0
Wednesday 27 Nov 2013 23:22

عالمی استکبار، ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای کی نظر میں

عالمی استکبار، ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای کی نظر میں
اسلام ٹائمز- اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے حال ہی میں ملک بھر سے آئے ایران کی عوامی فورس بسیج کے لاکھوں کمانڈرز کے عظیم اجتماع سے خطاب فرماتے ہوئے عالمی استکباری نظام اور قوتوں کی بعض اہم خصوصیات کی جانب اشارہ کیا ہے۔ ہم اس تحریر میں ولی امر مسلمین جہان کی زبان سے بیان ہونے والی ان خصوصیات کو قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ 
 
حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا اسلامی نظام دنیا کی تمام قوموں کیلئے امن و سلامتی کا پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ ہماری حتی امریکی قوم سے بھی کوئی دشمنی نہیں اگرچہ امریکی حکومت ایران کے اسلام نظام اور ایرانی عوام کی دشمنی اور کینہ دل میں لئے ہوئے ہے اور ایران کے مقابلے میں مستکبرانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے اسلامی نظام کا اصل مقابلہ عالمی استکبار سے ہے۔
 
ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای نے اس موقع پر عالمی استکباری قوتوں بالخصوص امریکی حکومت کی بعض اہم اور تاریخی خصوصیات کی جانب اشارہ کیا اور اس بات پر تاکید کی کہ یہ خصوصیات اب بھی امریکی حکومت میں پوری قوت سے موجود ہیں۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ "استکبار" کا لفظ درحقیقت ایک قرآنی اصطلاح ہے جسے خداوند کریم نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ انسانی تاریخ میں شروع سے ہی مختلف قسم کی استکباری قوتیں موجود رہی ہیں جن کا بنیادی ڈھانچہ اور خصوصیات ایک جیسی ہیں لیکن ان کے ہتھکنڈوں میں فرق پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی استکباری قوتوں سے مقابلے کیلئے مضبوط حکمت عملی اپنانے، عقل مندی سے کام لینے اور پلاننگ کے تحت عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ 
 
1. خود کو سب سے برتر اور اوپر تصور کرنا:
ولی امر مسلمین جہان آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ استکباری سوچ کی پہلی خصوصیت خود کو سب سے برتر، اعلی اور اوپر تصور کرتے ہوئے خود کو دنیا کا محور و مرکز قرار دینا ہے۔ اس سوچ کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ استکباری قوت یا نظام دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو اپنا مسلمہ حق سمجھتا ہے اور اپنی مرضی کی اقدار دوسری قوموں پر مسلط کرتا ہے اور خود کو عالمی امور کا ٹھیکیدار سمجھتے ہوئے پوری دنیا کے امور اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتا ہے۔ 
 
امام خامنہ ای نے کہا کہ عالمی استکباری قوت کا واضح نمونہ اور مصداق ہونے کے ناطے امریکی حکام اس انداز میں بات کرتے ہیں کہ گویا دنیا کی تمام اقوام کا اختیار ان کے پاس ہے اور وہ دنیا کے مالک ہیں۔ ولی امر مسلمین جہان نے کہا کہ خودمحوری پر مبنی اس سوچ کا ایک اور نتیجہ دوسروں کے حقوق کو رسمی حیثیت نہ دیتے ہوئے انہیں پامال کرنا ہے۔ انہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے عالمی سطح پر مختلف اقوام کے حقوق کی کھلی پامالی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ظلم کی واضح مثال امریکی حکومت کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے پرامن ایٹمی توانائی کے حصول کے مسلمہ حق کو نظرانداز کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر منصف اور بامنطق ملک حق کی بات کو قبول کر لیتا ہے لیکن استکباری ذہنیت اور سوچ رکھنے والا ملک دوسروں کے واضح حقوق اور حق کی بات کو ماننے پر کبھی بھی راضی نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں وہ دنیا کی تمام قوموں کے مسلمہ حقوق کو پامال کرتا چلا جاتا ہے۔ 
 
اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ امریکی تاریخ اس بارے میں مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کے حقیقی رہائشی Red Indians کے خلاف انجام پانے والے غیرانسانی اور ہولناک جرائم اور ان کا قتل عام، برطانیہ سے تعلق رکھنے والے گروہوں کی جانب سے آسٹریلیا کے قدیمی رہائشیوں کے خلاف مجرمانہ اقدامات اور اسی طرح امریکی افراد کی جانب سے افریقہ سے کالے حبشیوں کو اپنے غلام کے طور پر امریکہ لانے کا سلسلہ جو امریکی تاریخ کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امریکی حکومت کی جانب سے دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگازاکی پر ایٹم بم گرائے جانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری عالمی تاریخ میں صرف دو بار ایٹم بم استعمال کیا گیا ہے اور وہ بھی امریکہ کی استکباری حکومت نے کیا ہے اور ایسا کرنے کے باوجود اب بھی امریکی حکومت خود کو دنیا میں جوہری ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے کا ٹھیکیدار تصور کرتی ہے۔ اسی طرح دنیا کے دوسرے حصوں جیسے ویتنام، عراق، پاکستان اور افغانستان میں امریکی حکومت کی جانب سے انسانیت سوز جرائم کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ان کی بعض مثالیں گوانٹانامو بے اور ابوغریب جیل کی صورت میں سب دیکھ چکے ہیں جس میں انجام پانے والے غیرانسانی اقدامات اور بیگناہ افراد کا ٹارچر اور قتل کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ 
 
2. فریبکاری اور منافقت:
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں استکباری نظام کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فریبکاری اور منافقت کو استکباری قوت یا نظام کی دوسری بڑی خصوصیت کے طور پر ذکر کیا اور کہا کہ مجرمانہ اقدامات کو انسانیت کی خدمت کا لبادہ اوڑھانا استکباری قوتوں کا ایک رائج ہتھکنڈہ ہے۔ مثال کے طور پر دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر امریکی حکومت کی جانب سے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگازاکی پر ایٹم بم گرائے جانے جیسے ہولناک جرم پر توجہ دیں۔ امریکی حکام یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ انہوں نے ہیروشیما اور ناگازاکی میں 2 لاکھ کے لگ بھگ بیگناہ عام شہریوں کا قتل عام کر کے درحقیقت انسانیت کی بہت بڑی خدمت کی ہے کیونکہ اگر یہ قتل عام انجام نہ پاتا تو دوسری جنگ عظیم اپنے اختتام کو نہ پہنچتی۔ جبکہ یہ ایک بہت بڑا اور سفید جھوٹ ہے کیونکہ موجودہ شواہد و مدارک کی روشنی میں ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ہیروشیما اور ناگازاکی میں ایٹم بم گرائے جانے سے چند ماہ قبل ہی دوسری جنگ عظیم کا ایک بڑا سبب یعنی ہٹلر خودکشی کر چکا تھا۔ اسی طرح دوسری جنگ عظیم کا ایک اور بڑا سبب یعنی اٹلی کا ڈکٹیٹر میسولینی بھی پہلے ہی اتحادی فوجوں کے ہاتھوں گرفتار ہو چکا تھا اور جاپانی حکام بھی دو ماہ قبل ہی ہتھیار پھینکنے کا اعلان کر چکے تھے۔ لہذا جنگ ایک طرح سے ختم ہو چکی تھی۔ 
 
ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای نے امریکہ کی جانب سے جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم گرائے جانے کی حقیقی وجہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکی حکام اس وقت تک ایٹم بم تیار کر چکے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ اس نئے ہتھیار کو آزمائیں اور دیکھیں کہ وہ کس حد تک تباہی پھیلا سکتا ہے لہذا جنگ کا بہانہ بناتے ہوئے ہیروشیما اور ناگازاکی کے بیگناہ عوام کو اپنے اس تجربے کا نشانہ بنا ڈالا۔ لیکن اب اپنے اس ہولناک مجرمانہ فعل کو انسانیت کی خدمت کا لبادہ اوڑھا کر پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہم یہ ایٹم بم نہ گراتے تو دوسری جنگ عظیم ختم نہ ہوتی۔ 
 
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امریکی فریبکاری اور منافقت کی ایک اور مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ قبل شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مشکوک استعمال کے بارے میں امریکی حکومت کی جانب سے اپنائے جانے والا موقف اس کی منافقت اور دوگانگی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی امریکی حکومت جو آج شام میں کیمیائی حملوں کے مشکوک استعمال کا الزام شامی حکومت پر لگا کر اپنا سینہ چاک کر رہی ہے ایران کے خلاف عراق کے سابق صدر صدام حسین کو کم از کم 500 ٹن ایسے کیمیائی مادے کی فراہمی میں ملوث رہی ہے جو خطرناک کیمیائی ہتھیاروں جیسے مسٹرڈ گیس بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس وقت امریکی حکومت نے نہ صرف صدر صدام حسین کی جانب سے ایران کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر اپنی مِخالفت کا اظہار نہیں کیا تھا بلکہ اس مجرمانہ اقدام میں اس کی بھرپور معاونت بھی کی۔ 
 
اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے امریکی نیوی کی جانب سے خلیج فارس میں ایران کے مسافر بردار ہوائی جہاز کو مار گرانے کی جانب اشارہ کیا جس میں 300 بیگناہ اور نہتے مسافر لقمہ اجل بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مسافر طیارے کو ہٹ کرنے کا حکم دینے والے جنرل کو امریکی حکومت کی جانب سے نہ صرف تنبیہ نہ کیا گیا بلکہ اسے مزید ایوارڈز سے نوازا گیا۔ 
 
3. جنگ کی آگ بھڑکانا اور اختلافات پھیلانا:
ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای نے کہا کہ استکباری نظام اور قوتوں کی ایک اور بڑی خصوصیت دنیا میں جنگ اور اختلافات کی آگ بھڑکانا ہے۔ امریکی حکومت اپنے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے مختلف ممالک میں قومی اور مذہبی اختلافات پھیلا کر وہاں خانہ جنگی اور انارکی پھیلانے کی پالیسیوں پر گامزن ہے۔ مثال کے طور پر ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے فورا بعد ہی کردستان کے علاقے میں قومی اختلافات کی آگ بھڑکا دی اور ایران کو خانہ جنگی کا شکار کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد اسلامی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش، ایران کے خلاف عراق کو جنگ پر اکسانا اور جنگ کے دوران اس کی ہر قسم کی مدد اور تعاون کرنا، ملک کے اندر فرقہ پرست عناصر کی حمایت کرنا اور مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دینا اور دوسرے ایسے اقدامات امریکہ کے دل میں ایران کی دشمنی کا واضح ثبوت ہیں۔ 
 
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کی اصلی وجہ کو ایران کی دشمنی قرار دیا اور کہا کہ امریکہ نے اونٹ کی مانند ایران کا کینہ اور دشمنی اپنے دل میں بٹھا رکھی ہے اور ان پابندیوں کا مقصد ایرانی قوم کو اپنے سامنے سرتسلیم خم کرنے پر مجبور کرنا تھا لیکن امریکی حکام شدید غلطی کا شکار ہیں اور انہوں نے ایرانی قوم کو نہیں پہچانا کیونکہ ایرانی قوم ایک ایسی قوم ہے جو کسی دباو میں نہیں آتی۔ انہوں نے تاکید کی کہ خداوند متعال کے فضل و کرم سے ایرانی قوم اپنے سامنے درپیش خطرات کو فرصت میں تبدیل کر دے گی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں ہر گز موثر ثابت نہیں ہوں گی اور خود امریکی حکام بھی اس حقیقت سے بہت اچھی طرح آگاہ ہیں اسی لئے جب بھی وہ اقتصادی پابندیوں کی بات کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی ایران پر فوجی حملے کی دھمکیاں بھی لگاتے ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ ان پابندیوں کے ذریعے اپنے مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کا شکار ہوئے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر اور دوسرے امریکی حکام کی جانب سے بارہا ایران کے خلاف فوجی حملے کی دھمکیوں کو انتہائی نفرت انگیز عمل قرار دیا اور کہا کہ امریکی حکام کو چاہئے کہ وہ ایران کو فوجی حملے کی دھمکیاں دینے کی بجائے بہتر ہے کہ اپنے ملک کی اقتصادی صورتحال کے بارے میں سوچیں اور ایسے اقدامات انجام دیں کہ دوبارہ امریکی حکومت کو ملک بھر کی سرگرمیاں دو ہفتے بند نہ کرنا پڑے۔ 
 
ولی امر مسلمین جہان آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنے خطاب کے شروع میں محرم الحرام کی مناسبت سے واقعہ کربلا کی جانب اشارہ کرتے ہوئے حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے مصائب اور ان کی عظیم شخصیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیھا کا عظیم کارنامہ واقعہ کربلا کی تکمیل تھا اور حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے صحیح معنوں میں واقعہ عاشورا کو احیاء کیا اور اس کی پاسداری کی۔ ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای نے کہا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیھا ایک عظیم پہاڑ کی مانند اپنے سامنے آنے والی مصیبتوں اور مشکلات کے سامنے ڈٹ گئیں اور اس طرح استقامات اور ثابت قدمی کے ایک رول ماڈل میں تبدیل ہو گئیں۔ حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے کربلا سے شام تک کے راستے اور یزید کے دربار میں بالکل ایسے ہی عزت مندانہ اور باوقار انداز میں حق کی حمایت کی جیسے عاشورا کے دن امام حسین علیہ السلام نے انجام دی تھی۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تاکید کی کہ ہمیں اپنی انقلابی تحریک کے دوران حضرت زینب سلام اللہ علیھا کو اپنا رول ماڈل بنانا چاہئے اور ہمارا ہدف اسلام اور اسلامی معاشرے کی عزت و وقار کی حفاظت ہونا چاہئے۔ 
خبر کا کوڈ : 324871
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب