0
Friday 31 Jan 2014 16:42

پاراچنار، معاہدہ کے حوالے سے علاقائی عوام کیا کہتے ہیں؟

پاراچنار، معاہدہ کے حوالے سے علاقائی عوام کیا کہتے ہیں؟
رپورٹ: ایس این حسینی

پاراچنار میں طوری بنگش قبائل کے دو گروہوں کے مابین طے پانے والے حالیہ معاہدے نے کرم ایجنسی کو ایک بڑی مصیبت اور ٹکراؤ سے نجات دلائی ہے۔ معمولی سی آھٹ کی دیر تھی اور پھر ایک ایسا حادثہ رونما ہو جاتا جسکے نتائج طوری بنگش اقوام کو شاید ایک صدی تک بھگتنے پڑتے، کیونکہ ایک گروہ امام بارگاہ کے اندر مسلح بیٹھا تھا دوسرا گروہ جلوس کی شکل میں امام بارگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کرنا چاہتا تھا، نتیجہ کیا نکلتا، خون خرابہ۔ تاہم حکومت نے بروقت قدم اٹھا کر شہر میں کرفیو نافذ کیا، اور ایک دوسرے پر چڑھائی وغیرہ کا موقع فراہم نہ ہونے دیا۔ اس سلسلے میں کرم ایجنسی کے تعلیم یافتہ افراد کے علاوہ بزرگ عمائدین سے اس موضوع پر گفتگو کی گئی ہے۔ جسے قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ 

ابتداء پاراچنار شہر میں ایک دکان کے مالک عارف حسین سے کی گئی، عارف حسین نے حکومت کے بروقت اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت بروقت اقدام نہ کرتی، تو شاید ایک سیاہ تاریخ رقم ہوجاتی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قوم پر اللہ تعالٰی اور امام زمانہ کا یہ ایک خاص کرم تھا کہ خون کا ایک قطرہ گرے بغیر ہم اس بحران سے نکل گئے۔

شبیر حسین نے اس سوال کے جواب میں، کہ منیر سید والے معاہدے پر دو گروہوں کے درمیان اختلاف کس بات پر پیدا ہوا، کہا کہ معاہدے میں تو کوئی خاص اختلافی بات نہیں تھی، میرے خیال میں بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوگئی ہے، اور معاہدے کو اپنے مفاد کے خلاف تصور کرنے لگے ہیں، انہوں نے کہا کہ معاہدے کی شروعات مرکز کو مضبوط بنانے کے الفاظ سے کی گئی ہے، صرف انجمن کے انتخاب کا ایک خاص طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، یعنی انجمن کے انتخاب کو متعلقہ قوموں کے صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے، جو لوگ اس پر معترض ہیں، وہ گویا قوموں کے حقوق کے قائل ہی نہیں ہیں۔ اس میں بری بات کیا ہے۔

انصار الحسین کے ماسٹر شوکت حسین طوری نے اس حوالے سے حکومتی رول کے بارے میں کہا کہ عوام کو خون خرابے سے بچانے کی غرض سے حکومت کے بروقت اقدام پر ہم ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ حکومت کی بروقت کاروائی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ علاقے میں امن وامان کے قیام کے حوالے سے سرکار کی پالیسی نیک نیتی پر مبنی ہے۔

یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ساجد حسین ایم اے بی ایڈ سے جب پوچھا گیا کہ منیر سید میاں کا کرایا ہوا راضی نامہ آپ کی نظر میں کیسا ہے؟ تو انکا کہنا تھا کہ میری نظر میں معاہدے میں کوئی خرابی نظر نہیں آرہی۔ پوچھا کہ پھر اس پر اختلاف کیوں سامنے آگیا، کہا کہ ہر شخص اپنے ضمیر کا مالک ہے، اختلاف رائے تو ہر دو افراد کے مابین ہوسکتا ہے۔

ماسٹر رجب حسین ایم اے بی ایڈ سے جب اس حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہر علاقے، ہر قوم و قبیلے بلکہ ہر گھر میں کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں، جنکو صرف اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں، انکو اجتماعی اور قومی مفادات کا سرے سے خیال ہی نہیں رہتا۔ ہمیں چاہئے کہ اپنے مفادات پر اجتماعی مفادات کو فوقیت دیں۔ انہوں نے کہا کہ انجمن کے انتخاب کے دوران آج تک ہم سے بلکہ کسی سے اسکی رائے نہیں پوچھی گئی، بلکہ ہمیشہ ایسے ہوکر آیا ہے کہ ہر علاقے سے ایک ایسے فرد کو سیلیکٹ کیا جاتا ہے، جو انپڑھ ہو، ساتھ ہی خاموش طبیعت کا مالک ہو کہ جو کبھی اپنی رائے کا اظہار نہ کرسکے۔ تو ایسے فرد سے اپنی قوم یا قبیلے کے حقوق کے حوالے سے کیا امید رکھی جاسکتی ہے۔

افتخار حسین سے امن و امان کے حوالے سے مقامی انتظامیہ کے کردار کے حوالے سے پوچھا گیا تو انکا کہنا تھا کہ ہمارے اندرونی معاملات میں حکومت کو مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں، جن لوگوں کے اشارے پر حکومت نے یہ ڈرامہ رچایا، وہ سب کے سب حکومت نواز تھے۔
حاجی سید گلاب حسین نے اس سوال پر کہ کور کمانڈر کی موجودگی میں ہونے والے معاہدے کے متعلق آپ کیا فرمائیں گے؟ جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کور کمانڈر نے کوئی نیا معاہدہ تو نہیں کرایا ہے بلکہ اسی معاہدے کی توثیق کرائی ہے۔ جس پر 70 کے لگ بھگ عمائدین کے دستخط پہلے سے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کور کمانڈر یا پولیٹیکل حکام نے طوری بنگش مشران ہی کے حمایت یافتہ اور دستخط کردہ معاہدے کی تویثیق کرائی ہے۔ انہوں نے علاقے کو مسلح تصادم سے بچانے کے لئے فریقین سے ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ مچلکہ (ضمانت) رکھی ہے۔

سید مزمل حسین کا کہنا تھا کہ کرم ایجنسی دوسرے قبائلیوں کی نسبت کچھ زیادہ تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ علاقہ ہے، جوانوں کی اکثریت تعلیم یافتہ ہے، وہ اچھے برے کی تمیز بخوبی کرسکتے ہیں۔ میری نظر میں اگر ایک ایسا پروگرام ترتیب دیا جاتا جس میں دونوں فریق اپنی رائے کا پوری آزادی سے اظہار کرسکتے، تو یہی تمام معاملات خصوصاً قومی معاملات کا واحد حل تھا، لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہر فریق اپنا ڈھنڈورا پیٹتا ہے، دوسرے کا کبھی سنتا ہی نہیں۔ عام لوگ تو اس سے بھی دو قدم آگے ہیں، جو اپنے ہم خیال اور ہم نظر لیڈران کی بات کو حکم الہی قرار دیتے ہیں۔

ماسٹر سردار حسین کا کہنا تھا کہ امام بارگاہ ہو یا کوئی اور قومی مرکز، چند مخصوص افراد کے ہاتھوں یرغمال بنا رہتا ہے۔ وہی پرانے چہرے بیس بیس، تیس تیس سالوں سے براجماں ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم قوم کی خدمت کرتے ہیں، بھئی خدمت تو مخصوص عرصہ تک ہوتی ہے، مستقل خدمت سے تو لوگ بالآخر تھک جاتے ہیں، اس خدمت کا موقع تو کبھی دیگر مومنین کو بھی دیا کریں۔ انکا کہنا تھا کہ کسی کو بھی مستقل خدمت کا موقع نہیں دینا چاہئے، ورنہ اسی طرح کے معاملات مستقبل میں بھی پیش آسکتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ آئندہ جن لوگوں کے دو سال پورے ہوجائیں، انہیں کبھی امام بارگاہ کے قریب بھی نہیں چھوڑنا چاھئے، بلکہ جو نئے افراد آجائیں انہی کو تمام امور سونپ دینے چاہئے۔

حاجی محب حسین سے جب پوچھا گیا کہ الیکشن کا ھنگامہ پاراچنار سے ختم کیوں نہیں ہو رہا جبکہ پورے پاکستان میں انتخابات ہوگئے، چند دن تک ہار جیت کا ہنگامہ تھا، چند ہی دن میں مسئلہ ختم ہوگیا۔ انکا کہنا تھا کہ کرم میں الیکشن کی صورتحال دوسرے علاقوں سے مختلف تھی، یہاں مسجد اور امام بارگاہ کا رول الیکشن نتائج پر اثر انداز ہوا۔ چنانچہ ردعمل تو فطری امر ہے، امیدواروں اور ووٹروں کے بھی آخر جذبات ہوتے ہیں۔ یہی بات سبب بنی کہ کرم ایجنسی میں حالات اس حد تک پہنچ گئے کہ ایک بار تو مسلح تصادم ہوگیا، جس میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دیکر کئی لوگ زخمی ہوگئے۔ جبکہ دوسری بار حکومت کی بروقت مداخلت سے ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ انہوں نے باشعور عوام، تعلیم یافتہ طبقے بالخصوص علمائے کرام سے اپیل کی کہ آپس میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ جذبات اور تشدد سے قطعی اجتناب کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 347030
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب