0
Wednesday 20 Nov 2013 19:51

موجودہ ملکی صورتحال پر سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری کا وزیراعظم پاکستان نواز شریف کو خط

موجودہ ملکی صورتحال پر سنی تحریک کے سربراہ ثروت اعجاز قادری کا وزیراعظم پاکستان نواز شریف کو خط
محترم جناب میاں محمد نواز شریف صاحب وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان 

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ اُمید ہے مزاج گرامی بخیر ہوںگے،
 
جناب عالی! وطن عزیز پاکستان اس وقت انتہائی نامساعد حالات کا شکار ہے۔ ایک طرف کالعدم تحریک طالبان کے دہشت گردوں نے قتل و غارتگری کا بازار گرم کیا ہوا ہے تو دوسری طرف دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے پاک افواج کے شہداء کیخلاف زبان درازی کی جا رہی ہے۔ افسوس کہ بعض نام نہاد مذہبی جماعتوں کے رہنماء ہزاروں بیگناہ شہریوں، بچوں، خواتین کو بربریت کا نشانہ بنانے والے سفاک قاتلوں کو شہید کا درجہ دے رہے ہیں۔ ان حالات میں کہ جبکہ پہلے ہی دہشت گردوں کے ہاتھوں مساجد، مدارس، مزارات، امام بارگاہیں، اسکول، اسپتال، اقلیتی برادری، سکیورٹی ادارے حتیٰ کہ کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔ کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور سیاسی قائدین پر حملوں کے اعلان نے قوم کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ موجودہ حکومت نے اب تک بڑی ثابت قدمی سے مذاکرات کے ذریعے طالبان کو ہتھیار پھینکنے اور آئین کی بالادستی تسلیم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن کالعدم تحریک طالبان کے سابق امیر حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملوں میں ہلاکت کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب دہشتگرد مولوی فضل اللہ کے امیر منتخب ہونے کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ طالبان نے جنرل ثناءﷲ نیازی کے قاتل کو امیر بنا کر نہ صرف اپنے عزائم واضح کر دیئے ہیں بلکہ طالبان اعلانیہ طور پر مذاکرات سے بھی راہِ فرار اختیار کر چکے ہیں۔ ملک کو گھمبیر حالات سے نکالنا قومی قیادت کے تدبر اور دانش کا امتحان ہے۔ ملکی سلامتی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے جرات مندانہ فیصلوں کی اشد ضرورت ہے۔ اس صورتحال میں شرعی طور پر حکومت کا کیا کردار ہونا چاہیئے؟ پاکستان سنی تحریک کے علماء بورڈ نے اس حوالے سے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنی سفارشات پیش کیں ہیں۔ مذکورہ سفارشات کو ملک بھر سے اہلسنت کے جید علماء و مشائخ اور مذہبی و سیاسی تنظیمات کے قائدین کی حمایت و تائید بھی حاصل ہے۔

ملک بھر سے جید علماء و مفتیان کرام نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اعلانیہ طور پر عبادت گاہوں، مزارات اولیاء، اسکولوں، اسپتالوں، دفاعی تنصیبات، معصوم بچوں، بے گناہ عورتوں، مسافروں، غیر ملکی مہمانوں، اقلیتی برادری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بربریت کا نشانہ بنا رہی ہے۔ بیگناہ لوگوں کا قتل عام کرنے والے فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اسلامی ریاست کے خلاف کسی بھی گروہ کی مسلح جدوجہد حرام ہے۔ انتہاء پسندوں کی سرکشی اسلام اور پاکستان سے کھلی بغاوت ہے۔ سورة المائدہ کی آیت نمبر 33 کی رو سے مسلم ریاست اور اجتماعی نظم کیخلاف کسی بھی گروہ کی مسلح بغاوت کو طاقت سے کچلنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لہذٰا انتہاء پسند دہشتگردوں کی بغاوت کو طاقت سے کچلنا شریعت کے عین مطابق ہے۔ اسلام کے نام پر قتل و غارتگری کرنے والے دہشتگرد کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ اسلام اور آئین پاکستان کے باغیوں کی سرکشی کو طاقت سے کچل کر آئین اور قانون کی بالادستی قائم کی جائے۔

کالعدم تحریک طالبان سمیت دیگر انتہاء پسندوں نے اسلام اور جہاد کے نام پر قتل و غارتگری کے ذریعے اسلام کے حقیقی تشخص کو شدید بدنام کیا ہے۔ دنیا بھر میں اسلام، علماء کرام اور دینی مدارس کی رسوائی ہو رہی ہے۔ انتہاء پسند طالبان اپنی کارروائیوں کا جواز امریکی ڈرون حملوں کو بناتے ہیں حالانکہ اپنے حملوں میں انہوں نے ہمیشہ امریکی فوجیوں کی بجائے بیگناہ پاکستانیوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا ہے۔ طالبان کا طرز عمل جہاد فی سبیل اﷲ کے اسلامی اصولوں اور شرائط کے منافی ہے۔ اسلام نجی جہاد کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاد کی پرائیویٹائزیشن کے نتائج انتہائی تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔ لہٰذا ہم حکومت پاکستان سے درد مندانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ مٹھی بھر دہشتگردوں سے بلیک میل ہونے کی بجائے قومی امنگوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے آئین و قانون کی بالادستی قائم کرے۔

پاکستان سنی تحریک علماء بورڑ اس سے قبل کئی بار طالبان سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل بھی کر چکا ہے کہ اسلامی ریاست کے خلاف مسلح بغاوت ترک کرکے طالبان اسلامی ریاست کا آئین تسلیم کریں اور ریاستی رٹ کو تسلیم کریں تاکہ پاکستان کو کمزور کرنے کی بیرونی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ پاکستان کا آئین تمام مکاتب فکر کے علماء کا بنایا ہوا متفقہ اسلامی آئین ہے جو حکمرانوں کو نفاذ شریعت کا پابند بناتا ہے۔ لہذٰا نفاذ شریعت کے لئے قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر پرامن جدوجہد ہونی چاہیئے۔ طالبان علمائے دیوبند کی بات سنتے اور مانتے ہیں جس کا اظہار مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر علمائے دیوبند بارہا کر چکے ہیں۔ قبل ازیں ہم علمائے دیوبند سے بھی اپیل کر چکے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اپنے ہم مسلک طالبان کو پرتشدد کارروائیاں بند کرنے کا حکم دیں اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اسلامی ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کرنے والوں کو آئین کی بالادستی تسلیم کرنے پر آمادہ کریں۔ طالبان کو سمجھایا جائے کہ وہ مساجد، مدارس، مزارات اولیاءاللہ، امام بارگاہوں، تعلیمی اداروں اور اقلیتی عبادت گاہوں پر خود کش حملے کرنا اور بےگناہ شہریوں، بچوں اور خواتین کا قتل عام کرنا جہاد نہیں بلکہ فساد ہے لیکن افسوس کہ ہماری اس مخلصانہ اپیل کو بھی بری طرح نظر انداز کر دیا گیا۔ مگر اب ان حالات میں کہ جب طالبان خود ہی حکومت کیساتھ مذاکرات کرنے سے انکاری ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت دو ٹوک الفاظ میں اپنا موقف قوم کے سامنے رکھتے ہوئے دہشتگردوں کے خلاف سوات کی طرز کی کارروائی عمل میں لانے کا اعلان کرے۔


جناب وزیراعظم ملک میں بدامنی، فرقہ ورانہ قتل و غارتگری اور دہشتگردی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج تک کسی حکومت نے دہشتگردی اور فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے کوئی قابل ذکر لائحہ عمل تشکیل نہیں دیا۔ دہشتگردی، انتہاء پسندی اور فرقہ واریت ملکی ترقی، خوشحالی، یکجہتی اور استحکام کیلئے بڑے مسائل ہیں جن کے خاتمے کیلئے حکومتی سطح پر تمام مکاتب فکرکے نمائندہ علماء اور بااثر شخصیات کو مذاکرات کی میز پر بٹھا کر اختلافی اور متنازعہ امور کا حل تلاش کیا جائے جبکہ قرآن و سنت کے منافی مواد پر مبنی تمام لٹریچر کو اکٹھا کرکے تلف کیا جائے۔ بعض مدارس میں اسلام کے نام پر دی جانے والی دینی تعلیم فرقہ واریت، تعصب اور تنگ نظر پر مبنی ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے ان مدارس کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائیں کہ جو طلبہ کو جہاد کی آڑ میں دہشت گردی، لسانیت اور فرقہ واریت پر اکساتے ہیں۔ قیام امن کے لئے ارباب اختیار کو ان تمام پہلوﺅں پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیئے۔ ملک میں دہشتگردی اور انتہاء پسندی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض ممالک اپنے مفادات کی جنگ پاکستان میں لڑ رہے ہیں۔ ان مقاصد کیلئے انتہاء پسندوں کو مالی معاونت سمیت تمام وسائل فراہم کئے جا رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر انتہاء پسندوں کو مالی معاونت فراہم کرنے والے ممالک کو بےنقاب کرکے پاکستان کے داخلی معاملات میں ہونے والی مداخلت روکنے کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کی جائے تو دہشتگردی کی روک تھام میں خاصی مدد مل سکتی ہے۔ ملک کو حالیہ درپیش مسائل سے نکالنے کیلئے مذہبی و سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس دوبارہ طلب کی جائے۔


ملک پہلے ہی فرقہ واریت، لسانیت اور دہشتگردی کی آگ میں جل رہا ہے جبکہ ان گھمبیر حالات میں امیر جماعت اسلامی منور حسن کی جانب سے پاک افواج کے شہداء کے خلاف دیئے گئے بیان نے ہزاروں شہداء کی روحوں کو تڑپا دیا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں جانیں قربان کرنے والے فوجی حقیقی شہید اور قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں جبکہ وطن کے محافظوں کو خون میں نہلانے والے کسی صورت شہید نہیں ہو سکتے۔ منور حسن نے قوم کو فکری انتشار کا شکار کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ لہذٰا قومی قیادت کو چاہیئے کہ حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے منور حسن کے بیان کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائے۔

انتہاء پسند اپنی کاروائیوں کا جواز امریکی ڈرون حملوں اور نیٹو سپلائی کو بناتے ہیں۔ لہٰذا ہم وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قومی امنگوں کے مطابق فوری طور پر نیٹو سپلائی بند اور ڈرون طیارے مار گرانے کا اعلان کیا جائے جبکہ جنوبی وزیرستان سمیت جہاں جہاں بھی شدت پسندوں کا اثر و رسوخ موجود ہے وہاں حکومتی رٹ قائم کی جائے۔ ان علاقوں میں بچوں اور بچیوں کو یکساں حصول تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں، عوام کو بنیادی شہری حقوق بلا امتیاز فراہم کئے جائیں۔ جن علاقوں میں شدت پسندوں اور دہشت گردوں کی عملداری ہے وہاں حکومتی رٹ قائم کرتے ہوئے بے روزگار لوگوں کو روزگار فراہم کیا جائے اور وہاں سڑکوں اور گلیوں کی فوری تعمیرات کروا کر عوام کو زندگی بہتر انداز سے گزارنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ پاکستان سنی تحریک ملک میں قیام امن کیلئے حکومت، فوج سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون کرنے کو اپنا قومی فریضہ سمجھتی ہے۔ آپ کی توجہ کا بےحد شکریہ۔

والسلام
محمد ثروت اعجاز قادری
سربراہ پاکستان سنی تحریک
خبر کا کوڈ : 322919
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب