے۔؟ فرقہ پرست دہشتگردوں کا کیا ہوگا۔؟ علحیدگی پسند شدت پسندوں سے کون نمٹے گا۔؟ لسانی بنیاد پر دہشتگردی کرنے والوں کا مستقبل کیا ہے۔؟ لشکر طیبہ اور جش محمد جیسے گروہ کہاں جائیں گے۔؟

ذرائع کے مطابق پاکستان میں 14 سے زائد دہشتگرد گروہ موجود ہیں۔ ان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (حکیم اللہ محسود گروپ)، حافظ گل بہادر گروپ، بھیٹنی گروپ، ملا نزیر گروپ، جلال الدین حقانی گروپ، فضل سعید حقانی گروپ، فضل اللہ گروپ، تحریک طالبان پنجاب، لشکر جھنگوی، جند اللہ، بلوچ لبریشن آرمی، ایشئین ٹائیگر، خالد عمر گروپ سمیت دیگر شامل ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان مختلف گروپوں کا سرپرست کون ہے۔؟ ڈوریں کہاں کہاں سے ہل رہی ہیں۔؟ مذاکرات مشترکہ ہونگے یا ایک ایک گروپ سے الگ الگ۔؟ کیا گارنٹی ہے کہ یہ تمام دہشتگرد گروپ دہشتگردی ترک کردیں گے۔؟ اگر حکومت تحریک طالبان پاکستان کو دہشتگردی کی سب سے بڑی جڑ سمجھ کر صرف اس سے مذاکرات کرتی ہے تو باقی گروپوں کا کیا ہوگا۔؟ کلاشنکوف اٹھائے لوگوں کے گلے کاٹنے والے طالبان مذاکرات کے بعد کیا کریں گے اور کہاں جائیں گے۔؟ 

اگر حکومت ٹی ٹی پی سے مذاکرات کرے گی تو ٹی ٹی پی کے خاتمے کیلئے تو گذشتہ پرویز مشرف اور پی پی حکومت میں ان کے خاتمے کیلئے تمام ساتوں قبائلی ایجنسیوں سمیت ملاکنڈ میں کامیاب آپریشن کے دعوے کئے گئے تھے۔ واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک ان آپریشنز کے حوالے سے کہتے تھے کہ تحریک طالبان کی کمر توڑ دی گئی ہے اور تمام طالبان مارے گئے ہیں یا بھاگ گئے ہیں۔ اگر ان کی بات پر یقین کیا جائے تو پھر اب مذاکرات کس سے ہونگے۔؟ یقیناً یہ وہ تمام سوالات ہیں جو پاکستان کا بر باشعور شہری اپنے ذہن میں رکھتا ہوگا۔ حکمرانوں کو عوام کیساتھ مزید دغا بازی کی بجائے حقائق منظر عام پر لانا ہوں گے۔ امریکہ جنگ سے نکلنا ہوگا، ڈبل گیم بند کرنی ہوگی، دہشتگردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات پاکستان کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں، 80 ہزار سے زائد بےگناہ شہریوں اور فوجی جوانوں کے خون کا سودا قوم قبول نہیں کرے گی۔ وقت آگیا ہے کہ نیک نیتی سے کام لیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 302405
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے